انٹرویو

قائداعظم سے اچانک ملاقات کو خوش قسمتی سمجھتا ہوں کارکن تحریک ِ پاکستان الحاج محمدحسین گوہر

کارکن تحریک پاکستان الحاج محمد حسین گوہر کہتے ہیں 
''قائداعظم سے اچانک ملاقات کو خوش قسمتی سمجھتا ہوں'' 
lپہلی مرتبہ قائداعظم کو جالندھر کے جلسے میں دور سے دیکھا،
lمسلمانوں نے آزاد وطن کے لئے بہت قربانیاں دیں، 
lپاکستان ہمارا گھر ہے ہمیں مل کر اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔    
    

س:۔ اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟ 
ج:۔ ہمارا خاندان جالندھر میں محلہ آباد پور نزد کچہری میں رہائش پذیر تھا۔ والد صاحب کا نام میاں مہرالدین تھا وہ نقشہ نویس انجینیئر تھے۔ دادا جی کا نام میاں عبداللہ تھا۔ وہ اجناس کے بیوپاری تھے۔ دوسرے شہروں سے اجناس لا کر جالندھر میں فروخت کرتے تھے۔ والد صاحب نقشہ نویسی کے علاوہ کام میں ان کا ہاتھ بھی بٹاتے تھے۔میرے دادا علاقے میں مسلم لیگ کے کرتا دھرتا اور نائب صدر تھے۔ تب شہر کا ایک صدر ہوتا تھا اور شہر کے مختلف علاقوں کے نائب صدور ہوتے تھے جو مسلم لیگ کے لئے کام کرتے تھے۔ میرے دادا مسلم لیگ کے لئے چندہ جمع کرتے تھے اور اس کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔ وہ نہایت دانش مند تھے۔ رکھ رکھاؤ اور اخلاقی روایات کے امین تھے۔ میری زندگی پر ان کے گہرے نقوش ہیں۔ میری کامیابیوں میں ان کی رہنمائی کا بڑا ہاتھ ہے۔


قائداعظم نے ہم سب سے ہاتھ ملایا۔ مجھے بھی یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس عظیم رہنما کا دبلا پتلا مگر زندگی کی حدت سے دہکتا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اس کی فولاد سی مضبوطی اور آگ سی تپش کو محسوس کر سکوں۔ قائداعظم نے مجھے پیار کیا اور پوچھا۔''کھانا وغیرہ ٹھیک مل رہا ہے نا'' اشفاق صاحب نے فوراً کہا۔''جی ہاں، میں انتظامیہ کے دفتر میں کام کرتا ہوں۔ ماشاء اللہ کام ٹھیک چل رہا ہے۔''قائداعظم نے کہا۔''دکھائو، کھانا لائے ہو؟'' اشفاق صاحب نے فوراً روٹیاں آگے کر دیں۔ میں نے سالن والا برتن دکھایا۔ قائداعظم نے ایک نوالہ توڑ کر سالن لگا کر کھایا اور فرمایا۔''ٹھیک ہے، اچھا ہے، ویل ڈن۔''قائداعظم یہ کہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ گئے اور ہم اپنی جگہ کھڑے یہ سوچتے رہ گئے کہ اتنی ذمہ داریوں اور مصروفیتوں کے بیچ انہوں نے اس مہاجر کیمپ میں آنے کا وقت کیسے نکالا ہوگا۔ اگر میں یہ کہوں کہ یہی میری زندگی کا سب سے قیمتی اور یادگار لمحہ تھا تو غلط نہ ہوگا۔ میرے دیگر ساتھیوں کی کیفیت بھی اس سے مختلف نہ تھی۔



س:۔ آپ کب پیدا ہوئے اور بچپن کیسا گزرا؟ 
ج:۔  میں جنوری 1936ء کو جالندھر میں پیدا ہوا۔ تب نومولود کے کان میں اذان دینے کے علاوہ کسی نیک شخصیت سے گڑتی (گھٹی )دلوائی جاتی تھی۔ مسلمان گھرانوں میں یہ طریقہ آج بھی جاری ہے۔ مجھے علاقے کے ایک نیک بزرگ میاں خدا بخش سے گڑتی دلوائی گئی۔ انہوں نے ہی میرے دادا اور والد کے مشورے سے میرا نام ''محمد حسین'' رکھا۔ 
س:۔ تعلیم  کہاں  سے  اور کتنی  حاصل  کی؟ 
ج:۔ جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے تو جالندھر میں ہمارے سکول کا نام دیوی سرنت پرائمری سکول تھا، جس میں چوتھی جماعت تک تعلیم دی جاتی تھی۔ ہم صبح نیکر اور شرٹ پہن کر اور سر پر پگڑی باندھ کر سکول جاتے تھے۔ ہم جہاں رہتے تھے وہ علاقہ جالندھر کے مضافاتی محلہ آباد پور جو ضلع کچہری کے ساتھ بہتی ہوئی بُڈھ برساتی نہر کے دوسری جانب تھا، ڈھائی تین سو گھروں کی آبادی تھی۔ زیادہ تر مسلمانوں کے گھر تھے پھر ہندوئوں اور اس کے بعد سکھوں کی آبادی تھی۔ بڈھ اس نہر کو کہتے ہیں جو صرف برسات میں بہتی ہے۔ سکول میں ننگے سر داخلہ ممنوع تھا۔ پائوں میں جوتی ہو نہ ہو سر پر پگڑی، رومال یا ٹوپی کا ہونا ضروری تھا۔ اکثر مسلمان پھندنے والی لال ترکی ٹوپی پہنتے تھے۔ ہندو اپنی دوانگل کپڑے کی دوپلّی ٹوپی اور سکھ پگڑی باندھتے تھے۔
س:۔ آپ نے بتایا کہ آپ کے دادا جالندھر میں مسلم لیگ کے عہدیدار تھے۔ تحریک پاکستان کے دوران ان کی سرگرمیاں کیا تھیں۔ آپ نے کس عمر سے تحریک پاکستان میں حصہ لیا؟
ج:۔ دادا جی نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔ مسلم لیگ کے لئے چندہ جمع کرتے تھے۔ جلسے جلوسوں کا انتظام کرتے تھے۔ تحریک پاکستان کا زور بڑھا تو وہ امرتسر شہر سے ایک ریڈیو لے کر آئے تاکہ حالات سے باخبر رہیں۔ روزانہ شام کو گھر کے صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا۔ چارپائیاں بچھائی جاتیں۔ علاقے کے لوگ اکٹھے ہو کر ریڈیو سے خبریں سنتے اور ان پر تبصرے کرتے تھے اور تحریکی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتے۔ ہمارے گھر کی خواتین بھی پردے کے ساتھ علاقے کی خواتین کو مسلم لیگ، تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے مقاصد سے آگاہ کرتیں۔ جب جالندھر میں قائداعظم نے جلسے سے خطاب کیا تو میرے دادا، دادی کے علاوہ سب گھر والوں نے اس جلسے میں شرکت کی تھی۔
گھر میں چونکہ لیگی اور تحریکی ماحول تھا، اس لئے ہم لڑکے بھی پوری طرح سرگرم تھے۔ علامہ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد، دو قومی نظریئے کی تشریح و ترویج، قائداعظم کا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنا، کانگریس کے مسلم دشمن اقدامات یہ سب باتیں میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے گزر چکی تھیں۔ مجھے اتنا تو معلوم تھا کہ تحریک آزادی کا جوش و خروش ہے لیکن میری چھوٹی سی دنیا کے باہر کیا ہو رہا ہے اس کے متعلق والد صاحب اور دادا جان سے معلومات مل جاتی تھیں۔ سیاسی حالات کی تصویر 23 مارچ 1940ء کی قرارداد پیش ہونے کے بعد حقیقی معنوں میں واضح ہونا شروع ہوئی۔ پھر ہم بچوں کو بھی سمجھ آگئی کہ پاکستان کا مطلب کیا… ''لاالٰہ الااللہ'' کا مطالبہ مسلمان کیوں کر رہے ہیں۔ جب ہمیں سمجھ آگئی تو پھر ہم بچے روزانہ شام کو سبز رنگ کی جھنڈیاں لے کر نکلتے اور گلیوں میں ''پاکستان کا مطلب کیا، لاالٰہ الااللہ …، لے کے رہیں گے پاکستان …، بن کے رہے گا پاکستان'' کے علاوہ کئی نعرے ہم نے خود بنا رکھے تھے، وہ لگاتے۔ ہم سرکنڈے پر سلور رنگ کی چمکیلی پنی لگا کر نیزے بھی بناتے اور جھنڈیوں کے ساتھ وہ بھی لہراتے تھے کیونکہ کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔
س:۔ جالندھر میں مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کے باہمی تعلقات کیسے تھے آپس میں، رہن سہن کیسا تھا؟ 
ج:۔ جب تک پاکستان کے قیام کے مطالبے نے زور نہیں پکڑا تھا باہمی تعلقات ٹھیک تھے۔ بلاوجہ لڑائی جھگڑے نہیں ہوتے تھے۔ جالندھر میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ البتہ ہندو کا تعصب بہت نمایاں تھا۔ہندو کے تعصب کا یہ حال تھا کہ وہ مسلمان تو مسلمان سکھ، عیسائی، چمار یہاں تک کہ نیچی ذات کے ہندو سے بھی دُور دُور رہتے تھے۔ ان سب کو وہ نجس(پلید) سمجھتے تھے۔ ان کے ساتھ ہاتھ ملانا تو دور کی بات ہے، ان کی چیزوں کو ہاتھ تک نہ لگاتے تھے۔ سودا سلف بھی وہ اس طرح دیتے تھے کہ اُن لوگوں کے جسم سے اِن کے جسم کا کوئی حصہ چھو گیا تو جیسے انہیں کوڑھ لگ جائے گا۔پتے یا کاغذ پر چیز رکھ کر دور رکھ دیتے۔ خدانخواستہ کسی چیز یا برتن کو ہاتھ لگ جاتا تو وہ چیز ان کے لئے حرام ہو جاتی تھی۔ ہم کسی جگہ اپنی مرضی سے آ جا بھی نہیں سکتے تھے۔ہندوئوں کو اگر کسی غیر ہندو(افسر وغیرہ) کو مجبوراً دعوت پر بلانا پڑ جاتا تو جس برتن میں وہ کھاتا تھا اس کو ساتھ دے دیتے یا پھینک دیتے تھے۔ ہم چھوٹے تھے اس فلسفے کو سمجھ نہ سکتے تھے مگر دل ہی دل میں اپنے آپ کو نیچ اور گھٹیا ذات کے لوگ سمجھ کر کڑھتے رہتے تھے۔ یہاں پاکستان میں تو آپ دیکھیں گے کہ ہوٹلوں وغیرہ یا کسی جگہ بھی کوئی کسی کو تعصب کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ ہندو، عیسائی، سکھ ہمارے ساتھ بیٹھ کر ہماری دکانوں اور ہوٹلوں میں ہمارے ہی برتنوں میں کھاتے ہیں، کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ لوگ جتنے مرضی اور جیسے چاہیں افسانے تراشتے رہیں، یہ ہندوئوں کا تعصب ہی تھا جس نے سر سید احمد خان جیسے صلح کل شخص کو بھی بالآخر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ یہ قوم کسی اور کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتی اور اسی سوچ سے پاکستان کی تحریک نے جنم لیا، جس کی بدولت بالآخر ہمیں اپنا وطن حاصل ہوا۔ آج کل کے امن کے ترانوں میں ہم یہ نہ بھول جائیں کہ پاکستان بنایا کیوں گیا تھا مگر یہ جاننے سے پہلے یہ بھی دیکھ لیجئے کہ آج کے ہندوستان میں مسلمان کیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ اور یہ قصہ آج کا نہیں، ہمیشہ کا ہے۔امن کی باتیں کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ غور و فکر سے کام لیں، ہوش کے ناخن لیں اور سوچیں کہ ہندو بنیا کیا کبھی مسلمانوں کا خیر خواہ ہو سکتا ہے؟ ہندو اور مسلمانوں کی سوچ کا یہ فرق زندگی کے ہر پہلو میں نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ اس کی ایک مثال ہم ان کوششوں میں بھی دیکھ سکتے ہیں جو قائداعظم نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے کیں لیکن بالآخر انہیں بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ یہ دونوں قومیں ایک سرزمین پر مل جل کر نہیں رہ سکتیں۔ حالانکہ ایک زمانے میں قائداعظم کو ''ہندو مسلم اتحاد کا سفیر'' قرار دیا جاتا تھا۔


جب تک پاکستان کے قیام کے مطالبے نے زور نہیں پکڑا تھا باہمی تعلقات ٹھیک تھے۔ بلاوجہ لڑائی جھگڑے نہیں ہوتے تھے۔ جالندھر میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ البتہ ہندو کا تعصب بہت نمایاں تھا۔ہندو کے تعصب کا یہ حال تھا کہ وہ مسلمان تو مسلمان سکھ، عیسائی، چمار یہاں تک کہ نیچی ذات کے ہندو سے بھی دُور دُور رہتے تھے۔ ان سب کو وہ نجس(پلید) سمجھتے تھے۔ ان کے ساتھ ہاتھ ملانا تو دور کی بات ہے، ان کی چیزوں کو ہاتھ تک نہ لگاتے تھے۔ سودا سلف بھی وہ اس طرح دیتے تھے کہ اُن لوگوں کے جسم سے اِن کے جسم کا کوئی حصہ چھو گیا تو جیسے انہیں کوڑھ لگ جائے گا۔پتے یا کاغذ پر چیز رکھ کر دور رکھ دیتے۔ خدانخواستہ کسی چیز یا برتن کو ہاتھ لگ جاتا تو وہ چیز ان کے لئے حرام ہو جاتی تھی۔


س:۔ حصولِ پاکستان کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے طویل جدوجہد کی۔ جب پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو مسلمانوں اور آپ کے جذبات کیا تھے؟
ج:۔ یہ 27 رمضان المبارک اور جمعہ کا دن تھا۔ عیسوی تاریخ کے مطابق 14 اگست 1947ء جب رات کے بارہ بجے سے چند لمحے پہلے پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا۔ اس رات کوئی سویا نہیں تھا۔ آزادی کی خوشخبری سننے کے لئے سب ہی جاگ رہے تھے۔ ریڈیو جو کسی امیر گھرانے میں ہی ہوتا تھا اس کے گرد خاموشی سے بیٹھے تھے۔ رات بارہ بجے پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو مسلمان خوشی سے جھوم اُٹھے، نعرہ تکبیر بلند ہوئے، ہر کسی کی خوشی دیدنی تھی۔ مسلمانوں نے سجدہ شکر ادا کیا۔ 27 رمضان المبارک ممکنہ شب قدر تھی۔ اس رات مسلمان عبادت کرتے ہیں، آزادی ملنے پر شکرانے کے نوافل بھی اس میں شامل ہو گئے۔پاکستان 27 رمضان المبارک کو قائم ہوا۔  14 اگست کو یوم آزادی کے نام پر کچھ لوگ سڑکوں پر جو ہڑبونگ مچاتے ہیں، طوفان بدتمیزی پیدا کرتے ہیں یہ نہ آزادی کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہیں نہ اس کے لئے دی جانے والی قربانیوں کو … ہمیں چاہئے کہ حصول پاکستان کی راہ میں اپنی جانیں، مال اسباب، عصمتیں، جائیدادیں قربانی کرنے والوں کے لئے ایصال ثواب کریں۔ پاکستان کی بقا کے لئے دعائیں کریں اور اس کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنی صلاحیتیں وقف کرنے کا عہد کریں۔


یہ ہندوئوں کا تعصب ہی تھا جس نے سر سید احمد خان جیسے صلح کل شخص کو بھی بالآخر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ یہ قوم کسی اور کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتی اور اسی سوچ سے پاکستان کی تحریک نے جنم لیا، جس کی بدولت بالآخر ہمیں اپنا وطن حاصل ہوا۔ آج کل کے امن کے ترانوں میں ہم یہ نہ بھول جائیں کہ پاکستان بنایا کیوں گیا تھا مگر یہ جاننے سے پہلے یہ بھی دیکھ لیجئے کہ آج کے ہندوستان میں مسلمان کیسی زندگی گزار رہے ہیں۔


س:۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کا مرحلہ آیا، آپ ہجرت کر کے کب پاکستان پہنچے اور راستے میں کیا حالات و واقعات پیش آئے؟۔
ج:۔ ہجرت کے حوالے سے اس شعر سے حالات کی عکاسی ہوتی ہے…ع
ہم نے اس گلشن کی خاطر کتنے جتن سرکار کئے
آگ کے صحرا سے گزرے ہیں خون کے دریا پار کئے
ہندو نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان بنے اور مسلمان آزاد ہو جائیں، اپنا ملک خود چلائیں اور ہندوئوں کے جال سے نکل جائیں۔ اس کا بپھر جانا فطری تھا۔ اس نے سکھوں کو اشتعال دلا کر مسلمانوں کے خلاف بھڑکا دیا۔ پھر صبح ہونے سے پہلے پہلے مسلمانوں کی آبادیوں پر قاتلانہ حملے شروع ہوگئے۔ ہر بستی، گائوں اور شہر میں قتل و غارت شروع ہوگئی۔ مسلمان گھر بار چھوڑ کر پاکستان کی طرف چل پڑے۔ آپ ان لوگوں کے بارے میں سوچیں جو پاکستان کی طرف روانہ ہوئے تو ان کو راستے میں گھیر کر چُن چُن کر قتل کر دیا گیا۔ پاکستان آنے والے خاندانوں میں کسی کی ماں نہیں آئی، کسی کا باپ نہیں پہنچا، کسی کی بہن اٹھا لی گئی، کسی کے بھائی کو قتل کر دیا گیا۔غارت گری، عصمت دری، آتش زنی اور لوٹ مار کا ایک بھیانک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان کے حملوں سے بچنے کے لئے مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ سب لوگ ایک جگہ اکٹھے ہو کر رہیں تاکہ ان بلوائیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ میرے دادا میاں عبداللہ نے جو اس وقت مسلم لیگ کے سرگرم کارکن تھے، اعلان کیا کہ سب لوگ اپنے گھر چھوڑ کر ہماری حویلی میں آ جائیں۔ لوگ ہمارے گھر کے علاوہ محلے کے ایک مسلمان صادق شاہ صاحب کے گھر پر بھی جمع ہوگئے کیوں کہ ان کا گھر بھی بہت بڑا تھا۔ اس عمل سے پورے علاقے میں امن کی فضا قائم ہوگئی۔ پھر کسی کو جرأت نہیں ہوئی کہ مسلمانوں پر حملہ کر سکے۔پھر سب نے مل کر پاکستان کو ہجرت کا فیصلہ کیا۔ حکومت کی طرف سے ٹرینیں چلانے کا اعلان ہوا اور تمام لوگ فوجی چھائونی کے گرد جمع ہوگئے۔ چھائونی میں انہیں فوجی بیرکوں میں ٹھہرایا گیا جلد ہی بیرکیں بھر گئیں اور لوگ کھلے آسمان کے نیچے وقت گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ اوّل تو کھانے کا سامان ہی کم تھا پھر جو تھا اسے بھی پکانے کے لئے ایندھن چولہے کے نام پر کچھ دستیاب نہ تھا۔ بچے دودھ کو رو رہے تھے تو بڑے بوڑھے کھانے کو ترس رہے تھے۔ کچھ لوگ اکٹھے ہو کر دوسرے گائوں جاتے اور کھانے پینے کا سامان لے آتے۔ کبھی کبھار ہندو سکھ غنڈوں سے ان کی مڈھ بھیڑ ہو جاتی تو سامان پھینک کر جان بچانے کے لئے بھاگنا پڑتا۔ اس وقت کی کٹھنائیوں اور صعوبتوں کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لئے بہت مشکل ہے۔ روز ایک دو گاڑیاں بھر کر روانہ کی جا رہی تھیں۔ کسی دن پتہ چلتا تھا کہ امرتسر کے سٹیشن پر سکھوں اور ہندوئوں نے حملہ کرکے ساری گاڑی کاٹ کے رکھ دی ہے۔ کبھی کبھی ڈوگرا فوج گاڑی کو بچانے میں کامیاب ہو جاتی اور کبھی بلوچ رجمنٹ کے جوان یہ سعادت حاصل کرکے سرخرو ہوتے۔ پیدل قافلے بھی پاکستان کی طرف  جا رہے تھے۔ ان کا جو حال ہوا، وہ سوچ کر آج بھی دل دہل جاتا ہے۔ دریائے بیاس مسلمانوں کے خون سے لال ہوگیا تھا۔ راستے لاشوں سے پٹ گئے تھے اور جانے کہاں کہاں سے چیل کوے، کتے اور دیگر مردار خور پرندے اور جانور آ کر ان بدنصیبوں کے اجسام نوچنے کو جمع ہوگئے تھے۔ان قافلوں میں سے جو بچ جاتے، انہیں اور کئی طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ پینے کو پانی اور کھانے کو روٹی میسر نہیں۔ بھوکے پیاسے بیل گاڑیوں، بیلوں اور گدھوں پر سامان لادے انسانوں کا ایک جم غفیر اس مقدس سرزمین کی طرف رواں دواں رہتا جس کے لئے انہوں نے اپنے گھروں کوخیر باد کہہ دیا تھا۔ خوشی صرف اسی بات کی تھی کہ مسلمانوں کو ایک  الگ ملک مل گیا جہاں ہم اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں گے، بغیر کسی خوف کے عبادات کر سکیں گے، اسلامی نظام قائم کر سکیںگے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندوئوں کے تعصب سے نجات حاصل کر سکیں گے۔ان سب دکھوں، مصیبتوں اور اس غلامانہ زندگی کا مداوا صرف پاکستان تھا، جو مل گیا۔ اب لوگ منزل کی طرف رواں دواں تھے مگر نہ زادِ راہ تھا نہ راستے محفوظ تھے۔ کچھ پتہ نہ تھا کہ کب ہندو اور سکھ قافلے پر حملہ آور ہوں اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرکے بھاگ جائیں۔ ہزاروں کی شکل میں چلنے والا قافلہ سیکڑوں کی شکل میں پاکستان پہنچتا۔ پھر بھی لوگ واہگہ بارڈر پر پہنچتے ہی سجدہ ریز ہو جاتے اور اللہ کا شکر ادا کرتے جس نے انہیں یہ دن دکھایا کہ انہوں نے اپنی آزاد دھرتی کو بوسہ دے لیا۔ میں اس وقت قریباً10 سال کا تھا اور چوتھی جماعت کا طالب علم۔ کافی حد تک دنیا کو دیکھ اور سمجھ سکتا تھا۔ میں اور میرے ساتھی اور کچھ بڑے اپنے دوسرے ساتھیوں کی مدد کرتے۔ گڑھا چھائونی میں سرکاری نلوں سے پانی بھر کے لاتے۔ یہ ٹوٹنی والے نل نہیں بلکہ باتھ سے چلانے والے ہینڈ پمپ تھے۔ ہم گھنٹوں انہیں دھونک دھونک کر پانی بھرتے رہتے۔ پھر ایک دن دس بارہ فوجی ٹرک آ کر رکے اور اعلان ہوا کہ عورتیں، بوڑھے اور بچے ان میں بیٹھ جائیں، یہ پاکستان پہنچا دیں گے۔ اس طرح یہ سلسلہ بھی شروع ہوگیا اور روز دس پندرہ ٹرک بھر کر فوجی قافلے کے ساتھ لوگ پاکستان جانے لگے۔ ایک دن ہماری باری بھی آگئی اور ہماری عورتوں اور بچوں کو بھی ٹرکوں میں سوار کروا کر پاکستان روانہ کر دیا گیا۔ مردوں کو پیدل قافلے کی صورت میں روانہ کیا گیا کیوں کہ عورتوں اوربچوں کی غیر موجودگی میں وہ بلوائیوں کا زیادہ بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتے تھے۔ راستے میں بلوائیوں سے جھڑپ ہوتی، اِکا دُکا  مرد شہید بھی ہو جاتے لیکن پھر بھی زیادہ تر خیر خیریت سے منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے۔جب ہمارا ٹرکوں کا قافلہ امرتسر پہنچا تو عصر کا وقت تھا۔ ایک دم گولیاں چلنے کی آواز آنے لگی اور ٹرک رک گئے۔ اعلان ہوا کہ نیچے لیٹ جائو۔ ہم ٹرکوں میں ایک دوسرے کے اوپر لیٹ گئے۔ کوئی دو گھنٹے لڑائی ہوتی رہی۔ اس لڑائی میں ہمارے قافلے میں شامل کئی عورتیں اور بچے بھی زخمی ہوگئے۔ خدا خدا کرکے ہمارا قافلہ رات12 بجے والٹن(لاہور) پہنچا تو ہم سب نے ٹرکوں سے اتر کر پاکستان کی سرزمین کو چوما اور سجدہ ریز ہوگئے۔ہمارے لئے کھانا تیار تھا۔ انتظامیہ نے کھانا تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ زخمیوں کی مرہم پٹی شروع ہو گئی۔ کھانا کھا کر لوگوں نے سکون لینے کی خاطر ذرا کی ذرا ننگی زمین ہی پر آنکھیں موند لیں۔ کچھ لوگ اپنے عزیزوں کی شہادتوں کا ذکر سوگوار لہجے میں کر رہے تھے اور کئی اللہ کے حضور سجدہ ریز تھے۔
 س:۔ قائداعظم سے ملاقات کا شرف کیسے حاصل ہوا؟۔
ج:۔ پہلی بار تو قائداعظم محمد علی جناح کو جالندھر کے جلسے میں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس جلسے میں ہم سب گھر والوں نے شرکت کی تھی۔ دادا تو فعال مسلم لیگی تھے۔ میری دادی اور گھر کی دیگر خواتین بھی اس جلسے میں شریک ہوئی تھیں۔ وہاں قائداعظم کو دور سے ہی دیکھا تھا۔دوسری بار حسنِ اتفاق سے جو ملاقات ہوئی اُس کو اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔ ہم ہجرت کر کے والٹن لاہور کے مہاجر کیمپ میں پہنچے تھے اس سے اگلے دن ہمیں ناشتے میں گُڑ اور چنے ملے۔ دوپہر کو اعلان ہوا کہ سب باورچی خانے آ کر کھانا لے جائیں۔ میں بھی دادا جان کے ساتھ برتن پکڑ کر کھانا لینے چل پڑا۔ کھانے کی لائن میں ہماری ملاقات چھریرے بدن کے ایک بابو ٹائپ نوجوان سے ہوئی۔ دادا جان نے اس کے حالات دریافت کئے۔ اس نے اپنا نام اشفاق احمد بتایا۔ اسی دوران کچھ لوگ سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دیئے۔ اشفاق احمد صاحب میرے دادا کو مخاطب کرکے فوراً بولے۔''لوجی میاں صاحب، قائداعظم صاحب آ گئے۔ وہ آگئے۔ السلام علیکم حضور!'' قائداعظم نے ہم سب سے ہاتھ ملایا۔ مجھے بھی یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس عظیم رہنما کا دبلا پتلا مگر زندگی کی حدت سے دہکتا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اس کی فولاد سی مضبوطی اور آگ سی تپش کو محسوس کر سکوں۔ قائداعظم نے مجھے پیار کیا اور پوچھا۔''کھانا وغیرہ ٹھیک مل رہا ہے نا'' اشفاق صاحب نے فوراً کہا۔''جی ہاں، میں انتظامیہ کے دفتر میں کام کرتا ہوں۔ ماشاء اللہ کام ٹھیک چل رہا ہے۔''قائداعظم نے کہا۔''دکھائو، کھانا لائے ہو؟'' اشفاق صاحب نے فوراً روٹیاں آگے کر دیں۔ میں نے سالن والا برتن دکھایا۔ قائداعظم نے ایک نوالہ توڑ کر سالن لگا کر کھایا اور فرمایا۔''ٹھیک ہے، اچھا ہے، ویل ڈن۔''قائداعظم یہ کہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ گئے اور ہم اپنی جگہ کھڑے یہ سوچتے رہ گئے کہ اتنی ذمہ داریوں اور مصروفیتوں کے بیچ انہوں نے اس مہاجر کیمپ میں آنے کا وقت کیسے نکالا ہوگا۔ اگر میں یہ کہوں کہ یہی میری زندگی کا سب سے قیمتی اور یادگار لمحہ تھا تو غلط نہ ہوگا۔ میرے دیگر ساتھیوں کی کیفیت بھی اس سے مختلف نہ تھی۔ اشفاق صاحب نے میرے دادا جان سے کہا۔''میاں جی، یہ روٹی تو میں زندگی بھر اپنی جان سے عزیز رکھوں گا۔''انہوں نے تو وہ روٹی احتیاط سے رکھی ہوگی اور میں نے بھی وہ برتن بڑے محبت و احترام سے ایک عرصہ سنبھالے رکھا جس میں سے قائداعظم نے نوالہ لیا تھا۔ میری بدقسمتی کہ پوری کوشش کے باوجود میں اس کی حفاظت نہ کر سکا اور وہ کہیں کھو گیا۔ برسبیل تذکرہ، یہ وہی اشفاق احمد صاحب(تلقین شاہ) ہیں جنہیں دنیا اب ایک بہت بڑے ادیب، دانشور اور عالم کے طور پر جانتی ہے اور جن کی تصانیف اور شخصیت نے ان کی وفات کے بعد بھی دنیا میں دھوم مچا رکھی ہے۔

س:۔ پاکستان آنے کے بعد تعلیم کا سلسلہ کہاں سے شروع کیا اور عملی زندگی میں کیسے قدم رکھا؟ 
ج:۔ والٹن کیمپ سے روزانہ مہاجروں کو پاکستان کے مختلف شہروں کو روانہ کیا جاتا تھا۔ ایک دن ہماری باری بھی آ گئی۔ ہمیں لائلپور (موجودہ فیصل آباد) بھیجا گیا۔ والد صاحب پڑھے لکھے تھے وہ ملازمت تلاش کرنے لگے۔ یوں والد صاحب کو ننکانہ صاحب میں فوڈ کنٹرولر کی ملازمت مل گئی۔ ان دنوں مہاجروں کو گورنمنٹ کی طرف سے راشن ملتا تھا۔ اس راشن کی تقسیم والد صاحب کے حصے میں آئی۔ ہم ننکانہ صاحب منتقل ہو گئے۔ ایک سال بعد گورنمنٹ کی طرف سے راشن کی تقسیم بند ہوئی تو یہ نوکری بھی ختم ہو گئی۔ والد صاحب جالندھر میں نقشہ نویسی کرتے تھے انہوں نے یہی کام شروع کر دیا جو کافی چل نکلا اور چاہنے والوں نے ان کے نام کے ساتھ ''منشی'' کا اعزازی عہدہ بھی منسلک کر دیا۔میں جالندھر میں چوتھی جماعت میں تھا مگر مجھے ننکانہ صاحب میں دوسری جماعت میں داخلہ ملا۔ دوبارہ ایم سی پرائمری سکول نمبر 1 ننکانہ صاحب سے چوتھی جماعت پاس کی۔ تب پرائمری چوتھی جماعت تک ہوتی تھی۔ پانچویں جماعت میں ہائی سکول میں داخلہ لیا۔ یہ سکول آج بھی رقبے اور عمارت کے لحاظ سے پنجاب کا اچھا اور بڑا سکول ہے۔ میں تعلیمی، ادبی سرگرمیوں اور کھیلوں میں بھرپور حصہ لیتا تھا۔ سکول میں آج بھی میرا نام لکھا ہوا ہے۔ میں نے عملی زندگی میں بڑی محنت کی۔ میں نے کتابیں بیچنے کا کام شروع کیا۔ کئی میل سائیکل پر جا کر کتابیں بیچتا تھا۔ لاہور آیا تو اُردو بازار میں کھڑے ہو کر کتابیں بیچیں۔ میرے دادا خاص طور پر میری رہنمائی کیا کرتے تھے۔ محنت، دیانتداری کے اصولوں پر کاربند رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ وہ مجھے گوہر کہا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ میرا نام روشن کرے گا۔ ننکانہ صاحب کے ایک سکول کی پرنسپل مس بیلا نے میرے ساتھ بہت تعاون کیا۔ اس کو پتہ چلا تو اس نے کہا کہ تُم ''گوہر'' کو اپنے نام کا حصہ بنا لو۔ یوں میں ''محمد حسین گوہر'' ہو گیا۔ دادا جی بھی خوش ہو گئے اورا للہ تعالیٰ نے کاروبار میں خوب ترقی دی۔ نصابی کتب میں اب ہمارا ایک نام ہے۔ ہمارے ایک سے زیادہ ادارے ہیں میرے تینوں بیٹے ابوذر غفاری، الطاف حسین اور کاشف حسین ان ہی اصولوں پر کام کر رہے ہیں اور ہمارے ادارے ترقی کر رہے ہیں۔ 
س:۔ کتابیں بیچنے کے علاوہ آپ نے بہت سی کتابیں لکھی بھی ہیں ان کے بارے آگاہ فرمائیں؟ 
ج:۔ کتابیں لکھنے کی طرف بھی مجھے مس بیلا نے راغب کیا۔ انہوں نے کہا کہ تم دوسروں کی لکھی ہوئی کتابیں بیچتے ہو تو اپنی کتابیں لکھ کر اور شائع کروا کر کیوں نہیں بیچتے۔ تم کتابیں لاؤ میں سکولوں میں لگوا دوں گی۔ یوں میں نے کتابیں لکھنی اور شائع کر دیں۔ اس طرح میں مصنف اور ناشر بھی بن گیا۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اپنا علم اور تجربات نئی نسل کو منتقل کروں تاکہ وہ حب الوطنی اورکاروبار میں کامیابی کے اصولوں سے آراستہ ہو سکیں۔
س:۔ آپ کو کوئی ایوارڈز وغیرہ ملے ہوں تو ان کی تفصیل سے آگاہ کریں؟ 
ج:۔ دنیاوی ایوارڈز تو مجھے بہت ملے ہیں۔ کئی اداروں نے مختلف ایوارڈز دیئے۔ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے۔ عزت، دولت، شہرت سے اللہ نے نوازا۔ مجھے بار بار حج وعمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ خانہ کعبہ کے اندر نوافل ادا کرنے، خانہ کعبہ کے غلاف پر کڑھائی کرنے، اسلامی میوزیم بنانے، مخلوق خدا کی خدمت کرنے، قائداعظم سے ملاقات جیسے اعزازات حاصل ہیں۔ ہم جالندھر میں بڑی حویلی اور مال اسباب چھوڑ کر پاکستان پہنچے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے کرم، پاکستان کی بدولت اور محنت و ایمانداری کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے خوب نوازا۔ پھر میں نے لینے کی نہیں دینے کی کوشش کی۔ کئی سماجی و فلاحی اداروں کی سرپرستی کرتا ہوں۔ مخلوقِ خدا کی خدمت کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر اظہار تشکر ہے۔ اللہ کی خوشنودی کے حصول کے لئے ہے۔
س:۔ آپ نے جو اسلامی میوزیم بنایا ہے اس کو بنانے کا خیال کیسے آیا؟
ج:۔ ایک بار میں اورمیری بیوی حج پر گئے۔ مسجدِ نبویۖ میں تعمیر و مرمت کا کام ہو رہا تھا۔ مسجد سے اُترتے ہوئے کچھ پتھر وہاں سے ہم اپنے ساتھ لے آئے۔ میں نے وہ اپنے ڈرائنگ روم میں شیشے کی الماری میں رکھ دیئے کہ ان کو دیکھ کر مدینہ منورہ کی یادیں تازہ کیا کریں گے۔ آنے والے مہمان اور دوست احباب بھی ان کو محبت اور شوق سے دیکھتے اور دعا کرتے کہ انہیں بھی روضۂ رسولۖ کی حاضری نصیب ہو۔ اس اشتیاق کو دیکھتے ہوئے میں نے مزید متبرک اشیاء جمع کرنی شروع کردیں میں نے ایسے لوگوں سے رابطہ کیا جن کے پاس متبرک اشیاء ہوتی تھیں۔ اس طرح بہت سی اشیاء جمع ہو گئیں۔ ''نوائے وقت'' میں اس کے بارے مضمون شائع ہوا تو عراق سے ایک صاحب نے موئے مبارک بھجوایا۔ اب اس میوزیم میں پانچ سو سے زائد متبرک اشیاء موجود ہیں اور دور دور سے لوگ آ کر ان کی زیارت کرتے ہیں۔
س:۔ کیا موجودہ پاکستان قائداعظم، علامہ اقبال اور آپ کی امنگوں کے مطابق ہے؟
ج:۔ اُن امنگوں اور نظریات کے مطابق تو نہیں ہے لیکن اس کا وجود نعمت سے کم نہیں۔ آپ دیکھ لیں ہندوستان میں اس وقت مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ ہم نے دنیاوی حوالے سے اپنی خواہشات کو بہت زیادہ بڑھا لیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ چاہے کسی کی ضرورت پوری نہ ہو مگر ہماری خواہشات پوری ہو جائیں۔ ضرورت غریب آدمی کی بھی پوری ہو جاتی ہے۔ لیکن خواہشات بادشاہوں کی بھی پوری نہیں ہوتیں۔ پہلے کسی کے گھر کوئی مہمان آتا تھا تو جو گھر میں ہوتا تھا اس کو کھلا دیا جاتا تھا تب بھی مہمان شکوہ نہیں کرتا تھا۔ سادگی سے زندگی بسر کی جاتی تھی۔ اب مہمان بھی بہت سی توقعات لے کر آتا ہے کہ اس کی یہ یہ خدمت کی جائے۔ اب تو جنازے اور قل کے موقع پر بریانی میں گوشت کم ہونے پر بھی لوگ باتیں کرتے ہیں۔ ہمیں سادگی اپنا کر غریب اور محروم طبقات کی مدد کرنی چاہئے ،ہم اپنی اقدار و روایات کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم دودھ، لسی پینے والے لوگ تھے۔ شروع میں ہمیں چائے کا عادی بنانے کے لئے چائے اور ساتھ بسکٹس مفت دیئے جاتے تھے اب ہماری صبح کا آغاز بھی چائے سے ہوتا ہے اور رات کو ہم چائے پیئے بغیر نہیں سوتے۔ پہلے دیسی گھی استعمال کرتے تھے۔ بناسپتی گھی پر پابندی تھی اب سب یہی کھاتے ہیں۔ ادب و احترام، مہمان نوازی، خلوص محبت ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے۔
س:۔ نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ 
ج:۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ پاکستان اور آزادی کی اہمیت کو سمجھیں۔ تاریخ کا مطالعہ کریں کہ مسلمانوں نے آزادی حاصل کرنے کے لئے کتنی قربانیاں دی ہیں، جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا اور ان حالات و واقعات پر مشتمل کتابیں لکھی ہیں ان کتابوں کا مطالعہ کریں۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ ایسی کتابوں کو نصاب کا حصہ بنائے۔ پاکستان ہمارا وطن، ہمارا گھر ہے ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہئے اور اس کی مضبوطی اور ترقی کے لئے دن رات کام کرنا چاہئے۔ ||
٭…٭… پاکستان زندہ باد …٭…٭

یہ تحریر 24مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP