متفرقات

عوام کا سکور کارڈ

سکول وین میں گیس سلنڈر دھماکے سے پھٹ گیا‘ سترہ معصوم بچے جھلس کر ہلاک۔ ریلوے پھاٹک عبور کرتے ہوئے موٹر سائیکل رکشے کو ٹرین نے روند ڈالا‘ پندرہ افراد ہلاک۔ ایک سکول بس حادثے کا شکار‘ بچوں سمیت سینتیس افراد جاں بحق۔ ایک مکان میں شارٹ سرکٹ سے آتشزدگی‘ تین بچیاں جل کر مر گئیں۔ دو بچے کھیلتے ہوئے گٹر میں گرکر مر گئے۔ ایک پلازے میں آگ لگنے سے پچیس افراد ہلاک‘ نوجوان آگ سے بچنے کے لئے کھڑکی سے جھول گیا اور توازن برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے سڑک پر گر کر مر گیا۔ ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے پچیس افرد جل کر ہلاک ہو گئے۔ ایک شکستہ حال عمارت گرنے سے اس میں موجود چونتیس افراد ہلاک ہو گئے۔ ایسی خبریں ہم آئے دن اخبارات میں پڑھتے ہیں۔ ایک دن کی شہ سرخی‘ وزیر اعلیٰ کا نوٹس‘مرنے والوں اور زخمیوں کے لئے امداد کا اعلان۔ کسی معصوم بچے کی ہلاکت کا ازالہ کتنے کروڑ سے کیا جا سکتا ہے۔ دو چار ہفتوں کے لئے متعلقہ اداروں پر نام نہاد کریک ڈاؤن اور اس کے بعد ۔ بزنس ایز یویوئل یہ ہے خلاصہ ہماری گڈ

گورننس کا۔

 

حکمرانوں کا تو اس میں جو قصور ہے سو ہے‘ عوام بھی برابر کے مجرم ہیں۔ اگر پورا معاشرہ ہی سسٹم کو شکست دینے پر تل جائے توپھر کوڑا اٹھانے

والی وین کے ساتھ بھی فوجی ٹرک بھیجنے پڑیں گے۔ ابھی تو بات فقط پولیو کے قطروں تک پہنچی ہے۔ جتنے حادثات اوپر گنوائے گئے ہیں‘ ان میں سے کسی کا تعلق بھی دہشت گردی یا مذہبی منافرت جیسے حساس مسئلے سے نہیں۔ (وہاں تو یوں بھی ہمارے پرجلتے ہیں) یہ تمام حادثات حکومتی اداروں کی نالائقی اور خود عوام کی قانون کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے ہوئے۔ یہ حادثات اس لئے پیش آئے کیونکہ حکومتی اداروں نے معمول کے قوانین پر عمل درآمد کروانا سرے سے چھوڑ دیاہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔پہلی یہ کہ حکومت نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اس نے اوپری سطح پر صاف ستھرے‘ دودھ سے دھلے اور مہنگے ترین واشنگ پاؤڈر سے ڈرائی کلین شدہ افسران کو تعینات کر دیا ہے جن کی پاکدامنی کی گواہی جنت کی حور سے بھی لی جا سکتی ہے۔ لہٰذا اب اگر کوئی ان پر تنقید کرتا ہے تو لازماً اس میں تنقید کرنے والے کا اپنا مفاد پوشیدہ ہو گا، وگرنہ ایسے فرشتہ سیرت افسران تو چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔ یہ مفروضہ سراسر غلط ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ زیادہ تر خرابی نچلی سطح پر ہے۔ مگر اوپری سطح پر احساس ذمہ داری بالکل مفقود ہے۔ ہم نے بدعنوانی کو ہی کرپشن سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ نااہلی اور نالائقی اس سے کہیں بڑا جرم ہے۔ جو افسران اضلاع میں تعینات ہیں کیا ان کی نظروں کے سامنے قانون کی دھجیاں نہیں اڑائی جاتیں؟کیا ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے؟ لہٰذا یہ سمجھنا کہ اوپری سطح پر سب اچھا ہے اور تمام خرابی نیچے ہے دراصل ایک ایسا مفروضہ ہے جو مسائل کی بنیادی جڑ ہے۔

 

دوسری وجہ پلیئینگ ٹو دی گیلری ہے یعنی ایسے منصوبوں کا اجرا کیا جائے جن سے عوام کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں۔ وہ دانتوں میں انگلیاں داب لیں اور ان کا حال طلسم

ہوشربا کے اس شہزادے کی مانند ہو جائے جو شہزادی کو دیکھ کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا تھا۔ نقصان اس کا یہ ہوتا ہے کہ اصل مسائل کی طرف سے توجہ ہٹ جاتی ہے اور ترجیحات بدل ہو جاتی ہیں۔ انتظامیہ اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں ان منصوبوں پر صرف کرنا شروع کر دیتی ہے جو حکمرانوں کی ترجیح میں شامل ہوتے ہیں اور باقی تمام مسائل پس پشت ڈال دیئے جاتے ہیں۔ پھر جونہی کوئی حادثہ ہوتا ہے سب ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے ہیں اور دوچار معطلیاں ہوتی ہیں۔ انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں‘ گیلری کا موڈ دیکھ کر اقدامات کئے جاتے ہیں اور پھر وہی کاروبار ۔ کوئی ایسا نظام نہیں وضع کیا جاتا جس سے آئندہ ان حادثات کا امکان کم ہو جائے اور ذمہ داران سزا سے نہ بچ سکیں۔

 

یہ نظام کیسے وضع کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ سوال عوام سے پوچھا جائے تو ایک جواب بڑی شدومد سے دیا جاتا ہے کہ جو قانون کی خلاف ورزی کرے اسے سولی پر چڑھا دیا جائے،

سرعام گردن اڑا دی جائے یا پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ لطیفہ یہ ہے کہ جو لوگ یہ حل تجویز کرتے ہیں ان میں سے زیادہ تر خود پھانسی کے حقدار ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں قانون کا نفاذ سزاؤں کی شدت کی وجہ سے نہیں بلکہ سزاؤں پر عمل درآمد کرنے کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ہم ٹریفک سگنل توڑنے کی سزا سو کوڑے بھی رکھ دیں اور ایک شخص کو بھی یہ سزا نہ دیں تو ٹریفک کی خلاف ورزیاں جوں کی توں رہیں گی۔ اس کے برعکس موٹروے پر تیز رفتاری کا جرمانہ سات سو روپے ہے اور چونکہ وہ جرمانہ ہر ایک سے بلاامتیاز وصول کیا جاتا ہے، اس لئے وہاں ٹریفک خلاف ورزی کی شرح بہت معمولی ہے۔ یہی اس نظام کا پہلا اصول ہے۔ سزا معمولی ہی سہی مگر ہو سب کے لئے۔ تاہم پھر اس سے بھی بڑا سوال کھڑا ہوجاتا ہے کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ جرم کی سزا ہر حال میں ملے؟ اس سوال کا جواب نسبتاً پیچیدہ ہے۔ دراصل تین قسم کے لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ایک وہ جو بالکل جاہل ہیں، جنہیں قانون توڑتے وقت پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ جرم کے مرتکب ہو چکے ہیں، دوسرے، وہ جو بے حد طاقتور ہیں اور جنہیں پتا ہے کہ ان کے کرّوفر کے آگے قانون بھیگی بلی بن جاتا ہے اور تیسرے وہ جو سمجھ بوجھ رکھتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اس خلاف ورزی کا جواز تلاش کر رکھا ہوتا ہے اور انہیں یہ علم ہوتا ہے کہ نظام اس قدر فرسودہ اور شکستہ ہو چکتا ہے کہ قانون کی سنگین ترین خلاف ورزی پر بھی گرفت تقریباً ناممکن ہو گی۔ یہ تینوں قسموں کے لوگ اس لئے قانون کو کچھ نہیں سمجھتے کیونکہ انہیں کبھی بھی چھوٹے موٹے جرم کی سزا نہیں بھگتنی ہوتی۔ مثلاً جب کوئی نوجوان بغیر لائسنس کے موٹر سائیکل چلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں پوچھتا تو اسی کچی عمر میں اس کے دماغ میںیہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اس ملک میں جرم کر کے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ کوئی بڑا جرم کرتا ہے اور پھر گرفت میں نہیں آتا۔ جس سے اس کا حوصلہ مزید بڑھ جاتا ہے اور اگر کسی مرحلے پر وہ پکڑا بھی جائے تو اس وقت تک اتنا کھاگ ہو چکا ہوتا ہے کہ اس کے لئے سسٹم کو شکست دینا بائیں ہاتھ کا کام

ہوتا ہے۔

 

پاکستان جیسے ملک میں عوام سے قانون کی پاسداری کروانے کا ایک ہی حل ہے کہ ہر کام کو دوسرے کام سے مشروط کر دیا جائے۔ یہ کام نادرا سے باآسانی لیا جا سکتا ہے۔ جب بھی نادرا شناختی کارڈ جاری کرے تو اس کے ساتھ ہر شہری کو ایک سکور کارڈ بھی تھما دے جونادرا کے ڈیٹا بیس سسٹم سے منسلک ہو اور اس شہری کی قانون کی پاسداری کا تمام ریکارڈ اس سکور کارڈ میں درج کیا جائے۔مثلاً جو شہری بل وقت پر ادا نہ کرے ‘ بنک کو قرضہ واپس نہ کرے‘ جس کی گاڑی کا چالان ہو‘ جو کریڈٹ کارڈ کا ڈیفالٹر ہو یا ٹیکس نادہندہ ہو تو ایسے شہری کی یہ تمام تفصیلات بآسانی نادرا کے سکور کارڈ میں درج کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن یا موٹروے پولیس غیرمعیاری گاڑی سڑک پر لانے یا ٹریفک کی خلاف ورزی پر کوئی بھی جرمانہ عائد کرے تو نادرا کو اس کی تفصیل اسی وقت سسٹم میں اپ لوڈ کر دے۔ بجلی اور گیس چور کا ڈیٹا متعلقہ محکمے نادرا کو فرام کریں۔ بینکوں کے قرضوں اور ٹیکس کے نادہندگان کی تفصیل بھی نہایت آسانی کے ساتھ ایک کلک کے ذریعے اس سکور کارڈ میں شامل کی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح جعلی ادویات بیچنے والوں‘ غیرمعیاری ریستوران چلانے والوں اور غیرقانونی گیس سلنڈر فروخت کرنے والوں کو آئے دن جرمانہ ہوتا ہے۔ مگر ان کا کوئی ڈیٹا بیس کسی جگہ نہیں۔ ان تمام غیرقانونی حرکتوں کا اندراج نادرا کے سکور کارڈ میں کیا جانا چاہئے اور جب کسی شہری کا سکور کارڈ ایک خاص حد سے اوپر نکل جائے تو اس کی بجلی منقطع کر دی جائے یا پاسپورٹ بلاک کر دیا جائے۔ خدا نے چاہا تو اس ایک اقدام سے ہی اس قدر افاقہ ہو گا کہ طبیعت بشاش ہو جائے گی۔ کسی کی سرعام گردن اڑانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

[email protected]

حکمرانوں کا تو اس میں جو قصور ہے سو ہے‘ عوام بھی برابر کے مجرم ہیں۔ اگر پورا معاشرہ ہی سسٹم کو شکست دینے پر تل جائے توپھر کوڑا اٹھانے والی وین کے ساتھ بھی فوجی ٹرک بھیجنے پڑیں گے۔ ابھی تو بات فقط پولیو کے قطروں تک پہنچی ہے۔

*****

پاکستان جیسے ملک میں عوام سے قانون کی پاسداری کروانے کا ایک ہی حل ہے کہ ہر کام کو دوسرے کام سے مشروط کر دیا جائے۔ یہ کام نادرا سے باآسانی لیا جا سکتا ہے۔ جب بھی نادرا شناختی کارڈ جاری کرے تو اس کے ساتھ ہر شہری کو ایک سکور کارڈ بھی تھما دے جونادرا کے ڈیٹا بیس سسٹم سے منسلک ہو اور اس شہری کی قانون کی پاسداری کا تمام ریکارڈ اس سکور کارڈ میں درج کیا جائے۔

*****

یہ نظام کیسے وضع کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ سوال عوام سے پوچھا جائے تو ایک جواب بڑی شدومد سے دیا جاتا ہے کہ جو قانون کی خلاف ورزی کرے اسے سولی پر چڑھا دیا جائے، سرعام گردن اڑا دی جائے یا پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ لطیفہ یہ ہے کہ جو لوگ یہ حل تجویز کرتے ہیں ان میں سے زیادہ تر خود پھانسی کے حقدار ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں قانون کا نفاذ سزاؤں کی شدت کی وجہ سے نہیں بلکہ سزاؤں پر عمل درآمد کرنے کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔

*****

یہ تحریر 72مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP