متفرقات

علم سے بلوچستان کو خوشحال بنائیں

لوچستان جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم صوبہ ہے جو پورے ملک کے رقبے کا تقریباً 44% ہے۔ جب کہ آبادی کا تناسب سے صرف 5% ہے۔ جس کی وجہ سے شہری آبادی اور دیہات کافی فاصلے پر واقع ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم کے شعبے میں بھی بنیادی سہولتوں اور معیاری تعلیم کا فقدان رہا ہے۔ یہ ایک ایسامسئلہ ہے جس کے حل ہونے سے کافی مسائل کے حل ہونے کی راہ نکلتی ہے لیکن یہاں کا طرزِ زندگی حکومتی اقدامات کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ بنتا رہا ہے۔ بلوچستان کے مشیر برائے تعلیم کے مطا بق اس وقت صوبے کو تقریباً ایک ہزار سکول اور ساٹھ ہزار اساتذہ کی فوری ضرورت ہے اور جہاں سکول ہیں وہ اکثر معیاری تعلیم سے محروم ہیں لیکن اس خطے میں چند ادارے ایسے بھی ہیں جو معیاری تعلیم وتربیت اور خاص کر فنی تعلیم کے میدان میں نمایاں کارکردگی انجام دے رہے ہیں۔

ایک ایسے ہی ادارے گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی  اورکارکردگی کو جاننے کے لئے ہم کوسٹل ہائی وے سے گزرتے ہوئے بلوچستان کی اہم بندرگاہ گوادر پہنچے۔ گوادر کے مقامی لوگ بہت خوش اخلاق اور مہمان نوا ز ہیں اوروہ ایک خوبصورت تہذیب اور ثقافت کے حامل ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں دیگر ترقیاتی منصوبوں کی طرح پاکستان آرمی نے گورنمنٹ آف بلوچستان کی تعاون سے گوادر جیسے دور افتادہ علاقے میں گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے نام سے ایک معیاری درسگاہ کی بنیاد رکھی جو اب ایک انتہائی دیدہ زیب اور طرز تعمیر کا ماڈل ایجوکیشن کمپلیکس ہے۔ یہاں فنی تعلیم کی تمام جدید سہولیات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ طلباء کے آنے جانے کے لئے بھی ٹرانسپورٹ کا باقاعدہ انتظام ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس معیاری فنی تعلیم کے ادارے میں بلوچستان کے نوجوان طلباء کے لئے تمام سہولیات بالکل مفت ہیں اور اس ادارے کے تمام اخراجات پاکستان آرمی اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی جانب سے مہیا کئے جاتے ہیں۔ گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پرنسپل کرنل تصدق رشید نے بتایا کہ گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے پہلے کوئی بھی فنی تعلیم کا ادارہ نہیں تھا۔گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کو بنانے کا منصوبہ 2003 ء میں بنا ۔ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور گوادر ڈویلپمنٹ پورٹ کی وجہ سے جو ڈویلپمنٹ ہورہی ہے اس کے پیش نظر گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا قیام نہایت اہم تھا۔ اور 2003 ء میں

PC-1

بننے کے بعد کنسٹرکشن شروع ہوئی۔

PC-1

کے مطابق ہم نے دو ٹیکنالوجیز میں تین سالہ ڈپلومہ آ ف ایسو سی ا یٹ انجینئر‘ انڈسٹریل‘ الیکٹرونک ٹیکنالوجی اورفوڈ پریزرویشن ٹیکنالوجی کا اجراء کرنا تھالیکن لیکچرارز کی کمی کے باعث اپریل 2011 ء سے آٹو الیکٹریشن اور آٹومکینک ٹیکنا لوجی اور دیگر شارٹ کورسز کا سلسلہ شروع کیاجس کا باقاعدہ افتتاح اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کیا۔ 2014 ء میں باقاعدہ تین سالہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئر کے اجراء کے لئے ایک ٹیکنیکل کمیٹی کی تشکیل دی گئی۔ جب ہم یہاں آئے تھے تو باقاعدہ لیب اور فیکلٹی کا فقدان تھا۔بعد میں لیب کوجدید آلات سے آراستہ کیا گیا فیکلٹی کو منظم کیا گیا ۔ اس کے بعد چالیس نشستیں تین سالہ ڈپلومہ آ ف ایسوسی ایٹ انجینئر انڈسٹریل‘ الیکٹرونک ٹیکنالوجی اور چالیس نشستیں ڈپلومہ آ ف ایسو سی ایٹ انجینئر فوڈ پریزرویشن ٹیکنالوجی کے لئے مختص کی گئیں لیکن پوٹینشل کی کمی کے باعث فیصلہ کیا گیا کہ فی الحال تین سالہ ڈپلومہ آ ف ایسو سی ا یٹ انجینئر انڈسٹریل الیکٹرونک ٹیکنالوجی کے بیج  کا سلسلہ شروع کیا جائے ۔لیکن کچھ نامساعد حالات کی وجہ اور تعلیمی معیار کی کمی کے باعث لوگوں میں فنی تعلیم کے شعور اور آگاہی کی کمی تھی لہٰذا طلباء اور ان کے والدین کو ایک تفصیلاً آگاہی مہم کے لئے اس فنی تعلیم کی افادیت اور اہمیت سے آگاہ کیا گیااوربا قاعدہ ا یک ا شتہا ر ی مہم شروع کی تب جاکر اللہ کی مدد سے تین سالہ ڈپلومہ آف ایسو سی ا یٹ انجینئر انڈسٹریل الیکٹرونک ٹیکنالوجی کی تمام (چالیس) نشستیں مکمل ہوئیں اور کلاسسز کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ یہاں طلباء کو کتابیں ، سٹیشنری اور ٹرانسپورٹ سمیت تمام سہولیات مکمل طور پر مفت فراہم کی گئی ہیں ۔ مستقبل کے پروگرام کے مطابق ڈ پلومہ آ ف ایسو سی ا یٹ انجینئر فوڈ پریزرویشن ٹیکنالوجی کے سلسلے میں لیبارٹری اور فیکلٹی کے سلسلے میں ہم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان ، چیف سیکرٹری بلوچستا ن اور سیکرٹری تعلیم بلوچستان سے رابطہ کیا اوران کے تعاون سے لیب اور فیکلٹی کو مکمل کیا۔ ہمارے یہاں پچاس طلباء کے لئے رہائشی سہولت بھی موجود ہے جس سے مستقبل میں آنے والے طلباء مستفید ہوسکیں گے اور فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کو گوادر میں ہی بہترین روزگار کی سہولیات میسر ہوں گی اور وہ یہاں کی ہونے والی ڈویلپمنٹ میں بھی اہم کردار ادا کرسکیں گے۔ انشاء اللہ یہ ادارہ بین الااقوامی اور قومی سطح پر

Icon of Balochistan

ثابت ہوگا۔ اور مز ید خواہش ہے کہ یہ ادارہ ٹیکنیکل یونیورسٹی آف بلوچستان کا درجہ حاصل کرے ۔

نبیل جوکہ ڈ پلومہ آ ف ایسو سی ا یٹ انجینئرانڈسٹریل الیکٹرونک ٹیکنالوجی کے طالب علم ہیں‘ کا کہنا ہے کہ میٹرک کرنے کے بعد یہاں کے طلباء کے لئے گوادر اور پورے مکران ڈویژن میں گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے قبل کوئی بھی معیاری ذریعہ تعلیم نہیں تھا۔ اس سلسلے میں میرے والدین فکر مند تھے کہ مزید تعلیم کے لئے لاہور یا کراچی کیسے جاسکوں گا۔ میرے والد ایک سرکاری ہسپتال میں ڈسپینسرہیں وہ علاقے سے باہر میرے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ مجھے اس ادارے کے بارے میں جب ریڈیو کے ذریعہ علم ہوا تو میں نے یہاں داخلے کے لئے اپلائی کیا اور میرا DAE میں داخلہ ہوگیا۔ یہاں ٹیچر اور لیکچرار بہت اچھے ہیں اور طلباء پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی  گوادر جیسے دور دراز علاقے میں معیاری تعلیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور مقامی طلباء کو معیاری فنی تعلیم حاصل کرنے کے بہترین مواقعے فراہم کررہا ہے۔اس کے لئے ہم پاک فوج اور بلوچستان گورنمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے گوادر جیسے علاقے میں جہاں اس سے پہلے ایسا کوئی ادارہ موجود نہیں تھا‘ وہاں ایک بہترین ٹیکنکل پروفیشنل ایجوکیشن کا انتظام کیا۔ میں گوادر اور اس کے نزدیک رہنے والے تمام طلباء کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ یہاں آکر معیاری فنی تعلیم حاصل کریں اور اپنے ملک اور قوم کی خدمت میں حصہ دار بنیں۔ انشاء اللہ میں بھی یہاں سے

DAE

کی سند حاصل کرکے گوادر میں موجود روزگار کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھاؤں گااور اپنے والدین اور ملک وقوم کی خدمت میں اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لاؤں گا۔ ایک اور طالب علم شاہ جہان جوڈ پلومہ آ ف ایسو سی ا یٹ انجینئرانڈسٹریل الیکٹرونک ٹیکنالوجی میں زیرِ تعلیم ہیں نے بتایا کہ میں گوادر کا رہنے والا ہوں اور یہیں سے میں نے میٹرک کیا ہے۔ میرے والد صاحب ایک عام ملازم ہیں اور ان کے وسائل ایسے نہیں کہ میں گوادر سے باہر جاکر تعلیم حاصل کرسکوں ۔ میں نے گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجیکے بارے میں اخبار میں پڑھا اور گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں تین سالہ ڈپلومہ آف ایسو سی ا یٹ انجینئر انڈسٹریل الیکٹرونک ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا۔یہاں بہترین اساتذہ اور جدید آلات سے لیس لیبارٹریز ہیں۔ ابھی میرا پہلا سال ہے اور انشاء اللہ میں اس کو مکمل کرکے گوادر پورٹ میں مستقل روزگار حاصل کرنے کا خواہاں ہوں۔

ڈ پلومہ آ ف ایسو سی ا یٹ انجینئرانڈسٹریل الیکٹرونک ٹیکنالوجی کے طالب علم عامر خالد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے میٹرک پنجگور سے کیا ۔ مجھے اشتہاری مہم کے ذریعے گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے بارے میں علم ہوا۔ میں نے ارادہ کیا کہ خود جاکے گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجیکو دیکھوں اور اس سلسلے میں ، اپنے والد جو ایک عام سرکاری ملازم ہیں سے مشورہ کرکے میں گوادر آیا ۔ گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجیآکر مجھے بہت خوشگوار احساس ہوا کہ یہ ایک بہترین درسگاہ ہے۔ لہٰذا میں نے فوری طور پر ڈپلومہ آ ف ایسو سی ا یٹ انجینئر انڈسٹریل الیکٹرونک ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کیا۔یہاں تعلیمی اخراجات بالکل نہیں ہیں اور تمام تعلیمی سہولیات بالکل مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ میری اور بہت سارے بلوچ طلباء نوجوانوں کی خواہش ہے کہ ایسے ہی معیار ی طرز تعلیم والے ادارے پنجگور اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں بھی دستیاب ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباء اس معیاری تعلیم سے مستفید ہوکر اپنے مستقبل کو محفوظ کرسکیں۔

ہمارے تفصیلی دورے‘ تبادلۂ خیال اور مشاہدے کے بعد یہ بات بہت وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجیجو پاکستان آرمی نے بلوچستان گورنمنٹ کے تعاون سے قائم کیا ہے وہ ایک شاندار اور کامیاب سحر کی تابندہ د لیل ثابت ہورہا ہے۔آنے والے وقتوں میں امیدواثق ہے کہ اس ادارے کے طلباء نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے لئے بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیں گے۔


 [email protected]

یہ تحریر 123مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP