قومی و بین الاقوامی ایشوز

فروغِ امن کے لئے ہماری ذمہ داریاں

اظہار رائے کی آزادی ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں کسی کی آواز دبانا یا خیالات کے آزادانہ اظہار سے روکنا ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ بظاہر یہ ایک بہتر دور معلوم ہوتا ہے کہ ہر فرد کو اظہار خیال کی آزادی کا حق حاصل ہے اور وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اس کا استعمال بھی کر رہا ہے۔ تاہم اس پہلو کو ایک علیحدہ زاویے سے بھی دیکھنا ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں بعض سنجیدہ نوعیت کے مسائل اظہار رائے کی مطلق آزادی سے بھی پیدا ہوئے ہیں۔ چونکہ معاشرے میں مختلف خیالات کے حامل افراد بستے ہیں۔ ایک گروہ ایک رائے اختیار کرتا ہے  اور دوسرا گروہ دوسری رائے کی تائید کرتا ہے۔ اگر معاملہ یہاں تک محدود ہوتا تو اچھنبے کی بات نہیں تھی۔ اختلاف رائے کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے۔ بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف کی بنیاد پر شدت پسندانہ رویہ اختیار کرلیا جائے۔ افسوس ناک طور پر اس رویے کا اظہار ہم ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں۔ مذہبی طبقے میں شدت پسندانہ رجحان ایک طرف، سیکولر حلقوں میں بھی اس رجحان میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
چند گروہوں کی جانب سے مذہبی شدت پسندی، چاہے وہ کوئی بھی مذہب ہو، نئی بات نہیں ہے۔ ہمارے سماج میں اس کی مثالیں جابجا ملیں گی۔ خود مسلمانوں میں بھی مسلکی تفرقہ بازی ایک اہم مسئلہ ہے، جو انتہا پسندی یا شدت پسندی کی آبیاری کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مسلکی اختلافات کی بنیاد پر فرقہ وارانہ کشیدگی سے امن و امان کی صورت حال براہ راست متاثر ہوتی ہے۔بدقسمتی سے اس صورت حال میں اضافے کا ایک سبب بعض متنازع نوعیت کا لٹریچر بھی ہے۔ اس نوع کی کتابیں، رسالے، اخبارات ان گنت ہیں، جو کسی خاص گروہ، مسلک یا فرقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کسی ادارے، انجمن یا مکتب فکر کا ترجمان جریدہ شائع ہونا قابل اعتراض نہیں ہے۔ نقصان اس وقت ہوتا ہے جب اپنے نقطہ نظر کے دفاع میں دوسرے گروہ پر طعن و تشنیع کی جائے یا اس کا تذکرہ اشتعال انگیز  طور پر کیا جائے۔ اس قسم کی صورت حال سوشل میڈیا کی ترقی کے بعد مزید سنگین نوعیت اختیار کرچکی ہے۔ دراصل اشاعتی ادارے کسی حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور متنازع نوعیت کا لٹریچر شائع کرنے سے کتراتے بھی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا سائٹس پر ہر فرد خود کو آزاد سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تھوڑے عرصے بعد سوشل میڈیا کے توسط سے کوئی ایسی تحریریا بیان سامنے آجاتا ہے، جس سے فرقہ واریت اور مذہبی کشیدگی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر شدت پسندی یا انتہا پسندی کی اصطلاحیںعمومی طور پر مذہبی طبقے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، حالانکہ سیکولر حلقے یا قوم پرست گروہ بھی ان رویوں میں مبتلا ہیں۔ سیکولر افراد تمام مسائل کی جڑ مذہب کو سمجھتے ہیں اور اہل مذہب کو ہر معاملے میں ملامت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں سیکولر یا لبرل طبقے انتہا پسندی کا اظہار کرتے ہوئے توہین آمیز سلوک بھی اپنا لیتے ہیں۔ ان کامؤقف ہے کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور اپنے ہر قول و فعل میں آزاد ہے۔ اس لیے ان کو مقدس شخصیات، کتابوں یا مقامات کے متعلق بھی اظہار رائے کا پورا حق حاصل ہے۔ کسی عنوان یا پہلو کا تنقیدی نقطہ نظر سے جائزہ لینا ممنوع نہیں ہے۔ بیشتر یورپی محققین جن کے لیے مستشرقین کی ادبی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، وہ مشرقی علوم بالخصوص دین اسلام کی تعلیمات کے متعلق اپنی تنقید و تحقیق پیش کرتے رہے ہیں اور ان کا جواب بھی تحقیق کے میدان میں دیا جاتا رہا ہے۔ تحقیق کے اس اسلوب پر اعتراض نہیں کیا جاتا۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب سیکولر ازم یا لبرل ازم کے نام پر توہین کا سلسلہ شروع کردیا جائے اور اس کو اپنا حق جتلایا جائے۔ یقینا یہ طریقہ کسی طور بھی قابل قبول قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لبرل انتہاپسندی کی وجہ سے معاشرے میں اشتعال پھیلتا ہے اور امن کو نقصان پہنچتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ مذہبی یا غیر مذہبی کسی بھی سطح پر اظہار رائے کی مطلق آزادی دی جاسکتی ہے؟ یہ سوال جب کراچی کے مقامی ہوٹل میں انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلجیئز افیئرز(IRCRA) کی معاون تنظیم وائس میڈیا نیٹ ورک(VMN) کی ورک شاپ میں ابلاغ عامہ کے سینئر استاد ڈاکٹر توصیف احمد خان سے ہوا، تو انہوں نے نہایت معنی خیز جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اظہار رائے کے نام پر  وہ قدم نہ اٹھایا جائے جو معاشرے میں اشتعال کا سبب بنے۔ ہمارے نزدیک اشتعال انگیزی اس وقت پھیلتی ہے جب ہم اعتدال کی راہ چھوڑ کر شدت پسندی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ یہ رویہ مذہبی اور غیر مذہبی دونوں سطح پر اپنایا جاتا ہے۔ وائس میڈیا نیٹ ورک کی مذکورہ ورکشاپ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ فروغ امن کے لیے مذہبی رسائل و جرائد کی اصلاح کیسے کی جاسکتی ہے؟ ذیل میں چند تجاویز پیش کی جارہی ہیں، جو مذہبی اور غیر مذہبی دونوں سطح پر شدت پسندی کے تدارک کے لیے اپنائی جاسکتی ہیں:
•    یقینا اختلافی امور کا مکمل خاتمہ نہیں کیاجاسکتا، لیکن ایک دوسرے کے مؤقف کو سنا جاسکتا ہے اور علمی بنیادوں پر اثبات یا رَد میں دلائل بھی دیے جاسکتے ہیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مکالمے کی فضا پیدا کریں نہ کہ مناظروں کو رواج دیں اور ایک  دوسرے کو نیچا دکھائیں۔
•    مذہبی اور غیر مذہبی کسی بھی موضوع پرتنقید کی جاسکتی ہے، لیکن طعن و تشنیع کرنا، توہین آمیز رویہ اپنانا یا استہزاء کرنا، کسی بھی صورت مثبت رویے نہیں ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں سوشل میڈیا سائٹس پر یہ رجحان ترقی پا رہا ہے،اس کی حوصلہ شکنی کے لیے حکومتی سطح پر بھی کوششوں کی ضرورت ہے۔
•    علاقائی یا صوبائی سطح پر اپنی تہذیب، ثقافت یا مادری زبان کی ترقی کے لیے کردار ادا کرنا مستحسن ہے، لیکن اس بنیاد پر عصبیت رکھنا یا دوسری زبان بولنے والوں سے نفرت کرنا غلط اور غیر مہذب رویہ ہے۔ اس سلسلے میں اس رجحان کا بھی تدارک کیا جانا چاہیے کہ زبان اور صوبائی عصبیت کی بنیاد پر کسی قوم یا صوبے کو سامراج کا طعنہ دیا جائے یا کسی صوبے کے عوام یا کسی بھی  زبان بولنے والے کو نااہل سمجھا جائے اور ان کو احساس کم تری میں مبتلا کیا جائے۔ زبان یا قومیت ہرگز پیمانہ نہیں ہے۔
معاشرے میں امن کے لیے ہماری بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ہر فرد خود کو پرامن رکھے۔ متشدد رویے سے کبھی بہتر نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے سماج میں تشدد کا جواب تشدد سے دینے کا رجحان زیادہ ہے۔ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہم بیشتر اوقات اشتعال انگیز صورت حال میں خود بھی مشتعل ہوکر ایسی راہ اپنالیتے ہیں جو خود ہمارے سماج یا ملک و قوم کے لیے نقصان کا سبب بنتی ہے۔ افسوس ناک طور پر ایک عرصے سے مغربی ممالک میں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر توہین رسالت کا ارتکاب وقتاً فوقتاً دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس شرم ناک حرکت پر مسلمانوں میں اضطراب کا پایا جانا فطری بات ہے۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہماری کمزوری اس سلسلے میں یہ ہے کہ ہم توہین کے اس سلسلے کا راستہ روکنے کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی مرتب کرنے کے بجائے وقتی طور پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر ہم توہین کے ذمہ دار ملک سے سفارتی تعلقات رکھنے یا نہ رکھنے پر توانائیاں صرف کرنے کے بجائے مسلم ممالک کی حکومتوں اور سربراہان ریاست کے ذریعے یورپی ممالک کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ پیغمبر اسلام محمد رسول اللہۖ کی شان میں توہین کو اظہار رائے کی آزادی کا نام نہ دیں، اس عمل سے مسلم دنیا کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور یہ حرکت سماج میں اشتعال کا سبب بنتی ہے، تو یقینا اس بین الاقوامی تحریک کے نتائج حوصلہ افزا برآمد ہوں گے اور توہین رسالت کے سلسلے کا تدارک بھی ہوگا، جس کی وجہ سے ہر کچھ عرصے بعد اشتعال انگیزی جنم لیتی ہے اور امن و امان متاثر ہوتا ہے۔ ||


مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کرچکے ہیں اور قومی و ملی موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 142مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP