متفرقات

فیض صاحب

گلاب کا جو بھی رنگ ہو‘ سب کو اچھا لگتا ہے۔ فیض صوفیوں جیسے اوصاف رکھتے تھے۔ ہماری تہذیبی روایت میں بالعموم اور شعری تہذیب میں بالخصوص صوفیوں کا رول بہت اہم ہے۔ عشق کرنے اور زندگی کرنے کو ایک جاندار جدوجہد کا قرینہ بنانے میں ان سے بڑا کردار کسی کا نہیں۔ عوام دوستی‘ لوک شاعری سے وابستگی‘ کشادہ دلی‘ محبت کی فراوانی اور اندرون بینی ہمارے صوفیوں کے بڑے بڑے اوصاف تھے۔

فیض صاحب کے منہ سے کبھی ایسا لفظ نہیں نکلا جو اُن کے وطن کے شایان شان نہ ہو۔ ان کی زبان سے کبھی زندگی بھر ایسا لفظ نہیں نکلا جو ان کے اپنے شایان شان نہ ہو۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی عظمت سے واقف ہوتے ہیں مگر کسی پر اپنی بڑائی کا رعب نہیں جماتے اور کبھی خود اپنی بڑائی کے رعب میں نہیں آتے۔

ٹھاٹھیں مارتے ہوئے جذبوں کوخوشبو سے بھری ہوئی نوا کی شائستگی بخش دینا ہی اُن کا فن تھا۔ وہ علم اور حلم کے یکساں وارث تھے۔ ان کا ضبط وتحمل دشمنوں کو بھی حیران کر دینے کے جوہر رکھتا تھا۔ انہوں نے کبھی اپنی ذات پر کئے گئے کسی اعتراض کا جواب نہیں دیا۔ اپنی تعریف و توصیف پر بھی ان کا رد عمل تقریباً وہی ہوتا تھا جو اپنی بے جا مخالفت پر ہوتا تھا۔ کچھ لوگ اسے تکبر کا ایک دلآویز انداز کہتے ہیں۔ یہ تکبر نہ تھا۔ اگر تھا بھی تو فیض نے تکبر اور تحمل کو یکجان کر کے اپنی شخصیت میں یکتا کر لیا تھا۔ فیض صاحب نے اس بات کی کبھی پروا نہیں کی کہ ان کے بارے میں کیاکہا جا رہا ہے‘ کیا لکھا جا رہا ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی نے کہیں لکھا ہے کہ بڑا آدمی وہ ہے جس کے لئے مدح و مذمت برابر ہو جائے۔ یہ فیض صاحب کا ذاتی کمال تھا‘ اس تربیت کا فیض بھی تھا جو سیالکوٹ کی مسجدوں اور مدرسوں میں ان کو نصیب ہوئی۔ مسجد اور مدرسے میں سارے پڑھنے والے کسی مقام تک نہیں پہنچتے۔ سیالکوٹ کی مٹی بامراد ہوئی کہ اس نے علامہ اقبال کے بعد فیض کی شخصیت کی تخلیق و تعمیر میں اپنی باقی ماندہ سرشاریاں شامل کر دیں۔ میں اقبال کے ساتھ فیض کا موازنہ نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ فیض بھی فطرتاً مرد درویش تھے۔ ایک آسودہ طرز حیات نے انہیں بے نیاز بنا دیا تھا۔ وہ بڑے شاعر تھے۔ مجھے اس موقعے پر فیض کے سیاسی نظریات سے بحث نہیں کرنی انہوں نے بھی اپنی زندگی میں اپنے نظریات کسی پرٹھونسے نہیں۔

فیض صاحب کی شاعری میں نظریہ اس طرح رلاملا ہوا ہے جس طرح زندہ گوشت میں خون ۔۔۔ نظریے کے ساتھ نظر کسی کسی کو ملتی ہے۔ فیض نے شاعری میں اقبال کے کمال کو اپنا کمال بنا کے دکھا دیا۔ جس طرح اقبال پر کسی خاص گروہ کی اجارہ داری قائم نہیں رہ سکی فیض پر بھی خاص گروپ کی عملداری نہیں چل سکی۔ اب فیض سب کا ہے۔ فیض کی شاعری پوری قوم کا سرمایہ ہے۔ فیض کی ذات میں جو بے پناہ قوت برداشت تھی‘ دنیا سے بے نیازی کی ایک انوکھی شان تھی۔ جو شہرت‘ جو عزت‘ جو محبت انہیں ملی‘ اس کے لئے انہوں نے نظر آنے والی منصوبہ بندی نہیں کی تھی‘ خاص تردد اور اہتمام نہیں کیا تھا۔ ان کے ساتھ لگاؤ کی کیا کیا صورتیں کہاں کہاں بکھری ہوئی ہیں‘ شہر میں جو اپنا پتا نہیں دیتیں‘ دھیرے دھیرے زمانے میں کھلتی رہتی ہیں۔ سچی اور پکی ہوتی ہیں۔ مقبولیت کی یہ فراوانی کون بخشتا ہے۔ یہ ہر ایک کے نصیب میں کیوں نہیں ہوتی۔ شاعر تو اور بھی ہیں‘ دانشور بھی ہیں‘ نظریاتی آدمی بھی ہیں‘کچھ تو ہوتا ہے جو سب سے مختلف ہوتا ہے۔ فیض کو جو قبول عام ملا یہ ایک خاص انعام ہے۔ یہ وہ چیز ہے جب عطا ہوتی ہے تو پھر وہ شخص اپنے زمانے اور اپنی زمین کے لئے ایک بیش بہا عطیہ بن جاتا ہے۔ مشیت ایزدی جس کے لئے بہت لوگوں کے دلوں میں محبت آباد کرتی دیتی ہے‘ اس لئے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا فرض ہے۔ ان کی زندگی میں کچھ لوگ ان کے نظریات کے خلاف تھے۔ جو ان کے نظریات کے حق میں تھے‘ ان کی شاعری کے خلاف تھے۔اب فیض ایک مشترک تب و تاب سے زندہ تر ہو سکیں گے۔ اگرچہ اس ضمن میں میری گواہی بہت حیثیت نہیں رکھتی لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ فیض صاحب ایک محب وطن پاکستانی تھے۔ پاکستانی مسلمان تھے۔ ڈاکٹر سہیل احمدخان نے انہیں لال اور گلاب کے حوالے سے جاننے کی کوشش کی ہے۔ گلاب کا جو بھی رنگ ہو‘ سب کو اچھا لگتا ہے۔ فیض صوفیوں جیسے اوصاف رکھتے تھے۔ ہماری تہذیبی روایت میں بالعموم اور شعری تہذیب میں بالخصوص صوفیوں کا رول بہت اہم ہے۔ عشق کرنے اور زندگی کرنے کو ایک جاندار جدوجہد کا قرینہ بنانے میں ان سے بڑا کردار کسی کا نہیں۔ عوام دوستی‘ لوک شاعری سے وابستگی‘ کشادہ دلی اور محبت کی فراوانی ہمارے صوفیوں کے بڑے بڑے اوصاف تھے۔ مرتبے کا فرق ضرور ہے۔ ان میں اپنی کیفیت اور اظہار کے معاملے میں ایسی یکسانیت ہے جو انہیں ہم پلہ نہیں بناتی‘ ہم رنگ ضرور کرتی ہے۔ فیض صاحب عمر بھر اپنے اجڑے ہوئے سماج کے گلشن میں تخلیقی شہد تقسیم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

فیض کی زندگی میں ان سے فیض یاب ہونے والے کئی لوگوں کے اندر ان کی کوئی صفت راہ نہیں پا سکی۔ ہمارے بڑوں کے قریب تر رہنے والے ہمیشہ چھوٹے نکلے۔ اختلافات کئی ہیں ہمیں فیض سے مگر یہ حقیقت ہے کہ فیض کو کسی محدود دائرے میں قید رکھنے سے پوری قوم کا نقصان ہو گا۔

فیض صاحب کے وجود میں ایسی صفات موجود تھیں جو انہیں بحیثیت انسان بھی ممتاز اور منور بنا گئیں۔ جن دنوں وہ بیروت میں لوٹس کے ایڈیٹر تھے‘ سارا شہر آفات کی زد میں تھا۔ ایک رات بمباری کے دوران ان کے کمرے کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ان کی بیوی محترمہ ایلس نے انہیں جگا کر اس خوفناک صورت حال سے آگاہ کیا تو وہ کروٹ بدل کر سو گئے کہ اچھا صبح دیکھیں گے۔ بے خوفی اور بے نیازی کی والہانہ ادا ان کے وجود میں ایک گہرے مجاہدے کا پتا دیتی ہے۔ فیض صاحب کے منہ سے کبھی ایسا لفظ نہیں نکلا جو اُن کے وطن کے شایان شان نہ ہو۔ ان کی زبان سے کبھی زندگی بھر ایسا لفظ نہیں نکلا جو ان کے اپنے شایان شان نہ ہو۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی عظمت سے واقف ہوتے ہیں مگر کسی پر اپنی بڑائی کا رعب نہیں جماتے اور کبھی خود اپنی بڑائی کے رعب میں نہیں آتے۔ میں نے کئی لوگوں کو اس فضول طریقے سے‘ چھلکتے دیکھا ہے کہ دوسروں کے کپڑے خراب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی لت پت کر لیتے ہیں۔ فیض کی زندگی میں ان سے فیض یاب ہونے والے کئی لوگوں کے اندر ان کی کوئی صفت راہ نہیں پا سکی۔ ہمارے بڑوں کے قریب تر رہنے والے ہمیشہ چھوٹے نکلے۔ اختلافات کئی ہیں ہمیں فیض سے مگر یہ حقیقت ہے کہ فیض کو کسی محدود دائرے میں قید رکھنے سے پوری قوم کا نقصان ہو گا۔ فیض صاحب اپنی سیرت‘ عظمت اور شاعرانہ شان و شوکت کے طفیل ساری مفاد پرستیوں اور ہر قسم کی پستیوں سے ماوریٰ تھے۔ فیض صاحب سارے پاکستان کے شاعر ہیں۔ فیض صاحب کے بارے میں جناب احمد ندیم قاسمی (مرحوم )کے یہ الفاظ دعوت فکر دیتے ہیں۔

’’فیض کے فن کا جائزہ لینے والوں سے میری درخواست ہے کہ وہ تمام تعصبات سے بلند ہو کر سوچیں جن میں وہ سالہاسال سے گرفتار ہیں۔ اپنے مخالفوں کے بارے میں جتنی آسودہ بے نیازی کا ثبوت فیض صاحب کے طرز عمل نے فراہم کیا‘ اس کی مثال مشکل سے دستیاب ہو گی۔‘‘ فیض صاحب نے جو بات کہی اس کے پس نظر میں ایک روحانی کلچر کے اثرات کی گونج صاف سنائی دیتی ہے۔ فیض نے مخالفت کو ایک اعلیٰ پائیدار قدر بنا دیا تھا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اقدار افراد کے ساتھ منسلک ہو کر رہ جاتی ہیں۔ شخص جاتا ہے تو قدر بھی اٹھ جاتی ہے۔ ہم قحط الرجال کا رونا روتے ہیں۔ کوئی فیض جیسا شخص فوت ہو جاتا ہے تو ہم پر انکشاف ہوتا ہے کہ ایک آدمی ہی تو تھا‘ ہر زمانہ اپنا آدمی رکھتا ہے۔ ایسا آدمی کہ جس کے نہ ہونے پر دوست دشمن مل کر اس کی اچھائیوں کو یاد کرتے ہیں۔ بے شک فیض ایسا ہی ایک آدمی تھا!

یہ تحریر 34مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP