قومی و بین الاقوامی ایشوز

ففتھ جنر یشن وار22 کروڑ عوام کی جنگ 

زمانے کے انداز بدلنے کے ساتھ ،جنگ کے انداز بھی بدل گئے ہیں۔ ہر شعبہ ہائے زندگی میں ٹیکنا لوجی نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔ ٹیکنا لوجی کے بغیر زندگی بسر کرنے کا آج کے دور میں کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی تیز ترین تکنیکی سائنس ہے  ،جس کے استعمال کے جہاں بیش بہا فوائد ہیں، وہاں اس کے خطرناک حد تک نقصانات بھی ہیں۔ عام آدمی کے لئے ففتھ جنریشن وار جیسی اصطلاحات نہایت ہی فینسی ہیں اور وہ اسے اپنی سمجھ سے بالاتر سمجھتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اصطلاحات کو نہایت ہی سادہ اورعام فہم زبان میں سمجھایا جائے ، تاکہ ہم پوری طاقت کے ساتھ اس چیلنج سے نبرد آزما ہوسکیں۔ 



جہاں انسان نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کا سفر طے کیاہے۔وہاں پر اس نے دیگر اقوام پر ذات ، رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر فوقیت حاصل کرنے کے لئے جنگی طریقوں اور حکمتِ عملیوں کو بھی پروان چڑھایا ہے۔ جنگی ماہرین نے ان طریقوں کو مختلف جنریشنز میں تقسیم کردیا ہے۔
فرسٹ جنریشن وار میں فریق آمنے سامنے آکر تلواروں سے لڑا کرتے تھے۔ فرسٹ جنریشن وار میں طاقت کا مطلب بڑی فوج ہوتا تھا۔اس میں جیت کا معیار جسمانی طور پر مضبوط اور بہترین جنگی مہارت کی حامل افرادی قوت پر مشتمل ایک بڑی فوج کو سمجھا جاتا تھا۔ماضی کے فاتحین جیسے سکندر اعظم سے لے کر، قرونِ اولیٰ، وسطی زمانہ اور نپولین کی لڑائیوں سے امریکہ کی جنگِ آزادی تک(1870-75) اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔پہلی جنریشن وار میں چاقو، چھریاں اور تلواریں وغیرہ جیسے ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا تھا اور جو فوج تعداد میں زیادہ ہوتی تھی وہ طاقتور سمجھی جاتی تھی۔ پھر جب بندوقیں اور توپیں ایجاد ہوئیں اور ان کے ذریعے جوجنگیں لڑی جانے لگیں تو ان جنگوں کو سیکنڈ جنریشن وارزکا نام دیاگیا۔ کچھ ماہرین کے مطابق دوسری جنریشن کا آغاز بارود کی ایجاد سے ہوگیا تھا۔ بندوق کی ایجاد سے لے کر پہلی جنگِ عظیم تک کی جنگیں اس کی مثالیں ہیں۔ ان جنگوں کا دَور اُنیسویں صدی کے وسط تک جاری رہا۔ تھر ڈ جنریشن وار میں بارڈرز کے علاوہ دشمن ملک کی سرحدوں کے اندر کافی گہرائی تک کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے اور ہوائی جہاز، ٹینک اور لانگ رینج آرٹلری کا استعمال کرکے دشمن کو نقصان پہنچایا جاتاہے۔ 
فورتھ جنریشن وار نے سیاست اور جنگ ، عام شہریوں اور فوجیوں میں فرق کو یکسر بھلا دیا۔ تمام جنگی قوانین سے آزاد اس جنگ نے کسی ملک کی سالمیت اور خود مختاری کو نقصان پہنچانے کو اپنا ہدف بنا لیا۔ مثال کے طور پردہشتگردی اور گوریلا وار فیئر کے ذریعے دشمن ملک کے قومی اثاثوں اور سول شہری آبادی کو بھی ٹارگٹ کیا جاتا ہے ۔ افغانستان، عراق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اس کی مثالیں ہیں۔
ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وار میں بھی فورتھ جنریشن کی طرح دشمن کے سامنے آئے بغیر کسی ملک کی سالمیت اور خود مختاری کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ اب تک کی سب سے خطر ناک جنریشن آف وار ہے کیونکہ جدید دَور میں روایتی محاذ کے بجائے دیگر بہت سے محاذوں پر لڑائیاں لڑی جارہی ہیں جن میں سفارتی، معاشی، نظریاتی اور سائبر محاذ بھی شامل ہیں جن کا مقصد کسی بھی ملک کے کونے کونے تک رسائی  ہے ۔ ففتھ جنریشن وار سچ اور وہم، حقیقت اور مبالغے کے درمیان کھیلی جانے والی جنگ ہے ۔ یہ کلچرل اور اخلاقی پہلوؤں پر کھیلی جانے والی وہ خطرناک جنگ ہے جو کسی ملک کی فضا میں بگاڑ پیدا کرکے اس ملک کوبین الاقوامی سطح پر بد نام کرتی ہے جس سے ملک سفارتی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ہو جاتی ہے جس سے ملک معاشی بدحالی کا اس قدر شکار ہو جاتا ہے کہ وہ ایک روایتی جنگ لڑنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ 
یہ جنگ کسی ملک کے خلاف لڑنے کے لئے اس ملک کے سیاسی ، سماجی، معاشرتی ، معاشی اور اخلاقی پہلوؤ ں کے بغور مطالعے کے بعد لڑی جاتی ہے۔ شاطرذہن اس مطالعے کے بعد اس ملک کے مندرجہ بالا ستونوں کو ہلانے کے لئے کمزوریوں کو تلاش کر کے استعمال کرتے ہیں ، اور کسی ملک کی طاقت کو کم کرنے کے لئے افواہوں اور منفی حکمت عملی کی مدد سے لوگوں کا  ذہن بدل ڈالتے ہیں۔ درحقیقت یہ اعصاب کی جنگ ہے۔ جس میں کسی قوم کے نظریئے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پاکستان اس جنگ سے دو دہائیوں سے نبرد آزما ہے اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وار افواج پاکستان کے خلاف لڑی جارہی ہے جبکہ درحقیقت یہ 22 کروڑ عوام کے خلاف لڑی جارہی ہے ، تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ملک، قوم سے بنتے ہیں او ر ایک قوم آئیڈیالوجی یعنی نظریے پر بنتی ہے۔ اس لئے ایک ملک کو توڑنے کے لئے اس قوم کے نظریے کو ختم کرنا پڑتا ہے اور جب نظریہ ختم ہو جائے تو قوم کا وجود باقی نہیں رہتا۔ بس لوگوں کا ایک بے سمت ہجوم باقی رہ جاتا ہے۔ یہ طریق کار کوئی نیا نہیں ہے۔ سقوط ڈھاکہ بھی درحقیقت اس طریق کارکا نتیجہ تھا لیکن اب ہائبرڈ وار خطرناک اس لئے ہوگئی ہے کہ اس کا ایک نیا میدانِ جنگ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جس میں سوشل میڈیا سرفہرست ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک اور ٹویٹرصارفین کی تعدادمیں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ صارفین کی سوشل میڈیا کی حساسیات سے لاعلمی کی بدولت سوشل میڈیا کے بے تحاشہ استعمال نے بندر کے ہاتھ ماچس دینے کا کام کیا ہے۔ دشمن نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، وطن عزیز میں انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے سوشل میڈیا پرکئی لابیز اس مشن پر لگا دی ہیں ۔ یہ لابیز دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹوں اوربے ضمیر لوگوں پرمشتمل ہیں۔ کئی ابن الوقت دشمن ملک سے پیسے کے عوض اپنے وطن سے غداری کرنے پر آمادہ ہیں ۔ ایسے لوگوں کی پہچان بہت آسان ہے، یہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پاکستان کی مخالفت میں ہر وقت بیان دیتے نظر آئیں گے ۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ حکومتی پالیسیوں پر تنقیدکرنا ملک دشمنی نہیں ہے۔ مگر کسی پالیسی کی آڑ لے کر بالواسطہ یا بلاواسطہ ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں، تاریخ، ثقافت اور دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں ایسی افواہیں پھیلانا جن کا مقصد صرف اور صرف قوم میں مایوسی پھیلانا ہو، درست نہیں ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ قومی اعتماد اور یقین کو پست کرنے کے بعد حملہ کرنا آسان ہوتا ہے۔
 پاکستان میں سوشل میڈیا پر کام کرنے والی چند اہم لابیز محو عمل ہیں۔ جیسا کہ: 
اینٹی ملٹری لابی :
ہمارا دشمن یہ بخوبی جانتا ہے کہ افواج پاکستان اور عوام میں زبردست ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ پاکستانی عوام افواج پاکستان سے دلی محبت کرتی ہے او تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس پاک دھرتی پر کوئی مشکل آئے تو قوم نہ صرف افواج پاکستان پر اعتماد کرتی ہے بلکہ اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو جاتی ہے ۔ قوم کا فوج پر یہی اعتماد اور محبت فوج کا مورال بلند کرتی ہے۔ دنیا میں جدید اور بہترین اسلحے سے لیس کئی افواج موجود ہیں لیکن پاکستانی فوج وسائل کی کمی کے باوجود دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے اور اس کی وجہ یہی عوامی طاقت ہے ۔ افواج اسلحے سے نہیں بلکہ عزم و ولولے اور عقیدے سے ناقابلِ تسخیرہوا کرتی ہیں اور پاکستان کی افواج کا ایک وصف اور ستون اللہ پر مکمل ایمان اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا ہے۔ اور پاکستانی قوم کا اس نعرے پر لبیک کہنا وہ طاقت ہے جو دشمن کے ناپاک عزائم کے پورا ہونے کی راہ میں حائل ہے۔ یہ طاقت اسلحے یا لاکھوں کی تعداد میں فوجیوں سے ختم نہیں ہوسکتی ۔ اس طاقت کا توڑ تو نیو کلیئر انرجی میں بھی نہیں ہے۔ لہٰذا دشمن نے اس طاقت کو توڑنے کے لئے سوشل میڈیا کا بھی سہارا لے لیا ہے ۔ اینٹی ملٹری لابی ہزاروں کی تعداد میں اکاؤنٹس بناکر، چند وطن فروشوں کو اپنے ساتھ ملا کر ہر وقت، ہر موقع پر افواج پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتی ہے۔ جھوٹی افواہیں پھیلا کر قوم کو ورغلانا چاہتی ہیں تاکہ فوج کا مورال ڈائون کر سکیں لیکن سلام پاکستانی قوم کو کہ جب بھی کبھی فوج کی حرمت پر بات آئی تو شہر شہر افواج پاکستان سے یکجہتی کے لئے ریلیاں نکل آئیں۔ اس محاذ پر دشمن کوہمیشہ منہ کی کھانا پڑی ۔ 
انتشارپسندی  اور مذہب کا رڈ:
پاکستانی قوم مذہب کے معاملے میں انتہائی جذباتی ہے اور دشمن اس سے بخوبی واقف ہے۔ اس لئے وہ ملک میں عدم استحکام پیداکرنے کے لئے مختلف مسالک کے لوگوں کو آپس میں لڑوا کر قتل وغارت عام کروانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ نت نئے مذہبی کارڈز کا استعمال کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی حساس اور گھناؤنا کھیل ہے ۔ تمام مذہبی جماعتوں کو اس سے باخبر رہنا چاہئے۔ حال ہی میں دشمن نے سنی شیعہ کارڈ کھیل کر ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش کی ۔ سیکڑوں کی تعداد میں پاکستانی ناموں سے ایسے فیک اکاؤنٹس بنائے گئے جو فرقہ واریت کو ہوا دے رہے تھے اور وہ بھارت سے آپریٹ ہو رہے تھے۔ پاکستان کے حساس اداروں نے بروقت حکومت کو اطلاع دی اور سنی شیعہ علماء کرام نے صبر وتحمل کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اس چال کو شکست دی۔ سنی شیعہ بھائی بھائی کی ترغیب دے کر اس فتنہ پر قابو پایا۔ مجھے ایک عالم کے تاریخی الفاظ یاد ہیں کہ :
'' پاکستان کا سنی سمجھدار ہے اور شیعہ ہو شیار ہے'' یہ وہ بیانیہ تھا جس نے دشمن کو چاروں شانے چت کر دیا۔ 
نام نہاد آزادی پسند لابی :
اس لابی کا مقصد پاکستان کے فیملی سسٹم کو تباہ کرنا ہے۔ یہ لابی بھاری بیرونی فنڈنگ سے چلتی ہے ۔ جس کے عوض یہ ہمارے اخلاقی اقدار اور روایات کو پیروں تلے روندنا چاہتی ہے۔ہمارے معاشرے سے حیا ختم کرنا چاہتی ہے ۔ ہماری قوم کی ایک اہم طاقت ہماری اعلیٰ اخلاقی و ثقافتی اقداراور ہمارا خاندانی نظام ہے۔ خدانخواستہ اگر یہ متاثر ہوا تو معاشرے پر نہایت منفی اثر پڑے گا جس کا ہماری بقا اور سلامتی پر بھی براہِ راست اثر پڑے گا۔ اس لابی کے معصوم متاثرین پر سب سے بڑا وار یہ ہوتا ہے کہ انہیں احساس دلایا جاتا کہ وہ پاکستان کا قابل ترین دماغ ہیں  اور ان سے زیادہ کوئی علم نہیں رکھتا اور ان کے باقی ہم وطن نہایت ہی قدامت پسند ہیں۔ 
تاریخ کو مسخ کرنے والی لابی :
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ لابی اپنا زہر ہماری نوجوان نسل کے دل و دماغ میں کافی حد تک اتار چکی ہے۔ ملک کے مختلف فورمز  پر نہایت ہوشیاری سے کام کرتے ہوئے اس نے تاریخ کو مسخ کر کے ہماری نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کی میراث سے دور کر دیا ہے۔ ہمارے ہیروز کو ولن بنا کر دکھایا گیا ہے۔ تاریخ اور ذوقِ مطالعہ سے نابلد نوجوان ان کے پراپیگنڈہ کے زیر اثر آجاتے ہیں۔ نہایت ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو اس کی تاریخ سے جوڑنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں وگرنہ یہ لاعلمی زہرِ قاتل ثابت ہو گی۔ 
ہائبرڈ وار کو عملی میدان میں لانے والی لابی :
 یہ لابی ملک کے ادارے تباہ کرنے کا کام کرتی ہے، اداروں کو کمزور کر کے ریاست کو کمزور کرنا چاہتی ہے جیساکہ ملک کے اہم اداروں کی پالیسیوں کو افشا کرنا، بے جا تنقید کا نشانہ بنانا اور عوام پر ان کے اعتماد کو کمزور کرنا اور پاکستان کے جس شعبے میں ترقی ہو رہی ہو اس کی راہ میں رکاوٹ بننا یا بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہو تو اس کی راہ میں رکاوٹ بننا۔ جیسا کہ پاکستان میں چائنہ کے قونصلیٹ پر دہشت گردانہ حملہ، سی پیک کو متاثر کرنے کے لئے پروپیگنڈا مہم چلانا۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں تیزی کو کم کرنے کے لئے کراچی سٹاک مارکیٹ کی عمارت پر حملے کی کوشش کرنا۔ سیاحت کی انڈسٹری کو نقصان پہچانے کے لئے بم دھماکے ، جھوٹی خبریں اور واقعات کا پلان کرنا شامل ہے۔ 
فیک نیوز لابی :
پاکستان کو جس قدر اس لابی نے نقصان پہنچایا ہے شایدہی کسی اور نے پہنچایا ہو ۔یہ لابی پاکستان کے اکثر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق غلط خبریں پھیلا کر انتشار ، بدنامی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق بھارت نے 65 ممالک میں اڑھائی سو ایسی ویب سائٹس بنائی تھیں جسے بھارتی  RAW کا فرنٹ گروپ چلارہا تھا اور ان ویب سائٹس کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کیا جا رہا تھا۔ اسی طرح سی پیک منصوبے کو متنازع بنانے کے لئے سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ بھارت نے منفی پروپیگنڈا پر مبنی 7 بلین کی میڈیا کیمپین چلائی ، جس کا مقصد سادہ لوح غیور پشتونوں اور محب الوطن بلوچوں کو ریاست کے خلاف ورغلانا تھا۔بھارت کا قائم کردہ بلوچ ریڈیو سروس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پشتونوں اور بلوچوں کے نام پر ہزاروں فیک اکاؤنٹس بنا کر اداروں کی بدنامی کی کوشش کی گئی۔ قوم میں لسانیت کو فروغ دینے کی ناپاک سازشیں کی گئیں۔ 
ففتھ جنریشن واریا ہائبرڈ وار سے پیدا ہونے والے مسائل لاتعداد ہیں لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ یہ جنگ 22 کروڑ عوام کی جنگ ہے، اپنے وطن کو مستحکم بنانے کے لئے ہمیں خود کو مضبوط کرنا ہو گا تاکہ دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن سکیں۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اقدامات کافی مفید ہو سکتے ہیں: 

▪ سب سے پہلے تو سوشل میڈیا کو سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹی حتی کہ مدارس میں بھی لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے، تاکہ پاکستان کی نوجوان نسل، اس جنگ میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکے۔ ٹیکنالوجی میں جدت کے بعد حالات کا یہ تقاضا ہے کہ ہم اپنی تعلیم میں بھی جدت کو لے کر آئیں۔ کمپیوٹر کے ایجاد ہونے کے بعد بطور مضمون اور تقریباً ہرلیول پر کمپیوٹر کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور پڑھایا جاتا ہے۔ لہٰذا آج ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا کوبھی بطور مضمون پڑھایا جائے ۔ علاوہ ازیں سوشل میڈیا کے استعمال اور ہائبرڈ وار سے متعلق ایک ملک گیر آگاہی مہم چلائی جائے جس میں حکومت اور افواج پاکستان کے باہمی اشتراک سے مختلف شعبوں سے تعاون حاصل کیا جائے ۔ استاد، علماء کرام، شوبز سٹار، سوشل میڈیا، اساتذہ اور یوٹیوبرز کی مد د سے اس مہم کو عام کیا جائے۔ 

▪ نوجوان نسل کو پاکستان کے کلچر اور تاریخ سے مکمل آگاہی دی جائے، مطالعے کا شوق پیدا کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں ۔ 

▪ نوجوان نسل میں قومی کلچرکی سٹڈ ی کے لئے بین الاصوبائی سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ مختلف کلچرز کو دیکھنے اور  پڑھنے سے دل میں وسعت پیداہوتی ہے جو لسانی اور نسلی تعصبات کو شکست دے کرمحبت پید ا کرتی ہے۔ 

▪  تمام نجی تعلیمی اداروں ، مساجد اور مدارس کی مکمل سکروٹنی کی جائے، اور پاکستان کی آئیڈیا لوجی اور بزرگوں کی لازوال قربانیوں کے متعلق علم دینے پر زور دیا جائے، اخلاقیات کا درس دیا جائے۔ 

▪ تحصیل ، ڈسٹرکٹ اور قومی سطح پر سوشل میڈیا اور ہائبرڈ وار کے متعلق آگاہی پھیلانے کے لئے مباحثے کروائے جائیں۔

▪ افواج اور عوام کے تعلق کو مزید مضبوط کرنے کے لئے میڈیا کی خدمات استعمال کی جائیں۔ ماضی کے بہترین ڈرامے، لاگ ، دھواں اور الفابراوو چارلی' جیسے شاہکار بنائے جائیں اور ان ڈراموں کو ری ٹیلی کاسٹ بھی کیا جائے۔پاکستان نے دہشتگردی کی جو جنگ لڑی ہے اس پر ایک سیریل بنائی جائے۔ میرا دعویٰ ہے کہ یہ سیریل پاکستان میں مقبول ترین ترکش سیریل ارطغرل غازی سے بھی زیادہ مقبولیت حاصل کرے گی کیونکہ پورا پاکستان خود کو اس سیریل سے جڑا ہوا محسوس کرے گا۔ یلغار، پرواز ہے جنون اور' شیر دل جیسی فلموں کو یوٹیوب پر اپلوڈکیا جائے تاکہ عوام تک اس کی رسائی ممکن ہو سکے۔ 

▪  سوشل میڈیا کی سکروٹنی کے لئے حکومت کی طرف سے قوانین کا بنانا اور اطلاق کروانا لازمی بنایا جائے۔ یہاں یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ ایسے قوانین کا مقصد ہر گزاظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن نہ ہو مگر ان کا مقصد دشمن قوتوں کا اس آزادی کی آڑ میں ہمارے ملک کے خلاف پراپیگنڈاکو  روکنا  ہو۔

ہمیں اپنے ملک کو مستحکم بنانے کے لئے یہ جنگ ایک پرچم کے سائے تلے اکٹھا ہو کر لڑنا ہوگی۔  یہ جنگ پاکستان کے ہرشعبے کو ہدف بنا چکی ہے۔ اس لئے پاکستان کے تمام شعبوں سے لوگوں کو متحد ہو کر اس جنگ کو جیتنا ہوگا۔
وقت آگیا ہے کہ ہمیں قوم کو آگاہ کرنا ہوگا کہ ففتھ جنریشن وار کیاہے اور یہ کیسے لڑی جاتی ہے۔ اس سے کیسے بچا جائے اور کیسے اس کا مقابلہ کیا جائے اور پھر مل کر اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گاکیونکہ یہ ہماری بقا کے لئے چیلنج ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں پاکستان ملٹری اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے دشمن کی سازشوں کی جانب توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ اطمینا ن بخش امریہ ہے کہ آج ہمارے ادارے مضبوط ہو رہے ہیں اور مِل کر پاکستان کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ وہ دشمن جو ہماری تباہی کا منصوبہ بنائے بیٹھے تھے، مایوسی سے ہماری کامیابیوں کو دیکھ رہے ہیں۔  ہمارے دشمن اپنے عزائم میں ناکام ہو نے کے بعد دل شکستہ ہیں اور مایوس ہیں۔پاکستان کو24/7ہائبرڈ وار کا سا منا ہے۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں10اکتوبر2020 کو منعقدہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر کی گئی چیف آف آرمی سٹاف کی تقریر کے چیدہ چیدہ نکات:

  ▪   اس ہائبرڈ وار کا ہدف عوام ہیں اور میدانِ جنگ انسانی ذہن ہیں۔

  ▪    ہر سطح پر قومی قیادت ہائبرڈ وار کا ہدف ہے۔

  ▪   آپ کو بحیثیت ینگ لیڈرز پہلے دِن سے اِس چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

  ▪  آپ کو نہ صرف مایوسی کے اس ماحول سے امید کی کِرن بننا ہے بلکہ اپنے جوانوں کو بھی اِس پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنا ہو گا۔ 

  ▪   اصولوں اور روایات پر عمل پیرا ہو کر ہی آپ اِس ہائبرڈ وار کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔  

  ▪  ذات پات، مذہب اور لسانیت سے برتر ہم سب پاکستان کے سپاہی ہیں۔ 

  ▪   اتحاد ہماری قوت ہے اور اِن شااللہ ہم سب متحد ہیں۔

  ▪   ہائبرڈ وارکا مقصد پاکستان میں اِس امید کی فضا کو ٹھیس پہنچانا ہے اور اِس مفروضے کو تقویت دینا ہے کہ یہاں کچھ بھی اچھا نہیں ہو سکتا۔

  ▪   میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہاں سب کچھ اچھا ہو گا۔ 

  ▪  پاکستانی قوم نے ہمیشہ چیلنجز کو کامیابیوں میں تبدیل کیا ہے اور اِن شا اللہ اب بھی کریں گے۔

  ▪  لیکن ہائبرڈ وار کو مثبت تنقید سے نہ ملائیں۔ایسی تنقید جس کا بہت شور اور چرچا لگے۔شائد اعتماد، محبت اور حب الوطنی کا نتیجہ ہو، لہٰذا ایسی تنقید پر توجہ دینی چاہئے۔   

  ▪  جہا ں تعمیری اصلاح کی ضرورت ہو، اس کا ضرور جائزہ لیں۔

  ▪  یہ تنقید دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ بحیثیت قوم ہمیں حالات کا ادراک ہے اور ہم درست سَمت میں جا رہے ہیں۔

  ▪ عوام، دستور، دستوری روایات اور سب سے بڑھ کر وطن سے عہد ِ وفا  ہماری اصل مضبوطی اور طاقت ہے۔

  ▪  آئین ِپاکستان اور قومی مفادات تمام معاملات میں ہمارے رہنما ہیں۔ 

  ▪  آج پاکستان دفاعی حوالے سے ایک مضبوط پاکستان ہے۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقریر سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان دشمن عناصر کس طرح سے ہائبرڈوار کو پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ یوں ہمیں اس کا ادراک کرتے ہوئے تدارک کے لئے بھی عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
     آخر میں میری سوشل میڈیا صارفین سے گزارش ہے کہ دشمن کو شکست دینے کے لئے پاکستان کی سوفٹ پاورز کا استعمال کریں ، سوشل میڈیا پر ملک کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے اجاگر کریں، پاکستان کی سیاحت ، ثقافت اور کاروباری مواقع کی تشہیر زیادہ سے زیادہ کریں تاکہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری آسکے اور ملک معاشی طور پر مضبوط ہو سکے۔ پاکستان کو ہر لحاظ سے بڑھتے پھولتے دیکھنا ہماری اولین ترجیحات میں ہونا چاہئے۔ 
ہمیں ہر حال میں یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ پاکستان ہے، تو ہم ہیں۔ یہ ملک ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے۔ مسائل ہر قوم اور ملک کو درپیش ہوتے ہیں۔ مگر جہدِ مسلسل اور یقینِ محکم سے ہر مشکل پہ قابو پایا جاسکتا ہے۔ دشمن کے اس پروپیگنڈے کے زور پر مسلط جنگ میں ہم نے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے، یقین کو مضبوط اور ایمان کو قائم رکھنا ہے۔ پاکستانی قوم اور افواج نے ماضی میں بھی ملک دشمن قوتوں کو شکستِ فاش دی تھی اوراب بھی سرخرو ہم ہی ہوں گے۔ ہمارا ایمان ہماری طاقت ہے اور اﷲ کی مدد ہمارے شاملِ حال ہوگی۔ پاکستان کل بھی ایک تابناک حقیقت تھی اور آنے والے زمانوں میں بھی ایک زندہ حقیقت رہے گا۔
 پاکستانی قوم اور افواج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔ ||


 

یہ تحریر 172مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP