متفرقات

غالب۔۔۔ جالبؔ

اٹھارہویں صدی کے اردو کے جینئیس یعنی نابغہ روزگار شاعر مرزا اسداللہ خاں غالبؔ نے ساری زندگی بڑی تنگدستی اور کسمپرسی میں گزاری۔ انہیں اس بات کا بڑی شدت سے احساس تھا کہ اپنے ہم عصر شعراء ، خاص طور پر استا د ذوقؔ کے مقابلے میں نہ تو انہیں شہرت ملی اور نہ ہی بادشاہ کے دربار میں اُ ن کی حیثیت کے مطابق مقام ملا۔مرزا غالب اس کا اظہار اپنے اشعار میں تواتر سے کرتے بھی رہے۔اور ایک دن تو

بھرے بازار میں استاد ذوقؔ پر پھبتی کَس دی کہ۔۔۔

 

ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
مرزا کے اس مصرعے کی استاد ذوق ؔ نے اگلے دن دربار میں شکایت کی۔بہادر شاہ ظفر نے دربار میں مرزا غالب ؔ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ سچ ہے مرزانوشہ کہ آپ نے استاد ذوق ؔ پر مصرعہ لگایا ہے؟
مرزا غالبؔ کا جواب تھا۔۔۔’’جی حضور ! سچ ہے۔میری غزل کے مقطع کا یہ مصرعہ اولیٰ ہے۔‘‘ اس پر دربار میں بیٹھے شاعر آرزو نے پوچھا تو پھر مقطع ارشاد فرمائیں۔۔
مرزاغالب ؔ نے مقطع ہی نہیں پوری غزل پڑھ دی۔۔۔مرزا کی یہ وہ غزل ہے جس کا ایک ایک مصرعہ محاورہ بن گیا۔بڑے شعر کی خوبی ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ منہ سے نکلے کھونٹی چڑھے اور خلقِ خداکی زبان پر محاورہ بن جائے۔ذرا مرزا غالب ؔ کی اس غزل سے لطف اندوز ہوں۔۔۔جس کے مقطع پر دربار میں مرزا غالبؔ سے باز پرس ہوئی۔
ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
اور پھر مقطع سے پہلے یہ اشعار دیکھیں۔۔۔
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل 
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
کریدتے ہیں جو اب راکھ جستجو کیا ہے
خود بادشاہ سلامت نے اس غزل پر پہلی باردربار میں کھُل کر مرزا کو داد دی مگر یہ نہ سمجھا جائے کہ دربار میں اس غزل کی پذیرائی کے بعد اُن کے درجات بڑھ گئے۔۔۔اُن کی مالی خستگی دن بہ دن بڑھتی ہی رہی۔مرزا غالبؔ کے مقابلے میں دوسرے درجے کے شاعر استاد ذوق ؔ مالی طور پر تو آسودہ حال تھے ہی۔۔مگر اُس وقت شہرت بھی اُن کے قدم چوم رہی تھی۔آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ اچانک مجھے مرزا غالبؔ کیسے یاد آگئے۔تو بلا کسی تمہید ،اِس کے دو سبب ہیں۔ ایک تو برِ صغیر پاک و ہند کے ممتاز گیت نگار او ر شاعر گلزارکی حال ہی میں شائع ہونے والی مرزا غالبؔ کی سوانح اور دوسرا اپنے شاعر عوام حبیب جالبؔ جن کی کتاب ’’جالب جالب‘‘ کے پانچویں ایڈیشن کی ان دنوں تیاریوں میں مصروف ہوں۔مرزا غالبؔ کی طرح ہمارے عوامی شاعر حبیب جالب نے بھی ساری زندگی تنگدستی میں گزار ی۔جالب صاحب ہر دو رکے حکمراں کو للکارنے کے سبب

ساری عمر اسیری اور بیماریوں میں گھرے رہے۔مرزا غالب ؔ کی طرح جالب ؔ صاحب کو بھی اپنی نا قدری کا بڑی شدت سے احساس تھا۔


ہمیشہ اوج پر دیکھا مقدر اُن ادیبوں کا
جو ابن الوقت ہوتے ہیں ہوا کے ساتھ چلتے ہیں
کتنا دلچسپ اتفاق ہے کہ مرزا غالب نے شاعر دربار استاد ذوقؔ کو شہہ کا مصاحب لکھ کر کیسی یادگار غزل لکھی اور ہمارے جالب صاحب کی نظم ’’مشیر‘‘ کو بھی دیکھیں جو شاعر شاہنامہ اسلام حفیظ جالندھری کے لئے کہی گئی تھی کہ ایک دن حفیظ جالندھری، جالب صاحب کو مال روڈ پر مل گئے اور کہنے لگے کہ میں صدر صاحب کا مشیر ہوگیا ہوں مجھے رات گئے سوتے میں اٹھا کر پوچھتا ہے۔۔۔’’حفیظ،کیا کروں؟‘‘ 
جالب صاحب کہا کرتے تھے کہ حفیظ صاحب مال روڈ پر میرے کاندھے پر ہاتھ رکھے،صدر صاحب کو دئیے ہوئے مشورے بیان کر رہے تھے اور ادھر میری نظم بن رہی تھی۔


دیکھئے،پچاس سال بعد بھی جالب صاحب کی یہ نظم وہی تازگی لئے ہوئے ہے کہ ہر دو ر کی طرح آج بھی مطلق العنان حکمرانوں کے انہی مشیروں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔کیسے کیسے مشورے ہمارے وزیر اعظم صاحب کو ہمارے یہ شاعر، ادیب، کالم نویس ان دنوں دے رہے ہوتے ہیں۔ ذرا نظم ’’مشیر‘‘ کے چند بند دیکھیں جو جالب صاحب کے مخصوص عوامی انداز کو لئے ہوئے ہیں۔۔۔


یہ جو دس کروڑ ہیں۔۔
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سوگئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہوگئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں 
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
۔۔میں نے اس سے یہ کہا
دس کروڑ یہ گدھے 
جن کا نام ہے عوام
کیا بنیں گے حکمراں 
تو ،تو ،تو یقیں ہے ،یہ گماں
اپنی تو سدا ہے یہ
صدر تو رہے صدا
میں نے اُس سے یہ کہا


مرزا اسدا للہ خاں غالبؔ اور شاعر عوام حبیب جالبؔ کا جو ذکر چھیڑا ہے تو قطعی طور پر اسے کسی موازنے کے زمرے میں نہ لیں۔ مرزا غالب کا معاملہ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے بقول وہ جتنے مقبول ہیں اُتنے مشکل بھی۔ ہم جیسے سیاست اور صحافت کے طالب علموں کے لئے تو برسوں یہ معاملہ رہا ہے کہ مرزا غالب کا شعر پڑھتے ہوئے تلفظ کا کیسے خیال رکھا جائے۔اور پھر ان کا مطلب یعنی تشریح۔۔۔خدا کی پناہ۔


اس سے پہلے کہ مزید بھٹکوں، صاف بتاتا چلوں کہ برسہا برس سے غالب کے اشعار او ر اُن پر لکھی سیکڑوں کتابوں کو جھانکنے اور پھانکنے کا موقع ملا۔۔۔مگر گلزار صاحب کی غالبؔ پر کتاب اتنے دلچسپ پیرائے میں لکھی گئی ہے کہ اُس کے دس،بارہ صفحے پڑھنے کے بعد دوبارہ پلٹ کر پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔دیکھیں کتاب کھلتے ہی پہلے ہی باب میں گلزار صاحب نے مرزا کی رہائش گلی قاسم جان کا کیسا نقشہ کھینچا ہے۔۔۔
’’ صبح کا جھٹپٹا، چاروں طرف اندھیرا لیکن اُفق پر تھوڑی سی لالی۔۔ تاریخی عمارتیں۔۔ پرانے کھنڈرات۔۔سردیوں کی دھُند۔۔کہرہ۔۔خاندانِ تیموریہ کی نشانی لال قلعہ۔۔ہمایوں کا مقبرہ۔۔جامع مسجد۔
ایک نیم تاریک کوچہ،گلی قاسم جان۔۔ایک محراب کا ٹوٹا ساکونہ۔


دروازوں پہ لٹکے ٹاٹ کے بوسیدہ پردے۔ ڈیوڑھی پہ بندھی ایک بکری۔ دُھندلکے سے جھانکتے ایک مسجد کے نقوش۔ پان والے کی بند دُکان کے پاس دیواروں پر پان کی پیک کے چھینٹے۔ یہی وہ گلی تھی جہاں غالب کی رہائش تھی۔۔۔
اِسی بے نور اندھیری سی گلی قاسم سے 
ایک ترتیب چراغوں کی شروع ہوتی ہے
ایک قرآنِ سخن کا صفحہ کھلتا ہے
اسداللہ خان غالبؔ کا پتہ ملتا ہے‘‘
ہمارے شاعرِ عوام حبیب جالب ہجرت کے بعد ایک شہر سے دوسرے شہر تلاش روزگار کے لئے دربدر پھرتے رہے۔
آج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میں
اڑتے پتوں کے پیچھے اڑاتا رہا شوقِ آوارگی
جالب صاحب کے شوق آوارگی کو 1956میں لاہور کے سنت نگر کے کرائے کے دو کمروں میں پناہ ملی۔مگر ساری زندگی انہیں کوئی ایسی مستقل نوکری نہیں مل سکی جس سے

 

اپنے گھرمیں آسودگی کا چولہا جلاپاتے۔جالب صاحب کی مشہو ر زمانہ نظم، دستور، آچکی تھی۔سارے ملک میں ان کی شاعری کا ڈنکا بج رہا تھا۔جالب

صاحب کی زباں بند ی توممکن تھی نہیں اسی لئے آئے دن نظربندی میں گزرتے۔اکثر کہتے۔۔۔
جیل مجھے ذاتی طور پر تو معاشی فکروں سے آزاد کردیتی ہے۔مگرجب بیوی بچوں کا خیال آتا ہے تو ساری رات آنکھوں میں کٹ جاتی ہے۔
گھرمیں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم
جورات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی


جالب صاحب نے جیل میں اپنی بیوی سے ملاقات کا کس دکھ سے ذکر کیا ہے۔جو سیاسی لوگ جیل آتے جاتے رہتے ہیں، اُن کے لئے جیل کی ملاقات اپنے پیاروں او ر عزیزوں سے بعد میں کتنی روحانی اذیت دیتی ہے،اس کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں۔اور پھر ملاقات بھی کس ماحول میں کہ میاں بیوی کے دائیں بائیں دو سادہ کپڑوں میں اہلکار بیٹھے ہیں جو ایک ایک لفظ کی روداد لکھ رہے ہوتے ہیں۔جالب صاحب اس نظم کو سناتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اب بیوی سے اُن دوستوں کانام بھی نہیں لے سکتے جن سے قرض لیا جاسکتا ہے۔یوں یہ ملاقات ایک طرح کا حالات کا ماتم بن جاتی۔


جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا، ملاقات کہاں تھی


شاعر عوام حبیب جالب سے میرا ذاتی تعلق کوئی دو دہائی پر محیط رہا۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے آشنائی ہوئی۔صحافت میں آئے تو اُن کے ساتھ محفل آرائیاں رہیں۔ملک میں شہروں شہروں بلکہ دوبئی او ر لندن میں ہم سفری بھی رہی۔اس لئے جالب صاحب کے ساتھ تو یادوں اور باتوں کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ جو سمٹنے میں نہیں آتا۔اب یہی دیکھیں ’’جالب جالب‘‘کا پہلا ایڈیشن مئی 2013میں آیا تھا۔دوسرے،تیسرے اور چوتھے ایڈیشن میں بھی اسکرین سے پیٹ لگنے کے باوجود ایک دو باب کا اضافہ کرتا رہا۔ پانچواں ایڈیشن زیر طبع ہے۔اس میں مزید اضافہ کیا ہے۔یہ جو جالب صاحب کے ساتھ مرزا غالب آگئے اس کی وجہ تسمیہ بتا چکا ہوں کہ گلزار صاحب کی مرزا غالب پر سوانح اس مضمون کی تحریک کا باعث بنی۔ اس سے پہلے گلزار صاحب کی مرزا غالب پر دستاویزی فلم نے بھی بڑی شہرت پائی۔کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔میں نے غالب کی زندگی بنائی یا غالب نے میری زندگی بنادی۔


ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے حوالے سے تو یہ لکھ ہی چکا ہوں کہ غالب جتنے مقبول ہیں اتنے ہی مشکل بھی۔حبیب جالب کا جو تذکرہ میں لئے بیٹھا وہ خود مزید مشکل میں ڈالنے کے مترادف ہے۔مگر اپنے اپنے عہد کے ان دو عظیم شعراء کرام کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج کی نسل کو خاص طو پر جو لکھنے پڑھنے سے دلچسپی رکھتی ہے، یہ بتاتا چلوں کہ ان دونوں شعرائے کرام نے نامساعد حالات کے باوجود ایسی شاعری تخلیق کی کہ جس پر رہتی زندگی گردنہیں پڑے گی۔


یہاں تک پہنچا تو سوچا کہ ’’خوفِ خلقِ خدا‘‘ کے سبب سے گُریز ہی کروں۔۔۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ مرزا غالبؔ اور شاعرِ عوام حبیب جالبؔ کا ذکر کرتے ہوئے اُن کی اس عادت بلکہ عِلّت کا ذکر ہی نہ کیا جائے جس کا کھل کر ذکر کرنا ہمارے منافقانہ معاشرے میں قابل گردن زدنی ہے۔مرزا غالب ؔ بادہ نوش تھے۔مگر اس پر پردہ نہیں ڈالتے تھے۔اسے انہوں نے شرمندگی کا باعث نہیں بنایا۔ وہ جُوا بھی کھیلتے تھے،مگر کھیل کی طرح۔ اپنی بادہ نوشی کا ذکر اپنی بیگم سے کس دکھ بھرے لہجے میں کرتے ہیں :’’لوگ باگ تو بے فکرا کہتے ہیں۔جوا کھیلتے ہیں۔ مرزاپیتے ہیں۔لوگ کیاجانیں میں کیوں پیتا ہوں ،کیوں جُوا کھیلتا ہوں۔اگر وہ بھی نہ کروں تو گھُٹ کر مر جاؤں بیگم۔غم میں ہنس بول لیتا ہوں تو لوگ سمجھتے ہیں رونا نہیں آتا۔‘‘


جالب صاحب نے بھی کبھی اپنی بادہ نوشی کو چھپایا نہیں مگر بڑے خوددار اور انا پرست تھے۔ اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ یاد آرہا ہے۔سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔جالب صاحب کے دوست میر غوث رسول بخش تالپور گورنر ہاؤس میں مقیم تھے۔شام ڈھل رہی تھی۔مگر ہم پریس کلب میں بیٹھے کچھ اہتمام نہیں کر پا رہے تھے۔جس سے جالب صاحب کی جھنجھلاہٹ بلکہ غصے میں اضافہ ہورہا تھا۔اتنے میں گورنر ہاؤس سے میر صاحب کا فون آیا اور اصرار کیا کہ اسی وقت سڑک پار کر کے گورنرہاؤس آجاؤ۔


جتنا میر صاحب کا اصرار بڑھتا ،اتنا ہی جالب صاحب انکار کرتے ہوئے کہتے کہ،مجاہد علی کچھ انتظام کر ہی لے گا۔ایک مرحلے پر جب میر صاحب کا اصرار بہت زیادہ بڑھ گیا تو جالب صاحب نے بڑے احترام سے میر صاحب سے کہا کہ ’’میر صاحب آپ کو علم ہے کہ ہماری پارٹی نیپ کے ساتھ بھٹو صاحب کی حکومت کیا سلوک کر رہی ہے۔انہیں خبر ہوئی تو کہیں گے ،دو پیگ کے لئے گورنر ہاؤس چلا گیا۔ میر صاحب میں توآپ کو بھی مشورہ دوں گا کہ آپ بھی اس قید خانے سے(اُ ن کی مراد گورنر ہاؤس تھی) نکلیں۔ورنہ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب آپ خود بھی پارٹی سے باہر ہوں گے۔‘‘ بعد میں یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی۔ میربرادران کچھ ہی عرصے بعد پیپلز پارٹی چھوڑ گئے۔جالب صاحب کا کراچی میں جب تک قیام ہوتا، ہم اُن کی شام کی ڈیوٹی پر ہوتے۔


ایک ہمارے پریس کلب کے صدر عبد الحمید چھاپرا ،دوسرے تین،چار کامریڈ ڈاکٹران سے جالب صاحب کی شام کا انتظام ہوجاتا۔مگر اس کے لئے کبھی انہوں نے ’’غیروں ‘‘کے در پر دستک نہیں دی۔جالب صاحب کے نادان سیاسی دوستوں اور مخالفین نے بڑی افسانہ تراشیاں کیں،جس سے انہیں شدید صدمہ ہوتا۔خود کراچی میں دہائی اوپر میرا اُن کا دن رات کا ساتھ رہا۔کچی پکی ۔۔۔ پر گزارا کر لیا مگر انہوں نے شدید مالی مسائل کے باوجود اپنی عادت کو دستِ سوال نہیں بننے دیا۔


مسائل کو بہر صورت تو حل کرنا ہی پڑتا ہے
مسائل ایسے سائل ہیں کہاں ٹالے سے ٹلتے ہیں
مگرکسی بھی حکمراں کے آگے جالب صاحب کبھی سائل بن کر نہیں گئے۔


مرزا اسداللہ خاں غالبؔ کو اس جہانِ فانی سے گزرے ڈیڑھ سوسال ہونے کو آرہے ہیں۔اور ہمارے شاعر عوام حبیب جالبؔ کو کوئی 25سال۔۔۔ مرزاغالبؔ اور اُن کے بعد کیسے کیسے نامور شعراء گزرے، صاحب طرز ادیب پروفیسر رشید احمد صدیقی کیسی پتے کی بات کہہ گئے کہ مغلوں نے ہندوستان کو تین چیزیں دیں، تاج محل ،اردو او ر غالبؔ ۔۔۔مگر اردو شاعری کی دو سو سالہ تاریخ میں پیدا ہونے والے اس عظیم شاعر کی زندگی تو جیسے تیسے کٹی ہی مگر عمر کے آخری دنوں میں انجام بھی بڑا اندوہناک اور کرب انگیز گزرا۔ زندگی کے آخری دنوں کی رودادِخونچکاں ایک خط میں یوں لکھتے ہیں ’’اب میں انتہائے عمر ناپائیدار کو پہنچ کر لبِ بام اور ہجومِ امراضِ جسمانی و آلام وروحانی سے زندہ درگور ہوں۔کچھ یادِ خدا بھی چاہئے۔ اگر اُس نے چاہا تو تاقیامت میرا نام و نشان باقی رہے گا۔


دمِ واپسیں برسر راہ ہے
عزیزو اب بس اللہ ہی اللہ ہے
مرزا غالبؔ کیا سچ لکھ گئے۔ڈیڑھ سو سال بعد بھی۔مرزا غالبؔ کی شاعری کی دھوم چہار جہاں میں ہے۔
ہوئی مدت کہ غالبؔ مرگیا،پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
ہمارے شاعر عوام حبیب جالبؔ کا بھی آخری وقت لاہو ر کے میو ہسپتال میں اس طرح گزرا کہ سرہانے بیوی ہوتی او ر کبھی کبھار ہمارے جیسا حال احوال پوچھنے والا۔جبھی تو اپنے انتقال سے ہفتہ پہلے ڈوبتی آنکھوں ، ٹوٹتی سانسوں مجھ سے کہنے لگے۔۔’’یار مجاہد علی ،مارے گئے نا۔‘‘
ساری زندگی جابر حکمرانوں کو للکارنے والے شاعر عوام حبیب جالب اپنی آخری غزل کے اس شعر میں اپنی زندگی بھر کی محرومیوں کا کس کرب سے ذکر کرتے ہیں۔۔۔
بہت تذلیل تو کرلی ہماری زندگانی کی
اجازت موت کی بن کے اب ہم کو رحمدل دے دو
جالب صاحب کی شاعری کو محض پروپیگنڈا کہنے والے نقادانِ ادب دیکھیں کہ آج سارے ملک میں عوامی شاعر حبیب جالبؔ کی نظم، ’دستور‘ پاکستان میں ہر لبِ خاص و عام ہے۔
ترسیں گی اجالوں کو شب غم کی نگاہیں
ہوجائے گا جس روز مرا دیدۂ تربند 
[email protected]

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP