ہمارے غازی وشہداء

عظیم مائوں کے بہادر جوان بیٹے 

 کیپٹن علی رؤف مگسی شہید کے حوالے سے محمداسلم لودھی کی تحریر

کیپٹن علی رؤف مگسی پاک فوج کا وہ بہادر افسر ہے جس نے فوج میں شامل ہوکر نہ صرف اپنے وطن کا نام سربلند کیا بلکہ اپنے مگسی قبیلے کی عزت کو بھی چار چاندلگا دیئے ۔ کیپٹن علی ، پاک فوج کے ایک شیر دل افسر ،کرنل سردار عبدالرئوف خاں مگسی (ر)کے فرزند ہیں۔ 

 کیپٹن علی کی رگوں میں بھی ایک دلیر باپ کا خون دوڑ رہا تھا ۔جس نے پاک فوج کو جوائن ہی اس لئے کیا کہ ملک دشمنوں کے خلاف نبرد آزما ہو کر اپنے وطن اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکے ۔یہ 28 جنوری 1998ء کا واقعہ ہے، کہ اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں کرنل مگسی(ر)  اور کیپٹن علی محو گفتگو تھے۔ بیٹا سوال کرتا ہے، ابو پاک بھارت جنگ کب ہوگی؟ والد نے بتایا بیٹا پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اس لئے کھلی جنگ کا امکان نہیں،کیونکہ یہ جنگ دونوں کی تباہی کا باعث بنے گی ۔یہ سن کرکیپٹن علی نے کہا ابو میں تو فوج میں شامل ہی اس لئے ہوا ہوں کہ بھارت کے ساتھ جنگ کرکے شہادت کا جام نوش کرسکوں، اگرجنگ نہیں ہونی توکیا میں فوج کو خیر باد کہہ دوں۔والد نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا سیاچن ایک ایسا مقام ہے جہاں اب بھی ، دونوں ملکوں کی فوجیں برسرپیکارہیں اوروقتا فوقتا جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں ۔، یہ سنتے ہی کیپٹن علی خوشی سے اچھل پڑے اور کہا تو پھر آپ میری ٹرانسفراس یونٹ میں کروا دیں جس کی ذمہ داری میں سیاچن کا دفاع ہے۔میں دنیا کے کسی بھی حصے میں بھارتی فوج سے لڑنے کو تیار ہوں ۔
کیپٹن علی کی باتیں باپ کی سمجھ سے بالاتر تھیں وہ دل و جان سے اپنے اس عزیز اور عظیم بیٹے سے ہر باپ کی طرح محبت کرتے تھے ۔کرنل مگسی نے ٹھنڈی سانس بھری اور کہا بیٹا ایک مرتبہ پھر سوچ لو کیونکہ تم نے سیاچن کا نام سنا ہے اس کے قہر اور حشر سامانیوں کا شایدتمہیں اندازہ نہیں ۔ سیاچن دنیا کا وہ منفرد اور بلند ترین محاذ جنگ ہے جہاں لڑی جانے والی جنگ ، دنیا کی دیگر جنگوں سے بہت مختلف ہے ۔بیس سے چھبیس ہزار فٹ بلندی پر واقع سیاچن کا محاذ جنگ ، صحرائوں ، پہاڑوں ، جنگلوں اور سمندروں کے جنگی میدانوں سے یکسر مختلف ہے۔یہ جنگ ایسی کھڑی سنگلاخ چٹانوں پر لڑی جارہی ہے جہاں جنگ لڑنا تو درکنار ناقابل عبور برفانی ڈھلوانوں اور چوٹیوں کو دیکھ کر ہی پسینے چھوٹ جاتے ہیں ۔چندلمحے خاموش رہنے کے بعد پھر کرنل مگسی بولے بیٹا یہ پاکستان آرمی کی قائدانہ صلاحیتوں کے امتحان کی جنگ ہے ۔یہ سرفروشوں کی رگوں میں دوڑتے ہوئے گرم لہو کی جنگ ہے، یہ ملک و قوم کی عظمتوں کے تحفظ کی جنگ ہے۔ سیاچن ایسا مقام ہے جہاں فنا سے بقا کی نوید ملتی ہے اور شہادتوں سے عظمتوں کے چراغ جلتے ہیں ۔
کیپٹن علی ، والد کی باتیں بہت حیرانی سے سن رہے تھے ۔ جب والد چند لمحوں کے لئے خاموش ہوئے تو کیپٹن علی بولے! ابو کیا واقعی سیاچن بہت مشکل محاذ جنگ ہے جس کے تصور سے ہی انسان کو جھرجھری آجاتی ہے ؟ کرنل مگسی نے کہا جی بیٹا ۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں حد نگاہ تک برف ہی برف دکھائی دیتی ہے ، زندگی ناپید اور سانس لینے میں سخت دشواری محسوس ہوتی ہے۔ جہاں موت، زندگی سے پہلے اور بیماری ، تندرستی سے پہلے پہنچ جاتی ہے ۔ جہاں قدم قدم پر سانس رکتی اور خون رگوں میں جمتا محسوس ہوتا ہے ۔وہاں ایسے ایسے خوفناک برفانی طوفان آتے ہیں جو سامان سمیت خیمے اڑا کر لے جاتے ہیں اورزندہ انسانوں کو برف کی تہوں میں دفنا دیتے ہیں ۔سیاچن میں ہزاروں فٹ کی بلندی سے اچانک پھسلنے والے برف اور مٹی کے تودے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو نیست و نابو د کردیتے ہیں۔ یہاں ایک طرف جمی ہوئی برف کی دیواریں ہیں تو دوسری جانب انسانوں کو نگل جانے والی گہری کھائیاں جو برف کی ہلکی پرت سے ڈھکی ہوئی اپنے شکار کی ہر لمحے منتظر رہتی ہیں ۔یہاں فطرت اپنی پوری قہر سامانیوں کے ساتھ انسانوں کی قوت برداشت ،اعصاب ، حوصلے، صبر و تحمل ، جذبہ ایثار ، حب الوطنی اور شوق شہادت کا کڑا امتحان لیتی ہے ۔ یہاں کتنے ہی پاک فوج کے جانباز برفانی طوفانوںکی نذر ہوچکے ہیں ۔
ان کا خیال تھا کہ بیٹا ان باتوںسے مرعوب ہوکر سیاچن جانے کا ارادہ ترک کردے گا لیکن انہیں اس وقت حیرانی کا سامنا کرنا پڑا جب ان باتوں نے کیپٹن علی کے دل و دماغ میں سیاچن جانے کا اشتیاق مزید بڑھادیا۔ اس کے ارادے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئے ۔وہ تو پیدا ہی ایسے خطرات سے کھیلنے کے لئے ہوا تھا ۔ مگسی قبیلے کا خون اس کی رگوں میں دوڑ رہا تھا یہ وہ بلوچ قبیلہ ہے جس نے انگریز فوج کے خلاف بھی جرأت و بہادری کے جوہر دکھائے تھے۔
جب کپیٹن علی کا اصرار حد سے بڑھ گیا تو  باامر مجبوری کرنل مگسی نے جی ایچ کیو پہنچ کر اپنے بیٹے کا تبادلہ این ایل آئی یونٹ میں کروا دیا جو سیاچن میں تعینات تھی اور بھارتی فوج سے اس بلند ترین محاذ پر برسر پیکار تھی ۔ بعد ازاں کیپٹن علی کی اپنی یونٹ 40 بلوچ بھی سیاچن جا پہنچی تو کیپٹن علی اپنی یونٹ میں واپس آگئے ۔کیپٹن علی کے ساتھی بتاتے ہیں کہ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کیپٹن علی کے جسم میں قدرت نے بجلیاں بھردی ہوں ۔ کسی عمودی چٹان سے خوفزدہ نہیں ہوئے ، اتنی مہارت سے برفانی چوٹی پر چڑھتے جیسے ان کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہ ہو ۔سیاچن کی بلند ترین پوسٹ پر پہنچتے ہی ان کا سامنا بھارتی فوج سے ہوگیا ۔ کیپٹن علی کے کمانڈنگ آفیسر کرنل کامران رضا ان کی پیشہ ورانہ خدمات اور بہادری پر بہت نازاں تھے جس کااظہار کیپٹن علی نے اپنے ان خطوط میں کیا جو سیاچن تعیناتی کے دوران انہوںنے اپنے والدین کو لکھے ۔ کیپٹن علی نے ایک خط میںلکھا کہ آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ میں نے بھارتی فوج کی ایک چوکی کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ علاوہ ازیںکتنی ہی بار ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا اور مشکل ترین حالات میںاپنے ساتھیوں کو بچایا۔ آپ حاجی پوسٹ پر دو بار تعینات رہے جس کی سطح سمندر سے اونچائی 2200  فٹ سے اوپربتائی جاتی ہے ۔ 
یادرہے کہ بلند ترین پوسٹ پر ایک مقررہ وقت تک قیام رہتا ہے ، بعد ازاں بلند پوسٹوں پر تعینات افسروں اور جوانوں کو نیچے بیس کیمپ میں بلالیاجاتاہے اور تازہ دم دستے ان کی جگہ لے لیتے ہیں ۔ کیپٹن علی کو بلند ترین پوسٹ پر اپنی تعیناتی کی مدت ختم کرکے بیس کیمپ واپس آ ئے ہوئے ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ خضرپوسٹ پر مامور کیپٹن بلال نے اپنی بہن کی شادی میں شرکت کی وجہ سے چھٹی مانگ لی ، اس سے پہلے کہ وہاں کسی اور کی ڈیوٹی لگائی جاتی کیپٹن علی ، خضرپوسٹ پر جانے کے لئے تیار ہوگئے اور پوسٹ کی جانب جلد ہی اپنے ساتھیوں سمیت روانہ ہو گئے، وہ ابھی کچھ ہی دور گئے تھے کہ بھارتی فوج کی جانب سے گولہ باری شروع ہوگئی ، برف کا ایک طوفان اٹھا اوربرفانی تودے یکے بعد دیگر ے گرنے لگے ۔ ایک ہزار من وزنی تودہ ان پر آگر اجس سے کیپٹن علی پانچ ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے ۔ یہ25جنوری 1999ء کادن تھالیکن تابوت میں بند کیپٹن علی شہید نے اپنے والدین کے گھر کے دروازے پر دستک 28 جنوری1999ء کو دی ۔بعدازاں اُنہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفنادیا گیا ۔ 
شہادت سے چند ہفتے پہلے کی بات ہے۔کیپٹن علی اپنی والدہ سے مخاطب ہوکر کہنے لگے ، امی جان ، تصور کریں اگر ٹیلی فون کی گھنٹی بجے اور آپ فون اٹھائیں تو دوسری جانب بات کرنے والا کہے کہ آپ کا بیٹا شہید ہوگیا ہے ،اس کا تابوت آپ کے گھر آرہا ہے ، اس لمحے آپ پر کیا گزرے گی۔ یہ سنتے ہی ماںکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور کہنے لگی بیٹا تم کیسی باتیں کررہے ہو، بھلا کوئی ماں بھی اپنے بیٹے کی موت کا تصور کرتی ہے ۔کیپٹن علی نے جیب سے رومال نکالااور ماں کی آنکھوں سے آنسو صاف کرکے بولا ، امی میں ایک شہید فوجی کا تابوت لے کر ایک گائوں گیا تھا ،وہاں سارے رشتے دار رو رہے تھے لیکن شہید کی ماں خاموش تھی ، وہ بار بار لوگوں کے چہرے دیکھتی اور واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاتی ۔ایک بزرگ نے کہا شاید صدمے سے شہید کی ماں پر سکتہ طاری ہوچکا ہے ،اسے کسی نہ کسی طرح رُلایا جائے ۔ یہ سنتے ہی شہید کی ماں بولی اور کہا مجھے بار بار رونے کے لئے کیوں کہہ رہے ہو ۔میرا بیٹا تو وطن کی حفاظت کرتا ہوا شہید ہوا ہے ،اس نے پورے خاندان میں میرا سرفخرسے بلند کردیا ہے۔ آپ مجھے رونے کے لئے کہہ رہے ہو ، شہید تو زندہ ہوتاہے  شہادت کا مقام حاصل کرنا ہمارے خاندان کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے ۔ 
 وقت گزرتا رہا پھر وہ وقت بھی آپہنچا جب کیپٹن علی شہید کا جسد خاکی ایک تابوت میں بند ،والدین کی چوکھٹ پر دستک دے رہا تھا ،بیٹے کی شہادت کے صدمے میںوالدہ نہ جانے کتنے دن بے ہوش رہیں لیکن بہادر باپ ( کرنل سردار عبدالرئوف خان مگسی ) نے اتنا ہی کہا کہ شہادت کی تمنا تو میری تھی، میرا بیٹا، کیپٹن علی مجھ سے بازی لے گیا ۔بعد از شہادت کیپٹن علی رؤف مگسی شہید کو تمغۂ بسالت سے نوازا گیا ۔


[email protected]
 

یہ تحریر 39مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP