قومی و بین الاقوامی ایشوز

قائداعظم کے تصور پاکستان کو ابھی شرمندہ تعبیر ہونا ہے۔ ڈاکٹر صفدر

معروف دانشورمحقق،کالم نگار ڈاکٹرصفدرمحمودسے سینئرصحافی علی جاوید نقوی کا ہلال کے لئے مکالمہ

سوال: نظریہ پاکستان کی اساس دوقومی نظریہ ہے۔تاریخی تناظر میں کچھ ان حالات وواقعات پر روشنی ڈالیئے جنہوں نے مسلمانان ہند کی لیڈرشپ کوعلیحدہ وطن کے مطالبے کے منطقی نتیجے پرپہنچایا؟

جواب: ہندووں کی مخصوص سوچ نے مسلمانوں کوایک علیحدہ وطن کے مطالبے پرمجبور کیا۔ہندوستان کے مسلمانوں نے بے پناہ قربانیاں دیں، قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں دن رات جدوجہد کی،انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی۔ اگر آپ پاکستان اورہندوستان کے آئینی ڈھانچے ،معاشرتی ڈھانچے کا مقابلہ کریں توآپ کومحسوس ہوگا کہ پاکستان کاقیام ناگزیرتھا۔پاکستان کاقیام اللہ تعالی کی طرف سے ایک رحمت تھی۔جوتصورپاکستان تھا وہ بالکل صحیح اورسچ تھا۔ مسلمان اورہندو دومختلف قومیں ہیں، آج آپ دیکھ لیں بھارت میں سیکولر کے پرچارمیں مسلمانوں کے ساتھ شودروں والاسلوک کیا جارہاہے۔اس کے مقابلے میں پاکستان کے مسلمان آزاد ہیں اوروہ آزادی کے ساتھ اپنی زندگی اپنے دینی اوراسلامی اصولوں کے مطابق گزاررہے ہیں اورگزارسکتے ہیں۔اب یہ تواپنا اپنافیصلہ ہوتا ہے کہ کون کیا کرنا چاہتاہے،لیکن عام طور پرحکومت، قانون اورآئین آپ کی اس کوشش اور خواہش کوپورا کرتاہے کہ آپ اپنی زندگی اپنے دین کے مطابق گزاریں ۔ہندوستان میں ایسا نہیں ہے،وہاں کے مسلمان وہاں کے آئین کے مطابق وہاں کے معاشرتی اصولوں کے پابند ہیں اورانھیں اسی کے مطابق چلنا ہے۔دین ہندوستان کے مسلمانوں کی ذاتی زندگی میں تونظر آئے گالیکن اگر آپ اس کاکوئی اجتماعی عکس دیکھنا چاہیں تووہ آپ کوہندوستان میں نظر نہیں آئے گا وہ پاکستان میں موجو دہے۔وہ جوعلامہ اقبال کہا کرتے تھے ہے ملاُ کو جوہند میں سجدے کی اجازت نادان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد یعنی اسلام صرف اس سے آزاد نہیں ہوتا کہ آپ کومسجد میں نماز پڑھنے کی مکمل آزادی ہوآپ کوگھرمیں اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت ہو،قرآن پاک پڑھنے کی آزاد ی ہو۔ اسلام صرف یہ نہیں ہے۔اسلام تو ایک معاشرت، ایک آئین اورایک قانون کا نام ہے اورظاہر ہے یہ آپ کوکسی غیر اسلامی معاشرے میں نظر نہیں آسکتا۔یہ ایک مثبت پہلو ہے قیام پاکستان کے حوالے سے۔لیکن یہ سچ ہے اپنی جگہ کہ قائداعظم نے جن بہت سی خواہشات کا،تصورات کااظہار کیاتھاوہ پوری نہیں ہوئیں۔ مثلاجومیں دیکھتا ہوں، قائداعظم محمد علی جناح انسانی مساوات پربہت زوردیتے تھے۔پاکستان میں انسانی مساوات نہیں ہے،آج بھی یہاں قوم وڈیروں میں‘ مزارعوں میں‘ زمینداروں اورکمیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں انسانی مساوات کاتصور نہیں ہے۔حقوق برابرنہیں ہے۔ امیر آدمی امیر اوربااختیارہے،غریب آدمی غریب اوربے بس ہے۔ دیہاتوں میں چلے جائیں وہی برادری والا تصور وہی شودر اوربرہمن والاتصور ہے۔ایک برترایک کم تر۔ ملک کاقانون بڑے کے لئے اورہے اورچھوٹے کے لئے اورہے۔قائداعظم اس پربہت زوردیتے تھے کہ پاکستان میں اسلامی مساوات ہوگی پاکستان میں معاشی انصاف ہوگا۔اب یہاں نہ اسلامی مساوات ہے اورنہ معاشی مساوات ۔قائداعظم قانون کی حکمرانی کے بہت پابند تھے لیکن یہاں قانون کی حکمرانی بھی نہیں ہے۔لوگوں کوانصاف بھی بہت مشکل سے ملتاہے۔ان معنوں میں توکہہ سکتے ہیں کہ قائداعظم کے تصورپاکستان کوابھی شرمندہ تعبیر ہونا ہے۔

میرے نزدیک سقوط ڈھاکہ کی سب سے بڑی اوربنیادی وجہ ہندوستان ہے۔جو پاکستان کاپڑوسی تھا۔اگرہندوستان کی فوج پاکستان پرحملہ نہ کرتی،مکتی باہنی کوتربیت اوراسلحہ نہ دیتی، اگر اندرا گاندھی پوری دنیا کودورہ کرکے پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کونہ ورغلاتی، پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرکے پاکستان کوتنہا نہ کردیتی ۔اگرہندوستان کاپریس، مغربی میڈیا کے ساتھ مل کرپوری دنیا میں پاکستان کے خلاف نفرت نہ پھیلاتا، واقعات کوبہت زیادہ بڑھا چڑھا کربیان نہ کرتا، اب آپ نے دیکھ لیا جوکتابیں آرہی ہیں وہ کہہ رہی ہیں کہ وہاں اتنا قتل وغارت نہیں ہواجتنا پروپیگنڈا کیا گیا۔ ظلم دونوں طرف ہوا، انہوں نے بھی مغربی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ بہت ظلم کیا۔اگرہندوستان مشرقی پاکستان پرحملہ نہ کرتا تومشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا،مذاکرات سے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا گیا ہوتا،لیکن بھارت نے قیام پاکستان کابدلہ لیا۔

سوال : ہم قائداعظم محمد علی جناح کے خوابوں کے مطابق یہ آئیڈیل معاشرہ کیسے حاصل کرسکتے ہیں،جہاں اسلامی مساوات اورمعاشی انصاف ہو؟

جواب : ہمیں یہ آئیڈیل معاشرہ حاصل کرنے کے لئے ابھی بہت کام کرنا ہے۔یہ کام اتنا آسان نہیں کیونکہ ہم راستے سے بھٹک چکے ہیں۔ لیکن میں مایوس نہیں ، پاکستان میں کافی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔اب عدلیہ آزاد اورمضبوط ہوئی ہے۔لوگوں کوانصاف ملنے لگا ہے۔ پہلی مرتبہ حکمرانوں کو عدلیہ کے سامنے جواب دہ ہوناپڑرہاہے۔نظریہ ضرورت نے اس ملک پرساٹھ سال حکمرانی کی ،اس کاطوق قوم کی گردن سے اُترچکاہے۔نظریہ ضرورت نا م کی چیز اب اس ملک میں نہیں رہی۔سب سے بڑی با ت یہ کہ میڈیا بہت زیادہ آزاد اورطاقت ور ہوگیا ہے۔وہ کرپشن کے کیسز اورمس مینجمنٹ کو سامنے لارہاہے۔بہت سی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں اوراگر اسی طرح یہ ارتقائی عمل جاری وساری رہے توہم قائداعظم کے تصورات کے باقی حصے بھی حاصل کرلیں گے۔

سوال: سرسید احمد خان کی علمی وعملی کاوشوں نے مسلمانوں کے اندر ایک علیحدہ قوم کے تشخص کی بنیاد رکھی۔جبکہ ہندو لیڈرشپ نے ایک قوم اوروطن کواجاگرکرنے کے لئے کچھ مخصوص نظریات کاسہارا لیا،ہمیں کچھ نہرو اور گاندھی کی سیاست کے بارے میں بتائیے؟

جواب:میں سرسید احمد خان کابہت بڑا فین ہوں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ سرسید کامسلمانوں میں سیاسی شعوربیدار کرنے اورمنزل کااحساس پیدا کرنے میں اوران کے قومی وجود کوہندوستان میں قائم رکھنے میں بہت بڑا کردار ہے۔ سرسید پہلے آدمی تھے جنہوں نے مسلمانوں کواحساس دلایا کہ بہرحال آپ ایک علیحدہ قوم ہیں ۔انگریز حکمران جوووٹ کاسسٹم اورلوکل اداروں کاسسٹم لارہے ہیں اس میں مسلمان ہمیشہ کے لئے ہندو کے غلام بن کررہ جائیں گے۔ہمیشہ کے لئے یہ اکثریت کے رحم وکرم پرہوں گے۔سرسید پہلے آدمی ہیں جنہوں نے مسلمانوں میں پہلی مرتبہ جدید تعلیم کی اہمیت کااحساس پیدا کیااورانھیں بتایا کہ آپ روایتی تعلیم سے نکل کرسائنس وٹیکنالوجی کی تعلیم کی طرف آئیں۔میں سرسید کو مسلمانوں کابہت بڑا لیڈرسمجھتا ہوں،ان کے بعد 1947ء تک جوڈویلپمنٹ ہوئی اس کی بنیاد سرسید نے فراہم کی۔سرسید مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان رابطے کاکام کرتے تھے۔پھر انہوں نے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس بنائی۔ اس پلیٹ فارم پرپورے ہندوستان کے مسلمان اکٹھے ہوتے تھے اوراپنے مسائل ڈسکس کرتے تھے،بعد میں اسی محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی لیڈرشپ نے ہی 1906ء میں مسلم لیگ بنائی۔ اس وقت سرسید احمد خان انتقال کرچکے تھے۔اس وقت مسلمانوں کوایک پلیٹ فارم کی ضرورت تھی تاکہ انگریزوں تک اپنے مطالبات پہنچائے جائیں ۔اس وقت تک آزادی کاتصور نہیں تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مسلم لیگ مضبوط ہوتی گئی۔دوسری طرف مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوؤں کاسیاسی پلیٹ فارم موجود تھا۔کانگریس میں گاندھی اورنہرو جیسے لیڈر تھے۔گاندھی اورنہرو ہندوؤں کے لیڈر تھے۔وہ ایک عرصہ تک مسلمانوں کودھوکہ دیتے رہے ۔ دوسری طرف قائداعظم مسلمانوں کے لیڈرتھے۔جب تک وہ ہندو مسلم اتحاد کے پیامبر تھے محمد علی جناح تھے جب وہ مسلمانوں کے لیڈر بنے تو قائداعظم بنے۔ سیدھی سی بات ہے گاندھی کی سوچ ایک ہندو معاشرے کی سوچ تھی۔ہندو ازم کی بہت گہری چھاپ تھی۔ قائداعظم نے کانگریس میں رہ کر بہت قریب سے ہندوؤں کے مزاج اورمائنڈ سیٹ کوسمجھ لیاتھا اوروہ یہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے مفادمیں نہیں کہ وہ ان کے ماتحت یا ان کی نگرانی میں رہ کراپنی قومی زندگی کوتشکیل دیں، قائداعظم نے آہستہ آہستہ آزادی اورہندوؤں سے علیحدگی کا راستہ اختیار کیا،قائداعظم نے ہندوؤں کے مزاج کوسمجھ لیا تھا۔ گاندھی کی سوچ ایک مخصوص ہندولیڈر کی سوچ تھی۔اب تو جسونت سنگھ جیسے لوگ بھی مانتے ہیں کہ قائد اعظم محمدعلی جناح ایک بہت بڑے لیڈرتھے۔ کانگریس والوں کی میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ اگرکانگریس کے پاس ایک قائداعظم ہوتے توہندوستان تقسیم نہ ہوتا۔ قابلیت، کردار اوروژن کے لحاظ سے نہرو اورگاندھی کاقائداعظم سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔مسلمانوں کوڈیل کرنے کے لئے انہوں نے نہرو کو رکھا ہوا تھا، جبکہ عوام کے پاس جانا، باپوبننا اس کے لئے گاندھی تھا۔جبکہ قائداعظم دونوں کام خود کرتے تھے،قائداعظم محمد علی جناح عوامی لیڈربھی تھے اورقومی لیڈربھی تھے۔

سوال:پاکستان ایک نظریئے پربنامگرچوبیس سال بعد دوحصوں میں تقسیم ہوگیا۔ہماری نظریئے سے زمینی حقائق کی ایڈجسٹمنٹ میں کیا کوتاہیاں ہوئیں کہ ملک دوحصوں میں تقسیم ہوگیا؟

جواب:بات یہ ہے کہ میں نے اس پربہت غورکیا ہے چند باتیں جومیرے ذہن میں آتی ہیں،وہ میں مختصر بتاؤں گا۔ہم عام طورپرکہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں محرومیاں تھیں اوراس میں کوئی شک بھی نہیں کہ محرومیاں تھیں۔مغربی پاکستان کے لوگوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کوبہت سی چیزوں سے محروم رکھا،ان کی آبادی زیادہ تھی اس کے مطابق انہیں نمائندگی ملنی چاہیے تھی وہ نہیں دی گئی۔پٹ سن سے ہم نے بے پناہ زرمبادلہ کمایالیکن وہ سارا پیسہ مغربی پاکستان پرخرچ کیاگیا۔ان کویہ بھی شکایت تھی کہ صنعتیں وہاں لگی ہیں ،مشرقی پاکستان میں نہیں لگیں۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ، لیکن میراایک بنیادی سوال یہ ہے کہ مجھے دنیا کاکوئی ایک ملک ایسا بتادیں، جس میں دولت کی تقسیم مکمل طور پر منصفانہ بنیادوں پر کی گئی ہو۔ میں نے اس مسئلے پرامریکہ تک غور کیا ہے،انڈیاہم سے کروڑوں درجے پیچھے ہے۔انڈیا میں توآج بھی گیارہ ریاستیں ہیں جہاں مرکزی حکومت سے بغاوت ہے، تین چارریاستیں ہیں جہاں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں اتنی شدید محرومی ہے اس کے مقابلے میں دیکھیں توپاکستان میں کوئی محرومی نہیں تھی۔اسی طرح امریکہ میں آج بھی کیلفورنیا سب سے زیادہ زرخیز سب سے زیادہ رئیس ریاست سمجھی جاتی ہے۔ایسی ریاستیں بھی ہیں جہاں شدید احساس محرومی بھی ہے لیکن کیاوہ ریاستیں ٹوٹ گئی ہیں ؟کیا وہ ملک ٹوٹ گئے ہیں؟ میراکہنے کامطلب یہ ہے کہ آپ پوری دنیا پھر لیں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس کے تمام علاقوں میں برابرکی ڈویلپمنٹ ہواورمعاشی طورپرایک جیسے ہوں۔یہ ممکن نہیں ہوتا۔محرومیاں ضرور تھیں لیکن صرف یہ ٹوٹنے کاسبب نہیں تھا۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ محرومیوں کوسیاسی طورپردشمنوں نے استعمال کیا۔ووٹ لینے کے لئے لوگوں کی محرومیوں کواچھالا،اورپھر وہ ایک بنیاد بن گئی۔میں ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ اگراس وقت ملک میں آمریت نہ ہوتی توملک نہ ٹوٹتا۔یہ سیاسی مسئلہ تھا،سیاستدان ہوتے تومل جل کرراستہ نکال لیتے۔قوم جس بند گلی میں پھنس گئی تھی اسے سیاستدان ہی نکال سکتے تھے۔غیرجمہوری حکومتوں کاسیاسی وژن اورسوچ نہیں تھی۔جنرل یحییٰ خان اگرسیاست دان ہوتے تودوسرے سیاست دانوں کے ہاتھوں میں نہ کھیلتے۔ میرے نزدیک سقوط ڈھاکہ کی سب سے بڑی اوربنیادی وجہ ہندوستان ہے۔جو پاکستان کاپڑوسی تھا۔اگرہندوستان کی فوج پاکستان پرحملہ نہ کرتی،مکتی باہنی کوتربیت اوراسلحہ نہ دیتی،اگراندراگاندھی پوری دنیا کودورہ کرکے پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کونہ ورغلاتی،پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرکے پاکستان کوتنہا نہ کردیتی ۔اگرہندوستان کاپریس ،مغربی میڈیا کے ساتھ مل کرپوری دنیا میں پاکستان کے خلاف نفرت نہ پھیلاتا،واقعات کوبہت زیادہ بڑھا چڑھا کربیان نہ کرتا،اب آپ نے دیکھ لیا جوکتابیں آرہی ہیں وہ کہہ رہی ہیں کہ وہاں اتناقتل وغارت نہیں ہواجتنا پروپیگنڈا کیا گیا۔ ظلم دونوں طرف ہوا، انہوں نے بھی مغربی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ بہت ظلم کیا۔اگرہندوستان مشرقی پاکستان پرحملہ نہ کرتا تومشرقی پاکستان آج بھی پاکستان کا حصہ ہوتا،مذاکرات سے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا گیا ہوتا،لیکن بھارت نے قیام پاکستان کابدلہ لیا۔یہ بھی حقیقت ہے مشرقی پاکستان کی ایک بڑی آبادی پاکستان کے ساتھ اورعلیحدگی کی مخالف تھی،وہ علیحدگی کی تحریک یا بغاوت میں بھی شریک نہیں تھی۔آج لوگ الشمس اورالبدر کی بات کرتے ہیں،وہاں ان کے علاوہ ایک بہت بڑاطبقہ تھا جوپاکستان کاحامی تھا۔خودمجیب الرحمن نے کئی مرتبہ یہ بات کہی ہے کہ میں تو فریم ورک میں رہتے ہوئے۔ حقوق چاہتا تھا۔ اگر ہندوستان مشرقی پاکستان پرحملہ نہ کرتا تودنیا کی کوئی قوت مشرقی پاکستان کوعلیحدہ نہیں کرسکتی تھی۔ جتنی محرومیوں کارونا رویا جاتا ہے ان سب کاحل ڈھونڈا جاسکتا تھا۔اصل مسئلہ یہ تھا جواندراگاندھی نے بھی کہا کہ میں نے تقسیم ہندکابدلہ لے لیا ہے۔وہ نظریہ پاکستان کوبنگال کے خلیج میں ڈبونا چاہتی تھی۔

سوال :آپ کیا سمجھتے ہیں کہ دوقومی نظریہ زندہ ہے؟

جواب :بالکل دوقومی نظریہ آج بھی زندہ ہے۔اندراگاندھی دوقومی نظریے کو ڈبو نہیں سکی۔میں مشرقی پاکستان گیا ہوں،مجھے آج بھی وہاں دوقومی نظریہ نظرآتا ہے،وہاں آج بھی ہندواورمسلمان دوعلیحدہ قومیں ہیں، آج بھی ہندوؤں سے اتنی ہی نفرت ہے جتنی پہلے تھی۔تجارت پرہندووں نے قبضہ کررکھا ہے،لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں،مجھے لوگ ایسی مارکیٹوں میں لے گئے جہاں ہندووں کی دوکانیں زیادہ تھیں،انہوں نے کہاکہ دیکھو یہاں ہندوؤں کی دوکانیں زیادہ ہیں اور یہ ہمارا معاشی استحصال کر رہے ہیں۔ وہاں دوقومی نظریہ آج بھی موجود ہے۔ہندوستان سے نفرت میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے ہندوستان نے اس نفرت کوکم کرنے کے لیے بہت سے مواقع اورراستے کھول دیے ہیں۔جس سے وہ نفرت ابھر کرسامنے نہیں آرہی۔

سوال :ڈاکٹرصاحب آپ قائداعظم محمدعلی جناح کے11اگست 1947ء کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کوکیسے دیکھتے ہیں۔کیا ہماری ریاست اپنے تمام افراد کوشراکت داربنانے میں کامیاب ہوئی ،آپ کیا اقدامات تجویز کرتے ہیں؟

جواب:جمہوریت کے علاوہ دنیا میں کوئی ایسا نظام نہیں ہے،جس کے ذریعے عام لوگوں کو حکومت کی حکمرانی میں شرکت کااحساس آپ دیں۔جمہوری عمل کوجاری وساری رہناچاہیے۔یہ آہستہ آہستہ خود عوام کوحکومت میں شرکت کااحساس دے گا۔آپ خود دیکھ لیں،گزشتہ جتنے الیکشن ہوئے ہیں،اس سے احسا س شرکت بڑھا ہے۔قائداعظم لوگوں کوبرابری کی بنیاد پردیکھتے تھے۔وہ چاہتے تھے عوام میں احساس ذمہ داری پیداہو۔ قائداعظم سے زیادہ قانون پسند اورجمہوریت پسند کون ہوگا؟آپ بھی عوام کوموقع دیں،اپنے لیڈر منتخب کرنے کا۔یہ ارتقائی عمل ہے،اسے جاری رہنے دیں۔اب تودیہات میں رہنے والا آدمی بھی سمجھتا ہے کہ اس کے ووٹ کی کتنی اہمیت ہے۔جمہوریت مضبوط ہوگی توعام آدمی میں احساس ذمہ داری پیداہوگا،قائداعظم محمد علی جناح یہ ہی چاہتے تھے کہ لوگوں میں احساس ذمہ داری پیداہو۔ہم اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے اداکریں گے تویہ ملک ترقی کرے گا۔پاکستان کوایک خوشحال ،ترقی یافتہ اورفلاحی ریاست بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

سوال:ہمارے ملک کوآج بھی لسانی اورنسلی تضادات کاسامنا ہے، بلوچستان کی صورتحال بھی آپ کے سامنے ہے،ایک مشترکہ قومی سوچ کوکیسے تشکیل اورفروغ دیا جاسکتاہے؟

جواب:میرے خیال میں بلوچستان کے مسئلے کے دوپہلو ہیں،پہلا پہلو تو یہ ہے کہ بلوچستان دوسرے صوبوں کے مقابلے میں پسماندہ صوبہ ہے۔معاشی ناہمواری ہے۔ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان کی ترقی پرتوجہ نہیں دی۔یہ اپنی جگہ حقیقتیں ہیں لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہ محرومیاں ہرعلاقے اورقوم میں ہیں۔دنیا کاکوئی ملک اس سے ماوراء نہیں ہے۔ یہ ہرجگہ ہے۔پہلا پہلو تویہ ہے کہ وہاں معاشی ترقی ہونی چاہیے۔ سرداری نظام بلوچستان کی ترقی میں حائل ہے وہ آپ کووہاں سڑکیں اورسکول نہیں بنانے دیتے ۔عام آدمی تک پہنچنے کے لیے حکومت کوکچھ نہ کچھ اقدامات کرنے ضروری ہیں۔بھٹو نے سرداری سسٹم ختم کرنے کااعلان کیا تھا لیکن عملًا وہ ختم نہیں ہوسکا۔بلوچستان چونکہ قبائلی نظام ہے اس لئے سرداری نظام کوتوڑنا اتناآسان بھی نہیں ہے۔اٹھارویں ترمیم کے بعد جوصوبائی خودمختاری دیدی گئی ہے وہ اتنی زیادہ اورمناسب ہے کہ اس کے بعد کسی صوبائی حکومت کو محرومی کاذکر نہیں کرناچاہیے کیونکہ اب وہ اپنے وسائل اورکارکردگی میں آزاد ہیں۔اگرچہ بلوچستان کے وزیراعلی شکایت کرتے ہیں کہ انھیں باربارمرکزی حکومت کے پاس جاناپڑتاہے تومرکز کوان کی شکایت دورکرنی چاہیے۔صوبوں کو سوفیصد صوبائی خودمختاری دیجیے۔ بلوچستان میں جوبے چینی ہے وہ اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بڑھی ہے۔ہمیں کسی نہ کسی طرح صورتحال کی اصلاح کرنی ہوگی۔

سوال:کیاآپ سمجھتے ہیں کہ بھارت ،بلوچستان میں مداخلت کررہاہے؟

جواب : ہندوستان نے جوکچھ مشرقی پاکستان میں کیااسے جہاں بھی موقع ملے گااسی طرح کرے گا۔اب انھیں افغانستان کے راستے موقع ملا ہوا ہے۔وہ افغانستان میں بھی آپ کاراستہ روک رہے ہیں۔آپ کے اثرورسوخ کوبھی کم کرنے کی کوشش کررہاہے۔آپ کے سابق وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کرنے میں ملوث ہے۔ بھارت کواس کے ثبوت بھی دیے گئے ہیں۔بھارت بلوچستان میں اپنا گھناونا کردار ادا کررہاہے۔ڈرٹی رول اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ اپنے دشمن ملک کوموقع دیتے ہیں۔آپ موقع نہ دیجئے،لوگوں کے جو مطالبات، جومسائل ہیں انھیں حل کریں۔ بلوچستان میں مجھے جوسب سے بڑاخطرہ نظر آتا ہے وہ مذہبی منافرت ہے۔

سوال :یہ بتائیے ملک کودرپیش دہشت گردی اورمذہبی انتہاپسندی کے چیلنجز سے کیسے نکالا جاسکتا ہے؟

جواب :حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے اورمذہبی انتہاپسندی کوکم کرنے کے لئے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ہندوستان آپ کے ملک میں مذہبی منافرت اورفرقہ واریت پھیلا کراپنا کھیل، کھیل رہاہے۔اب آپ نے اس کامقابلہ کرناہے۔یہ فرقہ واریت ہرجگہ کام کرتی نظر آرہی ہے۔ظاہر ہے جب یہ منافرت موجود ہوتی ہے،تودشمن انھیں استعمال کرتا ہے انھیں پیسہ اوراسلحہ دیتا ہے۔تربیت بھی دیتاہے۔

سوال :ڈاکٹر صاحب یہ بتائیے قائداعظم نے جواسلامی ریاست پاکستان بنائی،کیا اس میں فرقہ واریت کاتصورتھا؟

جواب:فرقہ واریت کاکوئی تصور ہی نہیں تھا، مذہبی فرقہ واریت کااسلام میں کوئی تصور ہی موجود نہیں۔ مذہبی فرقہ واریت کاقائداعظم اورعلامہ اقبال کے پاس تصورہی نہیں تھا، وہ تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی فرقہ واریت ہوگی،آپ علامہ اقبال اورقائداعظم کی تقریریں پڑھیں، علامہ اقبال کے خطوط قائداعظم کے نام، پاکستان کی فکری اوراساسی نظریات ہیں، آپ انھیں پڑھیں، وہ خطوط بہت اہم ہیںآپ کوپاکستان کی بنیاد کی نظریاتی جھلک بہت واضح نظرآتی ہے۔ان میں وہ ہندومسلم فرقہ وارانہ فسادات کے حل کے لئے علیحدہ ریاست کامطالبہ کررہے ہیں اوراب یہاں پاکستان میں ہی فرقہ واریت شروع ہوگئی۔ قائداعظم اورعلامہ اقبال کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ مسلمان یہ ایک نبیؐ ‘ایک قرآن کے ماننے والے ایک دوسرے کے گلے کاٹیں گے۔انہوں نے جس فرقہ واریت سے جان چھڑانے کے لئے پاکستان بنایا تھا آج وہ ہمارے گلے پڑی ہوئی ہے۔مانتا ہوں کہ ا س میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہے۔

سوال :اس فرقہ واریت اورلسانیت کوکیسے کم کیاجاسکتاہے،آپ کے خیال میں ہماری معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی میں کن اقدامات اور تبدیلیوں کی ضرورت ہے کہ وطن عزیزکوترقی اورامن کی شاہراہ پرڈالا جاسکے؟

جواب:میرے خیال میں پچیس ،تیس سال پہلے یہ اختلافات اورنفرتیں نہیں تھیں،چا ہیے تویہ تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے جوتصوردیا تھا اس پر عمل کیا جاتا،لیکن ہمارے یہاں حکومت نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والوں کو مذہبی منافرت پھیلانے کی کھلی چھٹی دیدی۔ مذہبی اورفرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کسی صورت اجازت نہیں ہونی چاہیے،نہ تحریر کے ذریعے اورنہ تقریر کے ذریعے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پاکستان بننے کے تین چار سال بعد تک کسی مسلک یافرقے کاتصوربھی نہیں تھا۔ایک بھائی چارہ تھا،کوئی تضاد اوراختلاف نہیں تھا،ہم اپنی سیاسی وسماجی زندگیوں میں تبدیلی لاسکتے ہیں اگر اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل کریں۔میں مایوس نہیں،ہم راستہ بھٹک ضرور گئے تھے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ایک دن ہم ترقی کی منازل طے کرلیں گے۔اس قوم میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔امن قائم کرنے کے لئے ایک اہم بات یہ ہے کہ کرائم‘ کرائم ہوتا ہے جو لوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں بغیر کسی امتیاز کے انھیں سزائیں دی جائیں۔کسی دہشت گرد گروپ کی قوت سے ڈر کرحکومت خاموش نہ ہوجائے۔دہشت گردوں سے حکومت ریاستی طاقت کے ذریعے نمٹے۔

سوال:آپ جدیدیت اورروایت کےConflict کو کس تناظرمیں دیکھتے ہیں،جدید دورمیں ہم کس طرح اپنی اساس سے منسلک رہنے کے باوجود عصر ی تقاضوں سے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں؟

جواب:معاشرے میں جوتبدیلیاں آتی ہیں یہ توایک قدرتی عمل ہے،آپ اسے نہیں روک سکتے ۔میڈیا نے پوری دنیا کوایک گلوبل ویلیج بنادیا ہے۔امریکہ میں ہونیوالا کوئی چھوٹا ساواقعہ بھی ،وہاں کافیشن،وہاں کی فلاسفی ،وہاں کی سوچ، وہاں کے پروفیسرز تک کی پیشن گوئیاں آپ یہاں اخبارات میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہرشخص تک پہنچ جاتی ہیں۔اس لیے جدیدیت سے آپ کٹ کرتو رہ نہیں سکتے۔فقط اب آپ کویہ کرنا ہے کہ اپنی ویلیوز کواتنامضبو ط کریں کہ وہ باہر سے حملہ آور ہونیوالی آئیڈیالوجی کامقابلہ کرسکیں۔چین کی مثال آپ کے سامنے ہے ،چین پردنیا میں آنیوالی ثقافتی یلغار کااثر بہت تھوڑا ہے۔جاپان میں آپ کواس کااثر نظر نہیں آتا۔آپ اپنے نظام تعلیم کواپنے نظریاتی سسٹم کو اپنے نظریاتی حصار کواتنامضبوط بنالیں کہ باہر سے آنیوالی آئیڈیالوجی آپ کی رویات کوتوڑ نہ سکے۔دیکھئے سائنس کی ترقی جو ہوگی اس کااثر تواب پوری دنیا پرہوگا۔کوئی نظریاتی تحریک چلتی ہے،افریقہ میں کوئی تحریک چلتی ہے،امریکہ میں کوئی تحریک چلتی ہے تواس کااثر یہاں بھی ہوگا۔چومسکی کولوگ یہاں کتنے شوق سے پڑھتے ہیں۔جو بھی فلسفہ ہوآپ اس سے الگ نہیں رہ سکتے۔ اپنی معاشرتی ویلیوز اور نظریات کومضبوط بنائیے۔

 

یہ تحریر 118مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP