قدرتی آفات اور افواج پاکستان

قدرتی آفات اور پاک فوج کا کردار

پاکستان آرمی وطنِ عزیز کا ایک ایسا ادارہ ہے جس نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی ایک ٹھوس اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ وقت گواہ ہے کہ اگر اس پاک سرزمین نے لہو کا خراج مانگا تو وہاں افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں نے ہمیشہ سبقت لی۔



اسی طرح  ملک نے جب بھی ہنگامی حالات کا سامنا کیا پاک فوج کے جانبازوں نے ملک کے وقار کو بلند کیا۔ سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بحفاظت نکالنا ہو یا ان لوگوں کو ریلیف مہیا کرنا، کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے اقدامات ہوں یا ٹڈی دَل کے فصلوں پر حملوں کا سدباب، پاک فوج نے انتہائی مربوط اور منظم انداز میں اپنا کردار نبھایا۔
پاکستان کو دہشت گردی کے عفریت سے جس طرح ہماری افواج نے نکالا اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ پاک افواج نہ صرف دہشت گردوں کا خاتمہ کیا بلکہ دہشت گردی کے عوامل کو بھی جڑ سے اُکھاڑنے کی جدوجہد کی جس میں یہ کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔



بلوچستان، وزیرستان اورکراچی میں امن وامان کی بحالی اور استحکام افواجِ پاکستان، عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کے ذریعے ہی ممکن  ہو پایا ہے، دہشت گردی کی اس جنگ میں افواجِ پاکستان نے ہراول دستے کے طور پر کام کیا۔ سوات سے شروع ہونے والا آپریشن، آپریشن ردالفساد تک جاری ہے۔ ابھی تک اس آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں،  ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو ختم کیا جارہا ہے۔حراست میں لئے گئے بہت سے دہشت گردوںکوافواجِ پاکستان کے قائم کردہ ری ہیبیلیٹیشن سنٹرز  میں رکھ کر انہیں فعال شہری بنانے کی کاوشیں بھی جاری ہیں، تاکہ ایسے لوگ ملک کے مہذب اور ذمہ دار شہری بن کر جلد از جلد قومی دھارے میں شامل ہوں۔ 
اسی طرح  دنیا بھر میں پھیلنے والا کرونا وائرس جب 2020ء میں پاکستان پہنچا تو وطن عزیز کے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے بننے اداروں نے بھی اس کو زیادہ پھیلنے سے روکنے میں مدد کی۔ یہاں بھی پاک فوج نے ایک منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دیا۔ نہ صرف حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا بلکہ بطور ایک ادارہ بھی لوگوں کو اس مشکل وقت سے نکالا۔ ضرورت مند ہم وطنوں کو ان کے دروازوں پر راشن فراہم کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے ریلیف پیکجز دئیے گئے جو اقلیتوں کے لئے بھی  تھے۔
ابتدائی اقدامات کے تحت عوام کو شعور و بیداری مہم کے ذریعے احتیاطی تدابیر سے روشناس کروایا۔ ہنگامی بنیادوں پر سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر قرنطینہ مراکز میں آئسولیشن وارڈز کی سہولیات مہیا کیں، حفاظتی اقدامات کے تحت لاک ڈائون کی پالیسی پر مؤثر اور جامع حکمت عملی کے ذریعے عمل درآمد کرایا۔ٹریک اینڈ ٹریس پالیسی کے تحت مشتبہ مریضوں کی اطلاع پر انہیں ہسپتال تک پہنچانے کے لئے ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔
کرونا کی وجہ سے ہنگامی صورت حال کے سبب دیگر مسائل بھی پیدا ہوئے۔ جنہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے بھی پاک فوج نے دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات کئے۔ ان میں سرفہرست عام لوگوں تک خوراک کی عمومی و سستی فراہمی تھا۔ لاک ڈائون سے غریب اور محنت کش طبقہ اور چھوٹے تاجر بہت متاثر ہوئے۔ ان حالات میں افواجِ پاکستان نے لوگوں میں اشیائے ضروریہ تقسیم کیں۔ احساس پروگرام کے تحت غریب لوگوں میں رقم کی تقسیم کے لئے جو مقامات مختص کئے گئے ان کی سکیورٹی کے لئے بھی افواج پاکستان نے اپنی خدمات پیش کیں۔
 ابھی کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اقدامات جاری تھے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ٹڈی دَل کی آفت نمودار ہوئی جس سے ملک کی بہت سی فصلیں تباہ ہوئیں۔ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ریسکیو اور دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان نے بھی ملک کو اس آفت سے نکالنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ ماہرین کے نزدیک اگر ٹڈی دَل کا خاتمہ نہ کیا جائے تو یہ پوری دنیا میں پھیل سکتی ہیں جس کے نتیجے میں غذائی قلت کے قوی امکانات ہوتے ہیں، لہٰذا یہاں بھی اس پر قابو پانے کے لئے انتظامات تیز کردئیے گئے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور پاکستان آرمی کی مشترکہ ٹیمیں اس کے خاتمے کے لئے بھرپور اور مؤثر آپریشنز کررہی ہیں۔
پاک فوج اس کے لئے تقریباً دس ہزار جوان و افسر تعینات کرچکی ہے۔ اسی سلسلے میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کا دورہ بھی کیا اور کہا کہ پاک فوج ٹڈیوں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
ہر سال مون سون کی بارشوں سے پاکستان میں سیلاب آتا ہے اور حکومت پاکستان اپنے اس ادارے کی خدمات بھی حاصل کرتی ہے۔ اس لئے افواج پاکستان نے باقاعدہ ایک ادارہ بنایا ہوا ہے۔ جسے Army Flood Protection and Relief Organization (1977) کا نام دیا گیا ہے جو کہ انجینئرنگ ڈائریکٹوریٹ کے تحت کام کرتا ہے۔
حالیہ بارشوں سے پاکستان کے مختلف شہروں میں سیلاب آیا اس میں بھی پاکستان آرمی نے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں باقی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا، خاص طور پر کراچی میں اس سال بارشیں معمول سے کہیں زیادہ ہوئیں۔ شہر قائد تقریباً آدھے سے زیادہ پانی سے بھر گیا۔ نکاسی کے نالوں میں گنجائش کم اور بہائو زیادہ ہونے کی وجہ سے پانی سڑکوں، گلیوں اور گھروں میں داخل ہوگیا جس نے شہری زندگی کو شدید متاثر کیا۔ شہریوں کی زندگی کے ساتھ ساتھ اہم قومی تنصیبات بھی فوری توجہ کی متقاضی تھیں۔ پاک فوج نے 83 نکاسی آب کے آلات، 20 کشتیوں اور دیگر ضروری مشینری اور سازوسامان کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا۔
 ملیر، سرجانی، ڈرگ روڈ، کلفٹن، قیوم آباد، سعدی ٹائون، نیا ناظم آباد اور غریب آباد جیسے گنجان آباد علاقوں میں پھنسے 41,482 افراد کو گاڑیوں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک منتقل کیا اور ضرورت مند لوگوں میں راشن کے 180120 پیکٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ پانی کی نکاسی اور انڈر پاسز سے پانی نکال کر ٹریفک کو رواں کیا۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس  لگائے گئے۔ کراچی کے ساتھ ساتھ حیدر آباد، تھرپارکر اور دادو میں بھی ریسکیو آپریشنز کئے گئے اور لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔ سیلابی ریلے سے ضلع دادو میں زیر تعمیر گاج ڈیم کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا اور 50 سے زائد دیہات سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آگئے۔ یہاں پر پاک فوج نے متاثرین کو بذریعہ ہیلی کاپٹرز ریسکیو کیا۔ میڈیکل کیمپس بھی لگائے گئے جہاں لوگوں کو طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ راشن بھی فراہم کیا گیا۔ اس آپریشن کی خاص بات یہ تھی کہ 8 ہندو خاندانوں کو متاثرہ علاقوں سے بحفاظت نکالا گیا اور انہیں تمام سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔
پاکستانی قوم پر آئی ان آزمائشوں نے یہ بات ثابت کی ہے کہ آسانیاں مشکلات کے بعد ہی آتی ہیں اور اگر آزمائش کی ان گھڑیوں میں سب مل کر کام کریں تو مشکلیں مشکل نہیں لگتیں۔ ||
 

یہ تحریر 67مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP