قومی و بین الاقوامی ایشوز

غازیانِ ضربِ عضب

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے غازیان ملک کے مستقبل کے روشن نشان ہیں جن سے چھن چھن کر آتی ہوئی کرنیں دراصل ہماری منزل کا پتہ دیتی ہیں ۔ میرے لیے تو دھرتی ماں اور اس پر جنم لینے والے ماں جائے بھائی ہیں جن کی میں جتنی بھی یادیں بانٹوں مجھے کم لگتی ہیں لیکن یہاں حوالے کے طور پر میں آپر یشن ضربِ عضب کے چند غازیان سے آپ کو متعارف کی جسارت کرتا ہوں جن کی بھر پور جوانیاں، دلیریاں اور کہانیاں ہمارے ملک کی فضاؤں کو مہکاتی ہیں۔

 

کیپٹن نعمان جہانگیر

کیپٹن نعمان جہانگیرکا تعلق آزاد کشمیر رجمنٹ کی ’’مضبوط دل‘‘ بٹالین سے ہے جو اس وقت شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بطریقِ احسن نبھانے میں مصروفِ عمل ہے۔ 20جولائی 2014 ء کو میر علی کے ایک گاؤں ’’ملّاگان‘‘ میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران بھاری فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ کیپٹن نعمان اپنی سپاہ کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے دہشت گردوں کی سرکوبی کا مشن لے کر آگے بڑھ رہے تھے کہ ایک سخت مقابلے کے دوران دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے اور زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیے گئے جہاں آرمی کے پیشہ ور ڈاکٹروں کی بروقت امداد کی بدولت جانبر ہونے میں کامیاب رہے۔ان کا کہنا ہے کہ میں جلد سے جلد اپنی پلٹن سے ملنا چاہتا ہوں کیوں کہ میں کوئی کام بھی ادھورا چھوڑنے کا قائل نہیں اور ابھی مجھے جاکر دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن میں اپنے حصّے کا کام مکمل کرنا ہے۔انہوں نے رمضان کی صعوبتیں اپنے جوانوں کے ساتھ دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے گزاریں جب کہ عید زخمی حالت میں بے چین رہتے ہو ئے بسر کی۔ کیوں کہ اُن کا کہنا ہے کہ سپاہی کی عید اس کے جوانوں کے ساتھ ’’بڑا کھانا‘‘ کھاکر یا مورچے میں بیٹھ کر گزارنے کا مزہ کہیں اور نہیں آسکتاہے۔ عید پر جب لوگ صاف کپڑے پہنتے ہیں تو ایک سپاہی اپنی رائفل صاف کرتے ہوئے حقیقی خوشی حاصل کرتا ہے۔ جشن آزادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد وطن عزیز کی حقیقی آزادی کا جشن منانے کا ہے جو انشا ء اللہ بہت جلد ہم سب مل کر منائیں گے اور اس پاکستان کے ذرے ذرے کو سجائیں گے۔

 

حوالدار شاہ خالد

حوالدار شاہ خالد جن کی پیدائش گلگت کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کرنے کے بعدپاک فوج کی مایہ ناز بلوچ رجمنٹ سے بحیثیت سپاہی اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔آپریشن ضربِ عضب کے لیے اپنی پلٹن کے ساتھ مختلف علاقوں سے دہشت گردوں کا کامیابی کے ساتھ صفایا کرتے ہوئے 5 اگست 2014 ء کو میر علی کی علاقے میں پہنچے جہاں دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے ایک بارودی سرنگ (مائن) پر پاؤں آنے کے بعد شدید زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے۔ ان کی دائیں ٹانگ ملک کے لیے قربان ہوگئی ‘انہوں نے ٹانگ کے آپریشن کے فوراً بعدڈاکٹر سے پہلا سوال یہی کیا کہ وہ کب اگلے مورچوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ موجود ہوں گا۔ حوالدار شاہ خالد کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی ہے جنہیں اپنے والدکے زخمی ہونے کی ابھی تک خبر نہیں لیکن جس دن پتہ چلے گا تو یقیناًیہ معصوم بچے نہ اپنے والد کی جانب سے ملنے والے ایک مضبوط اورمحفوظ مسقبل کے تحفے پر جہاں انتہائی خوش ہوں گے وہاں فخر بھی کریں گے۔ حوالدار شاہ خالد نے عید کا دن اپنے بچوں کو موبائل پر عید مبارک کہہ کر گزارا لیکن ایک بار بھی ان کی آواز میں لرزش نہیں آئی کیوں کہ ان کا کہنا تھا کہ اپنے ملک اور اپنے ان بے گھر ہونے والے معصوم بھائیوں کی عید کی خوشیاں لوٹانے کے لیے ایک ٹانگ اور ایک عید تو کیا اپنی جان اور کئی ایک عیدیں بھی قربان کی جاسکتی ہیں۔ یوم آزادی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں خوش ہوں کہ 14 اگست کے دن اپنی ایک ٹانگ پر سہی لیکن سبز ہلالی پرچم کو اپنے ہاتھوں سے لہراؤں گا۔

نائب صوبیدار اشرف

نائب صوبیدار اشرف کا تعلق آزاد کشمیر رجمنٹ کی ’’مضبوط دل‘‘ بٹالین سے ہے ۔ 11 مئی 2014 ء کو کھجوری فورٹ ۔ میر علی کے قریبی علاقے میں اپنی سپاہ کے لیے راستہ بناتے ہوئے ایک آئی ای ڈی(IED) کی زد میں آگئے جس کے پھٹنے سے شدید زخمی ہوئے۔ اس دوران آپ کے سر پر گہری چوٹیں آئیں اور جسم کے دوسرے بہت سے اعضاء کو بھی شدید نقصان پہنچا۔وہ زخمی ہو کر بھی پُر عزم دکھائی دیتے ہیں کہ بہت جلد دوبارہ اگلی صفوں میں شامل ہو کر اپنا فرض نبھائیں گے ۔انہوں نے عید اپنے بچوں کے ساتھ منائی جو باپ کے جسم پر سجے زخموں پر جہاں افسردہ تھے وہاں پُر عزم بھی تھے، اشرف خان کا کہنا ہے کہ میں اپنے بچوں کی طرح شمالی وزیرستان کے بچوں کی خوشیاں لوٹاؤں گا اور میں ایسا نہ کر پایا تو میرے سپاہی کریں اور جو کام رہ جائے تو میرے بچے کریں گے لیکن ہم ہر قیمت پر اس ملک میں سچی خوشیاں تقسیم کریں گے۔ جشن آزادی منانے کی بات کرتے ہوئے اُن کے چہرے پر عجب سی روشنی تھی جو ایک سچے اور محب وطن سپاہی کی شان ہوتی ہے۔

 

سپاہی عبد القدیر

سپاہی عبد القدیرجو گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف مردانہ وار لڑتے ہوئے وطن سے وفا کی لاج نبھانے والوں کی اُس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں جنہوں نے اپنے جسم پر زخموں کے تمغے سجائے اور لہو کی بوندوں سے دیس کی مٹی کو سینچا ہے کہ جس سے اُٹھتی بھینی بھینی خوشبوفضاؤں کو معطر بنانے میں مشغول ہے۔ یہ وہ سپوت ہیں جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر سرحدوں کی آن بچاتے ہیں اور جب وقت انہیں پکارتا ہے تو یہ حوصلوں کی چٹان بن کر لبیک کہتے ہوئے موت تک کو گلے لگا لیتے ہیں۔سپاہی عبدالقدیر تونسہ کے رہنے والے ہیں اور ابتدائی تعلیم آبائی شہر سے ہی حاصل کرنے کے بعدپاک فوج کی مایہ ناز بلوچ رجمنٹ میں سپاہی کے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ 21مئی2014 ءآپریشن ضربِ عضب کے لیے اپنی پلٹن کے ساتھ میر علی کے علاقے میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک اَن دیکھی گولی کا شکار ہو کر زخمی ہوئے۔دہشت گردوں کی جانب سے فائر کی جانے والی ایک گولی اُن کے دائیں بازو جب کہ دوسری اُن کے پیٹ کو چیرتی ہوئی نکل گئی لیکن اُن کی زندگی ابھی تک باقی تھی۔آپ کا کہنا ہے کہ جشن آزادی کی حقیقی خوشیاں تبھی منائی جائیں گی جب وطن عزیز سے دہشت گردی کا ناسور ختم ہو جائے گا ۔ جس کے لیے میں، میری پلٹن اور ہمارا ہر ایک سپاہی اپنی آخری کوشش کرنے میں مصروف عمل ہے ۔

لانس نائیک کامران مرتضیٰ

لانس نائیک کامران مرتضی کا تعلق آزاد کشمیر رجمنٹ سے ہے ۔ میرعلی (شمالی وزیرستان) کا علاقہ دہشت گردوں کا گڑھ مانا جاتا تھا جہاں سر عام دہشت گردی، لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوا کرتا تھا۔ میر علی کا بازار دہشت گردوں کی آماجگاہ کے طور پر جانا جاتا تھا جہاں خوف و دہشت کے سائے ہر وقت لہراتے تھے۔لانس نائیک کامران اپنی پلٹن کے ساتھ میر علی کے بازار میں دندناتے پھرتے دہشت گردوں کے خلاف کئے جانے والے ایک آپریشن کے دوران اپنے سپہ سالار کی حفاظتی سپاہ کا حصّہ تھا جو براہ راست سارے آپریشن کی نگرانی کر رہا تھا۔ آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری تھا کہ اسی اثنا میں سنائپر کی دو گولیاں لانس نائیک کامران مرتضیٰ کے سینے میں آکر لگیں۔ بلٹ پروف جیکٹ کے سبب وہ براہ راست نشانہ بننے سے محفوظ رہے لیکن دو گولیاں ان کو شدید زخمی کرتے ہوئے گزر گئیں ۔ اُن کو ابتدائی طبی امداد کے بعد قریبی ہسپتال میں منتقل کردیا گیا جہاں اُن کے سینے کو زخمی کر نے والی گولیوں کو نکال باہر کیا گیا اوراُن کی زندگی بچا لی گئی۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہو ئے کہا کہ بہت جلد اپنے سپہ سالار کے ساتھ سے مل کر دہشت گردوں کے خلاف لڑوں گا اور اس بار موقع مل گیا تو چھپ کر گولی مارنے والے دہشت گردوں کو میر علی بازار میں للکارکر گولی ماروں گا۔

سپاہی محمد فیاض

سپاہی محمد فیاض کا تعلق بلوچ رجمنٹ کی ایک دلیر پلٹن سے ہے جو غازیوں اور شہیدوں کی روشن روایات کی علمبردار مانی جاتی ہے۔ 21 مئی 2014 ء، میر علی بازار میں دہشت گردوں کے خلاف کئے جانے والے ایک آپریشن کے دوران جہاں پلٹن نے شہیدوں کے اجسام اٹھائے وہاں غازیوں کے لہو تر بدن بھی سمیٹے جن میں سپاہی محمد فیاض بھی شامل تھا۔ وہ دہشت گردوں کی گولیوں سے شدید زخمی ہوئے اور ان کے پیٹ میں کئی گولیاں پیوست ہوئیں جنہیں بعد ازاں نکالا گیا اور آپ کو زندگی کی خبر سنائی گئی۔ اُن کے ہمراہ اُن کی ننھی پری مریم بی بی بھی معصوم اداؤں کے ساتھ اُن کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش میں مگن دکھائی دیتی ہے۔ سپاہی محمدفیاض کا کہناتھا کہ عید کی خوشیاں یقیناًگھر والوں کے ساتھ ہوتی ہیں لیکن جب ہم فوجی اپنے گھر کی بات کرتے ہیں تو ’’میری یونٹ میرا گھر‘‘ ہماری روایت بنتی ہے جبھی تو یونٹ کی عید میں گھر کی عید کا ہی مزہ ہوتا ہے۔ البتہ مریم بھی ان خوشیوں میں خوب یاد آتی ہے جس کی تصویر میرے بٹوے میں ہر وقت موجود رہتی ہے۔

سپاہی طاہر اقبال

سپاہی طاہر اقبال کا تعلق بلوچ رجمنٹ کی ایک دلیر پلٹن سے ہے۔ 21 مئی 2014کو میر علی بازار میں دہشت گردوں کے خلاف کئے جانے والے ایک آپریشن کے دوران اپنے فرض کی بجا آوری کرتے ہوئے دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے اور شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جائے گئے جہاں آرمی کے پیشہ ور ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ان کے جسم میں موجود گولیوں کو نکال لیا گیا لیکن وہ اپنی دونوں ٹانگوں کی قربانی پیش کر چکے تھے۔ سپاہی طاہر ایک جواں سال سپاہی ہیں جو چند برس پہلے ہی تربیتی منازل طے کر کے پاک فوج کی اگلی صفوں میں سینہ سپررہے اور غازیانِ ضرب عضب کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔ اُن کا تعلق سرگودھا کے ایک نواحی گاؤں سے ہے۔اگرچہ انہوں نے عید اپنے گھر والوں کے ساتھ گزاری لیکن عید کی خوشیوں کی بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ غازی ہونے کا اعزاز مجھے ان تمام خوشیوں سے کہیں بڑھ کر ہے کیوں کہ مجھے فخر ہے کہ میں سینہ تان کر لڑنے والوں کی صف میں شامل ہوں جو سینے پر گولی کھا کر بھی مسکراتے اور دوسروں کو زندہ رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ جیسے میں کہہ رہا ہوں کہ شمالی وزیرستان کے لوگ ہمارے بھائی ہیں اور ہم ، ہماری فوج ان کی خوشیوں تک کسی صورت بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے اور انشاء اللہ اگلا جشن آزادی ان کے ساتھ ان کے گاؤں میں منائیں گے۔

سپاہی زوار علی

سپاہی زوار علی کا تعلق بلوچ رجمنٹ کی ایک مایہ ناز پلٹن سے ہے جو اس وقت شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف ہے۔ 21 مئی 2014 ء، میر علی بازار میں دہشت گردوں کے خلاف کئے جانے والے ایک آپریشن کے دوران وہ بھی ان غازیان میں شامل تھے جنہوں نے دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے شہادتوں کی نیت کر رکھی تھی لیکن ان کے جسم کام آئے۔ سپاہی زوار علی فیصل آباد کے نواحی گاؤں کے رہائشی ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ہی شادی کے بندھن میں بندھے ہیں۔ وہ اپنی شریکِ حیات کو بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک سپاہی کی بیوی ہونا بہت فخر کی بات ہوتا ہے لیکن ایک غازی کی بیوی کہلانا اس سے کہیں زیادہ فخر کی بات ہے اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے عید کی خوشیوں میں تمہیں اپنے غازی ہونے کا تحفہ پیش کیا ہے۔ جشن آزادی کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے، بہت خوشی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی جو میں اپنی پلٹن میں سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے دیکھتا اور ایڑیاں جوڑ کر بھر پور سلیوٹ پیش کرتا لیکن میں سب سے یہی کہوں گا کہ یہ تجدیدعہد کا دن ہے جو ہمیںآنے والے وقت کی منصوبہ بندی کا موقع دیتا ہے۔ اس برس دہشت گردی تھی تو عہد کریں کہ آئندہ برس یہ نہیں ہو گی اور اس کام کے لیے ہمیشہ کی طرح ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر یوں کھڑے ہو جائیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار، پھر کبھی دہشت گرد ہمارے آس پاس نہیں پھٹکیں گے۔ غازیانِ ضرب عضب سے بات کرتے ہوئے نجانے کتنی بار تو میں نے خودکو ایک سپاہی کی وردی میں سنوارا اور عید کی خوشیاں اور جشن آزادی کے گہرے رنگ اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس کئے۔ بے شک تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ گردشِ زمانہ نے صرف ان افراد، اقوام اور ہستیوں کو تب و تابِ جاودانہ سے نوازا جنہوں نے قوم و ملت اور دینِ مبین کی بقا کے لیے متاعِ حیات قربان کی ۔پاک فوج اپنے غازیوں جنہوں نے جسم کے مختلف اعضاء کی قربانیاں پیش کی ہیں ، کہیں بازو تو کہیں پر ٹانگیں ، کہیں پر ہاتھ تو کہیں پر پاؤں کٹائے ہیں، کو تنہا نہیں چھوڑتی ، انہیں اپاہج نہیں بننے دیتی بلکہ ان کا سہارا بننے میں کوشاں دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے ڈاکٹرز، ہمارے ہسپتال خصوصاً پاک فوج کا ’’ری ہیبلیٹیشن ‘‘ کا ادارہ دن رات اپنے غازیوں کی تیمارداری اور بہتری کے لیے سر گرم عمل دکھائی دیتا ہے۔

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP