ہمارے غازی وشہداء

عید کے روز ماں کی گود اجڑ گئی

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی بزدلانہ اور بلااشتعال فائرنگ سے شہری آبادی کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بہت سے معصوم افراد شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افرادسی ایم ایچ سیالکوٹ میں زیرعلاج ہیں۔ ہلال کے نمائندہ خصوصی محمدامجد چوہدری نے اُن سے ملاقات کی۔ درج ذیل رپورٹ میں ان ہی افراد کے احوال کا ذکر ہے۔
eid k roz maan ki goud ujer gei1
میں تمام قوتیں یکجا کرکے زخمی ہونے والے ایک بچے کی ماں کے پاس سی ایم ایچ سیالکوٹ پہنچا۔ زخمی عقیل اس کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی ننھے عقیل نے وہی مسکراہٹ چہرے پر سجا لی جو اس نے چند روزقبل اقوام متحدہ کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران سجائی تھی اور اس مسکراتے چہرے کو تمام اخبارات نے شائع بھی کیا تھا۔ چھ سالہ زخمی عقیل احمد کی اس محسور کن مسکراہٹ نے دوستوں اور دشمنوں کو بہت بڑا پیغام دیا تھا۔ یقیناًاس کے چہرے کے ان تاثرات نے سفاک دشمن کو بتادیا تھا کہ وہ اس پرعزم اور بہادر قوم کا بیٹا ہے جسے کوئی بھی بزدلانہ کارروائی زیر نہیں کرسکتی۔ یہی پیغام اس ماں کا بھی تھاکہ جس کے دولخت جگر شہید ہوں گئے ہوں اور ایک بیٹا اس کے سامنے شدید زخمی ہو۔ عید کو ایک دن رہ گیا تھا۔ گاؤ ں میں بڑی گہما گہمی تھی۔ عام دنوں میں گاؤں کی گلیوں میں کوئی نہیں ملتا۔ زیادہ تر لوگ شہر میں مختلف فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں اور اکثر کا بسیرابھی وہیں ہوتا ہے۔ عید پر تو ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خوشی کے لمحات اپنوں کے ساتھ گزارے۔ یہی وجہ تھی کہ شام کو گاؤں کی گلی محلوں میں زندگی جوبن پر تھی اور دوتین دکانوں والے بازار میں تو خوب رش تھا۔ ارم بی بی نے بھی اپنے تینوں بیٹوں کی عید کی خریداری مکمل کرلی تھی۔ ان کے نئے کپڑے سلوائے تھے، نئے جوتے لئے تھے مگر پھر بھی بچوں کی کوئی نہ کوئی چیز باقی رہ گئی تھی جسے لینے وہ بازار آگئی۔ یہاں سے اس نے سویّاں بھی خریدیں اور گھر لوٹ آئی۔ گھر میں اس کی آنکھوں کے تارے‘ اس کی ساس‘ سلیمہ کی گود میں اپنے سر رکھے لیٹے ہوئے تھے۔ ماں کو دیکھتے ہی فوراََ اٹھ کھڑے ہوئے اور ضد کرنے لگے کہ وہ ابھی کپڑے پہنیں گے۔ ارم بی بی نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا اور سمجھایا کہ ابھی سو جاؤ۔ کل جلدی سے اٹھ کر انہیں پہن کر عید کی نماز پڑھنے جانا۔ موسم انگڑائی لے چکا تھا تاہم آج سورج کی تمازت کچھ زیادہ تھی ۔ کمروں میں حبس ہونے کی وجہ سے ارم نے صحن میں چارپائیاں بچھا دیں اور تینوں بیٹوں کو وہاں لٹا دیا۔ عدیل اور عقیل آسمان کے تاروں کو دیکھتے اور عید کی خوشیوں کے خواب سجاتے سجاتے نیند کی آغوش میں چلے گئے جبکہ تین سالہ عماد علی ماں سے لپٹا پہلے ہی نیند کی وادیوں میں گم تھا۔ جمیل اختر، ارم کا شوہر جو تھوڑی دیر قبل ہی شہر سے واپس آیا تھا، کھانا کھاتے ہی اپنے دوستوں سے ملنے باہرچلا گیا۔ ارم اور سلیمہ کافی دیر تک باتیں کرتی رہیں۔ ان کی گفتگو کا مرکز ان کے ننھے منے بیٹے ہی تھے۔ ارم اپنے ان پھولوں کے عید کے کپڑوں میں ملبوس ہونے کا تصور کرتے کرتے کب نیند کے آغوش میں چلی گئیں، اسے پتا ہی نہ چلا۔ ارم بی بی‘ کمالہ میں پیدا ہوئی تھی جو سیالکوٹ کے چاروہ سیکٹر کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ سیالکوٹ شہر سے تو اس کا فاصلہ بارہ تیرہ کلومیٹر بنتا ہے تاہم ورکنگ باؤنڈری سے یہ زیادہ دور نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بھارتی فوج کی فائرنگ کی زد میں رہتا ہے اور جب بھی فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، اس کی آبادی براہ راست متاثر ہوتی ہے، املاک کو تو نقصان پہنچتا ہی ہے، جان کو بھی خطرات لاحق رہتے ہیں۔ مال مویشی اور کھیتی باڑی کا کام بھی مفلوج ہوکررہ جاتا ہے۔ اس دفعہ بھی فائرنگ کے اکا دکا واقعات نے وہاں کے باسیوں کو الرٹ کردیا تھا تاہم ان کے لئے یہ کوئی زیادہ غیرمعمولی بات نہیں تھی۔ عید کے روز فجر کی اذان کانوں میں پڑتے ہی ارم جاگ اٹھی۔ اس نے ساتھ لیٹے اپنے تینوں بیٹوں کے سر پر ہاتھ پھیرا، ان پراوڑھی چادروں کو درست کیا اور کام کاج میں مصروف ہوگئی۔ سب سے پہلے اس نے بچوں کے کپڑے نکالے اور استری کرنے لگی۔ عدیل، عقیل اور پھر عماد۔ عدیل اور عقیل تو اپنے بابا کے ساتھ عید کی نماز پڑھنے بھی جائیں گے۔ جیسے ہی وہ استری کرنے سے فارغ ہوئی، صحن سورج کی روشنی سے چمک اٹھا تھا اور ہر سو پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دے رہی تھی۔ ارم کا خیال تھا کہ وہ بچوں کے جاگنے سے قبل گھر کے کام ختم کرلے گی مگر اس کی توقع کے برعکس عدیل اور عقیل صحن میں کھیل رہے تھے جبکہ تین سالہ عماد اپنی دادی کی گود میں بیٹھا اُوں آں کررہا تھا۔ ارم بولی: ماں جی، انہیں آپ ابھی اپنے پاس ہی رکھیں‘ میں چولہے پر سویاں چڑھا کر آتی ہوں۔ ابھی وہ مڑی ہی تھی کہ صحن میں ایک زوردار دھماکہ ہوا اورپھر فائرنگ کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ صحن دھوئیں سے بھر گیا۔ وہ دیوانہ وار اپنے بچوں کی طرف بھاگی۔ دھوئیں اور گردوغبار میں اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ گولیاں اس کے دائیں بائیں سے سنسناتی ہوئی گزررہی تھیں۔ گاؤں بھر میں ایک شور برپا ہوگیا۔ ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ وہ اس شور، گولوں کی بوچھاڑ اور گولیوں کی سنسناہٹ سے بے پروا ہوکر اپنے جگر گوشوں کو ڈھونڈ رہی تھی۔ گرد و غبار کے بادل ذرا چھٹے تو اس کی ننھی سی دنیا اجڑ چکی تھی۔ اس کی آنکھوں کے تارے اس کے سامنے بجھ چکے تھے۔ اس کے بڑے بیٹے آٹھ سالہ عدیل کا پورا جسم چھلنی تھا وہ بے سدھ ایک طر ف پڑا ہوا تھا۔دادی چارپائی پر اپنی گود میں موجود اپنے تین سالہ پوتے پر بے حس و حرکت جھکی ہوئی تھی جبکہ چھ سالہ عقیل بھی خون میں لت پت پڑا تھا۔ اس ماں کی کیفیت کیا ہوگی جس کے دوننھے بیٹوں کی لاشیں پڑی ہوں اور ایک شدید زخمی ہو، اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ عید کے روز بھارتی فوج کی فائرنگ نے اس ماں کی دنیا لوٹ لی تھی۔ یہی حال اس گاؤں کے دوسرے گھروں کا تھا۔ بھارتی فوج مسلسل مارٹر گولے پھینکنے کے ساتھ ساتھ شدید فائرنگ کررہی تھی۔ پاک فوج ان کی اس بزدلانہ کارروائی کا بھرپور جواب دے رہی تھی۔ گاؤں کے باسی اس صورتحال میں ایک دوسرے کی مدد کو پہنچ رہے تھے۔ ارم کا شوہر جو اس وقت گھر سے باہر تھا، گھر آیا تو وہ گھر میں پڑی بچوں کی لاشیں دیکھ کر بے حال ہوگیا۔ اس نے عدیل کو اپنے ہاتھوں میں لیا، مگر وہ بے حس و حرکت پڑا تھا۔ وہ بھاگم بھاگ ماں اور اس کی گود میں لیٹے عماد کی طرف بڑھا مگر نہ اس میں زندگی کی رمق تھی نہ ماں کی سانسیں چل رہی تھی۔ اس نے عقیل احمد کوجھنجوڑا۔ اس کی سانسیں چلتی دیکھ کر اس نے اسے اٹھا لیا۔ پاک فوج بھی اس وقت ان کی مدد کو پہنچ چکی تھی۔ زخمی عقیل کو فوری طورپر سی ایم ایچ سیالکوٹ لے جایا گیا۔ اس کی ٹانگوں پر شدید زخم آئے تھے۔ اس اچانک افتادنے تھوڑی دیر کے لئے ان کے حواس چھین لئے تھے۔ ماں اور دو بیٹوں کی اچانک شہادت نے ان کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود اُن کے حوصلے بلند تھے‘ عید قرباں کے روز ان کی جانب سے دی گئی قربانی ایک الگ کہانی بن گئی تھی۔ آفرین ہے ان پر کہ انہوں نے نہ صرف فوری طور پر خود کو سنبھالابلکہ پاک فوج کے تعاون سے گاؤں کے دوسرے زخمیوں کو بھی قریبی ہسپتال پہنچنے میں مدد دی۔ اپنوں کی جدائی کا صدمہ اپنی جگہ مگر وطنِ عزیز کی حفاظت کے عزم سے ان کے چہرے فروزاں تھے۔
لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ شہری آبادی، بہت سے معصوم شہری شہیداور زخمی ہوئے۔ کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔
ارم بی بی نے بتایا کہ اس کا بڑا بیٹا عدیل جماعت اول کا طالبعلم تھا۔ عقیل احمد کلاس پریپ کا طالبعلم ہے اور عماد ابھی تین سال کا تھا۔ ارم نے یہ بھی بتایاکہ تینوں بھائیوں میں بہت پیار تھا اور وہ سارا دن کھیلتے رہتے تھے۔ ایک دوسرے کی جدائی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عقیل احمد کو ابھی تک نہیں بتایا کہ اس کے بھائی اس سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے ہیں۔ وہ اکثر ان کے بارے میں پوچھتا ہے۔ ہم اسے ٹال دیتے ہیں یا بہانہ کردیتے ہیں کہ وہ گھر میں ہیں۔ ارم نے بڑی ہمت اور حوصلے کے ساتھ ہمیں تفصیلات بتائیں مگر ہم میں اس ماں کی دکھ بھری داستان سننے کی ہمت نہ تھی۔ بڑی مشکل سے ہم نے جذبات پر قابو پارکھا تھا مگر بہت سوں کے آنسو چھپائے نہ چھپتے تھے۔ میں نے عقیل سے بھی بات کرنے کی کوشش کی مگرجیسا کہ میں پہلے ذکر کرچکا ہوں کہ اس کی مسکراہٹ میں ہی اس کا سارا پیغام پنہاں تھا۔ ارم بی بی نے مزید بتایا کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پربھارتی فوج کی بزدلانہ اور بلااشتعال فائرنگ سے سویلین آبادی کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ جس کے نتیجے میں بہت سے گھروں میں وہی سانحہ برپا ہے ہمارے ساتھ رونما ہوا۔ ارم کے گاؤں کمالہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں بگیاڑی ہے۔ وہاں بھی عید کے روز ہونے والی بھارتی فوج کی فائرنگ سے بہت سے نہتے شہری زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک نوبیاہتا جوڑا بھی شامل ہے۔ بیلا اور مستنصر کی شادی ایک ماہ قبل ہوئی تھی۔ مستنصر لاہور میں ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے وہ اپنی دلہن کو اپنے ساتھ وہیں لے گیا۔ عید پر وہ گاؤں آئے تھے۔ عید کے روز صبح جب سب تیاریوں میں مصروف تھے، بھارتی فوج نے گاؤں پر شدید فائرنگ کردی۔ ان کے گھر میں بھی مارٹر کا گولہ آن لگا۔ جس سے دونوں شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طورپر سی ایم ایچ سیالکوٹ منتقل کیا گیا۔ جہاں بیلا تو زندگی کی طرف لوٹ آئی تاہم اس کا شوہر مستنصر ابھی تک موت وحیات کی کشمکش میں ہے۔ بیلا کے ہاتھوں کی مہندی ابھی ماند نہیں پڑی تھی۔ اللہ کرے اس کا سہاگ سلامت رہے۔ بھارتی فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک اور شخص محمد کبیر کا تعلق چاروہ سیکٹر کے گاؤں دھمالہ سے ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ عید کی نمازکی تیاریوں میں مصروف تھا کہ بھارتی فوج نے گاؤں پر اچانک مارٹر کے گولے برسانا شروع کردیئے۔ ایک گولہ ان کے صحن میں پھٹا جس کے ٹکڑے اس کے جسم میں پیوست ہوگئے۔ اس کے بعداسے کوئی ہوش نہ رہا۔ جب ہوش آیا تو وہ سی ایم ایچ سیالکوٹ میں زیرعلاج تھا۔ کبیر نے مزید بتایا کہ بھارتی فوج کی سویلین آبادی پر فائرنگ معمول کی بات ہے تاہم اس دفعہ ان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ جس سے عام شہریوں کو شدید تکلیف کا سامنا ہے۔ بھارتی فوج شہری آبادی کو براہ راست نشانہ بنا رہی ہے۔ کسانوں پر فائرنگ کی جاتی ہے حتیٰ کہ سکول کے بچوں تک کو زد میں لیا جاتا ہے۔ فائرنگ سے ہر گھر کے درودیوار پر گولیوں کے نشانات ہیں۔ کئی گھروں کی چھتیں مارٹر گولوں سے تباہ و برباد کردی گئی ہیں۔ ایک زخمی شبیر احمد کا تعلق چپراڑ سے ہے۔ چپراڑ سیالکوٹ شہر اور چھاؤنی سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں کی شہری آبادی ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ ساتھ ہے اور بھارتی فائرنگ کی زد میں ہے۔ عید کے دوسرے روز بھارتی فوج نے یہاں شدید گولہ باری اور فائرنگ کی جس سے یہاں نہ صرف کاروبار زندگی مفلوج ہوگیا بلکہ بہت سے شہید اور زخمی بھی ہوئے۔ شبیر احمد کی چپراڑ روڈ پر کریانے کی دکان ہے۔ اس نے بتایا کہ عید کے روزبھارتی فوج کے مارٹر گولوں اور شدید فائرنگ نے شہریوں کو اپنی زد میں لے رکھا تھا۔ فائرنگ کا سلسلہ صبح سے شام تک جاری رہا۔ شام ہوئی تو میرا ایک دوست آصف محمود میرے پاس آیا اور مجھے گھر واپس چلنے کو کہا۔ میں نے دکان بند کی اور اس کے ساتھ گھر چل پڑا۔ ابھی ہم گاؤں میں داخل ہی ہوئے تھے کہ مارٹر کا ایک گولہ عین ہمارے بیچ آن گرا۔ ہم دونوں شدید زخمی ہوگئے۔ آصف محمود تو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا جبکہ میں بے ہوش ہوگیا اور مجھے سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا۔ پاک فوج ، بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کا شدید اور مؤثر جواب دے رہی ہے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بھارتی بزدلانہ کارروائی سے سویلین آبادی کوبہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ عورتیں، بچے بوڑھے، جوان سبھی ان کی زد میں ہیں۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے چاروہ، ہرپال، چپراڑ سیکٹر کے علاوہ بجوات سیکٹر جہاں 87دیہات آباد ہیں، کی آبادی بھی براہ راست متاثر ہوئی ہے۔یہ حقیقت بھی بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہاں کے باسیوں کو اپنی افواج کی بہادری اور صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور وہ بھی ان کے شانہ بشانہ کسی بھی مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تاہم ضرورت اس امرکی ہے کہ عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ بھارت کی اس بلااشتعال فائرنگ کا نوٹس لے اور جتنی جلدی ممکن ہو اس مسئلے کا حل نکالے۔ ورنہ جہاں ارم اور عقیل جیسے انسانی المیات جنم لیتے رہیں گے وہاں دنیا کا امن بھی خطرات سے دوچار رہے گا۔

یہ تحریر 74مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP