بیاد اقبال

علامہ اقبال۔ اپنوں اور غیروں کی نظر میں

اقبال ایک نابغہ روزگار مفکر تھے۔ اسی لئے آج دنیا کے سنجیدہ اور ''صحیح پڑھے لکھے'' لوگوں کے نزدیک اُن کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین شاعر اور مفکر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ عالم عرب میں وہ ''شاعرِِاسلام'' کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ اہلِ ایران اُن کے فارسی کلام کی عظمت کے قائل اور معترف ہیں۔ ایران میں اُن کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ تہران کے معروف علمی ادارے حسینیہ ارشاد کی تزئین و آرائش ایران کے کسی شاعر کے نہیں بلکہ اقبال کے اشعار لکھ کر کی گئی ہے۔


ہمارے عظیم قومی شاعر' علامہ اقبال ' اپنے شاندار افکار و خیالات اور بے مثال شاعری کے باعث آج دنیا کے سنجیدہ علمی حلقوں میں وہ بلند و بالا اور اعلیٰ و ارفع مقام حاصل کرچکے ہیں جو تاریخ میں بہت کم شعراء و مفکرین کو حاصل ہوا ہے۔ آج اقبال صرف پاکستانی قوم کے شاعر اور مفکر نہیں بلکہ کل امتِ مسلمہ کے شاعر اور رہنما بن چکے ہیں۔ آج عالمگیر شاعری اور عالمی فکر کے افق پر' فکرِ اقبال کا طوطی بول رہا ہے۔ اقبال کی بلند فکری کا شہرہ تو اُن کی جوانی کے دور ہی میں گونجنے لگا تھا۔1915 میں ''اسرارِ خودی'' نے چھپتے ہی دھوم مچا دی تھی۔ اُن کے بے مثل نظریہ خودی نے یورپ میں ہلچل مچا دی اور معروف انگریز نقاد سر ہربرٹ ریڈ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ 
''شاعری( مابعد الطبیعاتی صداقتوں) کے معیار پر اگر آج کے اپنے شعراء کی پرکھ کی جائے تو مجھے ایک ہی زندہ شاعر نظر آتا ہے جو کم معیار نہ ثابت ہوگا۔ اور یہ بھی طے ہے کہ وہ ہمارے عقیدے اور نسل کا شاعر بھی نہیں۔ میری مراد محمداقبال سے ہے۔ آج جبکہ ہمارے مقامی شاعر اپنے بے تکلف احباب کے حلقے میں بیٹھے کیٹس کے تتبع میں کتے بلیوں اور ایسے ہی گھریلو موضوعات پر طبع آزمائی کررہے ہیں تو ایسے میں لاہور میں ایسی نظم تخلیق کی گئی ہے جس کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس نے مسلمانوں کی نوجوان نسل میں طوفان برپا کردیا ہے۔''



اقبال ایک نابغہ روزگار مفکر تھے۔ اسی لئے آج دنیا کے سنجیدہ اور ''صحیح پڑھے لکھے'' لوگوں کے نزدیک اُن کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین شاعر اور مفکر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ عالم عرب میں وہ ''شاعرِِاسلام'' کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ اہلِ ایران اُن کے فارسی کلام کی عظمت کے قائل اور معترف ہیں۔ ایران میں اُن کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ تہران کے معروف علمی ادارے حسینیہ ارشاد کی تزئین و آرائش ایران کے کسی شاعر کے نہیں بلکہ اقبال کے اشعار لکھ کر کی گئی ہے۔ انقلابِ ایران کی تحریک کے دوران ہونے والے بڑے بڑے اجتماعات میں وہاں کے معروف دانشور اور ایران میں اسلامی انقلاب کے شہیدمجاہد علی شریعتی نے علامہ اقبال کو ''غزالی ثانی'' کا لقب دیا۔ ایران ہی کے ایک اور دانشور' ڈاکٹر علی رجائی کا کہنا ہے کہ اقبال ایک نودریافت براعظم کی مانند ہیں جس میں کتنی ہی دلآویز اور قابلِ غور چیز ہنوز بحث طلب ہیں۔
ایران میں اقبال پر متعدد کتابیں چھپ چکی ہیں' مقالات کے کئی مجموعوں میں اُن پر مقالے شامل ہیں اور مجلات میں چھپنے والے مقالے تو اَن گنت ہیں۔ آج فکرِ اقبال کی شہرت دنیائے عرب اور ایران سے نکل کر بہت دور تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ان پر کتابیں اور مقالے لکھے جا رہے ہیں۔ دنیا کی اکثر زبانوں میں ان کے اُردو و فارسی کلام اورخطبات کے ترجمے ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی اور معروف یونیورسٹیوں میں اقبالیات کے شعبے قائم ہیں۔ اقبالیات کے علاوہ اُردو' اسلامیات' فلسفہ' انگریزی' مطالعہ پاکستان اور تاریخ کے شعبوں میں بھی اقبالیات پر تحقیقی مقالے لکھوائے گئے ہیں اور پی ایچ ڈی کی سطح تک کی ڈگریاں عطا کی گئی ہیں اور ہنوز تحقیقی کام جاری ہے۔ صرف علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اقبالیات میں اب تک مکمل ہونے والے ایم فل کے مقالوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے اور پی ایچ ڈی کے درجنوں موضوعات پر تحقیقی کام ہو رہا ہے اور کئی مقالوں پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں عطا کی جاچکی ہیں۔
شام' ایران' مصر' ترکی' مراکش' تیونس ' ملائشیا' انڈونیشیا' بنگلہ دیش' افغانستان اور وسطِ ایشیائی ریاستوں میں تو اسلامی اخوت کے ناتے فکرِ اقبال کی شہرت اوراُن پر تحقیقی کام سمجھ میں آنے والی بات ہے مگر فکرِ اقبال کی عظمت کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ برطانیہ' امریکہ' اٹلی جاپان' چین' فرانس' نیدر لینڈ' کینیڈا' سویڈن' فن لینڈ' ارجنٹائن اور سری لنکا میں بھی فکرِ اقبال کا شہرہ ہے۔ ان ممالک میں بھی اقبال شناس اور ایسے محققین موجود ہیں جنہوں نے  اپنے آپ کو تحقیقِ اقبال اور اقبالیات کے لئے وقف کررکھا ہے۔ دنیا بھر کے دانشور اور محققین اقبال اور فکرِ اقبال کے معترف  رہے ہیں اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ ٹی ایس آرنلڈ' ڈاکٹر نکلسن' ہربرٹ ریڈ'  پروفیسر اے۔ جے۔ آربری' ای۔ ایم فاسٹر ایسندر و بوزانی' پروفیسر جی تو چی' ڈاکٹر اینا ماری شمل' لوس کلوڈ میخ' ڈاکٹر شیلا میکڈونف' ڈاکٹر ایل۔ آر۔ ایلسن' ڈاکٹر سخوچوف' ڈاکٹر سعداﷲیلداشیف' نکولائی گلیبوف' ڈاکٹرضیاء الدین سجادی' ڈاکٹر احمد علی رجائی' ڈاکٹر علی شریعتی' ڈاکٹر عبدالوہاب' ڈاکٹر طہٰ حسین' ڈاکٹر علی نہادنارلان' پروفیسر ایس آئی فہد' محمود العقاد' پروفیسرمجتبیٰ مینوی' ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید عرفانی' شیخ عبدالقادر' عبدالرحمن بجنوری' سید سلیمان ندوی' سرنواب ذوالفقار' مولانا سعیداحمد اکبر آبادی' مولانا ابولحسن علی ندوی' غلام رسول مہر' ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان' ڈاکٹر سید عبداﷲ' پیرکرم علی شاہ ' ڈاکٹر اسرار احمد' مولانا مودودی اور اِن جیسے سیکڑوں مفکرین' دانشور اور محققین ' فکرِ اقبال کے معترف ہیں۔ 
ذیل میں علامہ اقبال کے بارے میں مشرق و مغرب کے چند نامور اہلِ علم و دانش اور معتبر و مستند نقادوں کی آراء پیش کی جاتی ہیں جو عظمتِ اقبال اور رفعتِ فکرِ اقبال کا واضح اعتراف ہیں۔
''اقبال کی شاعری نے نوجوان مسلمانوں میں بیداری پیدا کردی ہے اور بعض نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جس مسیحا کا انتظار تھا وہ آگیا ہے۔''(نکلسن)
''ہندوستان میں حرکتِ تجدید نے اپنا ممتاز ترین ظہور سر محمد اقبال کی شاعری میں حاصل کیا ہے۔'' (سرطاس آرنلڈ' برطانیہ)
''شاید یہ بہت کم لوگوں کومعلوم ہوکہ ڈاکٹر اقبال مرحوم ایک صوفی خاندان میں پیداہوئے تھے۔ اُن کے والد مرحوم ایک صوفی منش انسان  تھے اور اُن کے ہاں آنے والے دوستوں کا مزاج بھی یہی تھا اور اسی ماحول میں اقبال کی پرورش ہوئی۔'' 
(سید سلیمان ندوی، پاکستان)
''دردیدئہ معنی نگہبان حضرتِ اقبال
پیغمبریئے کرد و پیمبر نتواں گُفت''
(مولانا قادر گرامی)
''ہندوستان کے اُردو دانوں کی زبان پر آج کل اقبال کا ہی چرچا ہے۔''
(قاضی نذر الاسلام' بنگلہ دیش)
''محمداقبال ہمارے عہد میں اسلامی فکر اور انسانی و بین المِلل' اسلامی بصیرت کے مظہر ہیں۔
''میں جب بھی اقبال کے بارے میں سوچتا ہوں' میں اُن کو ''علی گونہ'' (علی نما) پاتا ہوں یعنی ایک ایسا انسان جو علی کی سنت کا پیرو ہے' لیکن وہ انسان بیسویں صدی کی انسانی استعداد کے کیف و کم کا بھی مکمل نمونہ ہے۔''     (ڈاکٹر علی شریعتی' ایران)
''بید لے گررفت اقبالے رسید
بیدلاں را نوبتِ حالے رسید
قرنِ حاضر خاصۂ اقبال گشت
واحدے کزصد ہزاراں برگزشت
این سلامے می فرستم سوئے یار 
بے ریا تر از نسیمِ نو بہار
(ملک الشعراء بہار' ایران)
''اقبال ہمارے لئے مسیحا بن کر آیا ہے اور اُس نے مُردوں میں زندگی کی لہر دوڑا دی ہے۔''     (شمس العلماء' ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری)
''وہ باوجود اتنا بڑا مشہور شاعر ہونے کے شاعر نہیں ہے بلکہ اپنے پیام سے مقامِ نبوت کی جانشینی کا حق ادا کررہا ہے۔ مبارک ہیں وہ ہستیاں جو اقبال شناس ہو جائیں۔''(مولانا عبدالماجد دریا آبادی)
اقبال  کی شاعری کی خاص غایت تھی۔ مولانا حالی کی طرح اقبال نے بھی اپنی شاعری سے قوم اور ملک کو جگانے اور رہنمائی کا کام لیا۔ یہ اُس کے خیال اور فکر کی قوت اور جدت تھی' جس نے اُس کے کلام اورطرزِ بیان میں زور اور جوش پیدا کردیا۔''
(بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق)
علامہ اقبال کا شمار بیسویں صدی کے عظیم ترین شعراء اور مفکرین میں کیا جاتا ہے۔ اُن کی حیات ہی میں اُنہیں شاعرِ مشرق' کہا جانے لگا۔''
 (نکولائی کلیبوف' روس)
''اقبال۔ ایک شاعر' جس نے زمانے پر اپنا سکہ بٹھا دیا۔''
(ڈاکٹر طہٰ حسین۔ مصر)
''صرف سرزمینِ پاکستان کے لئے نہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ آزادی' وطن پرستی اورفضیلت کے لئے کوشاں تمام مسلمانوں اور انسانوں کی خدمت کرنے والے مفکر شاعر اقبال ہیں۔''  (ڈاکٹر عبدالقادر کراحان' ترکی)
''اقبال کا سارا کلام پڑھنے کے بعد ایک سیدھی سادی بات جو ایک عامی کی سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کو پہچانے اور اُن سے کام لے۔خدا اور اُس کے رسولۖ سے عشق رکھے۔ اسلامی تعلیمات کی حَرکی روح کو سمجھے اور اُس پر عمل کرے تو وہ حقیقت میں خدا کا جانشین بن سکتا ہے اوراپنی تقدیر کا آپ مالک بن سکتاہے۔'' (عزیز احمد)
'ہم اقبال کو عہدِ جدید کا زبردست مفکرِا سلام' مجددِملت اور اسلامی انقلاب کا سب سے بڑا داعی کہتے ہیں۔'' ( مولانا سعید احمد اکبر آبادی) ||


مضمون نگار ایک معروف ماہر تعلیم ہیں۔ اقبالیات اور پاکستانیات سے متعلق امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 135مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP