قومی و بین الاقوامی ایشوز

قائدِاعظم اورافواجِ پاکستان

پاکستان کے حصے میں آنے والی فوج کے بارے میں کوئی ملک ماننے کے لئے تیار نہیں تھا‘ اور کانگرس کو تو بالکل بھی یقین نہیں تھا کہ افواجِ پاکستان دنیا کی بہترین فوج بن کے ابھریں گی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ برِ صغیر کی تقسیم کے بعد وہ علاقے جو پاکستان کو ملے اُن میں موجود مسلمان فوجیوں کا ایک بھی بریگیڈ نہیں تھا جو چند بٹالین کہیں کہیں پر تھیں اُن میں بھی فوجیوں کی تعداد پوری نہ تھی۔ 3 جون 1947 کو اعلانِ پاکستان کے ساتھ ہی مسلمان یونٹوں سے ہندو‘ سکھ اور گورکھے مختلف حیلوں بہانوں سے بھارت چلے گئے تھے۔ مسلمان فوجیوں اور یونٹوں کے پاس کوئی قابلِ ذکر ہتھیار بھی نہیں تھا۔ صرف وردی اور رائفل تھی۔ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں منقسم اور غیر منظم پاکستانی فوج کے پاس حوصلہ‘ ہمت‘ خلوص اور قوتِ ایمانی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ بھارت کا خیال تھا کہ خالی ہاتھ پاکستانی فوج کا شیرازہ بہت جلد بکھر جائے گا۔ کیونکہ ہجرت کرنے والوں کی حفاظت‘ سرحدوں کی نگہبانی اور شہری زندگی میں امن وامان قائم رکھنا بھی فوج کی ذمہ داری تھی‘ یہی وجہ تھی کہ جواہر لعل نہرو نے کہا تھا۔۔۔ ’’پاکستان جیسی چھوٹی چھوٹی نیشنل حکومتیں آج کل کی دنیا میں اپنی قوم اور ملک کی حفاظت نہیں کرسکتیں اور نہ ہی وہ اپنی خود مختارزندگی گزار سکتی ہیں۔‘‘ نہرو نہیں چاہتا تھا کہ تقسیمِ برِ صغیر کے بعد فوج تقسیم ہو‘ مگر قائدِاعظم کا مطالبہ تھا کہ ہر چیز تقسیم ہوگی۔ قائدِاعظم فوج کے بغیر ملنے والی مملکت ادھوری آزادی سمجھتے تھے۔ اگست1947 سے پہلی والی فوج جس کی تشکیل اور تربیت کو کم و بیش دو سوسال کا عرصہ لگا تھا‘ جسے برطانوی ہندوستانی فوج کہا جائے تو زیادہ موزوں ہوگا‘ وہ ایک مؤثر اور کار آمد جنگی ہتھیار تھی۔ انگریز نے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے علاوہ کئی چھوٹے بڑے معرکے اُسی فوج کے بل بوتے پر سر کئے تھے۔ وہ والی فوج اس خطے کی معاشی بدحالی کے سبب وجود میں آئی تھی۔ اُس فوج کا کوئی مطمع نظر نہ تھا۔ وہ محض مالی فوائد یا عسکری روایات کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے سات سمندر پار چلی جاتی تھی‘ مگر قائدِاعظم کی بصیرت افروز قیادت نے فرنگی سرکار کو یہ کہہ کے من مانیوں سے روکا کہ برِّصغیر کے مسلمان فوجیوں کو محض بھیڑ بکریوں کی طرح مرنے کے لئے انگریز افسروں کی قیادت میں ہم نہیں بھیج سکتے۔ مسلمانوں کو کنگ کمشن دیا جائے۔ قائدِاعظم کے اس مطالبے سے قبل مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ صوبیدار میجر تک عہدہ ملا کرتا تھا جسے وائسرائے کمشن کہا جاتاجبکہ لیفٹیننٹ کا عہدہ کنگ کمیشن کہلاتا تھا۔

 

قائداعظم فوج کی اہمیت سے بہت زیادہ آگاہ تھے انہیں اس ادارے کی اہمیت کا شدت سے احساس تھا۔ پہلی جنگی عظیم کے دنوں میں جب انگریز سرکار کو فوجی افرادی قوت کی ضرورت پڑی تو انہوں نے انڈین گورنمنٹ سے رابطہ کرکے کہا کہ ہندوستان کی سیاسی قیادت سے کہا جائے کہ وہ جوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب دیں۔ اس سلسلے میں جب قائدِاعظم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا ان کا جواب، جو انہوں نے 1917 میں دہلی میں اسمبلی کے بجٹ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے دیا تھا کہ ’’ہم آپ کو افرادی قوت کس طرح دیں آپ ہمارے لوگوں پر اعتماد کریں تو تب ہم بھی ایسا سوچیں‘ ہم اپنے جوانوں کو محض گن فوڈر کے طور پر لڑنے کے لئے بھیجتے رہیں‘ ہمارے افسران کیوں نہیں لئے جاتے‘‘ ؟اس میں شک نہیں کہ پہلی جنگِ عظیم کے موقع پر ہندوؤں ‘ سکھوں‘ گورکھوں اور دیگر غیر مسلم قوموں کی اکثریت نے فوج کو جوائن کر لیا تھا۔ ہندوستان کی غیر مسلم سیاسی قیادت اکثر اس قسم کی قرار دادیں بھی منظور کیا کرتی تھی کہ ہندووں کو فوج میں بھرتی کیا جائے‘ ان کا محرک تلک بی جی، بھی تھا۔ جس کا خیال تھا کہ جب کبھی انگریز ہندوستان چھوڑ جائے گا تو فوج کنٹرول سنبھال لے گی۔ اور جب ہندوستانی فوج میں ہندو کمیونٹی کی اکثریت ہوگی تو مسلمان حسبِ حال غلام ہی رہیں گے مگر قائداعظم تلک بی جی کی اس خواہش سے آگاہی کے باوجود فوجی افسران کے مطالبے پر قائم رہے۔ قائدِاعظمؒ اور ہندو قیادت کی سوچ میں بنیادی فرق یہ تھا کہ قائداعظم سارا کچھ انسانی جذبے اور علاقائی لوگوں کی بھلائی کے لئے کررہے تھے اور ہندو ایک سازش کے تحت آگے بڑھ رہے تھے۔ بہر طور قائدِاعظم کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں فرنگی سرکار نے ہامی بھر لی تھی کہ وہ جنگِ عظیم اول کے خاتمے پر قائدِاعظم کے اس مطالبے پر ضرور عمل کریں گے۔ اس سلسلے میں دہلی اور بمبئی میں وار کونسل کے اجلاس ہوئے ۔ پھر فروری1925 میں ’’انڈین سینڈھرسٹ‘‘ کمیٹی بنی جس کی قیادت انڈین آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف ‘ سر اینڈر یوسکین کے سپرد کی گئی۔ اس کمیٹی کے ممبران میں قائدِاعظم محمدعلی جناح بھی شامل تھے‘ اس ’’انڈین سینڈھرسٹ‘‘ کمیٹی نے ایک سب کمیٹی بھی بنائی جس کی سربراہی قائدِاعظم کو سونپی گئی۔ جب قائدِاعظم اس سب کمیٹی کے باقی ممبران کے ہمراہ یورپ کے دورے پر گئے تاکہ دنیا کی دیگر کیڈٹ اکیڈمیوں کا جائزہ لیا جاسکے تو سوائے برطانوی سینڈھرسٹ اکیڈمی کے سب نے ہندوستان میں کیڈٹ اکیڈمی کی تائید کی تھی۔ برطانوی سینڈھرسٹ اکیڈمی کا کہنا تھا کہ کالے افسروں کے ماتحت گورے کام نہیں کریں گے۔ یہی وجہ تھی کہ 1927 میں قائدِاعظم نے اسمبلی اجلاس میں اپنے یورپ کے دورے کی روداد سناتے ہوئے برطانوی سینڈھرسٹ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب کالا فوجی گورے کی قیادت میں مرنے کے لئے تیار ہے تو گورے کو بھی کالے کی قیادت قبول کرنا ہوگی۔‘‘ اس سلسلے میں ایک قرار داد مذمت جب منظور کی گئی تو پھر انگریز سرکار نے انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون کے قیام کی منظوری دی تھی۔ یہ عمل قائدِاعظم کی فوج سے والہانہ محبت کا اظہار تھا۔

 

ڈیرہ دون اکیڈمی سے کالے فوجی افسروں کا پہلا بیج1934 میں پاس آؤٹ ہوا تھا جس میں محمدموسیٰ خان بھی شامل تھے‘ جو بعد میں 28 اکتوبر1958 کو پاکستان آرمی کے کمانڈر انچیف بنے۔ قیامِ پاکستان کے وقت موسیٰ خان لاہور میں کرنل کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ پاکستان ہجرت کرنے والے قافلوں کی حفاظت پر مامور فوجی دستوں کی نگرانی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ الغرض قائدِاعظم نے انگریز کو ہندوستانی قومی فوج کی بنیاد رکھنے پر مجبور کردیا تھا۔

 

نواب صادق علی خان نے قائدِاعظم کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’قائدِاعظم فطرتاً صلح کل تھے لیکن باعزت سمجھوتے کے سوا کسی قسم کی مصالحت پسند نہیں کرتے تھے۔ ایسے موقع پر اپنے دوستوں سے مشورہ بھی کرلیا کرتے تھے‘‘ علاوہ ازیں وہ ایک مومن بیباک تھے اور علامہ اقبال کے اس شعر کی تفسیر تھے کہ

 

جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم

دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں

 

جنرل محمداکبر خان جو پاکستان آرمی کے سینئر ترین آفیسر تھے‘ وہ اپنے نام کے ساتھ رنگروٹ لکھا کرتے تھے۔ ان کا آرمی نمبر ایک پی اے - 1 تھا۔ وہ قائداعظم کے فوجی مشیر تھے کراچی کے فوجی اور دفاعی امور بھی ان کے

ذمے تھے وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ ’’قیامِ پاکستان کے بعد پہلی عید الفطر18 اگست کو تھی‘ ہر چند کہ 15 اگست یعنی پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی وقتی طور سے ٹرینوں کا سلسلہ روک دیا گیا تھا‘ باوجود اس کے پاکستان سے ہجرت کرنے والے ریلوے سٹیشن اور ائرپورٹ پر موجود تھے‘ قائدِاعظم نے عید کی نماز کراچی کی مرکزی عید گاہ میں مولانا ظہور الحسن درسؔ کی اقتدا میں پڑھی۔ کوئی خاص اہتمام نہیں تھا۔ ہم نے احتیاطاً دو لوگوں کو پہلی صف میں بٹھادیا تھا جو قائدِاعظم کی آمد پر اس جگہ سے اٹھ کر پیچھے آگئے۔ عید کی نماز کے بعد قائداعظم نے لوگوں سے خطاب کیا۔ پہلی بار اُس جگہ لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہوا تھا۔ اس روزگورنر جنرل ہاؤس میں کوئی تقریب نہ تھی‘ نہ عید ملن اور نہ ہی کوئی دیگر تقریب۔ 3 بجے شام ملٹری سیکرٹری کے فون پر میں قائدِاعظم کے پاس پہنچا تو ہم ایک کپ چائے پی کر ان علاقوں میں چلے گئے جہاں مہاجرین کی آمد و رفت متوقع تھی۔ اچانک دورے کی وجہ سے ان کیمپوں کی انتظامیہ حیرت زدہ تھی۔ قائدِاعظم نے انتظامیہ سے چند سوال کئے۔ اطمینان نہ ہونے پر وہاں کا چارج فوج کے حوالے کردیا اور پھر اس کے دو دن بعد 20 اگست1947 کو مغربی پنجاب کے مہاجر کیمپوں کا انتظام بھی فوج کے حوالے کردیا۔ وزیرِاعظم کا کیمپ آفس لاہور میں قائم کرکے لیاقت علی خان کو لاہور بھجوادیا تھا۔‘‘

 

قائدِاعظم نے دفاعی حوالے سے قیامِ پاکستان کے بعدملک میں اسلحہ فیکٹری کے قیام پر غور کیا اور ایک غیر ملکی ماہر نیوٹن بوتھ کو منصوبہ تیار کرنے کا کام سونپا گیا جس نے جلد ہی فیکٹری کے قیام کے بارے میں رپورٹ پیش کردی‘ جس کے بعد کابینہ اور متعلقہ کمیٹیوں کی منظوری کے بعد قائدِاعظم محمدعلی جناح کی خواہش پر ایک اسلحہ فیکٹری راولپنڈی سی ایم ایچ کے پاس چھوٹی سی عمارت میں شروع کردی گئی تھی جس نے 1951 ء میں پیدوار دینا شروع کردی تھی اور دوسری راولپنڈی کے باہر واہ میں قائم کی گئی تھی جس نے1952 میں کام شروع کردیا تھا۔ آگے چل کر21 جولائی 1985 کو جنرل ضیاء الحق نے واہ اسلحہ ساز فیکٹری میں اس کا ایک ذیلی ادارہ قائم کیا جس میں 105 ایم ایم توپوں کے گولوں کے لئے ٹینکسٹن الائے تیار کیا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا کے بعد پاکستان وہ دوسرا ملک ہے جس کے پاس یہ ٹیکنالوجی ہے۔ پھر5 نومبر1985 کو ہی اس وقت کے وزیرِاعظم محمدخان جونیجو نے واہ فیکٹری میں ایک اور ادارے کا افتتاح کیا جو 12.7 ایم ایم اینٹی ایئر کرافٹ گن بناتا ہے۔ وہ شعبہ چین کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔ الغرض وہ فوج جو تہی دست تھی‘ بکھری ہوئی تھی‘ وہ آج دنیا کی بہترین فوج سمجھی جارہی ہے‘ ایک ایسی فوج جو ایٹم بم سے بھی لیس ہے ہر چند کہ ایٹمی دھماکہ کرنے میں پاکستان کا دنیا میں ساتواں نمبر تھا مگر جدید ٹیکنالوجی‘ اعلیٰ مہارت بہت زیادہ ایٹمی ہتھیاروں کی قسم اور تعداد کی وجہ سے دنیا کی اہم بڑی ایٹمی قوت ہے۔ وہ بھارت جس نے دھماکہ تو پاکستان سے پہلے کیا تھا مگر مہارت اور پائیداری میں پیچھے رہ گیا ہے۔

 

قائدِاعظم چونکہ فوج کی اہمیت کو جانتے تھے اس لئے انہوں نے پاکستان میں کاکول ملٹری اکیڈمی قائم کرائی جس میں26 جنوری1948 کو پہلے کورس کا آغاز ہوا۔ جنرل فضلِ حق جو جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں این ڈبلیو ایف پی (موجودہ خیبر پختونخوا) کے گورنر تھے‘ ان کا شمار اُن فوجی افسروں میں ہوتا ہے جن کا آدھا کورس ڈیرہ دون اور پاسنگ آؤٹ پریڈ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں ہوئی تھی۔

 

قائدِاعظم نے23 جنوری1948 کو پی این ایس دلاور کا دورہ کیا اور پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ میں سے ہر ایک کو ملک کے دفاع کو مستحکم بنانے کے لئے اہم کردار ادا کرنا ہے۔ آپ کا شعار ایمان‘ تنظیم اور ایثار ہونا چاہئے۔ آپ اپنے قد کاٹھ کی کمی اپنی جرأت‘ فرض اور بے لوث لگن کے ذریعے پوری کرسکتے ہیں کیونکہ زندگی کی فی الواقع کوئی حقیقت نہیں صرف ہمت ‘استقلال اور عزم بالجزم ہی اسے بامعنی بناتے ہیں۔‘‘ پاکستان کے قیام کے ایک سال اور29 دنوں بعد قائدِاعظم اپنے پاکستان سے عدم سدھار گئے آزادی کے ان394 دنوں میں قائداعظم نے زندگی کے ہر شعبے اور پاکستان کے ہر ادارے کی خبرگیری کی۔

 

11اکتوبر1947 کو کراچی میں تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایک چوراہے پر کھڑے ہیں‘ اﷲ کی مہربانی سے پاکستان کا قیام ہمارے دس برس کی جدو جہد سے ظہور پذیر ہوگیا ہے‘ یہ ہمارے خواب کی تعبیر ہے‘ ہمیں ایک ایسا وطن مل گیا جس میں آزادانہ طور سے اسلامی تمدن اور روایات پر کاربند رہ سکیں گے‘ اپنے معاش اور معاشرت کو پروان چڑھا سکیں گے‘ لیکن ابھی ہمارے آرام کے دن نہیں‘ فی الحال ہم حالتِ جنگ میں ہیں‘ بے شمار مسلمان مشرقی پنجاب‘ دہلی اور دیگر شہروں میں انتہائی مظالم کا شکار بنے ہوئے ہیں‘ میں آپ سب افسران سے پورے پورے تعاون کی اپیل کرتا ہوں۔‘‘

 

13اپریل1948 کو رسالپور میں پاکستانی ہوا بازوں سے بھی قائداعظم نے خطاب کیا اور رائل پاکستان ایئرفورس کالج کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ پھر14 جون1948 کو قائدِاعظم نے سٹاف کالج کوئٹہ کے افسران سے خطاب فرمایا کہ ’’پاکستانی فوج اہالیانِ پاکستان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی پاسبان ہے‘ اس لئے کہ اس کے کاندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری اور بار آن پڑا ہے۔ آپ جس وفاداری اور بے غرضی سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں‘ اگر آپ نے اسے جاری رکھا تو پھر پاکستان کو کسی بات سے بھی ڈر نے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

 

قائدِاعظم مکمل اسلامی تعلیمات کے پیکر تھے۔ ان کا قرآن و حدیث اور دیگر اسلامی تعلیمات کا وسیع مطالعہ تھا۔ وضع دار اتنے کہ دشمنی اور مخالفت میں بھی اصول اور انصاف کو مقدم رکھتے تھے۔ انسائیکلو پیڈیا جہانِ قائد کے مؤلف علامہ عبدالستار عاصم نے لکھا ہے کہ سردار عبدالرب نشتر کے توسط سے بریگیڈیئر گلزاراحمد قائدِاعظم سے ملے اور قیامِ پاکستان کے لئے فوجی انقلاب کا منصوبہ پیش کیا تو قائدِاعظم نے پوچھا ’’آپ کا منصوبہ خفیہ ہوگا۔‘‘ جی ہاں! قائد نے کہا جو چیز خفیہ ہو وہ قابلِ احترام نہیں ہوتی اور غیرِ محترم چیز غیر اسلامی ہوتی ہے۔ اسلام میں مسائل اور مقاصد دونوں شمار ہوتے ہیں۔‘‘ بریگیڈیئر گلزار نے کہا میں پاکستان اور اسلام کے لئے مرمٹنا چاہتا ہوں! قائد نے جواب دیا۔ اسلام کے لئے جتنا مرنا اہم ہے‘ اتنا ہی اسلام کے لئے جینا بھی اہم ہے اور یہ صرف اسلام پر عمل کرکے ہی ممکن ہے۔‘‘

 

قائداعظم کے حریف بھی ان کے حوصلے ‘ ہمت‘ صاف گوئی اور ثابت قدمی کے معترف تھے۔ لندن کے اخبار نیوز کرانیکل نے قائداعظم کی وفات کے موقع پر اپنی 12 دسمبر1948 کی اشاعت میں لکھا تھا کہ ’’موت وہ پہلی طاقت ہے جس سے مسٹر جناح نے شکست قبول کی۔‘‘ قائدِاعظم یوں تو ہر ذی روح کے لئے برابری کے جذبات رکھتے تھے مگر فوج کے لئے ان کی محبتیں کچھ زیادہ ہی فراواں تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فوج میں نظم و نسق ہے‘ اتحاد ہے‘ ایثار ہے اور اپنے سے بڑے دشمن پر قابو پانے کا یقین ہے۔ اتفاق دیکھئے کہ قائداعظم نے اپنی زندگی کا جو آخری خط یا حکم یکم ستمبر1948کو زیارت سے جاری کیا تھا‘ وہ بھی فوج سے متعلق تھا جس کی تفصیل عقیل عباس جعفری نے ’’پاکستان کرونیکل‘‘ میں دی ہے‘ یہ خط اس وقت کے پاکستان آرمی کے چیف جنرل سر ڈگلسن گریسی کے نام تھا۔ قائدِاعظم نے تحریر کیا ’’میں نے آپ کے خط کی ایک نقل قائداعظم ریلیف فنڈ کے نائب صدر کو بھیج دی ہے اور میں اُس فنڈ میں سے تین لاکھ روپے کی امداد کی منظوری دے دی ہے جو تھل پروجیکٹ کے مہاجرفوجیوں کی بہبود کے لئے مخصوص ہے۔‘‘

یہ تحریر 159مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP