متفرقات

قائد اعظم کا پاکستان۔ قائد کے افکار کی روشنی میں

(دوسری اور آخری قسط)
میرے لئے تو یہ شرف ہمیشہ باعث افتخار رہا ہے کہ میں اس عظیم مملکت میں سانس لے رہا ہوں جو قائد اعظم جیسے مخلص،بے لوث، ایماندار قائد کی جدو جہد سے حاصل ہوئی۔ صرف بر صغیر کے ماہرین اور مؤرخین ہی نہیں، بین الاقوامی تاریخ نویس اور تجزیہ نگار بھی اس عظیم رہنما کے تدبر، بصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے بیک وقت کئی مخالف قوتوں کا مقابلہ اپنی متانت اور ذہانت سے کیا۔ ایک طرف انگریز استعمار جس کی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ اس کی بے کراں طاقت تھی۔ دوسری طرف آل انڈیا کانگریس کی شاطر قیادت جو ہندو غلبے کو مسلمانوں کو کچلنے کے لئے استعمال کررہی تھی۔ اِن دونوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا آسان نہیں تھا۔



ان کی زندگی نے وفا کی ہوتی، قدرت نے انہیں چند مزید سال عنایت کئے ہوتے تو وہ اپنے افکار، اپنے خوابوں، اپنی تمنّائوں کو خود حقیقت میںڈھالتے اور ان کی قیادت میں اس پاکستان کی بنیاد رکھ دی جاتی۔ جس کے لئے مسلمانانِ بر صغیر تگ و دو کررہے تھے۔ لیکن میں جب ان کی حیات کے اوراق سے گزرتا ہوں، ان کی تقاریر کا مطالعہ کرتا ہوں، ان کے خطوط پڑھتا ہوں تو مجھے اس ریاست کے، مملکت کے تمام خدو خال، تمام حدود و قیود شفاف انداز سے میسر آجاتی ہیں۔ ایسی ہستیاں ہر وقت اپنی امنگوں کی توجیہہ کرتی رہتی ہیں۔ اپنے افکار اپنے چاہنے والوں میں بانٹتی رہتی ہیں۔ اب یہ ان کے پیروکاروں پر منحصر ہوتا ہے، ان حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے، جنہیں عوام حکومت کا اختیار دیتے ہیں۔ کہ وہ قائد کی ان تقاریر میں واضح کئے گئے اصولوں پر معاشرے کی تشکیل کریں۔ کاش ہمارے حاکم اپنے آپ سے ، پاکستان سے، ملک کے عوام سے مخلص ہوتے۔ 73سال کم عرصہ نہیں ہے اور جب ہر شعبے میں بانیٔ پاکستان کے کھلے الفاظ میں رہنما خطوط موجود تھے تو وہ ان کو وجود میں لاسکتے تھے اور وہ معاشرہ قائم کرسکتے تھے۔ جسے بجاطور پر قائد اعظم کا معاشرہ کہا جاسکتا تھا۔
ہم گزشتہ تحریر میں پاکستانی معاشرہ، آئین، اقلیتوں کے حقوق، امن عالم، مسلح افواج کی تنظیم نو، صنعت و تجارت، بندرگاہوں، نوجوان اور سرکاری ملازمتیں، زراعت، جاگیرداری، سرمایہ داری، چوربازاری، ذخیرہ اندوزی ، رشوت ستانی، اقربا پروری، سرکاری افسروں، مقامی حکومتوں اور ریاست کے تصور کے بارے میں قائد اعظم کے ارشادات پیش کرچکے ہیں۔
اب میں آغاز کروں گا قائد اعظم کے پیغمبر آخر الزماں حضور اکرم حضرت محمدۖ سے عشق اور عقیدت کے جذبات سے۔ اکثر اپنے خطبوں میں انہوں نے یہ فرمایا۔ رسول اکرمۖ   مصلح تھے، عظیم رہنما تھے،عظیم قانون دان تھے، عظیم سیاستدان اور عظیم حکمران تھے۔
ملاحظہ کیجئے 25 جنوری 1948کو بار ایسوسی ایشن سے کراچی میں خطاب :
''آج ہم یہاں دنیا کی عظیم ترین ہستی کو نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ آپ ۖ کی عزت و تکریم کروڑوں انسان ہی نہیں کرتے بلکہ دنیا کی تمام عظیم شخصیات بھی آپ ۖ کے سامنے سر جھکاتی ہیں۔
میں ایک عاجز ترین انتہائی خاکسار، بندۂ ناچیز اتنی عظیم، عظیموں کی عظیم ہستی کو بھلا اور کیسے نذرانہ پیش کرسکتا ہوں۔ رسول اکرم ۖ مصلح تھے، عظیم رہنما تھے، عظیم واضع قانون تھے، عظیم سیاستدان تھے، عظیم حکمران تھے۔''
قائد اعظم کے نزدیک نجات کا واحد ذریعہ حضور اکرم ۖ کے قائم کردہ ضابطۂ حیات پر عملدرآمد ہے۔ 
دیکھئے۔ شاہی دربار سبّی سے خطاب۔14جنوری 1948:
'' میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ''ضابطۂ حیات'' پر عمل کرنا ہے۔ جو ہمارے عظیم واضع قانون نبی ۖ نے ہمارے لئے قائم کر رکھا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں۔ اسلام کا سبق یہ ہے ۔ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو۔''
اپنے مختصر سے دور حکومت میں اپنی ہر تقریر میں وہ اسلامی شعائر اور مذہبی تہواروں کی مناسبت پیش نظر رکھتے تھے۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی افتتاحی تقریب 15اگست 1947کو اپنے پیغام میں وہ جمعة الوداع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں :
''آج جمعة الوداع ہے۔ ہم سب کے لئے اور اس وسیع و عریض بر عظیم اور دنیا کے ہر گوشے میں جہاں کہیں بھی مسلمان ہوں رمضان المبارک کا آخری جمعہ، مسرت و انبساط کا دن ہے، تمام مساجد میں ہزاروں کے اجتماعات رب جلیل کے حضور بڑی عجز و انکساری سے سجدہ ریز ہوجائیں اور اس کی نوازش پیہم اور فیاضی کا شکریہ ادا کریں اور پاکستان کو ایک عظیم ملک اور خود کو اس کے شایان شان شہری بنانے کے کام میں اس قادر مطلق کی ہدایت اور اعانت طلب کریں۔''
پاکستان میں پہلی عید الفطر اگر چہ خون میں نہائی ہوئی لاکھوں عزیز و اقارب کی شہادتوں اور اموات کے تناظر میں گزر رہی ہے۔ قائد اعظم اس موقع پر بھی ایک ولولۂ تازہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ قوم کے نام پیغام میں وہ عید الفطر کے موقع سے وابستہ تصورات کے احیاء کی دعوت دیتے ہیں۔
اُن کا 18اگست 1947 کا پیغام غور سے پڑھیں۔
''آزاد اور خود مختار پاکستان کے قیام کے بعد یہ ہماری پہلی عید ہے۔ تمام عالم اسلام میں یہ یوم مسرت ہماری قومی مملکت کے قیام کے فوراً بعد نہایت مناسب طور پر آیا ہے لہٰذا یہ ہم سب کے لئے خصوصی اہمیت اور مسرت کا حامل ہے۔ میں اس مبارک موقع پر تمام مسلمانوں کو خواہ وہ کسی بھی خطہ ارض پر ہوں، پر مسرت عید کا ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ یہ عید خوشحالی کا نیا باب وا کرے گی اور اسلامی ثقافت اور تصورات کے احیاء کی جانب پیش قدمی کا آغاز کرے گی۔ میں خدائے قادر و قیوم کے حضور دست بدعا ہوں کہ وہ ہم سب کو اپنے ماضی اور تابناک تاریخ کا اہل بنادے اور ہمیں اتنی طاقت عطا فرمادے کہ ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں جملہ اقوام عالم میں ایک عظیم قوم بناسکیں۔''
میں تو چشم تصور سے دیکھ رہا ہوں کہ قائد کے ذہن میں کتنے آتے برس ہی نہیں کتنی آنے والی صدیاں ہیںاور وہ قوم کو کس طرح ان اہم مواقع، ان مذہبی تہواروں کی غرض و غایت سے آگاہ کررہے ہیں اور کس طرح عوام کی رہنمائی کررہے ہیں کہ ایک ذمہ دار معاشرے کو ان مواقع پر کس کردار کا مظاہرہ کرنا ہے۔
یہی جذبہ، یہی روح، یہی توقعات 24اکتوبر 1947کو عید الاضحیٰ کے موقع پر قوم کے پیغام میں ہیں۔ملاحظہ فرمایئے۔
''اللہ تبارک و تعالیٰ اکثر ان لوگوں کا امتحان لیتا ہے اور انہیں آزمائش میں ڈالتا ہے جن سے وہ محبت فرماتا ہے۔ اللہ جل شانہ نے اپنے جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اس شے کی قربانی دیں جو انہیں سب سے زیادہ عزیز ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس حکم پر لبیک کہا اور اپنے لخت جگر کو قربانی کے لئے پیش کیا۔ آج پھر خدائے عز و جل کو پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کا امتحان اور ان کی آزمائش مقصود ہے۔ حق تعالیٰ نے ہم سے عظیم قربانیوں کا تقاضا کیا ہے۔ ہماری نوزائیدہ مملکت ان زخموں سے چور ہے جو دشمنوں نے اس کے جسد پر لگائے ہیں۔ ہندوستان میں ہمارے مسلمان بھائیوں کو صرف اس لئے انتقام اور ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ انہوں نے قیام پاکستان کے لئے اعانت کی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس وقت ہر طرف استبداد کے سیاہ بادل منڈلارہے ہیں لیکن ہمارے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئے گی کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم قربانی کے اسی جذبے کا اظہار کریں گے جس کا مظاہرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا تو قادر مطلق ان سیاہ بادلوں کو ہٹادے گا اور ہم پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے گا جیسا کہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل فرمائی تھیں۔''
آپ بہت ہی توجہ سے اس پیغام کے الفاظ کا انتخاب دیکھیں کہ اس میں ایک طرف قربانی کا تاریخی پس منظر ہے۔ حضرت ابراہیم کی اپنے خالق و مالک کے حکم کی اطاعت۔ دوسری طرف نوزائیدہ مملکت کے لئے عوام کی عظیم قربانیاں۔ پھر ایک امید ایک نوید کہ حضرت ابراہیم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمارے پائے ثبات میں لغزش نہیں آنی چاہئے۔
میں قائد کے خطبوں، تقریروں اور ولولہ انگیز الفاظ سے گزرتے ہوئے بار بار یہ سوچ رہا ہوں کہ پاکستان کے قیام میں اس وقت درپیش چیلنجوں، ایک سے ایک کوہ گراں، ہر قدم گزرتی قیامتوں میں اور ایک مہلک بیماری سے خستہ خستہ جسم کے باوجود وہ اپنی قوم کو مستقبل کی گراں بار ذمہ داریوں کے لئے کیسے تیار کررہے ہیں۔ اس وقت پیغامات کے لئے دنوں اور مواقع کا انتخاب پھر بے شُمار شعبوں میں سے اہم شعبوں کا چنائو۔ ہر لمحہ ایک فکر تشویش مگر عزم دکھائی دیتا ہے کہ وہ بر صغیر کے مسلمانوں کو آنے والے چیلنجوں کے لئے ذہنی، جسمانی، روحانی اور نظریاتی طور پر تیار کرنا چاہتے تھے۔
30اکتوبر 1947 کو یونیورسٹی سٹیڈیم لاہور میں ایک اجتماع سے ان کا خطاب میرے سامنے ہے جس میں وہ آزدی کی منزل مقصود پانے اور ایک آزاد خود مختار دنیا کی پانچویں بڑی مملکت قائم ہونے کے بعد مستقبل کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے حوصلہ دلارہے ہیں۔
'' کام کی زیادتی سے گھبرائیے نہیں۔ نئی اقوام کی تاریخ میں کئی ایک مثالیں ہیں جنہوں نے محض عزم اور کردار کی قوت کے بل پر اپنی تعمیر کی۔ آپ کی تخلیق ایک جوہر آبدار سے ہوئی ہے اور آپ کسی سے کم بھی نہیں۔اوروں کی طرح، اور خود اپنے آباء و اجداد کی طرح آپ بھی کیوں کامیاب نہ ہوں گے۔ آپ کو صرف اپنے اندر مجاہدانہ جذبے کو پروان چڑھانا ہوگا۔ آپ ایسی قوم ہیں جس کی تاریخ ، قابل، صلاحیت کے حامل، با کردار اور بلند حوصلہ اشخاص سے بھری ہوئی ہے۔ اپنی روایات پر قائم رہئے اور اس میں عظمت کے ایک اور باب کا اضافہ کردیجئے۔''
جمہوریت کا مضبوط ستون منظم سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں۔ جن میں پارٹی کی حکومت کی طرف سے بھی کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہئے۔ پارٹی عہدے سرکاری عہدے الگ الگ ہوں تو جمہوریت مستحکم ہوتی ہے۔رائٹر کے نامہ نگار ڈنکن ہوپرسے 25اکتوبر1947  کے انٹرویو میں بہت سے اہم مسائل کا حل دیا گیا۔ اور بہت سے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ اس میں ان سے مسلم لیگ کے حوالے سے سوال کیا گیا۔ اس کے جواب میں پارٹی تنظیم کے حوالے سے قائد اعظم نے انتہائی اہم مقصد کی طرف توجہ دلائی۔ سوال جواب ملاحظہ کیجئے۔
س:     اب آپ کے خیال میں بیرون پاکستان مسلم لیگ کا کیا کام رہ گیا ہے؟
ج:     ''مسلم لیگ اپنا مقصد حاصل کرچکی ہے۔ اپنا بنیادی مقصد جو پاکستان کی آزاد مملکت قائم کرنا تھا۔مسلم لیگ کے باقی اغراض و مقاصد عمومی نوعیت کے ہیں۔ میں ایک حوالہ پیش کرتا ہوں 'ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوستان کی دیگر جماعتوں کے سیاسی، مذہبی اور دیگر حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا اور انہیں فروغ دینا اور مسلمانان ہند اور دیگر جماعتوں کے درمیا ن برادرانہ تعلقات استوار کرنا اور انہیں استحکام دینا۔'میںمجلس عاملہ اور آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا اجلاس جلد سے جلد طلب کرنا چاہتا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ ہمیں مسلم لیگ کو واقع ہونے والی بنیادی تبدیلیوں کی روشنی میں از سر نو منظّم کرنا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پیدا شدہ سنگین صورتحال کے باعث اور بہت سے دیگر امور میں ہم اس قدر منہمک تھے کہ اس طرف اور ان دیگر مسائل کو جن سے ہم دوچار ہیں اور جو ہماری فوری توجہ کے طلبگار ہیں وقت نہ دے سکے۔''
پارٹی تنظیم کے سلسلے میں ایک اور مثالی اصول اور ہدایت 31جولائی 1947 کے ایک بیان میں ملتی ہے جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ سندھ مسلم لیگ کے سربراہ کے انتخاب کے حوالے سے قائد اعظم نے کسی کو ترجیح نہیں دی۔ ا س ایک واقعے سے ہماری سیاسی پارٹیوں کے سربراہ، ریاستی سربراہ، وزیر اعظم صوبائی گورنر رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ بیان کے الفاظ بہت غور سے ملاحظہ کریں۔
''سندھ کے ایک وزیر پیر زادہ عبدالستار نے کل مجھ سے ملاقات کی اور بتایا کہ میرانام استعمال ہورہا ہے اور یہ منسوب کیا جارہا ہے کہ میں کسی کو سندھ کی مسلم لیگ اسمبلی پارٹی کا لیڈر بننے کے لئے ترجیح دے رہا ہوں۔ اس کے بر عکس میں یہ بات بالکل واضح کرچکا ہوں کہ یہ ذمہ داری اسمبلی پارٹی کی ہے کہ وہ اپنا لیڈر خود منتخب کرے۔ حال ہی میں پنجاب اور بنگال کے معاملے میں اس بات کی پہلے ہی وضاحت کرچکا ہوں اور مجھے افسوس ہے کہ میرا نام غلط استعمال ہوا یا کسی نے غلط استعمال کیا۔ میرے اس رویے پر سندھ کے معاملے میں بھی سختی کے ساتھ عمل کیا جائے گا اور ہر صوبے کو جہاں مسلم لیگ اسمبلی پارٹی تشکیل پاچکی ہے، یہ مشورہ دوں گا کہ خود مختارانہ، آزادانہ اور منصفانہ طور پر اپنا لیڈر منتخب کریں۔اگر ایسے بیانات دیے جائیں یا افواہیں پھیلائی جائیں تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ان کی مطلق کوئی بنیاد نہیں۔ سندھ مسلم لیگ اسمبلی پارٹی، اپنا لیڈر اور پارٹی کے عہدیدار جنہیں وہ بہترین تصور کرے منتخب کرنے میں آزاد ہے۔''
اس اصول کی تقلید اگر ابتدا سے ہی کی جاتی تو پارٹیاں بھی مضبوط ہوتیں اور جمہوری تسلسل بھی قائم رہتا۔
پاکستان کی تاریخ میں بار باریہ حقیقت تسلیم کی گئی کہ ملک تعلیم کے فروغ کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ خواندگی کی شرح آج بھی کم ہے۔ مگر وہ تعلیم، وہ نصاب جو قوم کے ذہن بھی بناتی ہے اور ایک قوم کا جذبہ بھی پیدا کرتی ہے اس سے پاکستان آج بھی محروم ہے۔ قائد اعظم کس قسم کا نظام تعلیم چاہتے تھے تعلیم سے کیا بنیادی مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ملاحظہ فرمائیں:
'' ہم حقیقی، جلد اور ٹھوس ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس مسئلے کا خلوص کے ساتھ حل کرنا ہوگا اور اپنی تعلیم کی حکمت عملی اور پروگرام کو ان خطوط پر استوار کرناہوگا جو ہمارے عوام الناس کے مزاج کے مطابق ہوں، ہماری تاریخ اور ثقافت سے ہم آہنگ ہوں اور جن میں جدید آلات اور دنیا میں ہونے والی زبردست ترقی کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مملکت کے مستقبل کا زیادہ انحصار اس امر پر ہوگا کہ ہم اپنے بچوں یعنی مستقبل کے خدام پاکستان کو کس طرح کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کی پرورش و پرداخت کس طریقے سے کرتے ہیں۔ تعلیم کے معنی صرف کتابی تعلیم ہی نہیں اور اس وقت تو وہ بھی بہت پست درجہ کی معلوم ہوتی ہے ہمیں جو کچھ کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے عوام کو مجتمع کریں اور اپنی آئندہ نسلوں کے کردار کی تعمیر کریں۔ فوری اور اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے عوام کو سائنسی اور فنی تعلیم دیں تاکہ ہم اپنی اقتصادی زندگی کی تشکیل کرسکیں ۔ ہمیں اس بات کا اہتمام کرنا ہوگا کہ ہمارے لوگ سائنس ، تجارت، کاروبار اور بالخصوص صنعت و حرفت قائم کرنے کی طرف دھیان دیں لیکن یہ نہ بھولئے کہ ہمیں دنیا کا مقابلہ کرنا ہے جو نہایت تیزی سے اس کی سمت رواں ہے۔ میں اس بات پر بھی زور دوں گا کہ ہمیں فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم پر زیادہ توجہ مبذول کرنی چاہئے۔''
آپ دیکھئے کہ آج سے 73سال پہلے وہ زور دے رہے ہیں کہ ہمارے لوگ سائنس، تجارت، کاروبار اور بالخصوص صنعت و حرفت قائم کرنے کی طرف دھیان دیں اور یہ بھی کہ میں اس بات پر زور دوں گا کہ ہمیں فنّی اور پیشہ ورانہ تعلیم پر زیادہ توجہ مبذول کرنی چاہئے۔
ملک میں بہت سی سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں، کالج بڑی تعداد میں قائم ہیں۔ فنّی اور پیشہ ورانہ تعلیم بھی دی جارہی ہے، لیکن اب بھی بہت بڑا خلاء درمیان میں ہے۔ پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے۔ یہاں جس شرح سے تربیت یافتہ ہنرمند نوجوان ہونے چاہئیں وہ اب بھی نہیں ہیں۔ جو نہ صرف اپنے ملک کی ضروریات پوری کرسکیں۔ بلکہ دوسرے ممالک میں جاکر بھی خدمات انجام دیں اور ملک کو زر مبادلہ کی ترسیل کریں۔ ایسے ممالک جہاں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ وہاں باقاعدہ تربیت یافتہ ہنر مند نوجوانوں کی بہت ضرورت ہے۔ 
تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل بھی نوجوان عمر کا لازمی حصّہ ہے۔ کھیل ایک معاشرے کو صحت مند بھی بناتے ہیں۔ کھیل کے سلسلے میں بھی قائد اعظم نے اپنی تقریروں سے پاکستان کی جامع پالیسی بڑی حد تک واضح کردی تھی۔پہلے پاکستان اولمپک کھیلوں کے موقع پر 12اپریل 1948 کا پیغام ملاحظہ ہو۔
'' صحت مند ذہنوں کے لئے ہمیں تندرست جسموں کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں قومیں تن سازی اور جسمانی ورزش کو اس درجہ اہمیت دیتی ہیں۔ پہلے پاکستان کھیلوں سے اہل پاکستان کو یہ ترغیب ملنی چاہئے کہ وہ اولمپک نصب العین '' سائی ٹیس، آل ٹیس، فورٹیس''(Citus Altius Fortius) یعنی'' تیز تر، بلند اور مضبوط تر'' کو اپنالیں۔ میں ان کھیلوں کے منتظمین اور مقابلہ میں حصّہ لینے والے کھلاڑیوں کی کامیابی کے لئے دُعا کرتا ہوں۔ پاکستان کو بلند تر، مضبوط تر اور مستحکم تر بنائیے۔''
کھیل کی بنیاد جسمانی ورزش پر ہے۔ جسم تندرست ہوگا تو ذہن بھی صحت مند ہوگا۔ عالمی سطح پر بھی کھیل اور ورزش کے مقابلے ہوتے ہیں۔ ان میں ہر ملک کو اپنی طاقت اور تربیت کے مظاہرے کا موقع ملتا ہے۔ ان کی آرزو تھی کہ پاکستان اس شعبے میں بھی نمایاں تعلیم حاصل کرے۔
اسی شعبے میں 22اپریل 1948کو کراچی میں پہلے پاکستان اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب کے موقع پر سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے ان کی پوری تقریر ہی کھیل کی وزارت، مختلف کھیلوں کی تنظیموں کے عہدیداروں اور کھلاڑیوں کے لئے واضح رہنما خطوط تجویز کرتی ہے۔ عالمی اولمپک میں شرکت کے لئے جانے والے کھلاڑیوں کو مخاطب کرکے وہ کہہ رہے ہیں کہ امن کی قوت بن جائیں۔ ومبلے سٹیڈیم میں  ہونے والے مقابلوں میں آپ ہمارے جذبۂ خیر سگالی کے سفیر بنیں گے۔ ان کے سنہری الفاظ ملاحظہ کریں۔
'' یاد رکھئے کہ جیتنا کوئی بات نہیں اصل اہمیت تو کوشش کی ہے اور اس جذبے کی جو اس کوشش کے پیچھے کارفرما ہو۔اولمپک کھیلوں کے منتظمین کو شاباش دیتا ہوں کہ انہوں نے اتنی قلیل سی مدت میں کامیابی کے ساتھ ان مقابلوں کے لئے تیاریاں مکمل کرلیں۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کو ایک سٹیڈیم کی ضرورت ہے کیونکہ آپ 1950  میں پین اسلامک اولمپک مقابلوں کے انعقاد کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کی تمنّا بر آئے گی۔ یہ سب کچھ آپ پر منحصر ہے۔ آپ کا یہ مطالبہ کہ فزیکل کلچر اور تعلیم کا ایک سرکاری محکمہ ہونا چاہئے ۔ حکومت پاکستان کی توجہ کا طلب گار ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ ہمیں درپیش بہت سے تعلیمی مسائل سے نمٹتے وقت معاملے کے اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔''
نوجوانوں کے لئے تعلیم اورکھیل کے ساتھ ساتھ سکائوٹنگ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ سکائوٹ تحریک نے نوجوانوں میں رضاکاری کے جذبے، اخوت اور کمزوروں کی خدمت کے لئے برسوں سے تربیت کی ہے۔ سکائوٹوں کے لئے اصولی ہدایات 22دسمبر 1947 کے پاکستان کے سکائوٹوں کے لئے پیغام میں بہت صراحت کے ساتھ ملتی ہیں۔ یقینا ہمارے سکائوٹوں نے ان ہدایات پر عمل کیا ہوگا۔
''اگر سکائوٹ تحریک کا اصل مقصد حاصل کرنا ہے تو سکائوٹوں کے قوانین کے بارے میں زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ کرنا ہوگا۔ سکائوٹوں کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ سکائوٹوں کی تحریک صرف یونیفارم،سکارف اور بیجوں کے مظاہرے تک محدود ہے۔ ہم ابھی ایک کامل دنیا سے بہت دور ہیں۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول درست سمجھا جاتا ہے۔ طاقتور، کمزور کے استحصال سے باز نہیں رہتا۔ ذاتی ترقی، لالچ اور ہوس اقتدار افراد کا بھی وتیرہ ہے اور اقوام کا بھی۔ اگر ہم محفوظ تر، صاف تر اور مسرور تر دنیا تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو آئیے ہم فرد سے اس کا آغاز کریں اور فرد بھی وہ جو عین عنفوان شباب میں ہیں اور اسے سکائوٹوں کے تصور یعنی بے لوث خدمت ، خیال، قول اور فعل میں پاکیزگی سے آشنا کردیں، اگر ہمارے جوان سب سے دوستی، ہمہ وقت دوسروں کی امداد، خیال ، قول اور عمل سے تشدد کی نفی کو اپنانا سیکھ لیں تو مجھے یقین ہے کہ انسانی اخوت کا تخیل ہماری گرفت میں آجائے گا۔ اللہ آپ کو کامیابی عطا فرمائے۔''
اب آخر میں ایک بہت ہی حساس علاقے اور آج بھی توجہ طلب موضوع پر قائد اعظم کے خطابات سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔بلوچستان کے شہریوں کی محرومیاں سیاسی مسئلہ بھی ہیں سماجی صوبائی اور لسانی تنازع بھی۔ بلوچستان کی سر زمین میں اللہ تعالیٰ نے اتنے وسیع اور قیمتی معدنی وسائل عطا کئے ہیں کہ یہاں محرومیاں اور مسائل پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ اگر ان قدرتی وسائل کو بلوچستان کے لوگوں کے حق میں استعمال کیا جاتا۔
پہلے ہم عمومی معدنی وسائل پر بانیٔ پاکستان کے تصورات سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ اہل امریکہ سے خطاب میں فروری 1948 میں فرماتے ہیں۔
'' قدرت نے پاکستان کو زبردست معدنی دولت سے نوازا ہے جو مصرف میں آنے اور فروغ پانے کی منتظر ہے۔ کوئلہ، لوہا، پیٹرول، کرومائٹ، جپسم، نمک، تعمیراتی مواد، ابرق اور سونا پاکستان میں دستیاب ہیں۔''
سات دہائیاں پہلے ہی ہمارے قائد نے زیر زمین پوشیدہ خزانوں کی طرف ہماری توجہ دلائی تھی۔ آج ریکوڈک کا سونا ہمارا انتظار کررہا ہے۔ مختلف طالع آزمائوں کے غلط فیصلوں اور عاقبت نا اندیشانہ پالیسیوں کے باعث ہم ان معدنی خزانوں کی دولت سے فائدہ نہیں اٹھاسکے۔ یہ معدنی وسائل ہمارے سارے اقتصادی مسائل حل کرسکتے ہیں۔ غیر ملکی قرضوں کے بوجھ سے نجات دلواسکتے ہیں۔
اب آتے ہیں ہم بلوچستان کے لئے حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی محبت اور یگانگت کی طرف۔سبّی دربار میں 14فروری 1948کو شاہی جرگے کے ارکان موجود ہیں۔ بلوچستان کے سردار، قائدین ،عوامی نمائندے۔ وہاں قائد اعظم بلوچستان کے معاملات پر کھل کر بات کرتے ہیں۔پرانی حکومت ہند کے دوران بلوچستان کی کیا حیثیت تھی، وہ بھی بیان کررہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ باور کیجئے۔ میں لمحہ بھر کے لئے بھی بلوچستان کے معاملات سے غافل نہیں رہا۔ میں نے ان تدابیر اور طور طریقوں پر سوچا فکر کیا غورو خوض کیاجن پر عمل پیرا ہوکر اس صوبے کے عوام کا حال بہتر ہوجائے اور انہیں پاکستان کے سیاسی نظام میں وہی درجہ اور وہی سیاسی مرتبہ حاصل ہوجائے جو دوسرے صوبوں سے ان کے بھائیوں کو حاصل ہیں۔
وہ پاکستان کی آزادی کے صرف چھ ماہ بعد بلوچستان کو اپنی زیر نگرانی ایک صوبہ بناکر بلوچستان کے لوگوں سے مشورہ کرکے بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گورنر جنرل کی ایک مشاورتی کونسل بھی تجویز کی گئی ان کے محبت بھرے الفاظ ملاحظہ ہوں۔
'' اس طرح بعض امور میں آپ پاکستان کے دیگر صوبوں سے بہتر ہوں گے۔ یہاں فی الحقیقت آپ کو ایک گورنر جنرل کا صوبہ مل جائے گا اور آپ میری خصوصی ذمہ داری اور نگہداشت میں ہوں گے اور مجھے اس امر کا یقین دلانے کی اجازت دیجئے کہ کونسل کی سرگرمیوں کے دائرے میں گورنر جنرل وقتاً فوقتاً مشاورتی کونسل کے ساتھ صلاح مشورے سے ایسے اقدام کریں گے کہ جو ضروری متصوّر ہوں گے۔
اس موضوع پر جواِ علامیہ جاری کیا جائے گا اس میں مشاورتی کونسل کے فرائض، دائرہ کار اور اس کی رکنیت کی صراحت کردی جائے گی۔یہ زیر انتظام علاقوںجوبرطانوی بلوچستان  اورپٹے پر دئیے ہوئے علاقوں کے نام سے موسوم تھے، کے عوامی نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔ اس میں قبائلی علاقوں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ یہ شاہی جرگے کے اراکین اور میونسپل کمیٹی کوئٹہ کی باقاعدہ غور کردہ آراء کی نیابت بھی کرے گی۔ جیسا کہ آپ ملاحظہ کریں گے اس کونسل کی تخلیق میں یہ خصوصی اہتمام کیا گیا ہے کہ حتی الامکان طاقت اور حاکمیت عوام سے اخذ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشاورتی کونسل کے قیام سے ان علاقوں کے رتبے سے کوئی انحراف نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہ ان علاقوں کے باشندوں کی اپنے آئندہ دستور کی ترتیب اور اپنے رسم و رواج اور روایات کے مطابق اپنی انتظامیہ کی تشکیل کی آزادی پر کسی طرح اثر انداز ہوگی اور نہ ہی اس سے پٹے پر دیئے ہوئے علاقوں کی حیثیت میں کوئی فرق واقع ہوگا بلکہ نئے اقدام کا مقصد حکومت اور ان علاقوں میں آباد عوام کے خیالات میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے اور انتظامیہ کو مستعد اور عوام کا درد آشنا بنانا ہے۔ اس سے بلوچستان کی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوجائے گی کہ وہ عوام کی امنگوں کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلے اور اب سے عوام کو ایسے مواقع فراہم کرے کہ وہ اپنی حکومت کے ساتھ انتظامیہ کی نگہداشت اور ذمہ داریوں میںحصّہ لے سکیں۔''
13جون 1948 کو کوئٹہ کے پارسی وفد کے پیش کردہ سپاسنامے کے جواب میں قائد اعظم کی تقریر میں بھی بلوچستان کے مسائل کا ادراک ملتا ہے۔
''موجودہ آئین کے تحت بلوچستان کے ضمن میں حکومت کے نظم و نسق اور قانون سازی سے متعلق جملہ اختیارات گورنر جنرل کو حاصل ہیں لہٰذا میں ان حکومتی، انتظامی اور قانون سازی کے امور کے بارے میں ضروری کارروائی کا      براہ راست ذمہ دار ہوں۔ صحیح یا غلط یہ بوجھ میرے کاندھوں پر ڈال ہی دیا گیا ہے۔ آپ نے یہ بھی محسوس کرلیا ہوگا کہ ان برسوں کے دوران اس بر عظیم میں سب سے زیادہ بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ جن لوگوں پر بلوچستان کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری تھی۔ بعض صورتوں میں تو وہ مجرمانہ تغافل کے مرتکب ہوئے۔ یہاں کوئی ایک صدی بھر پرانا ایسا نظام حکومت رائج ہے جس کی جڑیں بھی خاصی گہری ہیں۔ یہاں کی انتظامیہ بھی ایک جمود کا شکار ہوچکی ہے۔ بلوچستان انتظامیہ کے سربراہ کی حیثیت سے یہ وہ مسئلہ ہے جس کا مجھے سامنا ہے۔ اب آپ ان چیزوں کو راتوں رات تو تبدیل نہیں کرسکتے لیکن اگر ہم خادمان بلوچستان کی حیثیت سے مل جل کر خلوص، دیانت اور بے لوثی کے ساتھ کام کریں تو ہم حیرت انگیز ترقی اور پیش قدمی کرسکتے ہیں۔''
     اس تقریر میں انہوں نے یہ بھی کہا۔
''جہاں تک بلوچستان کی ترقی کی صلاحیت کا تعلق ہے آپ نے جو کچھ کہا وہ درست ہے۔ میرے پاس اس سلسلے میں بہت سی اطلاعات موجود ہیں اور ہم لوگ اس معاملے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان کی معدنی دولت، اس کی زراعت، آب رسانی اور مواصلات کی وسائل کی ترقی کے زبردست امکانات ہیں۔''
اس سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں بلوچستان کی علاقائی حساس حیثیت کا بھی مکمل احساس تھا اور بلوچستان کے قدرتی وسائل کا بھی۔ ان کے خدشات اور تشویش کو سامنے رکھ کر اگر آج بھی بلوچستان کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے تو ہمارے بلوچستانی بھائیوں کی جائز شکایات دور ہوسکتی ہیں۔میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہماری فوج نے بلوچستان کی صورت حال کو قائد کی بلوچستان سے محبت کی روشنی میں دیکھا ہے۔ اور وہاں بہت سے ایسے منصوبے آغاز کئے ہیں جن سے بلوچستان کے نوجوانوں کو تربیت کے مواقع بھی ملے ہیں۔ روزگار کے دروازے بھی کھلے ہیں ۔سبّی دربار کی تقریر کا اگر مکمل متن پڑھا جائے تو بلوچستان کے لئے بانیٔ پاکستان کا درد اور کرب محسوس ہوسکتا ہے۔ اور یہ آگاہی ہوسکتی ہے کہ قائد اعظم بلوچستان کو ترقی کی کن شاہراہوں پر دیکھنا چاہتے تھے۔
میں نے اپنے طور پر کوشش کی ہے کہ قائد اعظم کے افکار کی روشنی میں بتاسکوں کہ وہ کس قسم کی مملکت، کس قسم کا سیاسی نظام ، کیسی تعلیم، کیسے کھیل، چاہتے تھے۔ میں محقق نہیں ہوں، ایک صحافی ہوں، شاعر ہوں۔ میری درخواست ہوگی تحقیقی اداروں سے خاص طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن سے کہ وہ یونیورسٹیوں میں قائد اعظم کے ارشادات پر باضابطہ تحقیق کرواکے ایک دستاویز مرتب کریں جس میں ایک مملکت کا نظام وضاحت اور صراحت کے ساتھ آج کے محکموں اور شعبوں، ٹیکنالوجی کے تناظر میں سامنے آئے۔ مجھے قوی امید بلکہ یقین ہے کہ ایسی دستاویز پر سارے پاکستانی متفق ہوں گے اور ہم اس کی روشنی میں قائد اعظم کا پاکستان تعمیر کرسکیں گے۔ ||


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ کار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 6مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP