بیاد قاءد

قائد کا پاکستان ، قائد کے افکار کی روشنی میں

یوں تو ہر دَور میں دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ہم قائد اعظم کا پاکستان قائم کرنے آئے ہیں۔ گزشتہ حکومتوں پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں کہ وہ قائد اعظم کے راستے سے ہٹ گئی تھیں۔ انہوں نے قائد کا پاکستان تو کیا بنانا تھا قائد اعظم کے فرمودات کو بالائے طاق رکھ دیا۔
مجھے تو ہمیشہ فخر رہا ہے کہ میں ایسے ملک کا شہری ہوں جسے قائد اعظم کی قیادت میں ایک مبسوط جدو جہد کے بعد اسلامیانِ ہند نے حاصل کیا۔ اگر ان کی قیادت نہ ہوتی تو اس منزل کا حصول بہت مشکل تھا۔ہم تو اٹھتے بیٹھتے ہمیشہ یہ گنگناتے ہیں۔
'اے قائد اعظم ترا احسان ہے احسان'



اور جب بھارت کے کسی شہر میں کسی ایک مسلمان یا پورے مسلمان خاندان یا مسلمان گائوں پر قیامت ٹوٹتی ہے تو ہمیں قائد اعظم یاد آتے ہیں۔ انہوں نے قیام پاکستان کے مخالف مسلمانوں سے کہا تھا کہ اس وقت تو آپ اس حقیقت کی مخالفت کررہے ہیں اور اسے مسلمانوں کی بڑی تعداد کے لئے ایک منفی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ وقت آئے گا کہ آپ ہندوستان سے اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لئے ہر حیلہ کریں گے مگر انتہا پسند ہندو نہیں مانیں گے۔ اس لمحے آپ کو پاکستان کی قدر محسوس ہوگی۔
73 سال سے بھارت میں کہیں نہ کہیں ہندو شدت پسند مسلمانوں کو اپنی بدنیتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں مگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے دَور حکمرانی میں بالخصوص مودی کی وزارتِ عظمیٰ میں تو نصب العین ہی مسلمانوں کی ہلاکت بنالیا گیا ہے۔ اس وقت بھارتی معاشرہ دنیا میں بد ترین تعصب کا گڑھ بن گیا ہے۔ قائد اعظم برصغیر کے مسلمانوں کو بیسویں صدی کی چوتھی دہائی سے خبردار کرتے آرہے تھے۔ لکھنؤ میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس 15اکتوبر 1937سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا تھا:
''آپ کی تقدیر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ہندوستان کے آٹھ کروڑ مسلمانوں کو خائف ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کی تقدیر ان کے ہاتھ میں ہے اور ایک متحدہ ٹھوس اور منظّم طاقت کی حیثیت سے ہر خطرے اور مزاحمت کا متحدہ محاذ کے ذریعے سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ تمہارے اپنے ہاتھوں میں ساحرانہ قوت موجود ہے۔ اب تمہیں اپنے اہم فیصلوں پر ڈٹ جانا چاہئے۔ یہ نہایت اہم ، ضروری اور نتیجہ خیز ہے۔ کسی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے ایک ہزار مرتبہ غور کرو لیکن جس وقت کوئی فیصلہ ہوجائے تو اس پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ جائو۔ آپ کو صداقت شعار اور وفادار رہنا چاہئے۔ بس اس کے بعد کامیابی اور فتح آپ کے قدم چومے گی۔''
آج نہ صرف بھارت میں بسنے والے مسلمان قائد اعظم کی اس بصیرت کا اعتراف کررہے ہیں بلکہ دنیا بھر میں مسلمان جب بھارت میں مسلمانوں پر یہ ظلم دیکھتے ہیں تو وہ بھی قائد اعظم کی پالیسیوں کو یاد کرتے ہیں۔
بھارتی مسلمانوں پر ظلم کے وقت تو قائد اعظم کے فرمودات سے اشتیاق بڑھتا ہی ہے مگر سال میں اگست، ستمبر اور دسمبر ایسے مہینے ہیں جو قائد کے افکار اور تعلیمات کی یاد مزید شدت سے بڑھادیتے ہیں۔ 14اگست کوجب پاکستان وجود میں آیا اور قائد اعظم نے سب اسلامیان بر صغیر کو مبارکباد دی۔ پھر ستمبر جو نوزائیدہ پاکستان کے لئے غم واندوہ کا سمندر لے کر آیا۔ 11ستمبر کو ملّت اسلامیہ کا یہ بطل جلیل اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ ہماری بد قسمتی کہ ہمارے بے مثال قائد کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ مہلت نہ دی کہ وہ اپنی بصیرت، اپنے افکار کو اپنی زندگی میں حقیقت میں ڈھال سکتے۔ دسمبر کا مہینہ ان کی ولادت کا مہینہ ہے۔ یہ تینوں مہینے ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم قائد اعظم کے فرمودات کو خود بھی یاد کریں اور اپنی نئی نسل کے سامنے بھی رکھیں جنہیں حالات نے بہت زیادہ مایوس کر رکھا ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کا دَور ہے۔ اس میں بھی ہمارا نوجوان اعتماد سے محروم رہتا ہے۔ اِدھر اُدھر بھٹکتا ہے۔ ہم نے ایسی ویب سائٹس نہیں بنائی ہیں جہاں آج کے زمانے کی الجھنوں، مسائل اور استفسارات کے جوابات قائد اعظم کے افکار کی روشنی میں دیئے گئے ہوں۔ نئی نسل جس کی انگلیاں ہمیشہ اسمارٹ فون کے کی پیڈ پر رہتی ہیں، وہاں یہ اہتمام ہو کہ ایک انگلی سے چھوئیں اور ہمارے تجسس کے حوالے سے قائد اعظم کا فرمان جھلملانے لگے۔ ہم اس کی روشنی میں اپنے ذہن کے اندھیرے دور کریں۔
بانیٔ پاکستان کو مسلمانوں کے الگ وطن کے قیام کے بعد صرف ایک ہی سال مل سکا۔ اس میں بھی کافی عرصہ علالت میں گزرتا ہے مگر مختلف مواقع پر ان کی تقاریر اور بیانات میں ان سب موضوعات پر بھرپور رہنمائی ملتی ہے۔ جو آج بھی پاکستان کو درپیش ہیں۔
ریاستِ پاکستان کیا ہوگی؟ اس میں طرز حکومت کونسا ہوگا؟ یہاں مختلف شعبوں اور اداروں کے فرائض منصبی کیا ہوں گے؟  نئی مملکت اپنی معیشت اور تجارت کو کیسے مضبوط بناسکے گی؟ ہمسایوں سے تعلقات کیسے ہوں گے؟ ترقی یافتہ اقوام عالم کی صفوں میں اپنا مقام ہم کیسے بناسکیں گے؟ میں ان سوالات کے جوابات کے لئے قائد اعظم کی تقاریر کے اوراق سے موتی تلاش کررہا ہوں تو ان کی بے پایاں بصیرت کا قائل ہوتا جارہا ہوں۔ ان کی رحلت کے بعد جہاں جہاں ہمیں ہزیمت برداشت کرنا پڑی ہے اس کے لئے وہ پہلے سے ہمیں خبردار کررہے تھے۔ مگر ہم ان کے فرمودات کے برعکس اقدامات کرتے رہے۔ مشرقی پاکستان میں ہمارے بھائیوں کو جو غلط فہمیاں، بد گمانیاں تھیں ان کے لئے قائد اعظم کے مشرقی پاکستان کے دورے میں اکثر تقریروں میں خدشات ظاہر کئے گئے۔ پورا طریق کار بھی بتایا گیا کہ اپنے دشمن اور تخریب کاروں کی سازشوں سے کیسے بچنا ہوگا۔اسی طرح بلوچستان کے معاملات پر بھی ان کے مختلف دَوروں میں کی گئی تقریروں اور بیانات میں کھلے اشارے واضح خدشات موجود ہیں۔ معلوم نہیں کہ اس وقت کے بعد کے حکمرانوں نے اس رہنمائی سے صرفِ نظر جان بوجھ کر کیا یا نا دانستہ۔
پاکستان محض ایک اور نام نہیں
آئیے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ذہن میں ریاست پاکستان ، پاکستانی شہریوں اور پاکستانی معاشرے کا کیا تصور تھا۔ سب سے پہلے تو وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان پہلے سے بہت سی مملکتوں کی طرح ایک اور مملکت نہیں ہے۔
19فروری 1948کو آسٹریلیا کے عوام سے قائد کا نشری خطاب ہر پاکستانی نوجوان کو پڑھنا چاہئے۔ اس میں نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی حیثیت سے آگاہ کیا گیا ہے بلکہ یہ کہ صنعت اور زراعت میں ہمارے اہداف کیا ہوں گے؟ اپنے ہمسایوں سے کیسے تعلقات ہوں گے؟ دنیا میں قیام امن کے لئے پاکستان کیا کردار ادا کرنا چاہتا ہے؟ پاکستان کی اہمیت کے لئے یہ سطور ملاحظہ ہوں:
'' ایک اور سبب بھی ہے، جس کے باعث میں سمجھتا ہوں کہ آپ پاکستان کو پہلے ہی سے پُر ہجوم نقشے پر محض ایک اور نام تصور نہ کریں۔ در اصل پاکستان مسلم ممالک کی طویل صف میں ایک نہایت اہم اضافہ ہے۔ جس راہ سے آپ کی بحیرہ روم اور یورپ تک رسائی ہوتی ہے قدرتی طور پر ہمارا ان ممالک کے ساتھ گہرا رابطہ ہے۔''
اس خطاب میں یہ دو پیرا گراف بھی لائق غور ہیں:
'' ہماری عظیم اکثریت مسلمان ہے۔ ہم رسول اللہ ۖ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں، ہم اسلامی ملت و برادری کے رکن ہیں جس میں حق، وقار اور خودداری کے تعلق سے سب برابر ہیں۔ نتیجتاً ہم میں اتحاد کا ایک خصوصی اور گہرا شعور موجود ہے۔ لیکن غلط نہ سمجھئے پاکستان میں کوئی نظام ِپاپائیت رائج نہیں ہے۔ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اسلام ہم سے دیگر عقائد کو برداشت کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور ہم اپنے ساتھ ان لوگوں کے گہرے اشتراک کا پر تپاک خیر مقدم کرتے ہیں جو خود پاکستان کے سچے اور وفادار شہریوں کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آمادہ اور رضا مند ہوں۔نہ صرف یہ کہ ہم میں سے بیشتر لوگ مسلمان ہیں بلکہ ہماری اپنی تاریخ ہے، رسوم و روایات اور وہ تصورات فکر ہیں، وہ نظریہ اور جبلت ہے جس سے قومیت کا شعور ابھرتا ہے۔ ہند میں صدیوں سے ہمارا ایک مقام تھا۔ کسی وقت وہ مقام اعلیٰ و ارفع تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب مغلوں کا فرمان ساحل تابہ ساحل جاری و ساری تھا ہم اس عہد کو صرف تاریخی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔اب ہمارے پاس مقابلتاً کم علاقہ ہے جو بلحاظ رقبہ انگلستان سے چار گنا ہے۔ یہ ہمارا ہے اور ہم اس پر قانع ہیں۔ ہم اپنے ہمسایوں کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہم صلح و آشتی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، ہم سکون کے ساتھ اپنے طریقے سے اپنے مستقبل کو سنوارنا چاہتے ہیں اور امور عالم میں اپنا جائز حق ادا کرنا چاہتے ہیں۔''
آئین کیسا ہوگا!
پاکستان کی آئینی حیثیت اور پارلیمنٹ کے فرائض منصبی کے حوالے سے انتہائی اہم رہنمائی 11اگست 1947کو مجلس دستور ساز پاکستان کے اجلاس منعقدہ کراچی کے خطبہ صدارت میں موجود ہے:
ملاحظہ کیجئے:
''یاد رکھئے کہ آپ خود مختار قانون ساز ادارہ ہیں اور آپ کو جملہ اختیارات حاصل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یعنی آپ فیصلے کس طرح کرتے ہیں۔ پہلی بات جو میں کہنا چاہوں گا وہ یہ ہے اور بلا شُبہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایک حکومت کا پہلا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال اور ان کے مذہبی عقائد کو مکمل طور پر تحفظ دے سکے۔''
اس خطبے میں ایک پاکستانی کی شناخت، آزاد شہری کی حیثیت سے اپنے اپنے مذہب کے باوجود یکساں شہری حقوق کے حصول کے راستے بھی واضح کئے۔
''اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جائیں ، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو ، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ جیسا کہ آپ کو تاریخ کے حوالے سے یہ علم ہوگا کہ انگلستان میں کچھ عرصہ قبل حالات اس سے بھی زیادہ ابتر تھے جیسے کہ آج ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ نے ایک دوسرے پر ظلم ڈھائے۔ آج بھی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں ایک مخصوص فرقے سے امتیاز برتا جاتا ہے اور ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم نے ایسے حالات میں سفر کا آغاز نہیں کیا ہے۔ ہم اس زمانے میں یہ ابتدا کررہے ہیں کہ جب اس طرح کی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔ دو فرقوں کے مابین کوئی امتیاز نہیں۔ مختلف ذاتوں اور عقائد میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ ابتدا کررہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں اور ایک مملکت کے یکساں شہری ہیں۔''
پاکستان میں کیسا نظام حکومت ہوگا؟ کیسا دستور ہوگا؟ اس کے لئے انہوں نے واضح طور پر یہ اختیار مجلس دستور ساز پاکستان کو دیا۔ وہ اگر آمرانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے خود بھی کوئی نظام حکومت یا دستور نافذ کردیتے تو کسی کو بھی اس سے ذرہ برابر انکار نہ ہوتا۔ لیکن انہوں نے کہا:
'' مجلس دستور ساز کو دو بڑے فریضے سر انجام دینے ہیں۔ پہلا فریضہ تو بہت کٹھن اور ذمہ داری کا کام ہے یعنی پاکستان کے لئے دستور مرتب کرنا اور دوسرا ایک کامل خود مختار اور پاکستان کے وفاقی قانون ساز ادارے کا کردار ادا کرنا۔ ہمیں اپنی بہترین مساعی اس امر کے لئے صَرف کرنا ہوں گی کہ ہم وفاقی مجلس قانون ساز پاکستان کے لئے ایک عبوری آئین تیار کریں۔''
آئین اور نظام حکومت کی تکمیل کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کی ساری توجہ اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ پر تھی۔ ان دنوں کا تصور کریں کہ ایک اقلیت اپنے لئے الگ ملک قائم کررہی تھی اس میں ہندو اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے اقلیت میں تھے۔ ادھر ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں تھے۔ اس لئے ان کے بیانات اور تقاریر میں بار بار اقلیتوں کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ 
14جولائی 1947کو دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں اقلیتوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے انتہائی صراحت سے جواب دیا۔
''اقلیتوں کا تحفظ کیا جائے گا ان کا تعلق خواہ کسی فرقے سے ہو۔ ان کا مذہب یا دین یا عقیدہ محفوظ ہوگا۔ ان کی عبادت کی آزادی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ انہیں اپنے مذہب ، عقیدے ، اپنی جان  اور اپنے تمدن کا تحفظ حاصل ہوگا۔ وہ بلا امتیاز ذات پات اور عقیدہ  ہر اعتبار سے پاکستان کے شہری ہوں گے۔ ان کے حقوق ہوں گے اور انہیں مراعات حاصل ہوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ بلا شُبہ شہریت کے تقاضے بھی ہیں لہٰذا اقلیتوں کی ذمہ داریاں بھی ہوں گی۔ وہ اس مملکت کے کاروبار میں اپنا کردار بھی ادا کریں گی۔ جب تک کہ اقلیتیں مملکت کی وفادار ہیں اور صحیح معنوں میں ملک کی خیر خواہ ہیں اور جب تک مجھے کوئی اختیار حاصل ہے، انہیں کسی قسم کا اندیشہ نہیں ہونا چاہئے۔''
امن عالم اب بھی ایک بین الاقوامی موضوع ہے۔ ان دنوں بھی تھا۔ اس ضمن میں ان کے افکار بالکل واضح تھے۔ صدر مسلم لیگ لندن ایک عشائیے میں انہیں مدعو کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا :'' ابھی تو تعمیر پاکستان کا عظیم تر کام باقی ہے۔ ہم دنیا میں اس نئی عظیم خود مختار اسلامی ریاست کو مکمل اتحاد، نظم اور ایمان کے ساتھ تعمیر کرسکیں گے۔ مسلمانان ہند پوری صلاحیت سے اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔ اور امن عالم کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔''
15اگست 1947کو پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی افتتاحی تقریب پر قوم کے نام پیغام میں انہوں نے قطعی انداز میں کہا  :
'' امن اندرون ملک اور امن بیرون ملک ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ ہم پُر امن رہنا چاہتے ہیں۔ اور اپنے نزدیکی ہمسایوں اور ساری دنیا سے مخلصانہ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے حامی ہیں۔ اور امن عالم اور اس کی خوشحالی کے لئے اپنا پورا کردار ادا کریں گے۔''
قوم کو یہ فخر ہونا چاہئے کہ اقوام متحدہ کی امن کوششوں میں پاکستانی فوجی دستوں نے ہمیشہ قابل تحسین کردار ادا کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستانی فوجی افسروں اور سپاہیوں کی خدمات کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے۔
1948-1947 ۔ پاکستان کی مسلح افواج کی تنظیم نَو کے سال تھے۔ بھارت نے فوجی اثاثوں کی تقسیم میں بھی بہت رکاوٹیں کھڑی کیں۔ برطانوی حکام بھی بھارت سے گٹھ جوڑ کرتے رہے۔قائد اعظم نے برّی، بحری اور فضائیہ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ افسروں اور جوانوں سے خطاب کیا۔ ان کے حوصلے بلند کئے اور یہ توقع ظاہر کی کہ پاکستان کی مسلح افواج کا شُمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوگا۔ 14جون 1948کو سٹاف کالج کوئٹہ کے افسروں سے خطاب میں انہوں نے کہا:
'' آپ مع دیگر افواج پاکستان، اہالیان پاکستان کی جان و مال اور عزت و آبرو کے پاسباں  ہیں۔ پاکستان کی جملہ ملازمتوں میں دفاعی افواج سب سے زیادہ اہم ہیں اور اس کے مطابق ایک بہت بھاری ذمہ داری اور بوجھ آپ کے کندھوں پر آپڑا ہے۔''
مضبوط فضائیہ کے لئے اپنے خیالات کا اظہار انہوں نے رسالپور میں 13اپریل 1948کو ان الفاظ میں کیا: 
''رائل پاکستان ایئر فورس کے ایک یونٹ کے پہلے دورے سے مجھے بے پناہ مسرت حاصل ہوئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مضبوط فضائی فوج کے بغیر کوئی بھی ملک جارح کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ پاکستان کو جس قدر جلد ممکن ہو اپنی فضائی فوج کو تیار کرلینا چاہئے جسے ایک ایسی مستعد فضائی فوج میّسر ہونی چاہئے جو کسی سے کم تر نہ ہو اور پاکستان کے دفاع کی خاطر بری اور بحری افواج کی صف میں اپنے موزوں مقام پر ہو۔''
بحریہ کے لئے ان کی آرزوئیں ملاحظہ ہوں:
''آپ میں سے ان لوگوں سے جو گورنر جنرل Sinکی قیام گاہ کے حفاظتی دستے میں شامل ہیں، میری کم و بیش روزانہ ہی ملاقات ہوتی ہے۔ آج میں آپ کو زیادہ بڑی تعداد میں دیکھ رہا ہوں اور میں آپ کو اس طرح چاق چوبند دیکھ کر متاثر ہوا ہوں آپ کو یہ یاد رکھناچاہئے کہ آپ کا صدر مقام اور باب مغربی پاکستان، کراچی اور دوسرے ممالک کے جہازوں کی آمد کی بندرگاہ کے علاوہ مشرق و مغرب کے فضائی راستے پر بھی واقع ہے۔ دنیا بھر کے لوگ کراچی سے گزرتے ہیں اور ساری دنیا کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں۔ میں اعتماد کرتا ہوں کہ آپ اپنے رویے اور طرزِ عمل سے کبھی بھی پاکستان کی سبکی نہیں ہونے دیں گے اور ملازمت کی بہترین روایات قائم رکھیں گے اور دنیا کی عظیم ترین قوموں میں سے ایک قوم کی حیثیت سے پاکستان کے عزت و وقار کو بلند رکھیں گے۔''
    پاکستان ایک نوزائیدہ ملک تھا۔ پڑوسی دشمنوں سے بھی خطرات تھے۔ بھارت تو پاکستان کے قیام کو ماننے کو تیار نہیں تھا۔ آج بھی اس کے عزائم بد ترین ہیں۔ لیکن ہماری مسلح افواج نے پوری تیاری، تربیت جوش ایمانی سے بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کیا ہے۔ ہم پورے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری تینوں مسلح افواج اپنے قائد کے خوابوں کی تعبیر ہیں۔ انہوں نے 23جنوری 1948کو پاکستان بحریہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:
'' جنگ سے نڈھال انسانیت اقوام متحدہ کی طرف امید و بیم کے جذبات کے ساتھ دیکھ رہی ہے، کیونکہ بنی نوع انسان کی نجات اور تہذیب حاضرہ کا مستقبل اس بات پر موقوف ہے کہ یہ ادارہ جنگ کے اسباب اور امن عالم کو لاحق ہونے والے خطروں کو دور کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوتا ہے۔ پاکستان جو حال ہی میں اقوام متحدہ کا رکن بنا ہے، اس ادارے کی تقویت کے لئے حتی المقدور کوشش کرے گا اور جو نصب العین اس ادارے نے اپنے سامنے رکھے ہیں۔ ان کے حاصل کرنے میں مدد دے گا۔ ہر چند کہ ہم اقوام متحدہ کے منشور کی پوری تائید کرتے ہیں پھر بھی اپنے دفاع کی طرف سے غافل نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ اقوام متحدہ کا ادارہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہوجائے۔ اپنے وطن کے دفاع کی بنیادی ذمہ داری ہماری ہی رہے گی اور اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان تمام خطرات اور آنے والے حوادث سے مقابلہ کرنے کے لئے بالکل تیار رہے۔اس ناقص دنیا میں کمزوری اور نہتاپن دوسروں کو حملہ کرنے کی دعوت دینے کے مترادف ہے، لیکن امن عالم کی بہتری یونہی ہوسکتی ہے کہ ہم ان لوگوں کو جو ہمیں کمزور سمجھ کر ہم پر حملہ کرنے یا چھا جانے کی نیت رکھتے ہوں، موقع نہ دیں۔ یہ صرف اس وقت ہوسکتا ہے جب ہم اتنے مضبوط ہوجائیں کہ کسی کو ہماری طرف بری نیت سے دیکھنے کی جرأت نہ ہوسکے۔''
پاکستان کی تاریخ میں ایسے افسوسناک لمحات بھی آئے،جب فوج کو ملک کا نظم و نسق سنبھالنا پڑا۔ جسے سول امور میں مداخلت کہا گیا۔ اس سے یقینا پیشہ ورانہ کردار اور صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں بعض واقعات متنازع بھی ٹھہرے۔ لیکن قائداعظم کے نزدیک مسلح افواج کی تنظیم اور زمانے کی ضروریات کے مطابق بری، بحری اور فضائی افواج کا جو معیار ہونا چاہئے تھا وہ الحمد للہ پاک افواج نے حاصل کیا۔
پاکستان نیا نیا ملک بنا تھا۔ اس کو ملنے والے اثاثے بھی بر وقت منتقل نہیں ہورہے تھے۔ فیکٹریاں بھی زیادہ تر پاکستان والے علاقوں میں نہیں تھیں۔ معیشت کے استحکام، صنعت و حرفت کی افزائش، تجارتی پالیسی اقتصادی ترقی کے شعبوں کے لئے بھی ان کے فرمودات ان کی دور اندیشی، پائیدار بصیرت، مستقبل کی منصوبہ بندی کی رہنمائی کرتی ہیں۔
یہاں اس وقت کے بڑے صنعتی خاندانوں کے جذبے اور ایثار کا ذکر ہونا چاہئے۔26ستمبر 1947کو کراچی میں ولیکا انٹرنیشنل ملزلیمیٹڈ کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پرقائداعظم کے گرانقدر خیالات ملاحظہ ہوں:
''قدرت نے ہمیں صنعت و حرفت میں کام آنے والے بہت سے خام مال سے نوازا ہے۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اسے ملک اور عوام کے بہترین مفاد کے لئے استعمال کریں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کا یہ منصوبہ اس نوعیت کے اور بہت سے کاموں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور تمام متعلقہ لوگوں کے لئے خوشحالی لائے گا۔
مجھے یہ بھی امید ہے کہ آپ نے فیکٹری کا منصوبہ بناتے وقت کارکنوں کے لئے مناسب رہائش گاہوں اور دیگر سہولتوں کا بھی اہتمام کیا ہوگا کیونکہ مطمئن کارکنوں کے بغیر کوئی صنعت پنپ نہیں سکتی۔''
اسی تقریر میں انہوں نے اہل سندھ پر زور دیا کہ وہ سائنسی تجارت اور صنعت کو ترقی دیں۔ آپ کو یہ محسوس کرنا چاہئے کہ مملکت کے حقیقی استحکام اور اس کی قوت کا تمام انحصار اس کی پیداواری صلاحیت پر ہے۔ ' پیداواری صلاحیت' کی اصطلاح قابل غور ہے۔ 73سال بعد بھی ہم اپنی 'پیداواری صلاحیت '، زراعت اور صنعت میں اپنی ضرورت کے مطابق نہیں بڑھا پائے ہیں۔ حالانکہ ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک چین، جنوبی کوریا، ملائشیا، نہ صرف اپنے لئے مصنوعات بنارہے ہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک کی ضروریات پوری کررہے ہیں۔
پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے۔ اس پہلو کا ذکر بھی بانیٔ پاکستان کی تقریروں میں اکثر ملتا ہے۔ کتنی بد قسمتی ہے کہ پاکستان جیسے حقیقی بنیادی طور پر زرعی سرزمین کے باشندوں کو گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ چینی منگوانی پڑتی ہے۔ حالانکہ اپنے کھیتوں میں یہ گنجائش موجود ہے وہ ہماری مانگ پوری کرسکتے ہیں۔ ہمارے محکمۂ زراعت، کاشتکاروں، زمینداروں نے قائد اعظم کے فرمودات پر عملدرآمد کیا ہوتا تو یہ بحران پیدا نہ ہوتے۔ اشیائے ضروریہ مہنگی نہ ہوتیں۔
قائداعظم2فروری 1948میں بنگال آئل ملز کے افتتاح کے موقع پر تقریر میں انتہائی اہم نکتہ بیان کررہے ہیں: 
''ہر نئی مل یا فیکٹری کے قیام کا مطلب ہے کہ اپنے ملک کے اقتصادی استحکام اور عوام کی خوشحالی کی شاہراہ پر ہمارا ایک اور قدم آگے بڑھا ہے۔ 
مہاجرین کے مستقل حل کے لئے عطیات تسلی بخش نہیںہیں۔ ان لوگوں کو ان کے پیروں پر کھڑا کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ملک میں تیزی سے صنعت کاری کی جائے۔ جس سے ان کے لئے روزگار کے نئے مواقع میسر آجائیں۔ قدرت نے ہمیں خام مال کی دولت سے بافراط نوازا ہے۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے وسائل کو اپنی مملکت اور اس کے عوام کے بہترین مفاد کے لئے استعمال میں لائیں۔''
آج کل سی پیک کے منصوبوں میں گوادر بندرگاہ کی مرکزیت اور اہمیت پر بجا طور پر فخر کیا جارہا ہے۔ قائد اعظم نے مشرقی پاکستان میں چٹاگانگ کی بندرگاہ کو  پاکستان کی خوشحالی کا سر چشمہ قرار دیا تھا۔ 26مارچ 1948کو چٹاگانگ میں  عام استقبالئے سے خطاب میں انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ آئندہ چند برسوں کے دوران جب چٹاگانگ کا شمار دنیا کی بہترین بندرگاہوں میں ہونے لگے گا تو صدیوں کی محرومی کا ازالہ ہوجائے گا۔
ان کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔ اس سے بندرگاہوں کے بارے میں ان کی بصیرت آشکار ہوتی ہے۔
''چٹاگانگ میں اپنے قیام کے دوران میں نے اپنا بیشتر وقت بندرگاہ کو ترقی دینے کے امکانات کے مطالعے پر صَرف کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آئندہ برسوں میں چٹا گانگ نہ صرف مشرقی پاکستان کے حجاج کی آمدورفت کے لئے ایک بندرگاہ بلکہ برآمدی اور درآمدی تجارت کا مرکز بھی بن جائے گا جہاں سے ہم اپنی فاضل اشیاء دنیا کو بھیج سکیں گے اور اپنی ضرورت کی چیزیں غیر ممالک سے منگواسکیں گے۔ مشرق کی پُر شکوہ ملکہ اور بابِ پاکستان کا رتبہ حاصل کرنا چٹاگانگ کا مقدر بن چکا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا ترقی کرنے کا ارادہ، محنت اور کام اور حکومت کی طرف سے ترقی کے اہداف کے لئے مساعی کی بدولت یہ منزل حاصل ہوجائے گی۔
قدرت نے آپ کو نہایت فیاضی کے ساتھ نوازا ہے۔ آپ کی سر زمین حسین اور شاداب خطہ ہے جس کے ساتھ سمندر ہے، دریا اور پہاڑیاں ہیں چہار طرف خوبصورت مناظر! اب چٹاگانگ میں یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے اور چٹا گانگ کو ترقی کی ان بلندیوں تک پہنچادے جو اس کا مقدر ہے۔''
چٹاگانگ تو اب ہمارے پاس نہیں ہے۔ اس بندرگاہ کے لئے ہمارے عظیم قائد نے جو امیدیں باندھی تھیں اور ہدایات دی تھیں ان کا گوادر کی بندرگاہ پر اطلاق کرکے قائد اعظم کی روح کو خوش کیا جاسکتا ہے ۔ وہ چٹاگانگ کا مقدر، مشرق کی پُر شکوہ ملکہ اور باب پاکستان کا رتبہ حاصل کرنا کہہ چکے تھے۔ یہ مقدر اب گوادر کا بن رہا ہے۔ وہ وسطی ایشیا اور یورپ کے لئے باب پاکستان کا درجہ حاصل کررہی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے یکم اپریل 1948  کو نئے نوٹ اور سکے پیش کئے۔ یہ تاریخی پیشرفت تھی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے قیام پاکستان کے مخالفوں کے دعوئوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ کہہ کر کہ پاکستان اقتصادی اعتبار سے قابل عمل نہیں ہوگا، ہمیں اپنی منزل مقصود سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی ۔ ہماری مملکت کے مستقبل اور اس کے مالیاتی اقتصادی استحکام کی تاریک تصویر کھینچی ۔ آپ کے پیش کردہ پہلے بجٹ سے ان جھوٹے پیمبروں کو ضرور صدمہ پہنچا ہوگا۔ اس سے پہلے ہی پاکستان کے مالیاتی استحکام اور حکومت کی طرف سے اس کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار ہوگیا ہے۔ اس تقریر میں بھی انہوں نے افرادی قوت اور خام مال پر زور دیا۔ افرادی قوت اور خام مال آج بھی پاکستان کی طاقت ہیں۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ 73سال میں یہ دونوں سر چشمے پوری طرح استعمال نہیں ہوئے ہیں۔
پاکستان اللہ کے فضل سے ایک نوجوان آبادی والی سر زمین ہے۔ 60فیصد آبادی 15سے 35سال کے درمیان ہے جو بڑی نعمت ہے۔ نوجوانوں سے اقبال کو بھی بہت امیدیں رہیں۔ قائد اعظم نے نوجوانوں کو اپنی طاقت قرار دیا۔ ڈھاکے میں 21مارچ 1948کو جلسۂ عام سے خطاب میں انہوں نے کہا۔
'' میرے نوجوان دوستو اور یہاں حاضر طلباء ! میں آپ کو ایک ایسے شخص کی حیثیت سے یہ بتادینا چاہتا ہوں جس کے دل میں ہمیشہ آپ کے لئے شفقت اور محبت رہی ہے اور جس نے پورے دس برس آپ کی خلوص اور وفاداری کے ساتھ خدمت کی ہے میں آپ کو خبردار کردینا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے کسی ایک یا دوسری سیاسی پارٹی کو استحصال کا موقع فراہم کیا تو یہ آپ کی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ یاد رکھئے ایک بنیادی تبدیلی ظہور میں آچکی ہے اب یہ ہماری اپنی حکومت ہے۔ ہماری مملکت آزاد اور خودمختار ہے۔ اب ہمارا طریقہ اور اپنے معاملات کوچلانے کا انداز آزاد افراد جیسا ہونا چاہئے۔ ہم کسی غیر ملکی استبداد کے تحت دبائے کچلے نہیں جارہے ہم زنجیروں کو توڑ چکے ہیں اور ہتھکڑیاں اتار کر پھینک دی ہیں۔ میرے نوجوان دوستو! میری نظریں آپ کو حقیقی معماران پاکستان کے روپ میں دیکھ رہی ہیں۔ نہ اپنا استحصال ہونے دیجئے اور نہ خود کو راہ سے بھٹکنے دیجئے۔اپنی صفوں میں مکمل اتحاد اور یگانگت رکھئے۔ اس کے لئے نوجوان کیا کچھ کرسکتے ہیں اس کی مثال قائم کیجئے آپ کا اصل کام یہ ہے کہ آپ مطالعہ پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں یہی آپ کا اپنی ذات، والدین اور مملکت کے ساتھ دیانت کا تقاضا ہے اگر آپ نے اس وقت اپنی صلاحیتوں کو ضائع جانے دیا تو بعد میں ہمیشہ پچھتاوا ہوگا۔ اپنی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے فراغت پالینے کے بعد آپ اپنا کردار آزادی کے ساتھ ادا کرسکتے ہیں۔ اپنی بھی مدد کرسکتے ہیں اور مملکت کی بھی۔''
پشاور میں اسلامیہ کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے 12اپریل 1948کو انہوں نے ایک بہت اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ نوجوان صرف سرکاری ملازمت پر اکتفا نہ کریں۔


اب جب ہم 25دسمبر کو اپنے محبوب اور عظیم قائد کی سالگرہ کی تقریبات منارہے ہیں۔ تو ہمیں فخر کرنا چاہئے کہ ہمیں ایسے رہبر کی قیادت میں آزادی نصیب ہوئی جس کی بصیرت کے آفاق آنے والے برسوں پر محیط ہیں۔ انہوں نے ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کردیا تھا۔ منفی رجحانات سے بھی خبردار کیا۔ پاکستان کی عظمت اور اہمیت کا احساس بھی دلایا۔ آج بھی اگر ہم صدق دل سے ان رہنما خطوط پر اپنی پالیسیوں کی تشکیل کریں تو اقوام عالم میں وہ رتبہ حاصل کرسکتے ہیں جو جنوبی ایشیا کے اس مسلمہ قائد کی آرزو تھی۔


''میرے نوجوان دوستو! آپ کو اس اہم اور بنیادی تبدیلی کا پورا پورا احساس ہوجانا چاہئے جو رونما ہوچکی ہے۔ اب آپ کو سرکاری ملازمت اختیار کرنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے جس کی آپ میں سے اکثر تمنّا کیاکرتے تھے۔ اب آپ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ آپ کے لئے نئے شعبے ، ذرائع اور مواقع کے دروازے کھل رہے ہیں۔ اب آپ کو اپنی توجہ سائنس ، تجارت و بینکاری ، بیمہ، صنعت اور فنی تعلیم پر مرکوز کردینی چاہئے۔
آپ یقینا اخبارات میں پڑھ رہے ہوں گے کہ پاکستان میں کس تیز رفتاری کے ساتھ مختلف النوع قسم کے ایسے ادارے قائم کئے جارہے ہیں جن کا میںنے تذکرہ کیا ہے۔ آپ میں سے اکثر کو اس کا علم نہیں ہوگا کہ یہ سب کچھ کس تیزی کے ساتھ ہورہا ہے لیکن یہ واقعی برق رفتاری سے ہورہا ہے اور جیسے جیسے ہم آگے بڑھیں گے ان میں معتدبہ اضافہ ہوتا جائے گا۔ ایسے بے شُمار مواقع ہیں جن کے باعث آپ کا بھی بھلا ہوگا اور آپ کلرکی کے بجائے قوم کی بہتر خدمت کرسکیں گے۔ میں یہ بات ان لوگوں کے ذہن نشین کرادینا چاہتا ہوں جو ہمارے نوجوانوں کی تعلیم کے ذمہ دار ہیں کہ وہ اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں اس جہت پر مرکوز کردیں۔''
یہ بات آج 73سال بعد بھی قول فیصل ہے۔ اب بھی ہمارے ہاں والدین سرکاری نوکری ہی کو اپنی اولادوں کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ خیال ذہن نشین ہوگیا ہے کہ تحفظ اسی ملازمت کا ہے۔ حالانکہ قائد نے پاکستان کے اوائل میں آگاہ کردیا تھا کہ سرکاری ملازمت کے علاوہ ایسے بے شُمار مواقع ہیں جہاں آپ کا بھلا بھی ہوگا اور آپ کلرکی کے بجائے وہاں سے قوم کی بہتر خدمت کرسکیں گے۔ انہوں نے نہ صرف نوجوانوں سے کہا بلکہ تعلیم کے ذمہ داروں جو اس وقت زیادہ سرکاری شعبے میں تھے، ان کو بھی باور کروایا۔کہ وہ اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں اس جہت پر مرکوز کریں۔ آج تو اللہ کے فضل سے ملک میں بڑی تعداد میں پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹیاں ہیں۔ پھر تربیت کے لئے نیشنل ووکیشنل ٹریننگ کا ادارہ بھی موجود ہے۔ جہاں میٹرک کے بعد نوجوان لڑکے لڑکیاں مختلف ہُنر کی تربیت حاصل کرسکتے ہیں۔ اب یہ ہمارے اساتذہ، رہبروں، دانشوروں اور دوسرے درد مندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم میں یہ شعور پیدا کریں کہ وہ اپنے بچوں کے لئے سرکاری نوکریوں کو ہی منتہا و مقصود نہ سمجھیں۔ ہر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور وزراء کے آگے پیچھے سیکڑوں دیہاتی ملازمت کی درخواستیں لئے اپنے آپ کو ذلت و خواری سے دوچار کررہے ہوتے ہیں۔ سرکار کے پاس اوّل تو نوکریاں اتنی تعداد میں نہیں ہوتی ہیں پھر وہاں نوکریاں فروخت ہورہی ہیں۔ تنخواہیں اور مراعات بھی کم ہیں۔ ترقی کے امکانات بھی محدود۔
یہ تو مسلمہ امر ہے کہ تعلیم ہی ملکوں کی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بنتی ہے۔ تعلیم آج بھی وہی توجہ چاہتی ہے جو 1947 میں درکار تھی۔ تعلیم کے سلسلے میں بھی ان کا ذہن بالکل واضح تصورات رکھتا تھا۔ وہ گھسی پٹی تعلیم کے قائل نہیں تھے۔ پاکستان کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لئے ان کی خواہش تھی کہ نظام تعلیم نئے سرے سے مرتب ہو۔ جس میں آنے والے برسوں کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ پشاور میں ایڈورڈ کالج کے پرنسپل عملے اور طلبہ سے انہوں نے 18اپریل 1948کو بہت ہی قطعی انداز میں بتایا۔
''مجھے مسرت ہے کہ آپ نظام تعلیم کو نئے سرے سے مرتب کررہے ہیں ۔ میں آپ سے پوری طرح متفق ہوں کہ محض کلرک یا سرکاری اہلکار تیار کرنے کے بجائے اب آپ کا کالج طلباء کو ایسے موزوں مضامین اختیار کرنے کی پیش کش کررہا ہے جو انہیں تجارت، کاروبار، صنعت، بینکاری اور بیمہ کے کاروبار میں عہدے سنبھالنے کے لائق بنا دے گا۔ ہمارے کالجوں کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ وہ زراعت، حیاتیات، انجینئرنگ، طب اوردیگر خصوصی مضامین میں اعلیٰ درجے کے ماہرین تیار کریں۔ صرف اسی صورت میں ہم معیار زندگی، بالخصوص عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے کے ضمن میں درپیش مسائل پر قابو پاسکیں گے۔''
1948میں وہ یہ گرانقدر ہدایت دے رہے ہیں کہ تجارت، کاروبار، صنعت، بینکاری، بیمہ کے ماہرین تیار کئے جائیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ زراعت، حیاتیات، انجینئر نگ، میڈیکل میں بھی خصوصیت حاصل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ 
پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے۔ زراعت میں پیش رفت بھی قائد کی دلی آرزو تھی۔ فروری 1945میں امریکہ کے عوام سے نشری خطاب میں وہ امریکی عوام کو بتارہے ہیں۔
'' پاکستا ن بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے ۔ اس کی دو بڑی فصلیں گندم اور چاول ہیں۔ چاول مشرقی پاکستان کی اور گندم مغربی پاکستان کی خاص پیداوار ہے۔ مغربی پاکستان کے دونوں صوبوں، مغربی پنجاب اور سندھ میں آبپاشی کے لئے نہروں کا جال پھیلا ہوا ہے ۔ اس موقع پر لائیڈ بیراج کے آبپاشی کے کام کا تذکرہ بھی ہوجانا چاہئے جس کے ذریعے دریائے سندھ کے پانی کو استعمال کرکے 60 لاکھ ایکڑ ناکارہ اراضی کو قابل کاشت رقبہ بنایا گیا ہے۔ دو نئے بیراجوں کی تعمیر ایک بالائی سندھ اور دوسرا زیریں سندھ کی سکیمیں بھی ہیں جب یہ مکمل ہوجائیں گی تو امید کی جاتی ہے کہ سندھ کا زیر کاشت رقبہ ایک کروڑ بیس لاکھ ایکڑ تک پہنچ جائے گا۔''
آپ غور کریں کہ بانیٔ پاکستان کی پیش بینی کس قدر وسیع اور ہمہ جہت تھی۔ انہوں نے یہ رہنمائی بھی کی ۔ پاکستان کو دنیا کے اسٹیج پر کیا کردار ادا کرنا چاہئے۔
'' اگر پاکستان کو دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کرنا ہے جو اس کے رقبے، آبادی اور وسائل کے شایان شان ہو تو اسے زراعت کے ساتھ ساتھ صنعت کو بھی ترقی دینی ہوگی اور اپنی معیشت کی بنیاد صنعت پر رکھنی ہوگی۔ اپنی مملکت کو صنعتی بنانے سے ضروریات زندگی کے لئے دوسرے ملکوں کی محتاجی کم ہوجائے گی، لوگوں کو روزگار کے لئے زیادہ مواقع فراہم ہوں گے اور مملکت کے وسائل میں بھی اضافہ ہوگا۔ قدرت نے ہمیں صنعت کے لئے خام مواد کے بے پناہ ذخائر عطا کئے ہیں۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ان ذخائر اور وسائل کو مملکت اور عوام کی بہبود کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال میں لائیں۔  ( ولیکا ٹیکسٹائل ملز کے افتتاح پر خطاب۔26 ستمبر۔1947)''
جاگیرداری، سرمایہ داری آج بھی پاکستان کی ترقی میں حائل ہیں۔ جاگیردارانہ کلچر نے دیہی علاقوں میں، سرداری نے مخصوص علاقوں میں اور سرمایہ داری نے شہروں میں عام پاکستانی کو آزادی اور جمہوریت کے ثمرات سے محروم کر رکھا ہے۔ قائد اعظم کے خیالات اس ضمن میں بھی 73سال پہلے بالکل واضح تھے۔ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے دہلی میں 24مارچ 1943کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا تھا۔
''میں ضروری  سمجھتا ہوں کہ زمینداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کردوں۔ اس طبقے کی خوشحالی کی قیمت عوام نے ادا کی ہے۔ اس کا سہرا جس نظام کے سر ہے، وہ انتہای ظالمانہ اور شر انگیز ہے اور اس نے اپنے پروردہ عناصر کو اس حد تک خود غرض بنادیا ہے کہ انہیں دلیل سے قائل نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی مقصد براری کے لئے عوام کا استحصال کرنے کی خوئے بداُن کے خون میں رچ بس گئی ہے۔ وہ اسلامی احکام کو بھول چکے ہیں۔ حرص و ہوس نے سرمایہ داروں کو اتنا اندھا کردیا ہے کہ وہ جلب منفعت کی خاطر دشمن کا آلہ کار بن جاتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ آج ہم اقتدار کی گدی پر متمکن نہیں۔ آپ شہر سے باہر کسی جانب چلے جائیں۔ میں نے دیہات جاکر خود دیکھا ہے کہ ہمارے عوام میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جنہیں دن میں ایک وقت بھی پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ کیا آپ اسے تہذیب اور ترقی کہیں گے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصدہے؟ کیا آپ نے سوچا کہ کروڑوں کا استحصال کیا گیا ہے اور اب ان کے لئے دن میں ایک بار کھانا حاصل کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔
اگر پاکستان کا حصول اس صورت حال میں تبدیلی نہیں لاسکتا تو پھر اسے حاصل نہ کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں۔ اگر وہ( سرمایہ دار اور زمیندار) عقل مند ہیں تو وہ نئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو  ڈھال لیں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر خدا ان کے حال پر رحم کرے۔ ہم ان کی مدد نہیں کریں گے۔''
صنعت زراعت اور تعلیم کے شعبوں میں پیشرفت کے ساتھ بعض منفی قوتوں کے بارے میں بھی حضرت قائد اعظم محمد علی جناح بار بار توجہ دلاتے رہے ہیں۔ جن میں چور بازاری، ذخیرہ اندوزی اور رشوت ستانی سر فہرست ہیں۔ آج 73سال بعد انہی رجحانات کی وجہ سے عوام کو شدید مہنگائی کا سامنا ہے۔ ان پر عرصۂ حیات تنگ ہورہا ہے۔ دو وقت کی روٹی عزت سے ملنا محال ہے۔ افسوس کہ ہم نے بانیٔ پاکستان کی ہدایات کو نظر انداز کیا۔
''چور بازاری ایک لعنت ہے۔ میں جانتا ہوں کہ چور بازاری کرنے والوں کو اکثرپکڑا جاتا ہے اور سزا دی جاتی ہے، کبھی کبھی حوالات بھیجا جاتا ہے، کبھی جرمانہ عائد کردیا جاتا ہے۔لیکن اس موذی مرض سے نمٹنے کے لئے زیادہ سختی اور بیدردی کی ضرورت ہے۔ جو آج معاشرے کے خلاف ایک زبردست جرم کی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور بالخصوص ہمارے ان بگڑے ہوئے حالات میں جبکہ خوراک اور دوسری ضروریاتِ زندگی کی قلت کا شکار ہوگئے ہیں۔ پاکستا ن کا جو شہری چور بازاری کا ارتکاب کرتا ہے وہ میرے خیال میں گھنائونے جرم سے بھی زیادہ گھنائونے جرم کا مرتکب ہے۔
یہ لوگ خوراک اور دیگر اشیائے خوردنی کی ترسیل اور بہم رسانی کے پورے نظام کو درہم برہم کرکے اجتماعی بھوک، محتاجی اور حتیٰ کہ انسانوں کی موت کا سبب بنتے ہیں۔ یہ لوگ عموماً بڑے ذہین، فہمیدہ سب کچھ سوچنے سمجھنے والے اور ذمہ دار قسم کے لوگ ہوتے ہیں، اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان کے لئے سخت سے سخت سزائیں تجویز کرکے ان کا قلع قمع کردیا جائے۔(پاکستان دستور ساز اسمبلی سے خطاب، کراچی، 11 اگست ۔1947)''
چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، رشوت ستانی، اقربا پروری جہاں ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں وہاں تعصبات، چاہے وہ صوبائی ہوں، فرقہ وارانہ یا لسانی، یہ بھی ذہن کو مفلوج کردیتے ہیں۔ اکثر تقریروں میں صوبائی عصبیت سے چھٹکارا پانے کا درس ملتا ہے۔ یہاں 25جنوری 1948کو کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کا اقتباس پیش کرنا چاہوں گا۔
''میں مسلمانوں سے چاہتا ہوں کہ وہ صوبائی تعصب کی بیماری سے چھٹکارہ حاصل کرلیں۔ کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی جب تک وہ ایک صف میں متحد ہوکر آگے نہ بڑھے۔ ہم سب پاکستان کے ذمہ دار شہری ہیں۔ پاکستان میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی اس کا حق ادا کرنا چاہئے۔ ہمیں اس کی خدمت کرنی چاہئے۔ اس کے لئے قربانیاں دینی چاہئیں اور اگر یہ مانگے تو اپنی جان بھی نذر کردینی چاہئے تاکہ یہ دنیا بھر کی ایک شاندار، عظیم اور خوشحال مملکت بن جائے۔''
رشوت ستانی کے ساتھ ساتھ اقربا پروری آج بھی سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ اپنے رشتے داروں۔ دوستوں کو نوازنا، میرٹ کو نظر انداز کرنا ،معاشرے کی خصوصیت بنی ہوئی ہے۔ اس سے بہت سے با صلاحیت نوجوانوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ مایوسی بڑھتی ہے۔
'' ایک اور بات جو فوری طور پر سامنے آتی ہے وہ ہے اقربا پروری اور احباب نوازی، یہ بھی ہمیں ورثے میں ملی اور بہت سی اچھی بری چیزوں کے ساتھ یہ لعنت بھی ہمارے حصّے میں آئی۔ اس برائی کو بھی سختی سے کچل دینا ہوگا۔ یہ واضح کردوں کہ میں نہ احباب پروری اور اقربا نوازی کو برداشت کروں گا اور نہ ہی کسی اثر رسوخ کو جو مجھ پر بالواسطہ یا بلا واسطہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی قبول کروں گا۔ جہاں کہیں مجھے معلوم ہوا کہ یہ طریقہ کار رائج ہے خواہ یہ اعلیٰ سطح پر ہو یا ادنیٰ سطح پر یقینی طور پر میں اس کو گوارا نہیں کروں گا۔
( 11اگست 1947 )''
ایک مملکت کا ڈھانچہ سرکاری افسر ہی استوار کرتے اور اسے فعال رکھتے ہیں۔ اگر ان کی نیت درست نہ ہو اور وہ میرٹ سے صرف نظر کررہے ہوں، عوام کے بجائے حکمرانوں کو خوش رکھنے کی خواہش رکھتے ہوں تو معاشرہ بحرانوں میں گھرا رہتا ہے۔ سرکاری افسروں یا بیورو کریسی کے لئے ان کی ہدایات بھی واضح رہی ہیں۔ گورنمنٹ ہائوس پشاور میں سول افسروں سے غیر رسمی بات چیت لائق فکر ہے۔ جو 14اپریل 1948کو ہوئی:
'' پہلی بات جو میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ آپ کو کسی سیاسی جماعت یا کسی سیاستدان کے سیاسی دبائو میں نہیں آنا چاہئے۔ اگر آپ پاکستان کے وقار اور عظمت کو بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ کو کسی دبائو کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنا فرض منصبی عوام اور ملک کے خادم بن کر بے خوفی اور دیانتداری کے ساتھ سر انجام دینا چاہئے۔ عمالِ حکومت، ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں۔ حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی ہیں، وزرائے اعظم اور وزراء آتے جاتے رہتے ہیں لیکن آپ حسب معمول برقرار رہتے ہیں اور اس کے لئے آپ پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ سیاسی جماعت یا وہ سیاسی جماعت، یہ سیاسی رہنما یا وہ سیاسی رہنما اس سے آپ کو کچھ سروکار نہیں رکھنا چاہئے۔ یہ آپ کاکام ہے ہی نہیں۔ آئین کے تحت جو بھی حکومت بنتی ہے اور جو کوئی بھی معینہ آئینی راستوں سے وزیر اعظم یا وزیر بن کر آتا ہے آپ کا فرض نہ صرف یہ ہے کہ آپ حکومت کی فرمانبرداری اور وفاداری کے ساتھ خدمت کرتے رہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ شہرت، اپنے وقار، اپنی عزت اور اپنی ملازمت کی نیک نامی کو بھی برقرار رکھیں۔ اگر آپ اس عزم کے ساتھ آغاز کریں گے تو آپ ہمارے تخیّل اور ہمارے خوابوں کے مطابق پاکستان یعنی ایک پُرشکوہ مملکت کی اور دنیا کی عظیم ترین قوموں میں سے ایک قوم کی تعمیر میں بہت بڑا کردار ادا کرسکیں گے۔''
بہت کم سرکاری افسر پاکستان کی تاریخ میں ان اصولوں پر عملدرآمد کرسکے۔ کبھی حکمرانوں نے دبائو ڈالا۔ خوشامد نہ کرنے والے افسروں کو برطرف کیاگیا۔ کبھی افسروں نے خود ان فرامین سے اجتناب کیا۔ ملکی خزانہ لوٹنے میں حکمرانوںکے شریک جرم بن گئے۔
میں تو حیران ہورہا ہوں کہ بانیٔ پاکستان نے، ہمیں انگریزوں اور ہندوئوں کی غلامی سے آزاد کرانے والے عظیم رہنما نے، ہر وہ راستہ دکھایا جو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جاتا تھا اور ہر اس رجحان سے خبردار کیا جو قوموں کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ مگر ہم 73سال سے ان سنہری اصولوں سے رو گردانی کرتے آرہے ہیں۔ جن منفی عوامل سے انہوں نے گریز کا مشورہ کیا تھا۔ وہی ہماری قومی عادت بن چکے ہیں۔ ہم صدارتی نظام کے تجربے بھی کرچکے ہیں۔ پارلیمانی نظام جمہوریت کو تو ہم نے کئی دہائیاں سونپی ہیں۔ آج کل بھی پارلیمانی نظام ہی کا تجربہ ہورہا ہے۔ آئین ہے، پارلیمنٹ ہے، صوبائی اسمبلیاں ہی نہیں صوبائی خود مختاری بھی ہے۔ لیکن عوام پریشان ہیں۔ 22کروڑ میں سے 5½کروڑ غربت کی حد سے نیچے جاچکے ہیں۔ زراعت میں پیداوار کی صلاحیت بہت کم ہے۔ صنعتی ترقی زخم خوردہ ہے۔ برآمدات کی شرح بھی پست ہے۔
جمہوریت کی ایک سیڑھی مقامی حکومتوں کو ہم نے بے دست و پا کرکے رکھ دیا ہے۔ وفاق سے صوبے خود مختاری مانگتے ہیں۔ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے یہ میسر بھی آچکی ہے۔ لیکن صوبے اضلاع کو خود مختاری نہیں دیتے۔ شہری حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں اختیار نہیں کرنے دیتے۔ بلدیہ، میئر کے اختیارات کے سلسلے میں بانیٔ پاکستان نے کیا یقین ظاہر کیا تھا۔ ملاحظہ کیجئے۔
''جیسا کہ آپ نے کہا ہے کہ کراچی اور اس کی بلدیہ کی اہمیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ بلدیہ عظمیٰ خود کو اپنی ذمہ داریوں کا اہل ثابت کرے گی۔ اس کے تمام شعبوں کی سرگرمیوں میں اور اضافہ ہوجائے گا لیکن مجھے اعتماد ہے کہ شہر کے کرتا دھرتا اصحاب کی دانشمندا نہ اور اہل رہنمائی جملہ شہریوں کے تعاون کے ساتھ اس کام کو مستعدی اور رغبت کے ساتھ انجام دیا جائے گا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ کو درپیش مشکلات اور مسائل حل کرنے میں حکومت کی اعانت حاصل رہے گی اور مجھے یقین ہے کہ حکومت کے متعلقہ شعبے مناسب وقت پر بطریق احسن بلدیہ کے میئر کے اختیارات اور حیثیت کے معاملات کو بھی نمٹادیں گے جس کے بارے میں آپ ابھی کچھ دیر پہلے فکر مند دکھائی دے رہے تھے۔''
(کراچی کارپوریشن کے استقبالئے سے خطاب۔25اگست ۔1947 )''
انہوں نے امید کی تھی کہ بلدیہ اور میئر کے اختیارات کے معاملے کو حکومت کے متعلقہ محکمے جلد نمٹادیں گے۔ مگر یہ تنازعات آج 73سال بعد بھی وہیں ہیں۔
قائد اعظم  کو طویل جدو جہد اور اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے صرف ایک سال کا وقت دیا۔ اس مختصر وقت میں اپنے افکار ، خیالات اور عزائم میں انہوں نے کسی بھی مملکت کے بنیادی اصولوں اور قواعد و ضوابط پر بار بار روشنی ڈالی۔ حکومت کے ادارے تو ان رہنما خطوط کو صرف کتابوں کی زینت ہی رکھنا چاہتے ہیں۔یہ ہماری درسگاہوں اور دانشوروں کو چاہئے کہ قائد اعظم کی تقاریر، خط کتابت پر تحقیق کرکے آج کے حالات اور مسائل کے تناظر میں رہنما خطوط مرتب کریں۔ ہمارے طالع آزما رہنما اور حکمران ہر اصول کو متنازع بناچکے ہیں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ بانیٔ پاکستان کے افکار کو آج بھی احترام حاصل ہے۔
یہ رہنما خطوط، ویب سائٹس، یو ٹیوب اور دوسرے تمام مقامات پر چسپاں کئے جائیں۔ جہاں ہماری نوجوان نسل کی نظریں زیادہ مرکوز ہوتی ہیں۔ ان میں خاص طور پر مسلح افواج اور سرکاری سول ملازمین کے بارے میں قائد اعظم کے دو ٹوک الفاظ بھی شامل کئے جائیں۔ جس میں ان کے دائرہ کار کا تعین کردیا گیا تھا۔ ان سے تجاوز کی وجہ سے ہی پاکستان کی تاریخ میں ہمیں سانحوں اورالمیوں سے دوچار ہونا پڑا۔ 
آخر میں ایک اقتباس فروری 1948 میں امریکی عوام سے نشری خطاب سے۔ جس میں پاکستان کی ریاست کا تصور قطعی، شفاف اور واضح انداز میں سامنے آجاتا ہے۔
'' مجھے اس بات کا تو علم نہیں کہ دستور کی حتمی شکل کیا ہوگی لیکن مجھے اس امر کا یقین ہے کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگا جس میں اسلام کے لازمی اصول شامل ہوں گے ۔ آج بھی ان کا اطلاق عملی زندگی میں ویسے ہی ہوسکتا ہے جیسے کہ 13 سو برس قبل ہوسکتا تھا۔ ہر شخص کے ساتھ عدل اورانصاف کی تعلیم دی ہے ۔ ہم ان شاندار روایات کے وارث ہیںاور پاکستان کے آئندہ دستور کے مرتبین کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے با خبر ہیں۔ بہرنوع پاکستان ایک ایسی مذہبی مملکت نہیں ہوگی جس پر علماء ایک خدائی مشن کے ساتھ حکومت کریں۔ غیر مسلم ہندو، عیسائی اور پارسی ہیں  لیکن وہ سب پاکستانی ہیں۔ انہیں وہ تمام حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی جو کسی اور شہری کو حاصل ہوسکتی ہیں اور وہ امور پاکستان میں اپنا جائز کردار ادا کرسکیں گے۔''
اب جب ہم 25دسمبر کو اپنے محبوب اور عظیم قائد کی سالگرہ کی تقریبات منارہے ہیں۔ تو ہمیں فخر کرنا چاہئے کہ ہمیں ایسے رہبر کی قیادت میں آزادی نصیب ہوئی جس کی بصیرت کے آفاق آنے والے برسوں پر محیط ہیں۔ انہوں نے ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کردیا تھا۔ منفی رجحانات سے بھی خبردار کیا۔ پاکستان کی عظمت اور اہمیت کا احساس بھی دلایا۔ آج بھی اگر ہم صدق دل سے ان رہنما خطوط پر اپنی پالیسیوں کی تشکیل کریں تو اقوام عالم میں وہ رتبہ حاصل کرسکتے ہیں جو جنوبی ایشیا کے اس مسلمہ قائد کی آرزو تھی۔ ||


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP