متفرقات

عید کا مزا وطنِ عزیز میں ہے

کہتے ہیں عید کا مزا وطنِ عزیز پاکستان میں ہی ہے۔ عید کا لطف اپنوں کے ساتھ ہے۔ مجھ جیسے وہ تمام لوگ جو دیارِ غیر میں ہیں کوئی اُن سے پوچھے کہ عید منانا کِسے کہتے ہیں۔ چونکہ بقر عید حال ہی میں گزری ہے تو اس کا تذکرہ کرتی ہوں۔ پاکستان میں ذی الحج کا مہینہ شروع ہونے سے قبل ہی مویشی منڈی جانوروں سے سج جاتی ہے۔ دُور دراز علاقوں سے لوگ قربانی کے لئے جانور خریدنے آتے ہیں۔ اُونٹ، گائے، بیل، بکرا، بھیڑ، دنبہ توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔


جانور کو سجانے کے لئے بھی دیدہ زیب اشیاء دستیاب ہوتی ہیں۔ نیز ان کے لئے چارہ وغیرہ کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ عید سے پہلے گلی محلوں میں بچے جانور لے کے پھرتے ہیں۔ ہر دوسرے گھر سے بکرے کی مَیں مَیں سنائی دیتی ہے۔ نئے کپڑے، نئے جوتے، شاپنگ، مہندی، چوڑیاں سبھی خوب تیاریاں کرتے ہیں۔ عید کے موقع پر قصابوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ ایسے میں بہت سے موسمی قصائی بھی اچانک نمودار ہو جاتے ہیں۔ وہ حضرات جنہوں نے کبھی کھانے کی کٹلری والی چھری کانٹا بھی نہ پکڑا ہو وہ بھی عید پہ قصائی کا روپ دھار کے مال کمانے آ جاتے ہیں۔ ایسے ہی اناڑی قسم کے حضرات کی وجہ سے اکثر قربانی ناقص ہو جاتی ہے۔ چونکہ قربانی کے چند اصول ہوتے ہیں اور اسلامی احکامات کے مطابق جانور حلال کرنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ جہالت کے سبب نہ تو جانور کو صحیح رُخ پر لٹاتے ہیں نہ انہیں چھری پھیرنا آتا ہے۔ قربانی کرنے والے اکثر لوگوں کی نیت کا عالم یہ ہوتا ہے کہ دنیا دیکھ لے ہم نے کتنا مہنگا جانور خریدا ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر فریج اور ڈیپ فریزر بھی ایسے بکتے ہیں جیسے ریڑھی پہ چنے بک رہے ہوں۔ حریص حضرات گوشت تقسیم کرنے کے بجائے گھر میں جمع کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں اور اگر بانٹنا ہو بھی تو عمدہ حصہ اپنے پاس ہی رکھ لیتے ہیں۔ شوقین حضرات سوشل میڈیا پر جب تک اپنے بکرے یا گائے کی تشہیر نہ کر لیں قربانی نہیں کرتے۔ بکرے کے ساتھ سیلفی جب تک فیس بک پر نہ لگے عید کا مزا نہیں آتا۔ پھر عید مبارک کے پیغامات بھیجنا بھی اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے لئے بکرے کی تصویر والے کارڈ ہوتے تھے۔ آج کل بہت سے لوگ بکرے کی جگہ اپنی فوٹو لگا کر عید مبارک کے پیغامات فون پر میسج بھیج رہے ہوتے ہیں۔


عید الاضحی پر چٹورے افراد کی تو چاندی ہو جاتی ہے۔ یہ لوگ جیب میں چورن کی ڈبی رکھ کر ہر جگہ گھومتے ہیں۔ جہاں گوشت ڈکارا ایک چٹکی ہاضمے کا چورن بھی ساتھ پھانک لیا۔ باربی کیو کے متوالے تو سبھی ہوتے ہیں مگر اپنا پیٹ سمجھ کے کباب یا تکے کھانے کا ظرف کسی کسی کے پاس ہوتا ہے۔ یہ لوگ گوشت کی بنی ڈشوں پر ایسے حملہ آور ہوتے ہیں جیسے پھر زندگی میں دوبارہ یہ موقع کبھی نہ ملے گا۔


اب کچھ حال ہمارے ٹی وی چینلز کا جہاں عید ہو یا نہ ہو۔ چوبیس گھنٹے تماشا لگا رہتا ہے۔ تفریح کے نام پر امسال بھی ٹھمکے جھمکے جھٹکے مٹکے سب چلا رہے تھے۔ تین چار دن عید کا ہنگامہ برپا رہا۔ اس عرصہ میں آلائشوں کا ڈھیر ہر گلی کوچے میں لگتا رہا۔ کروڑوں لوگوں نے قربانی کی مگر انتظامیہ نے آلائشیں ٹھکانے لگانے کے لئے کسی غیبی امداد کا انتظار کیا۔ اسے یہ نہیں معلوم کہ کچرا کیسے اٹھے گا۔ کہاں جائے گا۔ نہیں جائے گا تو تعفن پھیلے گا، بیماریاں پھیلیں گی مگر ہوٹل والوں کا بھلا ہو گا جوان آلائشوں کو بروئے کار لائیں۔میڈیا نے تاہم اس حوالے سے نیک کام یہ کیا کہ آلائشوں کے ڈھیر دکھائے تاکہ غافلوں کو ہوش آ جائے۔ مگر صاحبو! یہاں عید کا مطلب ہوتا ہے ہفتہ دس دن کی لمبی تعطیلات لہٰذا بھلے دنیا چیختی رہے بھلے مانسوں کے کانوں پہ جوں تک نہ رینگی۔ یہ دس دس دن کی چھٹیاں تو ٹھیک ہے مگر ان چھٹیوں میں کسی کو تو کام کرنا ہی ہو گا مگر کام کے نام سے ہمارے لوگوں کو بخار چڑھ جاتا ہے۔ بہرحال جو بھی ہو پاکستان میں بقر عید کی رونق لاجواب ہوتی ہے۔ یہاں کینیڈا میں تو پتہ ہی نہیں چلا کہ عید کب آئی کب گزر گئی۔ چونکہ عید ورکنگ دنوں میں تھی۔ لہٰذا سبھی کام کرتے رہے۔ تاہم بعض لوگوں نے عید کے پہلے دن آدھی یا پورے دن کی چھٹی لی۔ مجھے تو کہیں کسی بھی گائے بکرے کے دیدار کا موقع نہ ملا۔ یہاں کوئی مویشی منڈی تو ہوتی نہیں نہ ہی گھر کے صحن میں جانور لا کر باندھنے کا رواج ہے۔ یہاں عید پر حلال گوشت کی دکانوں پر جا کر قربانی کی بکنگ کراتے ہیں وہ قربانی کر کے گوشت کے پارچے بنا کر دے دیتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ فارم پر جا کے بکرا خرید کے ذبح کریں پھر بعد میں اس کے حصے بنوا لیں۔ زیادہ مقبول حلال گوشت کی دکانوں کا سسٹم ہے۔ زیادہ تر لوگ تو قربانی پاکستان میں ہی کرواتے ہیں۔ وہ بہتر اور آسان رہتا ہے۔


میری چند سہیلیوں نے عید سے پہلے ہی ویک اینڈ پر عید ڈنر کا اہتمام کر دیا۔ کیونکہ وہ جاب کرتی ہیں اور شام میں تھک کے واپس آنے کے بعد دعوت کرنا ممکن نہیں۔ ویسے تو یہاں تقریباً سبھی لوگ کام کرتے ہیں لیکن بعض بہادر لوگوں نے عید کے دن بھی دعوت کا اہتمام کیا۔ عید سے پہلے عید ڈنر کو چاند رات ڈنر کا نام دیا گیا۔ بڑا مزا آیا۔ لڑکیوں نے مہندی لگائی۔ گفٹ بھی دیئے گئے۔ تاہم جو ہلا گلا پاکستان میں ہوتا ہے اس سے مقابلہ نہیں۔ ویسے بھی جب سے موسم تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے گھر کے باہر جیسے ہو کا عالم ہوتا ہے۔ پاکستان میں عید پر سب دوست احباب ایک دوسرے کے گھر عید ملنے جاتے ہیں۔ یہاں کینیڈا میں پہلے فون کر کے پوچھتے ہیں کہ کیا ہم آ جائیں؟ اور ویسے بھی عید، بقر عید پر تو جس کو بلایا جائے وہی وزٹ کرتا ہے۔ بغیر بلاوے کسی کے گھر کوئی نہیں جاتا۔ مجھے تو حیرت بھی ہوتی ہے اور ڈپریشن بھی۔ ہم تو ساری زندگی اپنے رشتہ داروں کے گھر جب جی چاہا منہ اٹھائے چلے گئے۔ یہاں تہواروں پر بھی کوئی تصور نہیں کہ اچانک پہنچ جاؤ۔ عید پر جب کوئی مدعو کرے تبھی جاؤ اور اگر بالغرض محال بہت قریبی تعلق ہے اور ملاقات ضروری ہے تو پہلے فون کریں۔ وہ فارغ ہوں گے تو اٹینڈ کر لیں گے ورنہ فون پہ پیغام ریکارڈ کروا دیں۔ بہت زیادہ تڑپ ہو رہی ہے تو ایس ایم ایس کر دیں کہ آپ عید ملنے آنا چاہتے ہیں۔ ویسے یہاں پر عید پر بھی لوگ مصروف ہوتے ہیں۔ دس دس دن کی کیا ایک دن کی چھٹی بھی مشکل سے ہی ملتی ہے۔ اسے لوگ صحیح استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ عید پر بھی بیشتر افراد دفتر میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں مہمان نوازی کا تصور بھی محال ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کی عید یاد آنا فطری ہے۔ عید ، باسی عید، تباسی عید سب پاکستان میں۔ یہاں صرف یاسِ عید ہے۔


مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ 

[email protected]

 

یہ تحریر 59مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP