متفرقات

قائداعظم اور پاکستان کے شیدائی کرنل ڈاکٹر جمشید احمد ترین

 تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن و محب وطن پاکستانی کرنل ڈاکٹر جمشید احمد ترین (ر) کے حوالے سے محمدشعیب مرزا کی تحریر

 کرنل ڈاکٹر جمشید احمد ترین (ر) کا شمار تحریک پاکستان کے مخلص کارکنوں اور محب وطن پاکستانیوں میں ہوتا تھا۔ وہ 25 مئی1923ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد دوست محمد ترین نے تحصیل دار کے طور پر نہایت دیانت داری سے خدمات انجام دیں۔ رزق حلال کمانے کا یہ سلسلہ کرنل جمشید ترین سے ہوتا ہوا ان کی اگلی نسلوں تک منتقل ہو رہا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں علامہ اقبال کی ہدایت پر حمید نظامی، کرنل امجد حسین اور کرنل جمشید احمد ترین نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی،  وہ تحریک پاکستان کے سرگرم اور مخلص کارکن تھے۔ وہ 1940ء کو قرار داد پاکستان کے حوالے سے منٹو پارک(موجودہ اقبال پارک) میں ہونے والے مسلم لیگ کے اہم اجلاس میں موجود تھے۔ قائداعظم کے ساتھ ان کی تصاویر بھی ہیں۔ انہیں کئی بار قائداعظم سے ملاقاتوں کا شرف حاصل رہا۔ لیکن انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ وہ تحریک پاکستان کے بڑے رہنما ہیں۔ وہ ہمیشہ خود کو قائداعظم کا ادنیٰ کارکن کہتے تھے اور اس پر فخر محسوس کرتے تھے۔
کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے انہوں نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ ایک کلینک بھی بنایا لیکن غریبوں کو مفت دوائیں دے دیتے تھے۔ جب ان سے ان کی والدہ کم آمدنی کے بارے میں پوچھتیں تو جواب دیتے کہ میں ان لوگوں سے پیسے کیسے لے سکتا ہوں جن کے پاس کھانے پینے کے لئے بھی پیسے نہ ہوں۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں جب انہوں نے داخلہ لیا تو انہیں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا پہلا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ اسی سال آپ کو مجلس عاملہ کارکن بھی چنا گیا۔ انہوں نے تحریک سول نافرمانی میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ کئی مرتبہ پولیس کے تشدد کا نشانہ بنے اور پابند سلاسل بھی رہے۔1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے لئے دن رات کام کرتے رہے۔
 پاکستان بننے کے بعد جب لٹے پٹے مہاجرین کے قافلے پاکستان آنا شروع ہوئے تو مہاجرین کی بحالی کے لئے خدمات انجام دیں۔ میڈیکل کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے مہاجرین کو طبی سہولیات پہنچائیں۔ 
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے پاکستانی فوج کی میڈیکل کور میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس دوران آپ کو ڈھاکہ تعینات کیا گیا۔ وہاں آپ نے خدمات انجام دیں اورمتعدد لوگوں کی زندگیوں کو بچایا۔1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد آپ کو دیگر فوجیوں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ آپ نے جرأت مندی سے تمام حالات کا مقابلہ کیا۔ پاکستان کے دولخت ہونے کا صدمہ انہیں ہمیشہ رہا۔ قید کے دوران آپ دن رات قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف رہتے تھے۔
 فوج سے بطور کرنل ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو سرگنگارام ہسپتال لاہور کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔ آپ نے ہسپتال کی بہتری اور توسیع و ترقی کے لئے بھی مثالی خدمات انجام دیں۔28نومبر1998ء کو وہ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے ٹرسٹی بنے۔ ان کی حب الوطنی اور خدمات کے پیش نظر 2009ء میں انہیں ٹرسٹ کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ انہوں نے بطور چیئرمین تحریک پاکستان کے کارکنوں کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ تحریک پاکستان کے کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لئے انہوں نے کئی اقدامات کئے۔ ان کو گولڈ میڈل دینے کے علاوہ حکومت سے رہائشی پلاٹ بھی دلوائے۔ وظائف جاری کروائے۔ وہ خود بھی ذاتی وسائل سے ضرورت مندوں کی مالی مدد کیا کرتے تھے۔ انہوں نے خود کو قومی اور سماجی کاموں کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ انہوں نے پہلے قیام پاکستان اور پھر تعمیر پاکستان کے لئے مثالی خدمات انجام دیں۔
 کرنل جمشید احمد ترین (ر) کو خواب میں سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی ۖ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ وہ عرصہ تک اس سعادت اور کیفیت کی سرشاری میں رہے۔ وہ دیانت دار اور بااصول انسان تھے۔ قائداعظم اور علامہ اقبال کے خلاف وہ کوئی بات برداشت نہیں کرتے تھے۔ دو ٹوک بات کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی اولاد کی پرورش رزق حلال سے کی ہے۔ وہ خدا ترس انسان تھے۔ ضرورت مندوں کی دل کھول کر مدد کرتے تھے۔ ان کا مطالعہ وسیع اور یادداشت بہترین تھی۔ وہ جس محفل میں موجود ہوتے اپنی دلچسپ، مدلل اور معلومات افزاء گفتگو سے محفل کو گرما دیتے تھے۔ خوش گفتار، خوش لباس، خوش مزاج اور خوش کردار تھے۔ اچھا لباس پہننے اور عمدہ کھانے کے شوقین تھے۔ بچوں سے محبت کرتے تھے اور ان کے دلوں میں پاکستان سے محبت کا جذبہ پیدا کرتے تھے۔
 علالت کے دنوں میں بھی وہ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اجلاس اور تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ وہیل چیئر پر بھی آتے رہے۔ ان کے دو بیٹے شوکت ترین اور عظمت ترین جبکہ پانچ بیٹیاں ہیں۔ دونوں بیٹوں نے اقتصادیات میں نمایاں مقام حاصل کیاہے۔ شوکت ترین پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ بھی بنے۔
کرنل جمشید احمد ترین(ر) 18 جنوری2016ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کے انتقال پر اس وقت کے صدر پاکستان و وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت ملک کی اہم شخصیات نے اظہار تعزیت کیا، ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ ان کی وفات پر ان کی اہلیہ بیگم ممتاز ترین نے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری شادی1951ء میں ہوئی۔ اس طرح ہماری رفاقت تقریباً64 برس پر محیط رہی۔ میرے شوہر بہت اچھے انسان تھے۔ انہوں نے کبھی بے ایمانی نہیں کی اور نہ ہی کسی کا برا چاہا۔ ان کی ذات سے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ پاکستان اور قائداعظم سے انہیں بڑا پیار تھا اور پاکستان کے لئے انہوں نے بڑا کام کیا۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے پاکستان کے لئے ضرور کام کرنا ہے۔ اگر شہید بھی ہو جائوں تو پروا نہیں۔ غریبوں کی مدد کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔ انہیں کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ گھر میں وہ اکثر مطالعے میں مشغول رہتے تھے۔
کرنل جمشید احمد ترین (ر)کے بڑے صاحبزادے سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ہم ان کی کمی بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ وہ بہت قد آور شخصیت تھے۔ ان کی موجودگی ہمارے لئے باعث تقویت تھی۔ مجھے جب بھی کوئی مشکل آتی میں انہیں فون کر دیتا۔ وہ ہمیشہ کہتے۔''فکر نہ کرو۔ میںدعا کر رہا ہوں۔'' اس طرح میری ڈھارس بندھ جاتی تھی۔ انہوں نے پیشہ ورانہ اور دینی لحاظ سے بھرپور زندگی گزاری۔ وہ بڑے مذہی انسان تھے۔ انہوں نے سیکڑوں مرتبہ قرآن مجید پڑھا۔ نماز کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ ان کا مطالعہ دینی و دنیاوی لحاظ سے بہت وسیع تھا۔ وہ پاکستان اور قائداعظم کے بہت بڑے شیدائی تھے۔ جب پاکستان یا تحریک پاکستان کی بات ہوتی تو ان کی آنکھوں میں وہی روشنی اور جذبہ پیدا ہو جاتا جو تحریک پاکستان کے دوران تھا۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے والد نے تحریک پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا۔



 کرنل صاحب کے دوسرے صاحبزادے عظمت ترین نے اپنے تاثرات میں کہا کہ میں روزانہ صبح ان کے ساتھ ناشتہ کرتا اور تقریباً ایک گھنٹہ ان کے پاس بیٹھتا تھا۔ اسی طرح رات کا کھانا بھی میں ان کے ساتھ کھاتا تھا۔ اس دوران ان کے ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو بھی ہوتی تھی۔ وہ قائداعظم کے نوجوان دستے کے سرگرم کارکن تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کسی مسلمان کا ڈاکٹر بننا بہت بڑی بات  تھی کیونکہ مسلمانوں کے لئے بہت مشکلات تھیں۔ وہ ہمیشہ سچ بولتے تھے اور کسی کے بھی سامنے حق بات کہنے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ وہ بہترین ایتھلیٹ تھے۔ کالج اور یونیورسٹی کی طرف سے فٹ بال بھی کھیلتے رہے۔ جب وہ میجر تھے تو عبدالحمید عدم نے ان کے بارے یہ شعر کہا تھا۔
 جو بھی میجر ترین ہوتے ہیں
 آدمی کیا حسین ہوتے ہیں
 وہ تہجد گزار اور عاشق رسول تھے۔ غیبت پسند نہیں کرتے تھے۔
کرنل صاحب کے پوتے طٰہٰ احمد ترین نے اپنے تاثرات میں کہا کہ دادا ابو ہم سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہیں تاریخ پاکستان اور دنیا کی تاریخ پر عبور حاصل تھا۔ وہ یہ باتیں ہمیں بھی بتاتے تھے۔ ان کا مطالعہ وسیع تھا۔ ہر کسی کی مدد کرتے تھے۔ اتنی زیادہ عمر ہونے کے باوجود وہ ہمارے ساتھ ہی مسجد میں نماز پڑھنے جاتے تھے۔ وہ تھکے ہوتے تھے لیکن وہ اکثر ہمیں سکول سے واپس لائے جانے پر خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان کی یادداشت بہت اچھی تھی۔ انہیں زمانہ طالب علمی کی بھی سب باتیں یاد تھیں۔
 ان کے دوسرے پوتے زین احمد ترین نے بتایا کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے وہ ہم سے بھی پہلے مسجد پہنچ جاتے تھے۔ ہم بعد میں جاتے تھے اور نماز جمعہ اکٹھے پڑھتے تھے۔ مسجد یا سکول سے واپسی پر وہ ہمیں برگر وغیرہ لے کر دیتے تھے۔ ان کے پاس گاڑی میں پیسوں والا ایک بیگ ہوتا تھا۔ وہ ہر غریب کو پیسے دیتے تھے۔ وہ ہمیں قائداعظم اور علامہ اقبال کی باتیں اور دلچسپ کہانیاں بھی سنایا کرتے تھے۔ ہمیں ان کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔


 

یہ تحریر 66مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP