شعر و ادب

غلط اندیشی

کہا یہ لال بہادر نے کس تبختر سے
ہم عنقریب زمانے کو اِک خبردیں گے
بڑھے ہیں کوہ کی مانند سُورما اپنے
اب ارضِ پاک کو ہم خاک و خون سے بھردیں گے
مگر وہ پردئہ وہم و خیال چاک ہوا
وہ زورِ برہمنانِ حریص خاک ہوا
وہ ہاتھ شل ہوئے اٹھے تھے جو برائے قتال
ہجومِ لشکرِ باطل سے دہر پاک ہوا
چلے تھے جو ستم آراء بآتش و آہن
طلسم اُن کی دلیری کا چاک چاک ہوا
خباثتِ ازلی کا جو بڑھا تھا غُرور
وہ پائمال بہ پائے ثباتِ پاک ہوا
 وہ جیشِ نفرت و انسان سوز تابہ فلک
ہماری سرزنش سخت سے ہلاک ہوا
ہوئے نہ ہم متزلزل ہجومِ اعداء سے
ہمارا چہرہ شجاعت سے تابناک ہوا
زعیمِ عشق١ نے پھونکا جو لاالٰہ کا فسوں
رفیق جذبۂ ملی مثال تاک ہوا

نوٹ: یہاں زعیمِ عشق سے مراد، اُس وقت کے صدرِپاکستان،  فیلڈ مارشل محمدایوب خان ہیں)
٭یہ نظم شاعر نے 1965کی جنگ میں پاکستان کی فتح کے بعد لکھی۔
 

یہ تحریر 178مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP