بیاد اقبال

علامہ اقبال کا تصورِ وطنیت و قومیت اور فرد کی ذمہ داریاں

قومیت یا نیشنلزم،بیسویں صدی کا مقبولِ عام سیاسی تصور ہے۔یہ' قومی ریاست'(Nation State) کی فکری اساس ہے جوتادم ِتحریر، سیاسی بندوبست کی جدید ترین صورت ہے۔ بیسویں صدی میں جب دنیا سے سلطنتوں(Empires) کا دور تمام ہوا،تسلط اور نو آبادیاتی نظام ختم ہوا تو قومی ریاستوں کا ظہور ہوا۔
ہرریاست کو اپنے استحکام کے لئے کسی فکری وحدت کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسی وحدت جو ریاست کے شہریوں میں مشترک ہو اور وہ اسے اجتماعی شناخت کے طور پر قبول کرلیں۔مثال کے طور پر بیسویں صدی میں جب یورپ میں سلطنتیں ختم ہوئیں تو نسلی و علاقائی شناخت نے وہ فکری اساس فراہم کی جس نے ایک خطے کے لوگوں کو مجتمع کیا اوروہ ایک ریاست کی صورت میں منظم ہو گئے۔
سماجیات ا ور سیاسیات کے علما نے 'قوم' یا 'نیشن' کو ایک سیاسی تصور کے طور پر علمی زبان میں بیان کیاہے۔انیسویں صدی کے بہت ممتازفرانسینی مفکر و فلسفی ارنیسٹ رینان نے 'نیشن' کو ایک روحانی تصورقرار دیاجودو عناصر کا مرکب ہے:ایک ماضی،ایک حال۔ماضی جو مشترکہ شاندار روایات کا امین اور یاد ہے۔حال، جو ساتھ رہنے کی خواہش اور مشترکہ ورثے کی حفاظت کا عزم ہے۔ یوں قوم ایک صحت مند جذبے اور گرم جوش جذبات کااجتماع ہے جوفرد کے اخلاقی شعور میں ظہور کرتا اورافرادکو 'قوم' بنا دیتا ہے۔
میکس ویبر نے 'قوم ' کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھا ہے۔ان کے خیال میںیہ مختلف گروہوں میں جذباتی یک جہتی کاظہور ہے جو کسی دوسرے گروہ کے بالمقابل پیدا ہو تا ہے۔ ان کی بات اس لئے درست ہے کہ شناخت ایک ایسا تصور ہے جو موضوعی(subjective) ہے۔اس کے لئے دوسرے(Other) کا وجود ضروری ہے۔'دوسرا'،جسے آپ سے مختلف شناخت پر اصرار ہے یا جو آپ کی شناخت کو قبول نہیں کرتا اورآپ کو اپنے رنگ میں رنگ جانے کی تلقین کرتا ہے۔
'قوم' میں جب اجتماعی شناخت پر اصرار ہوتو سوال  یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں فرد کی انفرادیت کی حفاظت کیسے ہوگی؟انسائیکلوپیڈیابرٹینیکا میں' نیشنلزم' کی جو تعریف کی گئی ہے،وہ بڑی حد تک اس سوال کا جواب دیتی ہے۔اس کے مطابق''نیشنلزم ایک نظریہ ہے جو اس مقدمے پر قائم ہے کہ قومی ریاست کے ساتھ فرد کی وفاداری اور وابستگی،تمام انفرادی اور اجتماعی مفادات پر مقدم ہے''۔گویا فرد سے زیادہ اہم ریاست ہے۔نیشنلزم تقاضا کرتا ہے کہ فرد کی ہردوسری شناخت اورمفاد،ریاستی مفاد کے تابع رہیں۔
یہ ہے وہ فکری پس منظر،جس میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی شناخت اور اجتماعی وجود کی بقا کا سفر شروع کیا۔ابتدا میں ان کا خیال تھا کہ قومیت کے لئے وطن یا دھرتی کی شناخت کافی ہے اور یہاں بستے والے مشترکہ ماضی رکھتے اور اس کی بنیاد پر خوش گوار حال کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دے سکتے ہیں۔علامہ اقبال بھی ان میں شامل تھے۔ اسی دور میں انہوں نے 'ترانہ ہندی' لکھا کہ'سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا'۔اسی نظم کا ایک شعر ہے:
مذہب نہیں  سکھاتا  آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم،وطن ہے ہندوستان ہمارا
1905ء تک علامہ اقبال ان ہی خیالات کے علم بردار رہے۔ اس کے بعد مختلف سیاسی تجربات  اور مسلسل مطالعے کے باعث،علامہ اقبال کے سیاسی افکار میں بہت نمایاں تبدیلی آئی۔ایک تبدیلی کا تعلق نیشنلزم کے مروجہ تصور سے ہے۔اقبال اس نتیجے پر پہنچے کہ وطن کی بنیاد پر قوم کا تصور دراصل انسانوں کو تقسیم کر نے کا عمل ہے۔یہ دراصل یورپی اقوام کی غیر یورپی اقوام پر برتری کے احساس سے پھوٹا خیال ہے۔اس کا مقصد مسلم ملت کو وطن کی بنیاد پر اقوام میں تقسیم کرنا اور ان کی وحدت کو منتشر کرنا ہے۔


اقبال کے نزدیک یہ اجتماعیت یا ملت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فرد کی نشو ونما اور ارتقا کو یقینی بنائے۔اس کی خودی کی تعمیر کرے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ افراد ہی ہیں جو قوموں کی تقدیر لکھتے ہیں۔انہیں چیلنجوں کا سامنا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔افراد کا ارتقا اگر رک جائے توقوم رجالِ کار سے محروم ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فکرِ اقبال میں آزادی فکر کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ 


علامہ اقبال نے اپنے اس ارتقا کو اپنے ایک خط بنام وحید احمد میں بیان کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:''اِس زمانے میں ،سب سے بڑا دشمن،اسلام اور اسلامیوں کا،نسلی امتیاز وملکی قومیت کا خیال ہے۔پندرہ برس ہوئے جب میں نے پہلے پہل اس کا احساس کیا(گویا 1906ء میں )۔اس وقت میں یورپ میں تھا اور اس احساس نے میرے خیالات میں انقلابِ عظیم پیدا کر دیا۔حقیقت یہ ہے کہ یورپ کی آب و ہوا نے مجھے مسلمان کر دیا''۔یہ خط 7ستمبر 1921ء کو لکھا گیا۔
علامہ اقبال کا خیال تھا کہ اسلام، نیشنلزم کے مقابلے میں اجتماعیت کا ایک اعلیٰ و ارفع تصور دیتا ہے اوروہ ہے نظریہ حیات کی ہم آہنگی۔اقبال بیان کرتے ہیں کہ رسالت مآب ۖ کے لائے ہوئے انقلاب نے انسانوں کو اجتماعیت کے سطحی اور مفاداتی تصورات سے اٹھا کر ایک اعلیٰ نصب العین دیا۔یہ نصب العین، وحدت ِ آدم اور وحدتِ الٰہ کی بنیاد پر کھڑا ہے جوعالمگیر انسانی اتحاد کا درس دیتا ہے۔یہ رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانوں کے مابین امتیاز کو ختم کر دیتا ہے۔مسلمانوں کے لئے یہ مقامِ افسوس ہے کہ وہ اس اعلیٰ تصور کو چھوڑ کر وطنیت کو اجتماعیت کی بنیاد بنائیں۔بالخصوص ہندی مسلمانوں کے لئے 'ہندی قومیت' یا تصور ان معنوں میں زہرِ قاتل ہے کہ و ہ  ان کی اجتماعی شناخت کو بالآخر مٹا دے گا۔اس خطرے کا بروقت ادراک کرتے ہوئے،وہ لکھتے ہیں:'اگر مسلمان اس فریب میں مبتلا ہیں کہ دین اور وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے یکجا رہ سکتے ہیں تو میں مسلمانوں کو بروقت انتباہ کرتا ہوں کہ اس راہ کا آخری مرحلہ اوّل تو لادینیت ہوگا اور اگر لادینیت نہیں تو اسلام کو محض ایک اخلاقی نظریہ سمجھ کراس کے اجتماعی نظام سے بے پروائی۔''(مقالاتِ اقبال)
اسی خیال کو وہ شاعری کی زبان میں اس طرح ادا کرتے ہیں: 
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

مسلمانوں کے لئے ان کا پیغام یہ تھا کہ:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
علامہ اقبال کا یہ تصور کسی دوسرے مذہب کی توہین نہیں تھا بلکہ امرِ واقعہ کا بیان تھا اور وہ اسے خالص سیاسی اور تہذیبی مفہوم میں لے رہے تھے۔خطبہ الٰہ آباد میں انہوں نے ہندی مسلمانوں کے بارے میں یہ کہا ہے کہ ان کا معاملہ ترکی و ایران سے مختلف ہے۔ (The Muslims of India are differently situated) ۔فرق یہ ہے کہ ایران اور ترکی کے غیر مسلم شہری اہلِ کتاب ہیں۔ان کے مابین سماجی وحدت ممکن ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کو جس طبقے سے واسطہ ہے،وہ طبقاتی نظام اور اونچ نیچ کے تصور کو ماننے والا ہے جو انسانی مساوات کے راستے میں رکاوٹ ہے۔
اقبال اس کے قائل تھے کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، وہاں اسلامی قومیت اور وطنی قومیت کے تصورات ہم آہنگ ہو جاتے ہیں اور اس طرح ان کے مابین تضاد نہیں رہتا۔پاکستان اس کی ایک مثال ہے۔یہ مسلم اکثریتی ملک ہے جہاں مسلم تہذیبی تشخص کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔بایں ہمہ یہ ایک جغرافی وحدت بھی ہے اور ان معنوں میں ایک قومی ریاست ہے جہاں کا آئین اس کے تمام شہریوں کو ماورائے مذہب مساوی حقوق دیتا ہے۔


فکرِ اقبال کو سامنے رکھیں تو قوم اورفرد ،دونوں کو ایک دوسرے کے حوالے سے اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔ قوم فرد کی ضروریات سے صرفِ نظر نہیں کر سکتی اور فردکے مفادات،قوم کے مفادات سے متصادم نہیں ہو سکتے۔قوم کی ذمہ داری ایسے ماحول کی فراہمی ہے جس میں فرد کی صلاحیتوں کو جلا ملے اور فرد کی ذمہ داری ہے کہ اس کی صلاحیتیں اجتماعی اور قومی مفادات کی آب یاری کے لئے کام آئیں۔


فرد اور ملت یا فرد اور قوم کا باہمی تعلق بیان کرتے ہوئے،اقبال دو باتوں کو اہم سمجھتے ہیں۔ایک یہ کہ فرد کی اپنی ایک حیثیت ہے۔اس کی خودی اہم ہے اور اس کی تعمیر ہونی چاہئے۔اس لئے یہ فرد ہی ہے کہ جب اس کی خودی ،خود نگرو خودگر وخود گیر ہوتی ہے تووہ موت پر فتح پالیتا ہے اور کسی ملت اور قوم کے لئے پیغامِ حیات بن جاتا ہے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
 ہر فرد ہے  ملت  کے  مقد ر  کا  ستارہ
دوسری طرف فرد کا معاملہ یہ ہے کہ اگر وہ ملت سے جداہوجائے تو اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔اقبال نے اس کو بھی بیان کیا ہے:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے ،تنہا کچھ نہیں 
 موج ہے دریا میں اوربیرونِ دریا کچھ نہیں
اقبال اس لئے فرد کو یہی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ خود کو اجتماعیت سے الگ نہ کرے۔اس کے ساتھ وا بستہ رہے۔اس کی نشو و نما اسی سے ممکن ہے کہ وہ شجر سے جڑا رہے۔ ٹوٹے ہوئے پتے کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے ،امیدِ بہار رکھ
اقبال کے نزدیک یہ اجتماعیت یا ملت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فرد کی نشو ونما اور ارتقا کو یقینی بنائے۔اس کی خودی کی تعمیر کرے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ افراد ہی ہیں جو قوموں کی تقدیر لکھتے ہیں۔انہیں چیلنجوں کا سامنا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔افراد کا ارتقا اگر رک جائے توقوم رجالِ کار سے محروم ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فکرِ اقبال میں آزادی فکر کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ 
دوسری طرف وہ اس بات کوبھی ضروری سمجھتے ہیں کہ فرد کی آزادی یہ رخ  اختیارنہ کرے کہ وہ اپنا مستقبل ،ملت یا قومی وجود سے جدایا ماورا سمجھنے لگے۔اس کی جولانی فکر اس کو ملت سے کاٹ دینے کا سبب نہ بنے۔یہ رویہ خود فرد کے لئے بھی سازگارنہیں ہے۔یہ اسے خطرے میں مبتلا کر دے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے ہی وہ اپنی شاخ سے الگ ہوگا، اس کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔وہ ہوا کے دوش پہ سوار،اس کے رحم و کرم پر ہو گا کہ وہ اسے کہا لے جاتی ہے۔وہ اگر اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب بھی ہو گیا تو شناخت سے محروم رہے گا۔ 
فکرِ اقبال کو سامنے رکھیں تو قوم اورفرد ،دونوں کو ایک دوسرے کے حوالے سے اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔ قوم فرد کی ضروریات سے صرفِ نظر نہیں کر سکتی اور فردکے مفادات،قوم کے مفادات سے متصادم نہیں ہو سکتے۔قوم کی ذمہ داری ایسے ماحول کی فراہمی ہے جس میں فرد کی صلاحیتوں کو جلا ملے اور فرد کی ذمہ داری ہے کہ اس کی صلاحیتیں اجتماعی اور قومی مفادات کی آب یاری کے لئے کام آئیں۔آج ضرورت ہے کہ فکرِ اقبال کی روشنی میں پاکستان کی تعمیر ہو۔فرد ملت کے مقدر کا ستارہ بنے اور ملت فرد کی خودی کی حفاظت کرے۔    


 مضمون نگار معروف دانشور ،سینیئر تجزیہ کار اورکالم نویس ہیں۔

[email protected]
    
 

یہ تحریر 131مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP