متفرقات

عہدِکرونا میں سماجی و معاشی زندگی کیسی ہو  

آج تاریخ انسانی نئے موڑ پر کھڑی ہے جب کھلی آنکھ سے نظرنہ آنے والے ایک جرثومے نے کھیل کے میدانوں ، بازاروں ، مذہبی مقامات، درسگاہوں ، گلی کوچوں اور فیکٹریوں کو ویران اور کاروبار زندگی کو جام کر کے رکھ دیا ہے۔ جس سے کوئی بھی خطہ ، مذہب اور طبقہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ۔ وائرس نے سپر پاور امریکہ، اٹلی ، سپین ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی جیسے دیگر  ترقی یافتہ ممالک کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ۔
آج بنی نوح انسان گھروں میں مقید ہے اورہسپتال مریضوں سے اَٹے پڑے ہیں ۔ کارخانوں کی چمنیوں نے دھواں اگلنا چھوڑ  دیا ہے جبکہ سڑکیں ویران ہیں ۔ اب تو عالمی ادارہ صحت کے خیال میں کورونا سے نجات شاید ہی ممکن ہو۔ لیکن جانداروں کا مسئلہ یہ ہے کہ  ایک حد سے زیادہ پابندیاں ان کی فطرت کے خلاف ہیں ۔  ایسے میں نئے ورلڈ آرڈر کی باز گشت سنائی دے رہی ہے جو فرد سے لے کر ریاست تک ہر کسی کو نئی طرز زندگی و فکرکی خبر دے رہا ہے۔ ایسا لائف سٹائل جس میں احتیاط ہو ، مصافحہ ہو نہ معانقہ ۔وہاں باہم مل بیٹھنا تو دور کی بات ہے ۔
 کپڑوں او ر جوتوں کے بعد دور جدید میں موبائل فون انسانی زندگی کا اہم جزو بن چکا ہے۔ لیکن اب ماسک ، دستانے اورجراثیم کش دستی محلول (سینیٹائزر) بھی اس عہد کا خاصہ بنانا ہوںگے ۔ جی ہاں وہی ماسک جو کبھی صرف ڈاکٹروں سے منسوب تھا ، وہی سینیٹائزر جوصرف آپریشن سے پہلے طبی عملہ استعمال کرتا تھا  اب سب کے لئے ہے۔ سماج کے بنیاد ی تصورات ،میل جول ، قربت ، تعلق داری کے تقاضے بدلنے ہو ںگے ۔  خیر خبر فون پر ہو تو بہترین ، وگرنہ 6فٹ کا فاصلہ ناگزیر ہے ۔ اجتماعیت کوآن لائن ہی رواج دینا پڑے گا، جیسے آن لائن عقد ۔اب دعوت عام کو دعوت عام بمعہ احتیاط میں بدلنا ہوگا۔ یوں بھی سوشل میڈیا نے انسان کو ذہنی طور پر اس کے لئے تیار تو پہلے سے ہی کر رکھا ہے ۔ مشکل ہو گی تو پرہجوم گھروں ، علاقوں اور ممالک کو کہ ایک ایک گھر بیس بیس افراد کا مسکن ہے ۔ فی کلو میٹر آبادی ہزاروں میں لیکن جب جان پر بن آئی ہے تو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہو گا ۔
 شاید یہ ضبط تولید کی آفاقی یاد دہانی ہی ہوکہ ماضی کا تصور '' کم بچے ، خوشحال گھرانہ '' اب '' کم بچے ، خوشحال و صحت مند گھرانہ '' میں تبدیل کر نا ہوگا ۔ صحت بھی ایسی کہ کل تک ماڑے موٹے سمجھے جانے والے مرض کھانسی ، زکام اور بخار اب  ان کو عام نہیں سمجھنا۔ داخلے کے بعد باہر سے صرف ہمارے علاوہ کچھ گھروں میں داخل نہ ہو، جوتے نہ کپڑے ۔
 خود کو جراثیم کش صابن سے دھو دھا کر ، صاف ستھرے ہو کر اہل خانہ سے معاملات کریں ۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ گھروں میں کوئی اور نہیں کہیںہم خود کرونا لانے کا سبب نہ بن جائیں ۔متمو ل خاندان لیکن ملازموں کا کیا کریں ،ڈرائیور، خانساماں ، خادمائیں اور تو اور  صفائی والے یا والیاںجن کے بغیر نازک ہڈیاں چٹخنے کا خطرہ ، کمر دہری ہونے کا خدشہ ۔ ان کے نہ آنے سے درمیانے طبقے کے کچھ روپے تو بچیں گے لیکن نازک مزاجی کا کیا کریں ۔ کرنا کیا ہے بس احتیاط انہیں بھی ماسک اوردستانے پہنائیں ، بیمار ہوں تو چھٹی دے دیں بمعہ تنخواہ تاکہ اپنی بیماری چھپاتے نہ پھریں ۔ خدا ترسی کی خدا ترسی اور حیلے کا حیلہ ۔   
انسانی زندگی، فکرِ معاش کے بغیر ممکن نہیں، کہ کمائے گا تو کھائے گا اور جسم و جاں کا تعلق برقرار رکھ پائے گا ۔ فیکٹریوں کا پہیہ چلے گا تو نسل انسانی کی گاڑی رواں دواں رہ سکے گی۔ لیکن کارخانوں میں تو سب مل کر کام کرتے ہیں تو کچھ بن پاتا ہے ۔اس ظالم وائرس کو تو زندگی ہی اکٹھے ہونے سے ملتی ہے ، تو پھر کیا کریں ۔ کرنا کیا ہے صرف ممکنہ حد تک احتیاط بذریعہ سماجی فاصلہ اور ماسک۔ خوف سے زیادہ احتیاط اپنانا ہوگی ۔ ملیں توفاصلے سے ، دلوں کا نہیں، جغرافیہ کا ۔ کام کریں تو ماسک و دستانے پہن کر ، بیمار ہوں تو سماجی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے خود کو علیحدہ کر لیں ،صرف دفتری ساتھیوں سے ہی نہیں بلکہ اہل و عیال سے بھی ۔ احتیاط اس لئے کہ شاید سامنے والا صاحب فراش ہو یا شاید کم ہی خدا نخواستہ کرونا زدہ ہوں ۔پر ہجوم کوچہ و بازاروں کو اب قصہ ماضی بنانا ہوگا جو ہم اگلی نسلوں کو سنایا کریں کہ کبھی یہاں کھوے سے کھوا چھلتا تھا ۔ اس کے علاوہ جب تک اس کی کوئی دوا ( بقول چینی ماہرین ) یا انسانی رگوں میں اترنے والی ویکسین ایجاد نہیں ہوتی تب تک سائنسدانوں اور ماہرین کے مشوروں پر عمل۔ وگرنہ جوتباہی امریکہ ،اٹلی ،برطانیہ ، چین ، ایران اور دیگر شہروں میں افسانوی طرز پر زندہ حقیقت بن کر پھیلی ہے کہیں  وہ خدا نخواستہ ہمارا مقدر بھی نہ بن جائے ۔  
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ بزرگ شہری یا پہلے سے کسی مرض مثلاً دمہ ، ذیابیطس، دل کی بیماری وغیرہ میں مبتلا افراد کو زیادہ خطرہ ہے ۔ مرد تو خصوصاً خبردار ہوجائیں کہ یہ خواتین کے مقابلے میں ان پر زیادہ فریفتہ ہوتا ہے ۔ بار بار منہ ، آنکھوں ، ناک اور تو اور کانوں کو چھونے والے حضرات کان کھول کر سن لیں کہ وائرس ان ہی ذرائع سے انسانی جسم میں داخلے کا پاس لیتا ہے او ر ایسا کر کے اسے یہ سہولت دینے والا کوئی اور نہیں ہم خود ہی ہوتے ہیں بلکہ کسی دکان پر جائیں تو کائونٹر چھونے سے باز رہیں کہ نہ جانے اُسے آپ سے پہلے کس کس نے چھو رکھا ہو ۔
 برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق 78فیصد متاثرین میں مرض کی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں ۔ بس یادرکھنے کی بات ہے کہ سر درد ، سانس کا پھولنا یا سانس لینے  میں دشواری،تھکن، پٹھوں کا درددیگر علامات ہوتی ہیں ۔
کھانستے یا چھینکتے وقت منہ کو ٹشو سے ڈھانپیں ، پھراُس کے بعد فوراً ہاتھ بھی ضرور دھوئیں ۔ مبادا گھروں میں کوئی اور نہیں ہم خود کرونا لانے کا سبب نہ بن جائیں ۔پہلے تو سنا تھا کہ علامات ظاہر ہونے تک مریض سے اس کی دوسروں تک منتقلی ممکن نہیں لیکن چینی سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ علامات کے ظہور سے قبل بھی انفیکشن پھیل سکتا ہے ۔لہٰذا ماسک کا استعمال بہت ضروری ہے اورماسک بھی کوئی عام نہیں N95جو ہوامیں شامل 95فیصد اورN99 تو 99فیصد ذرات کو فلٹر کرتا ہے ۔99.97فیصد ذرات روکنے والا ماسک چاہئے تو N100لے آئیں ۔یاد رکھیں سرجیکل ماسک سادہ ترین ہے جو چھینکوں یا کھانسی سے نکلنے والے قطروں کو تو روک سکتا ہے لیکن 100نینومیٹر والے وائرس کے ذرات سے نہیں بچا پاتا، ایک نینو میٹر ایک میٹر کا اربواں حصہ ہوتا ہے۔ان تمام باتوںکو مدِنظر رکھ کر ہی ہم سماجی اور معاشرتی سطح پر اس وبا کو ختم کرسکتے ہیں اس حوالے سے ہمیں بطورِ فرد اپنی اپنی ذمہ داری بطریقِ احسن  نبھانی ہے


مضمون نگار ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔
 

یہ تحریر 66مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP