متفرقات

فوجی فائونڈیشن - کسبِ کمال اور خدمت کی روشن مثال

 14 اپریل2021 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی فاؤنڈیشن ہیڈ آفس راولپنڈی کا اہم دورہ کیا۔ اس موقع پر چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، چیف آف لاجسٹک سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ثاقب محمود ملک اور کواٹر ماسٹر لیفٹیننٹ جنرل عامر عباسی بھی شریک تھے۔ 



 منیجنگ ڈائریکٹر فوجی فاؤنڈیشن وقار احمد ملک اور ان کی ٹیم نے معزز مہمانوں کو فوجی فاؤنڈیشن کے مختلف شعبوں میں کارکردگی، موجودہ و آئندہ منصوبوں اور صحت وتعلیم کے شعبوں میں جاری رفاعِ عامہ کے وسیع پروگراموں پر مفصل بریفنگ دی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے 100بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال اور فاؤنڈیشن یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ کالج آف نرسنگ کا افتتاح بھی کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف نے فوجی فاؤنڈیشن کی شاندار کارکردگی اور معیاری خدمات کو سراہا اور اپنے ہر ممکن تعاون اور حمایت کا یقین دلایا۔ 
 فوجی فاؤنڈیشن بلا شبہ ایک انتہائی کار آمد اور فعال ادارہ ہے جس نے مسلسل خدمت سے عظمت پائی۔فوجی فاؤنڈیشن کا قیام 1954 میں عمل میں آیا اور اس کا بنیادی مقصد پاک افواج کے ریٹائرڈ افراد کی فلاح و بہبود ہے۔ آج اس کے رفاعی کاموں کا دائرہ کار اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ لاکھوں سویلین افراد بھی اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ فوجی فاؤنڈیشن کھاد، خوراک، سیمنٹ، پاور، آئل اینڈ گیس اور بینکنگ سمیت 8 مختلف سیکٹرز میں اپنا نام پیدا کرچکا ہے۔ اس وقت فوجی فاؤنڈیشن 20 سے زائد صنعتوں کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی گروپ بن چکا ہے۔ اس کے اثاثوں کی مالیت تقریباً 478 بلین روپے ہے۔ 




 فوجی فاؤنڈیشن ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ ملک کی تعمیر و ترقی اور معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ صرف پچھلے سال کے دوران فوجی فاؤنڈیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ٹیکس، ڈیوٹی اور لیویز کی مد میں تقریبا ً175 بلین روپے ادا کیے جو پاکستان کے وفاقی بجٹ کا تقریبا 2.45 فیصد ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں میں فوجی فاؤنڈیشن نے مندرجہ بالا ادائیگیوں کی صورت میں 1350 ارب روپے سے زائد رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی۔
 فوجی فاؤنڈیشن گورنمنٹ سیکٹر سے باہر ملک کا سب سے بڑا ویلفیئر نیٹ ورک ہے اور اس کی انفرادیت یہ ہے کہ آج تک اس نے کوئی سرکاری گرانٹ یا کسی نجی تنظیم سے چندہ وصول نہیں کیا۔ فوجی فاؤنڈیشن اپنے منافع کا تقریباً 80 فیصد حصہ فلاح و بہبود کے کاموںپر خرچ کر تا ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن کے71فیصد ملازمین سویلین جبکہ 29فیصد ریٹائرڈ فوجی ہیں۔فوجی فاؤنڈیشن کے موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر وقار احمدملک خود ایک سویلین ہیں۔ ریٹائرڈ فوجی ملازمین میں اکثریت 40 سے 45 سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہونے والے جونئیر رینکس کی ہے۔فوجی فاؤنڈیشن ان ملازمین کو ایک فعال اور کارآمد افرادی قوت بنا تا ہے تاکہ وہ ملکی معیشت پر بوجھ نہ بنیں۔




 گزشتہ 10سالوں میں فوجی فاؤنڈیشن نے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر 79 بلین روپے خرچ کئے۔ ان میں 45 بلین روپے صحت جبکہ 34 بلین روپے تعلیمی منصوبوں پر خرچ ہوئے۔ اس عرصہ میں 22 ملین پاکستانی صحت، جبکہ 0.45 ملین طلبہ تعلیم کی سہولیات سے براہ ِ راست مستفید ہوئے۔ اس وقت ملک بھر میں فوجی فاؤنڈیشن کے 133 تعلیمی ادارے قائم ہیں۔جن میں کالج، سکول، ووکیشنل اورٹیکنیکل ٹریننگ سنٹرز شامل ہیں۔ فوجی فاؤنڈیشن کے تعلیمی وظائف کے ذریعے لاکھوں مستحق بچوں کے لئے حصول ِ تعلیم و تربیت میں سہولت مہیا کی گئی ہے۔ ان میں حقدار طلبا  و طالبات کے لیے سالانہ وظائف کا سلسلہ بھی شامل ہے۔ مجموعی طور پر اب تک 38,71,713 بچوں کو اس پروگرام سے 4223.9 ملین روپے مالیت کے وظائف دئیے گئے ہیں۔
 فوجی فاؤنڈیشن، صحت ِعامہ کے 74 مراکز بھی چلا رہا ہے۔ جن میں کئی بڑے ہسپتال، کلینکس اور میڈیکل سنٹرز شامل ہیں۔فوجی فاؤنڈیشن ہیلتھ کئیر سسٹم سے مستفید ہونے والے80 فیصد مریض غازیوں اور شہیدوں کے لواحقین ہیں۔اس کے علاوہ فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال راولپنڈی میں قائم مصنوعی اعضا کے مرکزArtificial Limb Centre  نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ افراد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ مرکز ہر سال قریباً 7000مصنوعی اعضا مہیا کرتا ہے جن میں سے ایک تہائی سول مریضوں کو جاتے ہیں۔



 فوجی فاؤنڈیشن موجودہ دور میں سوشل بزنس کی تابناک مثال ہے۔ سوشل بزنس کا تصور اور افادیت اب پوری دنیا میں مسلمہ ہے۔Earn to Serve کے ماڈل پر کامیابی سے عمل پیرا ہو کر فوجی فاؤنڈیشن اتنے عشروں سے لاکھوں افراد کی مختلف ضروریات پوری کر رہا ہے۔۔ فوجی فاؤنڈیشن ایک عظیم مخیرادارہ ہے جو بالخصوص تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مختلف ادوارِ حکومت میں رہ جانے والی کمی کو پورا کر رہا ہے۔ ادارہ اپنی مدد آپ کے تحت ایک طویل عرصہ سے مسلسل یہ خدمت سر انجام دے رہا ہے۔  
ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح بہبود کیلئے قائم ہونے والے ادارے سے آج لاکھوں سویلین افراد بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ اس وقت فوجی فاؤنڈیشن کے مختلف منصوبوں اور رفاعی کاموں سے اندازاً 9 ملین افراد مستفید ہو رہے ہیں جو کہ ملکی آبادی کا 4.5 فیصد ہیں۔ شہدا کے لواحقین کی سوشل سکیورٹی اور فلاح وبہبود میں بھی فوجی فاؤنڈیشن اور اس جیسے دوسرے عسکری رفاعی اداروں کی خدمات بہت گرانقدر ہیں۔ بالخصوص تعلیم اور صحت کی سہولیات شہدا کے اہلِ خانہ کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ 
الغرض قوم سازی، ملکی معیشت، تعمیر وترقی اور فلاح و بہبود کے لیے خدمات کے حوالے سے فوجی فاؤنڈیشن کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ ||


[email protected]

یہ تحریر 90مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP