متفرقات

عید کے رنگ فوجی بھائیوں کے سنگ

رات کا گھپ اندھیرا۔۔۔ میری عمر تقریباً اکتیس سال ہے پہلی مرتبہ کھلے آسمان تلے رات گزارنے کے امتحان سے گز رہا تھا۔ فوجی جوانوں کے بوٹوں کی دھمک اور وقفے وقفے سے فائرنگ نے مجھے شدید تھکاوٹ کے باوجود آنکھ لگنے سے کوسوں دور رکھا تھا۔ میری پریشانی کو بھانپتے ہوئے ایک فوجی جوان نے تسلی دی اور کہا کہ بے فکر ہو جاؤ۔ جب ہم جاگتے ہیں تو آپ کو جاگنے کی ضرورت نہیں۔ میری آنکھیں اُس کے اس جذبہ ایثار پر بے اختیار نم ہو گئیں۔
عید ایک ایسا مذہبی تہوار ہوتا ہے جسے لوگ اپنے اپنے علاقے میں ہی منانا چاہتے ہیں۔ اس مرتبہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے یا باامر مجبوری اپنے علاقے سے باہر ہی گزارنا تھا۔ قارئین کو بتاتا چلوں کہ شمالی وزیرستان میں رزمک سب ڈویژن وہ علاقہ ہے جہاں حالات نسبتاً پُرامن ہیں اور میراتعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ بہرحال جیسے جیسے عید قریب آتی رہی میرے اوپر بچوں کا پریشر بڑھتا رہا۔ قصہ مختصر ایک دن بائیسویں رمضان کو رزمک ڈویژن کے باسیوں کے لئے راشن لے جانے والی کانوائے میں مجھے بھی اجازت ملی اور ہم براستہ ٹانک اور جنوبی وزیرستان رزمک کے لئے روانہ ہوئے۔ آگے کا سفر کئی لحاظ سے منفرد اور دلچسپ رہا۔ ایک تو جولائی کے سخت روزے اور دوسرا فوجیوں کے ساتھ سفر۔ اس نے میرے اس سفر کو ہر لحاظ سے یادگار بنا دیا۔ وزیرستان کا باسی ہونے کے ناطے میرے بچوں نے فوجی جوانوں کو کرفیو کے دوران نسبتاً سختی کرتے ہوئے دیکھا تھا تاہم فوجیوں کو اپنے قریب خوشگوار موڈ میں دیکھ کر میری چار سالہ بیٹی جو بہت باتونی بھی ہے‘ بار بار ایک ہی سوال پوچھتی رہی کہ یہاں کے انکل فوجی تو بہت شریف ہیں وہاں وزیرستان میں تو۔۔۔ میں نے ہمیشہ بات ٹالنے کی کوشش کی مگر پھر مجبوراً جواب دیا۔ ’’ہاں یہ فوجیوں کی دوسری فارم ہے۔ جس طرح تم
بہرحال ہم جنوبی وزیرستان میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایک طرف جنوبی وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑ اور گھنے جنگلات اور دوسری طرف پاک فوج کی طرف سے بنائی گئی کشادہ سڑک۔۔۔ وزیرستان جیسے علاقے میں اتنی خوبصورت اور کشادہ سڑک جو کہ بڑے بڑے سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں بنائی گئی ہے۔ یقیناًپاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے بلند حوصلوں کی مظہر ہے۔
لوگ پڑھتے ہو گڈ‘ بیٹر‘ بیسٹ وغیرہ۔ یہ حالتِ جنگ میں نہیں اس لئے فولاد نہیں بریشم ہیں۔‘‘ بہرحال ہم جنوبی وزیرستان میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایک طرف جنوبی وزیرستان کے سنگلاخ پہاڑ اور گھنے جنگلات اور دوسری طرف پاک فوج کی طرف سے بنائی گئی کشادہ سڑک۔۔۔ وزیرستان جیسے علاقے میں اتنی خوبصورت اور کشادہ سڑک جو کہ بڑے بڑے سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں بنائی گئی ہے۔ یقیناًپاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے بلند حوصلوں کی مظہر ہے۔ ہمارا اگلا پڑاؤ سرہ روغہ کا مقام ہے جہاں ہمارا قافلہ چند منٹوں کے لئے رک گیا۔ بچوں نے کچھ کھانے پینے کی چیزوں کی فرمائش کی تو قریب کھڑے جوان کو بچوں کی ضرورت سے آگاہ کیا انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ سینئر سے اجازت لینا پڑے گی۔ سپاہی سے لانس نائیک‘ پھر نائیک‘ حوالدار اور صوبیدار تک بات پوچھتے پندرہ منٹ گزر گئے۔ اور یوں ہم آگے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ سرہ روغہ سے تھوڑا آگے جا کر ہم افطاری کے لئے رک گئے۔ مقامی لوگوں نے اپنی بساط کے مطابق مہمان نوازی کی اور اسی دوران فوجی جوان کمال نظم و ضبط کے ساتھ کھڑے رہے۔ ہمارے بار بار کہنے کے باوجود ہمیں کھلایا اور بعد میں خود روزہ افطار کیا۔ قارئین کو بتا دوں کہ اگر کبھی فوجیوں کے ساتھ سفر کرنا ہو تو ذہن میں ایک بات یاد رکھیں کہ اب آپ کا اپنا اختیار ختم‘ وِسل کے ساتھ اُٹھک بیٹھک شروع۔ اُن سے پوچھ کر کھانا پینا اور اپنی قدرتی ضروریات پوری کرنا اور اگر آسان باش ہوشیارباش کے ساتھ شناسائی ہو تو سفر قدر آسان ہو گا۔ ہمارا اگلا پڑاؤ دواتوئی کا مقام تھا جہاں ہم نے رات بسر کی۔ دواتوئی ایک خوبصورت وادی ہے۔ رات کو اندھیرے میں پانی کا شور اور فوجی جوانوں کے وسل بجانے کا شور جب آپس میں مل جاتے تو دل کو ایک عجیب احساس دلاتا کہ آخر فوج بھی اپنی‘ عوام بھی اپنے‘ مذہب بھی ایک مگر اس کے باوجودیہ کون لوگ ہیں جو اپنی فوج اور اپنی ہی عوام کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔۔۔ رات کا گھپ اندھیرا۔۔۔ میری عمر تقریباً اکتیس سال ہے پہلی مرتبہ کھلے آسمان تلے رات گزارنے کے امتحان سے گز رہا تھا۔ فوجی جوانوں کے بوٹوں کی دھمک اور وقفے وقفے سے فائرنگ نے مجھے شدید تھکاوٹ کے باوجود آنکھ لگنے سے کوسوں دور رکھا تھا۔ میری پریشانی کو بھانپتے ہوئے ایک فوجی جوان نے تسلی دی اور کہا کہ بے فکر ہو جاؤ۔ جب ہم جاگتے ہیں تو آپ کو جاگنے کی ضرورت نہیں۔ میری آنکھیں اُس کے اس جذبہ ایثار پر بے اختیار نم ہو گئیں۔ بہرحال وسل بجھتے ہی فوجی جوان آگے بڑھے اور مین سڑک پر سحری کے لئے دسترخوان بچھا دیا۔ ڈسپلن پاکستانی فوج کا ہی ہمیشہ طرہ امتیاز رہا ہے۔ سکیورٹی پر مامور جوانوں نے ہمیں سحری کھلائی اور یوں اگلے روزے کے لئے ہم تیار ہوئے۔ قصہ مختصر اگلی صبح ہم شمالی وزیرستان کے پرفضا مقام رزمک میں داخل ہوئے اور یوں میرا ایک طویل‘ پُرخطر اور دلچسپ سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ پورے سفر میں جو چیزیں میں نے دیکھیں وہ فوجیوں کا عظیم نظم و ضبط‘ بہادری اور جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کی طرف سے خوبصورت اور کشادہ سڑک تھی۔ ایک چیز یہ بھی سیکھی کہ جو سفر فوجیوں کے ساتھ ہو تو کبھی غلطی سے صوبیدار کوحوالدار مت کہنا اور ہاں آسان باش‘ ہوشیار باش وغیرہ سے روشناس ہونا بھی ضروری ہے اور ہاں کبھی یہ مت سوچنا کہ فوج تمھیں تنہا چھوڑے گی۔
سرہ روغہ سے تھوڑا آگے جا کر ہم افطاری کے لئے رک گئے۔ مقامی لوگوں نے اپنی بساط کے مطابق مہمان نوازی کی اور اسی دوران فوجی جوان کمال نظم و ضبط کے ساتھ کھڑے رہے۔ ہمارے بار بار کہنے کے باوجود ہمیں کھلایا اور بعد میں خود روزہ افطار کیا۔
غزل

تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہُوں

میں دشمنوں میں ہوں کہ تیرے دوستوں میں ہوں

مجھ سے گریز پا ہے تو ہر راستہ بدل

میں سنگِ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں

تو آ چکا ہے سطح پہ کب سے خبر نہیں

بے درد میں ابھی انہیں گہرائیوں میں ہوں

اے یارِ خوش دیار تجھے کیا خبر کہ میں

کب سے اُداسیوں کے گھنے جنگلوں میں ہوں

تو لوٹ کر بھی اہلِ تمنا کو خوش نہیں

میں لُٹ کے بھی وفا کے اُنہی قافلوں میں ہوں

بدلا نہ میرے بعد بھی موضوعِ گفتگو

میں جا چکا ہوں پھر بھی تری محفلوں میں ہوں

مجھ سے بچھڑ کے تو بھی تو روئے گا عمر بھر

یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں

تو ہنس رہا ہے مجھ پہ مرا حال دیکھ کر

اور پھر بھی میں شریک ترے قہقہوں میں ہوں

خود ہی مثالِ لالۂ صحرا لہو لہو

اور خود فرازؔ اپنے تماشائیوں میں ہوں

احمدفرازؔ

یہ تحریر 13مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP