متفرقات

غذر میں جھیل کے اوپر آئس فیسٹول

گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خوبصورت علاقہ ہے جہاں کے چاروں موسم سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں یہاںکے فلک بوس پہاڑ، اونچی اونچی چوٹیاں، سرسبز وادیاں جہاں آکر سیاح خوب لطف اندز ہوتے ہیں اس سال گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے سیاحوں کو اس علاقے کی طرف راغب کرنے کے لئے خطے کی خوبصورت ترین وادی غذ رکی مشہور خلتی جھیل میں ونٹر آئس سپورٹس کا سہ روزہ میلے کا انعقاد کیا۔یاد رہے کہ خلتی جھیل کی لمبائی چار کلومیٹر اور چوڑائی ڈیڑھ کلومیٹر جبکہ گہرائی ڈیڑھ سو فٹ ہے۔ دسمبر کے وسط میں یہ جھیل مکمل طور پر جم جاتی ہے۔ بچے ا س جھیل کوفٹ بال گراؤنڈ میں تبدیل کرتے ہیں جبکہ فروری کے آخری ہفتے میں اس جھیل پر جمی برف آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہوتی ہے۔ اس جھیل کو دیکھنے کے لئے اس سال سردی کے موسم میں نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد نے بھی اس فیسٹول میں شرکت کی۔ میلے میں نہ صرف آئس سکیٹنگ کے مقابلے ہوئے، بلکہ آئس ہاکی اور فٹ بال کے بھی میچ ہوئے جبکہ ایس سی او کی جانب سے میلے کے دوران شاندار پیرا گلائیڈنگ کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ ایونٹ کی کوریج کے لئے ایس سی او نے وادی میں خصوصی طور پر فورجی سروس فراہم کی تھی۔ میلے کے اختتام پر ہنزہ اور گوجال کی آئس ہاکی ٹیموں کے مابین دلچسپ مقابلہ ہوا۔ مقابلے کے دوران ایک گول سکور کر کے گوجال کی ٹیم نے مقابلہ اپنے نام کرلیا۔ میلے کی اختتامی تقریب میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید،ڈپٹی سپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ ، سینیئر وزیر کرنل عبیداللہ بیگ (ر ) اور صوبائی وزیر سیاحت و ثقافت راجہ ناصر علی خان نے شرکت کی اس اہم اور منفرد ایونٹ کے انعقاد پر گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت مبارک باد کی مستحق ہے۔ صوبائی حکومت کی کوششوں سے پاکستان کا خوبصورت خطہ گلگت  بلتستان نہ صرف پورے ملک بلکہ دنیابھر میں مشہور ہوا ہے۔ غذر میں کوئی ایک درجن کے قریب قدرتی جھیلیں موجود ہیں اور ان جھیلوں میں گرمی کے موسم میں سیاح ٹراؤٹ مچھلی کا شکار کرکے خوب انجوائے کرتے ہیں۔ سردی کے موسم میں جب یہ جھیلیں جم جاتی ہیں تو سیاح ان کے اوپر کھیل کود میں مصروف ہوکراس موسم سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔




 خلتی جھیل میں سہ روزہ آئس فیسٹول کے فائنل کے مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید تھے۔ انھوں اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کے لئے اہم اقدامات کر رہی ہے۔ اس لئے گلگت بلتستان کی اہم شاہراہوں کی تعمیر اولین ترجیح ہے تاکہ یہاں آنے والے سیاحوں کو سفری دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انھوں نے  گلگت چترال روڈ کی تعمیر رواں سال شروع کرانے کی بھی نوید سنائی اور کہا کہ غذر شہیدوں اورغازیوں کی سرزمین ہے۔ کارگل کے ہیرو شہید لالک جان(نشان حیدر) کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ وزیر اعلیٰ نے غذر میں کیڈٹ کالج کی تعمیر کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ غذر کی تعمیر اور ترقی کے لئے تمام وسائل بروئے کا ر لائے جائیں گے۔


 



 اس سپورٹس فیسٹول میں ایک درجن کے قریب ٹیموں نے حصہ لیا۔ فائنل میچ جتنے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے انعامات تقسیم کئے، گلگت بلتستان میں پہلی بار صوبائی حکومت نے ونٹر فیسٹول کا انعقاد کرایا تھا جس میں ہزاروں شائقین نے شرکت کی اس موقع پر علاقائی دھنوں پر رقص بھی پیش کیا گیا جس پر سیاح بھی جھوم اٹھے جبکہ علاقائی کلچر شو بھی پیش کیا گیااور ڈیڑھ سو فٹ گہری جھیل کے اوپر سیاح علاقائی موسیقی پر رقص کرکے خوب محظوظ ہوئے ۔
گلگت بلتستان پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔اگر وفاقی حکومت یہاں کی شاہراہوں کی حالت بہتر بنائے اور علاقے کے عوام کو ہوٹلوں کی تعمیر کے لئے آسان اقساط پر قرضے فراہم کرے تو یہاں کے عوام سیاحت کے شعبے سے وابستہ ہوکر لاکھوں روپے کماسکتے ہیں۔ اس کے لئے محکمہ سیاحت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔۔||


مضمون نگار مقامی صحافی  ہیں اور ایک نیوز چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 302مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP