قومی و بین الاقوامی ایشوز

علاقائی تعاون۔ مگر کیسے؟

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی شروعات نومبر 2011 میں ہوئیں۔ کانفرنس کا مقصد ایک مخلصانہ پلیٹ فارم بنانا تھا جس کے ذریعے نتیجہ خیز علاقائی تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ افغانستان کو مرکز گفتگو بنا کر اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان تمام مشترکہ مشکلات اور چیلنجزجو کہ افغانستان خاص کر اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی ممالک کو درپیش ہیں ان کا بہتر حل تلاش کرنا تھا۔ مرکزی خیال یہی تھا کہ محفوظ اور مستحکم افغانستان ہی اس تمام خطے کی ترقی اور خوش حالی کا ضامن ہو گا۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں جو کہ استنبول سلسلہ بھی کہلاتا ہے کل چودہ ممالک شامل ہیں۔ تمام اہم علاقائی ممالک اس کے ممبر ہیں جبکہ 17معاون ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے اور اس کے ساتھ بارہ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بطور معاون موجود ہیں۔ یہ تنظیم تین بنیادی مسائل یا معاملات جو کہ سیاسی مشاورت‘ اعتماد سازی کے اقدامات اور علاقائی تنظیموں سے تعاون ہیں،کی طرف مرکوز ہے۔
ماضی میں کچھ اس سے ملتی جلتی ایک کانفرنس
European Conference on Security & Cooperation 
جو کہ یورپ میں سکیورٹی اور تعاون کے نام سے جولائی 1973 میں شروع کی گئی تھی۔ سرد جنگ کے زمانے میں ایسی کانفرنس کا انعقاد ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں مشہور زمانہ ہیلسنکی معاہدے پر اگست 1975 میں دستخط ہوئے۔ اسی کانفرنس نے آگے جا کر یورپی تنظیم برائے سکیورٹی اور تعاون کا روپ دھار لیا۔
OSCE
اس وقت دنیا کی سب سے بڑی علاقائی سکیورٹی کی تنظیم بن چکی ہے۔ جس کے 57ممالک ممبر ہیں۔ ہارٹ آف آیشیا کانفرنس شروع کرنے کے پیچھے ممکن ہے
OSCE 
کاَ کامیاب انعقاد پیش نظر ہو۔ اس وقت ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی ’6سال کے عرصے میں‘ 6کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔ استنبول، کابل، الماتی، (قازقستان)،بیجنگ اور اسلام آباد جبکہ آخری یعنی چھٹی کانفرنس امرتسر میں 5دسمبر کو منعقد ہوئی۔


چھٹی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے پہلے پاک بھارت تعلقات بدترین سطح پر پہنچ چکے تھے۔ 2016 کے وسط میں کشمیر کے مقبوضہ علاقے میں تحریک آزادی میں مزید شدت اس وقت آئی۔ جب برہان مظفر وانی کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ بھارت اپنی تمام تر ریاستی زور اور طاقت کے باوجود کشمیریوں کی حق خودارادی کی تحریک کو دبا نہ سکا۔ بھارت نے بڑھتی ہوئی تحریک کو پاکستان حمایتی قرار دیتے ہوئے سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا اور دو سطح پر پالیسی بنائی۔ پہلی سطح پر دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا کیا جانے لگا کہ پاکستان کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی تحریک آزادی کی مالی اور فوجی معاونت کر رہا ہے اور ساتھ ہی تمام تر ریاستی اور فوجی قوت اور ظلم و تشدد سے کشمیریوں کی تحریک کچلنے کی کوشش کی جانے لگی اور دوسری سطح پرلگاتار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارت کی جانب سے تقریباً 250سے زائد مرتبہ کنٹرول لائن پار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی دوران بھارت نے پاکستان میں پہلے سے طے شدہ سارک سربراہ کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے حلیف ممالک افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی اس بائیکاٹ میں شامل کر لیا۔ نتیجتاً پاکستان نے سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کر دی۔ اس پس منظر میں پاکستانی حکومت کے سامنے یہ سوال کھڑا تھا کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرے یا بھارت کی طرح اس کا بائیکاٹ کرے۔ لیکن پاکستان کے شرکت نہ کرنے سے کانفرنس ملتوی نہ ہونی تھی کیونکہ اس میں 13دوسرے ممالک بھی شامل تھے۔


حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان کو بھارت کی طرح غیرذمہ دارانہ رویہ نہیں اختیار کرنا چاہئے۔ پاک بھارت کشیدگی مذاکرات سے ختم ہو گی نہ کہ ایک دوسرے سے بات چیت بالکل ختم کر دینے سے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مفادات ہیں اور امرتسر کانفرنس کا مقصد افغانستان اور وہاں پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو کرنا تھی۔ تیسرے یہ کہ اس وقت بھارت کی پالیسی پاکستان کو خطے میں اور دنیا بھر سے الگ تھلگ کرنا ہے تو اس کا بہترین توڑ یہی ہے کہ پاکستان اس کانفرنس میں شرکت بھی کرے اور اپنا حصہ بھی ڈالے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دے سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت سے تمام معاملات پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ ساتھ میں یہ فورم
CAREC (Central Asian Regional Economic Cooperation) 
کی بھی حمایت کرتا ہے اور 
HOA
کے ممبر
CAREC 
کے ممبر بھی ہیں لہٰذا کانفرنس میں شرکت کرنے سے
CAREC
میں بھی شمولیت مزید فعال ہو گی۔ 
چنانچہ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر محترم سرتاج عزیز امرتسر پہنچے۔ ان کا پرتپاک استقبال پاکستانی ہائی کمشنر نے کیا۔ تاہم سرتاج عزیز کو آدھ گھنٹے انتظار کرایا گیا۔ بھارتی حکومت کی سردمہری پاکستانی مندوب کے پہنچتے ہی نظر آنے لگی۔


کانفرنس کا موضوع افغانستان تھا خاص کر اس میں موجود دہشت گردی سے نمٹنا تھا۔ پاکستان افغانستان تعلقات اس کانفرنس میں زبردست پلٹا کھا گئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں دہشت گردی کا سارا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔ان کے مطابق ہمیں سرحد پار پاکستان سے ہونی والی دہشت گردوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی ترقی کے لئے 50کروڑ ڈالر کی امداد کا جو وعدہ کیا تھا اسے چاہئے کہ وہ رقم پاکستان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے خرچ کرے۔ ان کے مطابق کچھ عناصر اب بھی دہشت گردی کو پناہ دے رہے ہیں۔ طالبان نے حال ہی میں یہ کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ نہ ملتی تو ایک ماہ بھی نہ چل پاتے۔ انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ کر رہا ہے انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایک ایشیائی یابین الاقوامی تنظیم ان دہشت گرد کارروائیوں پر کڑی نگاہ رکھے جو پاکستان کی شہ پر کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے افغانستان میں افیون کی کاشت کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا کہ افیون کی کاشت پاکستان افغانستان ملحقہ سرحدی علاقوں میں ہی ہو رہی ہے لہٰذا اس میں بھی پاکستان ہی ملوث ہے ۔حالانکہ افیون کی کاشتکاری مکمل طور پر افغانستان میں ہو رہی ہے۔


اشرف غنی کا ایسے وقت میں پاکستان پر الزامات دراصل ان کی اپنی ناکامیوں کی وجہ سے ہے۔ اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت اپنی کمزور اور ناکام پالیسیوں کا الزام پاکستان پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ اس وقت وہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لئے بھارت کو نجات دہندہ سمجھ بیٹھی ہے۔ لیکن بھارت اور اشرف غنی یہ بھول گئے ہیں کہ ان کی حکومت کا دائرہ کار کابل یا اس سے ملحقہ کچھ تھوڑے سے علاقے پر رہ گیا ہے۔ جب وہ افیون کی کاشت پر اپنی بے بسی بتا رہے تھے تو دراصل وہ یہ بھی بتا گئے کہ ان علاقوں پر ان کا کنٹرول ہی نہیں ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کا افغانستان میں اثر و رسوخ ختم کرنے کے لئے تقریباً 2ارب ڈالر کی امداد دی ہے اور اس سے خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ لیکن اس کے حمایت یافتہ اشرف غنی محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہندوستان امریکہ سے بھی فائدہ لے رہا ہے۔ امریکہ ہندوستان دفاعی معاہدہ دراصل اس بڑھتی ہوئی دوستی کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔


پاکستان کے نمائندے سرتاج عزیز نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ الزامات کا کھیل ختم ہونا چاہئے۔ کیونکہ الزامات کی بجائے ٹھوس اور مضبوط اقدامات ہی علاقائی تنازعات ختم کر سکتے ہیں اور یہ کہ پاکستان نے کانفرنس میں آنے کا فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ پاکستان اس خطے میں اور خاص کر افغانستان میں امن لانے کے لئے مخلص ہے۔ سرتاج عزیز کی تقریر میں تشنگی باقی رہی۔ اگر وہ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے دنیا کو ریاستی دہشت گردی یعنی بھارتی مظالم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ نشاندہی کر دیتے تو کچھ مذائقہ نہ تھا۔ پھر جب بات افغانستان ہی کی ہو رہی تھی تو افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں دراندازی اور دہشت گردوں کی آمد اور پاکستان میں ہونے والے کئی ہولناک دہشت گردی کے واقعات جس میں سینکڑوں بے گناہ اپنی جان سے گئے، خاص کر آرمی پبلک سکول کا واقعہ ان کو یاد دلانے سے دنیا کے ممالک اور لوگ کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتے۔بہرحال روسی نمائندے نے سرتاج عزیز کی تقریر کی تعریف کی اسے انتہائی تعمیری اور دوستانہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان پر الزامات اور تنقید کو ناپسند کیا اور اسے مسترد کر دیا۔ پاکستان کو کئی دوست ممالک خاص کر ایران، ترکی ملائشیا وغیرہ کی طرف سے کسی قسم کی تعریف یا پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر کسی تبصرہ کا انتظارہی رہا۔


بھارتی سرد مہری اور رویے سے دل برداشتہ سرتاج عزیز فوراً ہی وطن واپس پہنچنے اور اسی رات کو پریس کانفرنس میں بھارتی غیر سفارتی اور انتہائی ہتک آمیز رویے کے بارے میں ذرائع ابلاغ اور عام لوگوں کو معلومات دیں ان سب باتوں کے باوجود حکومت پاکستان اس کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت کے فیصلہ کو صحیح گردانتے ہوئے کانفرنس کو کامیاب قرار دیتی رہی۔
کانفرنس کے آخری اعلامیے کا ایک حصہ پاکستان کے لئے اچھا نہیں تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں بالخصوص افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ مشترکہ اعلامیے میں مبینہ دہشت گرد گروپوں کا نام لیا گیا ہے اور ان کی پرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان میں داعش، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکمانستان اسلامی موومنٹ، لشکر طیبہ، جیش محمد، جمعیت الاحرار اور حزب اﷲ شامل ہیں۔ ان میں سے کتنی تنظیمیں پاکستان میں بنائی گئیں۔ جبکہ کئی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکسان کو ٹھکانہ بنایا ہوا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں اس پورے خطے میں ہونے والی دہشت گردی کا مرکز پاکستان ہے اور افغانستان صرف ایک مظلوم تماشائی بن گیا ہے۔ جس کی سرزمین دہشت گردوں کے استعمال میں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان میں سے بیشتر تنظیمیں امریکہ کی تخلیق کردہ ہیں۔ جن کو افغانستان میں مختلف ادوار میں یا مختلف علاقوں کی ضرورت کے پیش نظر تخلیق کیا گیا ور بعد میں غیرفعال کرنے کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اب پاکستان کو (الزام ڈال کر) اس میں شامل کر دیا گیا۔


مشترکہ اعلامیے کے دوسرے حصے میں پاکستان اور ایران کی تعریف کی گئی ہے کہ دونون ممالک نے انتہائی ذمہ داری سے افغان مہاجرین کو نہ صرف جگہ دی بلکہ ان کا خاطر خواہ خیال بھی رکھا ہے۔ یہی وہ پوائنٹ تھا جس پر سرتاج عزیز اپنی تقریر میں ذکر سکتے تھے کہ پاکستان نے مہاجرین کو جگہ دے کر کس طرح دنیا کا اہم بوجھ اٹھایا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کن شدید سکیورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بھی دنیا اور خاص کر مہاجرین کے ملک افغانستان کو شکرگزار اور پاکستان کا احسان مند ہونا چاہئے نہ کہ تنقید کا نشانہ بنائے۔ 
بھارتی ابلاغ عامہ نے بھی پاکستان کی شمولیت کو سراہنے کی بجائے اس پر کڑی تنقید کی بلکہ پاکستان کے ساتھ غیرسفارتی رویے پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کی ناکامی کہا۔ سوال یہ ہے کہ سرتاج عزیز کی جگہ اگر پاکستانی سفیر اس کانفرنس میں شرکت کرتے تو کیا اس وقت بھارت کا اور افغانستان کا رویہ مختلف ہوتا۔ یقیناًنہیں تو پھر بھارت سے معاملات اتنے آگے بڑھانے سے کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینے کے لئے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ وہی بین الاقوامی برادری ہے جس کی رائے کشمیریوں کے اوپر ڈھائے گئے بھارتی مظالم بھی نہ بدل سکے۔ پچھلے چھ مہینے سے جس طرح کشمیری عوام پر ظلم و ستم ہو رہا ہے جب یہ مظالم بھارت کے متعلق ان کی رائے نہ بدل سکے تو پاکستان کی

HOA

کانفرنس میں شمولیت کیا بدل سکے گی۔ بین الاقوامی برادری کی سردمہری اور کشمیر کو اہمیت نہ دینا دراصل بھارت کے بارے میں ایک قائم شدہ رائے ہے جو ہندوستان کی تمام پر تشدد کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود تبدیل نہیں ہوسکی ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے اشرف غنی کی حکومت حقیقی طور پر ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔ جس کا دائرہ کار کابل تک ہی محدود ہے۔ اشرف غنی کا کانفرنس میں بیان ’بھارت کی شہ پر اور امریکہ کی رضامندی سے‘ ہی ممکن تھا کیونکہ وہ بہت جلدی اپنے موقف تبدیل کر لیتے ہیں جیسے کچھ عرصہ پہلے وہ پاکستان کو ایک برادر ملک سمجھ رہے تھے۔


کانفرنس کا اصل مقصد افغانستان میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے مثبت تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر کے مسئلے کا قابل عمل حل تلاش کرنا تھا مگر بھارت اور افغانستان نے کانفرنس کو پاکستان کے خلاف پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جس میں وہ یقیناًکامیاب نہ ہو سکے لیکن کانفرنس اپنے ایجنڈے کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ کم از کم پاکستان کے شرکت کرنے سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کا محاذ آرائی کا رویہ تھا جو خود ان پر منفی اثرات لائے گا۔ کیونکہ یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔


پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ بھارت اور افغانستان سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اچھے تعلقات صرف اور صرف برابری کی بنیاد پر ہی ممکن ہیں۔


مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔

یہ تحریر 131مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP