قومی و بین الاقوامی ایشوز

قائداعظم۔۔۔ مادرِ ملت کی نظر میں

گیارہ ستمبر1948 قائداعظم کا یومِ وفات ہے ۔ آج انہیں ہم سے رخصت ہوئے 66برس گزر چکے ہیں۔ قائداعظم کے انتقال پر ایک انگریز اخبار نویس نے لکھا تھا۔ ’’موت وہ واحد دشمن ہے جس کے آگے جناح نے اپنا سر جھکایا۔‘‘ یہ ہے بھی حقیقت۔ قائداعظم کی ساری زندگی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ وہ کسی مشکل سے گھبرائے نہیں‘ کٹھن حالات میں بھی ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ وہ کام‘کام اور صرف کام کے قائل تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میرا پیغام جس شخص تک پہنچے وہ اپنے دل میں عہد کر لے کہ ضرورت پڑنے پر وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ اور دنیا کی ایک عظیم مملکت بنانے میں اپنا سب کچھ قربان کر دے گا۔ آیئے قائداعظم محمدعلی جناح کی کہانی مادرِ ملت کی زبانی سناتے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں۔ ’’میں ابھی دو برس کی تھی کہ آغوش مادر سے محروم ہو گئی۔ قائداعظم ان دنوں انگلستان میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ میں سات برس تک اپنے والد کی زیرنگرانی ترتیب حاصل کرتی رہی۔ چند برس بعد والد کے انتقال پر میں اپنے بھائی کے پاس بمبئی چلی گئی۔ پھر میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہی۔ میں غلامی کی تاریک رات کو یہاں سے گئی تھی اور آزادی کا درخشاں پیغام لے کر آئی۔ جب میری عمر آٹھ برس کی تھی تو قائداعظم نے میری تعلیم و تربیت کا فرض اپنے ذمے لے لیا۔ اس زمانے میں کسی مسلمان لڑکی کو انگریزی تعلیم دلوانا آسان کام نہیں تھا۔ مگر قائداعظم نے بڑی جرأت کے ساتھ یہ قدم اٹھایا۔ میں خود کانوونٹ سکول میں داخل ہونے سے گھبرا رہی تھی۔ قائداعظم نے مجھے جبراً سکول نہیں بھیجا بلکہ بڑی شفقت سے میرے اس خوف کو دور کر دیا۔ وہ مجھے کئی بار خود کانوونٹ میں لے گئے۔ وہاں کی سیر کرائی اور لڑکیوں کو پڑھتے‘ لکھتے‘ کھیلتے‘ کودتے دکھایا۔ اس سے میری دلچسپی بڑھی اور جب میں نے خود تعلیم کے حصول کا شوق ظاہر کیا تو انہیں نے مجھے داخل کرا دیا۔ قائداعظم مجھ سے تقریباً سترہ برس بڑے تھے۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد جب تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور میں بیکاری سے تنگ آ گئی تو قائداعظم نے 1926میں مجھے دندان سازی کی تربیت حاصل کرنے کے لئے کلکتہ بھجوا دیا۔ دو برس کا کورس مکمل کرنے کے بعد میں بمبئی واپس آ گئی اور تقریباً دو برس تک اس کی پریکٹس کرتی رہی۔ ہم 1930تک وہیں رہے۔ اس دوران ہم نے یورپ کے مختلف ممالک کا دورہ بھی کیا۔ وہاں کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہاں کے طرز زندگی کا جائزہ لیا اور ان کی ترقی کے منصوبوں کا مطالعہ کیا۔ 1935میں جب ہم ہندوستان آئے تو مسلمان کانگریس سے برگشتہ ہو چکے تھے۔ مسلم لیگ ابھی مضبوط نہ ہوئی تھی۔ قوم کو قائداعظم پر اعتماد تھا اس لئے ان کے ہاتھ میں اپنے مستقبل کی باگ ڈور سونپ دی۔ قائداعظم نے یہ عظیم ذمہ داری اپنے سر لی اور مسلم لیگ کے صدر منتخب ہو گئے۔ قائداعظم کے پاس اکثر ملک ہندوستان کے مشہور سیاستدان آیا کرتے تھے اور میں ان کی باتیں سنا کرتی تھی۔ جب میں بڑی ہوئی تو میں نے بھی کانگریس اور مسلم لیگ کے جلسوں میں شریک ہونا شروع کر دیا اور قائداعظم کے دوش بدوش سیاسی سرگرمیوں میں پورے انہماک کے ساتھ حصہ لیتی رہی۔ جب وہ گورنر جنرل تھے تو ان کے کھانے کی میز پر کبھی بھی دو سے زیادہ کھانے نظر نہیں آئے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ جب میرے ہزاروں ہم وطنوں کو ایک وقت کا کھانا میسر نہیں تو پھر مجھے طرح طرح کے کھانے پکوانا کب زیب دیتا ہے۔ قائداعظم نے اپنے نظام اوقات کا ایک ضابطہ مقرر کر رکھا تھا اور اس سے ایک منٹ بھی اِدھر اُدھر نہ ہوتے تھے۔ وہ ہمیشہ صبح سات بجے سو کر اٹھتے۔ چاہے وہ رات کو ایک بجے سوئیں یا چار بجے‘ مگر آنکھ ٹھیک سات بجے کھل جاتی تھی اور وہ اس سے زیادہ ایک منٹ بھی نہ سوتے۔ سات بجے اٹھ کر چائے پیتے‘ اخبارات کا مطالعہ کرتے۔ نہا کر کپڑے بدلتے اور ٹھیک نو بجے ناشتہ کرتے۔ اس کے بعد ملاقاتیں اور پروگرام کے مطابق دن کے دوسرے کام شروع ہو جاتے وہ اپنے اس ضابطے پر آخری دم تک قائم رہے۔

یہ تحریر 11مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP