متفرقات

علامہ اقبال : یورپ، معاشیات ، اثرات اور نظریات

انسانی کیلنڈر کی تاریخ سے معاشی ارتقاء کا کوئی سرا نہیں ملتا ہے لیکن اس بات سے کسی مفکر اور معاشی دانشور کو انکار نہیں ہو سکتا ہے کہ اشیاء کی قیمت اس کی محنت کرنے والے پر ہے۔اس کے بعد معاش کے ذرائع بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان ذرائع پر تصرف کرنا ہی آج کی جنگ و جدل کے بنیادی ستون ہیں۔تاریخی مادیت جنگل اور غاروں میں زندگی گزارنے سے لے کر موجودہ سائنس کی ترقی کے عہد تک انسان نے سماجی اور معاشی تاریخ کا ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ انسان کے غاروں میں رہنے والے دور کو اس لئے اشتراکی کہا جاسکتا ہے کہ اس میںسب لوگ مل جل کر زندگی بسر کرتے تھے۔استعمال کی چیزیں مشترک تھیں۔ فریڈرک اینگلز ، ''خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز'' میں لکھتے ہیں:
''آبادی بہت کم اور بکھری ہوئی تھی۔ وہ صرف قبیلوں کے رہنے کی جگہ میں گنجان ہوتی تھی۔ جس کے چاروں اطراف شکارگاہ ہوتی تھی اور اس کے آگے غیر مقبوضہ جنگل جو اسے دوسرے قبیلوں سے دور رکھتا تھا۔ محنت کی تقسیم محض ایک فطری چیز تھی۔ یہ تقسیم صرف مردوں اور عورتوں کے درمیان تھی۔مرد لڑائی پر جاتے تھے ، شکار کرتے تھے، مچھلی پکڑتے تھے، غذا کے لئے کچا مال لاتے تھے اور ان کاموں کے لئے ضروری اوزار بناتے تھے۔ عورتیں گھر سنبھالتی تھیں، کھانا پکاتی تھیں اور کپڑے بُنتی اور سیتی تھیں۔ مرد اور عورت دونوں اپنے اپنے کام کے شعبے میں آپ اپنے مالک تھے۔ جنگل میں مرد اور گھر میں عورت کا بول بالا تھا۔ مرد ہتھیاروں اور شکار کرنے والے اوزاروں کے مالک تھے اور عورت گھر کے ساز و سامان اور برتنوں کی۔ گھرانا کمیونٹی تھا۔ جس میں کئی، اور اکثر بہت سے، خاندان ہوا کرتے تھے۔ جو کچھ مشترک طور پر کمایا جاتا تھا اور جسے مل کر استعمال کرتے تھے وہ سب کی مشترکہ ملکیت ہوتی تھی۔''(١)
اس کے بعد فرانس میں انقلاب سے جو معاشیات وجود میں آئی اس نے دنیا کے تمام مفکروں کو متاثر کیا۔ مشین ایجاد ہونے کے بعد پیداوری قوتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ وہ کام جو ایک انسان کئی دنوں میں کرتا تھا اب مشین اس کام کو بہت کم وقت میں بہتر طریقے سے سر انجام دے سکتی تھی۔ سجاد ظہیر، ''مارکسی فلسفہ ''میں لکھتے ہیں:
''سرمایہ دار منافع خوری کی غرض سے پیداوار کو فروغ دیتے ہیں تو وہ بڑے بڑے کارخانے فیکٹریاں قائم کرتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں ، لاکھوں مزدور بھی بڑے بڑے مرکزوں میں جمع ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ داری پیداوار کے عمل میں ایک اجتماعی کیفیت پیدا کر دیتی ہے اور اس طرح خود اپنی بنیادوں کو کھوکھلا کرتی ہے۔''(٢)
صنعتی انقلاب کے لئے جس طرح مشینوں نے راہ ہموار کی اُس کے اثرات موجودہ دور میں بھی جاری و ساری ہیں ۔ لیکن اس ترقی میں سائنس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سائنس نے ہی صنعتی انقلاب کو ممکن بنایا۔اس وجہ سے اب فرانس، برطانیہ اور جرمنی وغیرہ نے ایشیا اور افریقہ کے معاشی ذرائع پر قبضہ کرنا شروع کر دیا اور وہاں کے معدنی ذرائع کو بے دردی سے لوٹنا شروع کیا۔ وہاں سے خام مال کو لوٹ کر سمندری جہازوں کے ذریعے اپنے اپنے ممالک میں پہنچاتے تھے اور پھر اسے مشین سے گزار کردوبارہ یہ صنعت انہی غریب ممالک کے باشندوں میں مہنگے داموں بیچتے تھے۔لوٹ کھسوٹ اور معاشی ذرائع پر قبضے کی اس داستان کولیو پیوبرمین اپنی کتاب ''یورپ امیر کیسے بنا ''میں بیان کرتے ہیں:
''امریکہ میں سونے اور چاندی کی دریافت ، دیسی آبادی کی تباہی، زبردستی غلام بنانے کی مہم ، قدیم دیسی باشندوں کی امریکی کانوں میں تدفین، ہندوستان اور ویسٹ انڈیز پر فاتحانہ یلغار اور ان کی لوٹ کھسوٹ، اور افریقہ کے براعظم کا کالی چمڑی کے لوگوں کی تجارت کے لئے شکار گاہ بننا، یہ وہ بنیادیں تھیں جن پر سرمایہ دارانہ نظام کے دور جدید کی عمارت کھڑی کی گئی۔''(٣)
معیشت کے حوالے سے برصغیر کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔ یہ دور مغلوں کا دور تھا۔ مغلوں کے دور میں برصغیر معیشت کے لحاظ سے ایک سونے کی چڑیا تھی۔ ملک میں ضروریات زندگی وافرمقدار میں موجود تھیں ۔زرعی اجناس کی بہتات تھی۔ اس سب کا تذکرہ ششی تھرور کی کتاب Era of  Darksness  میں بڑی تحقیق سے کیا گیا ہے۔اس کے بعد جنگ آزادی 1857ء کے ناقابل فراموش واقعے کے اثرات نے محکوم عوام کو زبوں حال کردیا۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جنگ آزادی کے پس پردہ بھی سیاسی، اقتصادی، مذہبی عناصر کارفرما تھے۔زمینوں پر انگریزوں کا قبضہ، معاشی ذرائع پر تصرف، پینشن اور وظائف کی ضبطی، جاگیروں کا ضبط ہونا، اعلیٰ سرکاری ملازمتوں سے محرومی، ملکی صنعت پر قبضہ، تجارت پر قبضہ، قانون وراثت میں قبضے نے عوام پر برے اثرات مرتب کئے۔
مذکورہ عوامل کے اثرات نے بعد کے آنے والے تمام مفکروں اور دانشوروں کو متاثر کیا۔اس ضمن میں علامہ اقبال کو ایک شاعر نہیں بلکہ ایک سیاسی سماجی اور معاشی تحریک کہنا بے جا نہ ہوگا۔ ان کی شاعری کا پہلا دور 1905 تک کا ہے ۔ اس دور میں ان کی شاعری پر وطن پرستی کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ دوسرا دور 1905 سے 1908 تک ہے ۔پورپ کے جمالیاتی مناظر نے ان کی شاعری میں فطری رنگ کو ابھارا۔ اقبال کی شاعری کا تیسرا دور 1908 سے شروع ہوتا ہے جب وہ ایک نئے ولولے کے ساتھ ہندوستان آئے اور اپنی ساری علمی اور ادبی توانائی کو قوم کے نام کر دیا۔یہ دوراِن کی وفات پر منقطع ہوا۔ علامہ اقبال کی شاعری اور ان کے فن پر لاکھوں کتابیں تصنیف ہوئی ہیں ۔ لیکن علامہ اقبال کے معاشی نظریات پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ ایک بہت بڑی تعداد تو اقبال کے معاشی نظریات سے متعارف ہی نہیں۔ حالانکہ اقبال نے اپنا پہلا طویل مضمون '' قومی زندگی'' جو1904میں سر عبدالقادر کے رسالے '' مخزن'' میں شائع ہوا تھامعاشیات پر ہی تھا جس میں قومی زندگی کے لئے علامہ اقبال نے جو مضمون تخلیق کیا وہ صنعتی سرگرمیوں کا ہی احاطہ کرتا ہے۔اقبال کے معاشی تصورات کے حوالے سے ڈاکٹر صدیق جاویداپنی کتاب'' اقبال: نئی تفہیم ''میں لکھتے ہیں:
''بیسویں صدی کے پہلے عشرہ میں بھی اقبال نے اپنی نظم و نثر میں اقتصاد و معاش کے مسائل پر خاص توجہ دی ہے،اس زمانے میں اقبال مسلمانوں کی غربت اور افلاس کی درد ناک حالت سے شدید طور پر متاثر تھے۔''(٤)
1904 میں ہی علامہ اقبال کی پہلی نثری کاوش '' علم الاقتصاد'' منظر عام پر آئی۔ اُردو میں اقتصادیات پر یہ پہلی کتاب تسلیم کی جاتی ہے جس میں افلاس، اقتصادیات اور اخلاق کے باہمی تعلق کو ابھاراگیا۔ قوم کی معاشی بے رخی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کتاب کو سرے سے ہی کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ بہت عرصے تک اس کتاب کاکو ئی ایڈیشن شائع نہیں ہوا۔ کتاب کی معاشی اہمیت کے حوالے سے ڈاکٹر مرزا امجد علی بیگ لکھتے ہیں:
''کتاب علم الاقتصاد پانچ حصوں پر مشتمل ہے جلد اول میں صرف ایک باب ہے اور اس میں علم الاقتصاد کی ماہیت اور اس کے طریق تحقیق پر بحث کی گئی ہے۔حصہ دوم میں جو ابواب ہیں وہ پیدائشی دولت سے متعلق ہیں جو با لترتیب زمین، محنت سرمایہ اور پیدائشی دولت کے لحاظ سے کسی قوم کی قابلیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ حصہ سوم میں تبادلہ دولت کے چھ ابواب ہیں مسئلہ قدر تجارتِ بین الاقوام، زرِ نقد کی ماہیت اور اس کی قدر، حق الضرب، زرکاغذی اور اعتبار اور اس کی اہمیت پر بحث کی گئی ہے۔حصہ چہارم یعنی پیداوارِ دولت کے حصہ دار کے ذیل میں بھی چھ ابواب ہیں جن میں لگان، سود، منافع، اُجرت، دستکاروں کی حالت پر مقابلہ نا مکمل کا اثر اور مال گزاری کا جائزہ لیا گیا ہے۔ حصہ پنجم کے تین ابوب ہیں جن میں آبادی وجہ معیشت، جدید ضروریات کی افزائش اور صرفِ دولت کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔''(٥)
اقبال کا کہنا ہے کہ جائیداد شخصی میں لگان خود پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ جیسے جیسے آبادی بڑھتی ہے کاشت اسی کو مد نظر رکھ کی جاتی ہے۔ اس لئے ان کا لگان بڑھ جاتا ہے۔ اسی بنا پر زمیندار امیر سے امیر تر ہوجاتا ہے حالانکہ اس میں وہ دولت بھی شامل ہوتی ہے جس میں اس کی محنت کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔اس بنا پر علامہ اقبال کہتے ہیں کہ زمین کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ قومی ملکیت ہونی چاہیے ۔ علم الاقتصاد میں مزدوروں کی حالت اور افلاس پر جو تجزیہ کیا ہے اس کا اثر ان کی شاعری میں بھی موجود ہے:
تو قادر و عادل ہے، مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہئِ مزدور کے اوقات
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دنیا ہے تیری منتظر اے روزِ مکافات!(٦)
علامہ اقبال جب یورپ میں تھے تو یہ کمیونسٹوں کا دور تھا ۔ کیمونسٹ اپنی الگ حکومت چاہتے تھے جس کے لئے وہ سرگرداں نظر آرہے تھے۔ اشترکیوں کی پہلی کاوش روس میں نظر آتی ہے۔ اقبال اور کارل مارکس کے حوالے سے بھی خوب لکھا گیاہے۔اقبال نے اشتراکیت کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اس کے اثرات ''پیام مشرق''میں بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ ''پیام مشرق'' میں ایسے موضوعات پر تین نظمیں بہت اہمیت کی حامل ہیں ان میں ''محاورہ مابین حکیم فرانسوی آگسٹس کومٹ و مزدور''اہم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس طرح جسم انسانی میں ہر جسمانی حصے کا ایک مخصوص وظیفہ موجود ہے اسی طرح معیشت اور صنعتی کاروبار میں بھی یہ تقسیم موجود ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ فطرت کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔کیونکہ اس میں کوئی ہاتھ سے کام لیتا ہے تو کوئی دماغ سے۔ اقبال یورپ کی ان تمام گمراہیوں سے اچھی طرح واقف تھے ۔علامہ اقبال کے نظریات کے مطابق یہ صرف اور صرف محنت کشوں کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔اس کا بہترین اظہار نظم '' خضرِ راہ '' میں ہوا ہے۔اس نظم کا پس منظر پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد تمام ایشیائی اقوام کے مسلمانوں کی معاشی حالت زار ہے جو مغربی سامراج کے رحم و کرم پر تھے۔خضر شاعر کے سوالوں کے جواب میں کہتا ہے:
مجلسِ آئین و اصلاح و رعایات و حقوق
طبِ مغرب میں مزے میٹھے اثر خواب آوری
گرمیِ گفتار اعضائے مجالس الاماں
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگِ زرگری
ساحرِ الموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائی سادگی سے کھا گیا مزدور مات
نظم پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر اسلوب احمد انصاری لکھتے ہیں:
''سرمایہ داروں کی فطانت نے اپنے اعمال کی پردہ پوشی کی غرض سے بہت سے بت تراش رکھے ہیں اور انھیں مختلف قسم کے گمراہ کن نام دیئے گئے ہیں، مثلاََنسل، قومیت، کلیسا اور سلطنت یا شہنشاہیت۔ پایانِ کار ان سب کا مقصد ایک ہی ہے ،یعنی بندہ مزدور کو فریب میں مبتلا رکھنا، اس کی شخصیت کو کچلنا اور اس کے اندر احساس ِ ذات کو فنا کر دینا۔''(٧)
مزدور سرمایہ دار کے فریب سے باکل آشنا نہیں ہوتا وہ سرمایہ داروں کی پیچیدہ ترکیبوں اور ہتھکنڈوں سے واقف نہیں ہوتا اس لئے آسانی سے مات کھا جانے کو اپنی تقدیر سمجھ بیٹھتا ہے۔ لیکن علامہ اقبال مزدور کو سرمایہ دار سے مغلوب نہ ہونے اور بندہ مزدور کو اپنے مستقبل کی تعمیر و تشکیلِ نو پر آمادہ کرتا ہے:
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
 زمین کی ملکیت کے معاملے میں علامہ اقبال قومی ملکیت کے حامی ہیں۔ کاشتکار سے ملک کے خزانے کے لئے کچھ حصہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن نا کردہ کار مالک کا اس میں کچھ حصہ نہیں۔ بال جبریل کی نظم'' الارض اللہ'' اسی خیال کو تقویت دیتی ہے:
دِہ خدایا یہ زمیں تیری نہیں تیری نہیں
تیرے آبا کی نہیں تیری نہیں میری نہیں
    مشہور نظم ابلیس کی مجلس شوریٰ میں بھی ملکیت زمین کا تذکرہ احسن انداز سے بیان کیا ہے۔
اس سے بڑھ کر اور کیا فکرو عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمین
علامہ اقبال کے معاشی نظریات میں بے قید معیشت کو اہمیت حاصل ہے۔ 1903ء میں سرمایہ دارانہ نظام کا طوطی بول رہا تھا اور اس نظام میں نجی ملکیت کے ساتھ حکومت کی مداخلت سے آزاد اور بے لگام معیشت کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ لیکن علامہ اقبال اس بے قید معیشت کے مخالف تھے۔کیونکہ حقیقی آزادی قیود کو ختم کرنے سے نہیں ہوتی بلکہ اکثر اس کے دائرہ کار کو اور وسیع کر دیتی ہے۔اس کی مخالفت نظم'' طلوع اسلام '' میں بھی کی گئی ہے۔
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے
اس حوالے سے علامہ اقبال کی نظمیں جن میں اشترکیت، کارل مارکس کی آواز، لینن خدا کے حضور، طلوع اسلام، نالہئِ یتیم، قابل ذکر ہیں۔علامہ اقبال ثانوی تعلیم کے ساتھ صنعتی سر گرمیوں، مذہب اور صنعتی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔علامہ اقبال کے پاس اقتصادیات کی ڈگری نہ تھی لیکن معاشی ماہر کی طرح اس کے ایک ایک پہلو سے بخوبی واقف ہیں۔ علامہ اقبال ایسی تعلیم کو رد کرتے ہیں جو تیشہ الحاد سے انسانیت، مزدور، اخلاق، دین، عمل اور حرکت پر کاری ضرب لگائے۔ ''علم الاقتصاد'' کے بعد پیام مشرق، جاوید نامہ، زبور عجم، بال جبریل، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز میں ایسی بہت سی نظمیں ہیں جن میں علامہ اقبال نے سرمایہ داری اور مغربی معیشت کے اُن اصولوں پر کاری ضرب لگائی ہے جو اسلامی معیشت سے متصادم ہیں۔ علامہ اقبال کے معاشی تصورات اسلام کے معاشی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ علامہ اقبال نے معاشیات کی اہم کتب سے ضرور استفادہ کیا ہے جس کے اثرات کا ذکر اقبال نے ''علم الاقتصاد''کے دیباچہ میں کیا ہے لیکن علامہ اقبال دین اسلام کے معاشی اصولوں کے پابند ہیں۔علامہ اقبال کی نظم و نثر پر معاشی اثرات سے جو نظریات اخذ کئے جا سکتے ہیںاُن کا احاطہ ان نکات میں کیا گیا ہے:
 1۔    علامہ اقبال کے معاشی نظریات پر اقتصادیات کی مستند کتب کے اثرات موجود ہیں جن میں کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر مارشل کی کتاب Principles of Economics قابل ذکر ہے۔
 2۔    علامہ اقبال معاشیات کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے ۔اقبال نے اپنا پہلا طویل مضمون'' قومی زندگی''لکھا تھا جس میں قومی ترقی کے حوالے سے صنعتی سرگرمیوں پر بحث کی ہے۔
 3۔    1904 میں علامہ اقبال کی پہلی نثری کتاب علم الاقتصاد معاشیات پر مستند کتاب تسلیم کی جاتی ہے جس میںافلاس، اقتصاد اور اخلاق کے باہمی تعلق کو ابھاراگیا ہے۔
 4۔    زمین کسی فرد کی نہیں بلکہ قومی ملکیت ہونی چاہئے۔ یہ تصور علامہ اقبال کی نثر و نظم دونوں میں تواتر سے بیان ہوا ہے۔
 5۔    علامہ اقبال سرمایہ داروں کے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرتے ہیں اور مزدوروں کے حق میں ایک توانا آواز بن کرابھرتے ہیں۔
 6۔    علامہ اقبال بے قید معیشت کے مخالف تھے۔
 7۔    علامہ اقبال تعلیم کی اقتصادی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ آج بھی ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کا بجٹ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور اس ضمن میں مسلم ممالک کی صورت حال ایک المیے سے کم نہیں۔
 8۔    علامہ اقبال کی مشہور نظم '' شکوہ'' میں غیر مسلم اور مسلمانوں کی اقتصادی اور سماجی حالت کا تقابل کیا گیا ہے۔شکوہ میں جن مسائل پر اقبال نے سوال اٹھائے ہیں اُن کے جواب اور حل ''جواب شکوہ''میں بیان کئے ہیں۔
 9۔    علامہ اقبال کارل مارکس سے متاثر تھے لیکن علامہ اقبال مارکس کے اُس تصور کے مخالف ہیں جن کا اطلاق روس میں کیا گیا تھا
10۔    اقتصاد کے حوالے سے علامہ اقبال کی نظمیں ابلیس کی مجلس شوریٰ، نالہئِ یتیم، شکوہ، جوابِ شکوہ، لینن خدا کے حضور،طلوع اسلام، خضرِ راہ، اشتراکیت وغیرہ اہم ہیں جن معیشت ، سرمایہ دار اور مزدوروں پر دلچسپ انداز سے اظہارخیال کیا گیا ہے۔
11۔    علامہ اقبال ایسے معاشی اصولوں کی مخالفت کرتے ہیں جو لادینیت پر مشتمل ہیں۔علامہ اقبال اسلام کے معاشی اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں۔ ||


مضمون نگار ایک قومی یونیورسٹی میں  شعبہ ابلاغیات کے چیئرمین ہیں۔
[email protected]


 حوالہ جات
 ١۔ فریڈرک اینگلز،خاندان ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز،بک ہوم،لاہور٢٠١٧ئ،ص١٦٨۔
 ٢۔ سجاد ظہیر سید،مارکسی فلسفہ، فکشن ہائوس،لاہور،٢٠١٧ئ،ص، ٦١۔
 ٣۔ لیوہیو برمین، یورپ امیر کیسے بنا، مترجم و تلخیص عبداللہ ملک، ناشر نگارشات میان چمبر، لاہور، ص،١٣١۔
 ٤۔ صدیق جاوید، ڈاکٹر، اقبال: نئی تفہیم، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور،سن، ٢٠٠٣، ص، ٣٨٩۔
 ٥۔ مرزا امجد علی بیگ، ڈاکٹر، اقبال اور اقتصادیات، مشمولہ: نقوش: اقبال نمبر،مدیر: محمد طفیل، شمارہ نمبر، ١٢١، سن، ١٩٧٧،ص،
    ٣٦١۔
 ٦۔ اقبال، کلیات اقبال، سروسز بک کلب، لاہور، سن، ١٩٩٩ئ، ص، ٤٠٠۔
 ٧۔ اسلوب احمد انصاری، پروفیسر، اقبال کی تیرہ نظمیں، مجلس ترقی ادب، لاہور، سن، ٢٠١٧، ص، ٨٢۔

یہ تحریر 123مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP