قومی و بین الاقوامی ایشوز

عسکری نگٹس

معارج ارشاد المعروف مسکین شاہ کاکول میں ہمارے پلاٹون میٹ تھے ہمیشہ ایکسٹرا ڈرل پر ہوتے۔ ایک دن پورا FSMOپہنے ڈاکخانے پہنچے تو ہماری بصری اور سمعی شہادت میں اپنی گرل فرینڈ کو لاہور فون پر بتا رہے تھے کہ جیپ تیار کھڑی ہے محاذ پر جارہا ہوں عزم شہادت لے کر (ستمبر1965ء) ہم Leading Locatorsکے ایجوٹنٹ تھے‘ ٹلہ کے علاقہ میں ایک حربی مشق کے دوران ہمارے کمانڈر بریگیڈئیر ’’خ‘‘ اچانک یونٹ میں آدھمکے۔ موصوف اردو انگلش لہجے میں بولتے تھے اور انہیں ہر کس و ناکس سے Tactical Situation پوچھنے کا شوق تھا۔ سیدھے Cook House پہنچے اور کک شادی خان سے پوچھا ’’جوان دشمن کون ہے‘‘ (وہ سننا چاہتے تھے فاکس لینڈ کی 10کور) مگر شادی خان نے معصومیت سے کہا ’’سر ہمارا کوئی دشمن نہیں ہم سب روٹی پکاتا ہے‘‘ صاحب موصوف ہمیںFrowns دیتے ہوئے وہاں سے کوچ کر گئے۔ 1969میں ہم منگلا میں Locating یونٹ میں تھے۔ مواصلاتی رابطے آج جیسے نہ تھے۔ میری والدہ صاحبہ کی علالت کی خبر بذریعہ تار موصول ہوئی۔ رخصت کی درخواست پر کرنل ’ح‘ کے حضور پیش ہوا تو بولے How many sons does she have (آپ کی والدہ کے کتنے بیٹے ہیں؟ مطلب تو چھٹی کے مسئلہ پر کنجوسCOکا آپ سمجھ گئے ہوں گے) میں نے بر جستگی (اور وارفتگی) سے جواباً عرض کیا She has number of sons but I have only one mother اور میں جارہا ہوں۔یوں مجھے چھٹی مل گئی۔ ہم لوگ دریائے کاہان کے کنارے پڑاؤ میں تھے کرنل ’ح‘ یونٹ سے اکثر ناراض رہتے تھے (بالخصوص نوجوان افسروں سے) سب کو بٹھا کر اظہار برہمی فر ماتے ہوئے کہا ’’آپ لوگوں کا رویہ اتنا شرمناک ہے کہ ’’I want to drown myself somewhere‘‘ کیپٹن عارف سرگوشی میں بولے (جو سنا گیا)’’Sir that Bridge...‘‘ دریائے جہلم پر نیا نیا پُل (1970)پسِ منظر میں نظر آرہا تھا اور پھر عارف جانے اور۔۔۔۔۔ مجاہد فورس کے ایک میجر صاحب ہیڈ کوارٹر میںGSO-2ٹریننگ کے آفس آئے۔ G-2نے پوچھا ’’میرے لئے کوئی خدمت‘‘ مجاہد میجر صاحب بولے ’’سر جب بھی آپ سے کوئی کام کہا ہے آپ Tolerate کر دیتے ہیں‘‘ موصوف کا مطلب تو آپ سمجھ گئے ہیں کہ آپ ٹال دیتے ہیں۔ ایک معروف ڈائریکٹوریٹ میں کمپیوٹر سے نابلد ڈپٹی ڈائریکٹر (کرنل) نے ایک لیفٹیننٹ کرنل کی ACRمیں لکھا۔He is good in hardware of computerجب لیفٹیننٹ کرنل نے احتجاج کیا تو بولے: یار تم کمپیوٹر اتنا اچھی طرح جانتے ہو اس لئے۔ بحث کے بعد ان سے عر ض کی گئی کہ اگر لکھنا ہی ہے تو Software کا لکھ دیں۔ ڈپٹی صاحب فوراً بولے وہ تو میں نے میجر ن کے لئے لکھا ہے۔ تم اس سے سینیئر ہو تو اس لئے تمھارے لئے Hardware لکھا ہے۔ (آپ مسکرائے تو ہوں گے)۔ ’’شیر دا پنجہ‘‘ کے میجر Tکاکول پلاٹون کمانڈرتھے ایک کیڈٹ کی کسی غلطی پر اسے بے طرح ڈانٹ دیا۔ Get Out کے آرڈر پر کیڈٹ منمناتے ہوئے بولا ’’سر مجھے معاف کر دیجئے۔’’I am ashamed of you‘‘ ۔Myself کی جگہ you لگانے پر پلاٹون کمانڈر جوبرسے تو کیڈٹ بے چارے کو تو سمجھ نہ آئی پر آپ تو سمجھ گئے ہوں گے۔ 91فیلڈ لورالائی میں کسی VIPنے آنا تھا۔ رَن وے کی ڈرل پر ہدایات دیتے ہوئے۔کرنل صاحب نے لیفٹیننٹ Q (قائمقام ایجوٹنٹ) سے کہا کہ وہاں لینڈ کرنے کے بعد ٹیکسی کرتے ہوئے جنرل صاحب کو یہاں اترنا ہے۔ ق نے فوراً اپنے COکو یاد دلایا ’’سر انہوں نے تو ٹیکسی پر نہیں بلکہ جہاز پر آنا ہے‘‘۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ ‘Tنئے نئے یونٹ میں آئے تھے ان کے بیٹری کمانڈرTea Breakمیں مزاح کے پھول بکھیر رہے تھے سب لوگ حسبِ توفیق قہقہے لگا رہے تھے۔ تواپنا حصہ ڈالنے کے لئے سیکنڈ لیفٹیننٹ صاحب نے پوری سنجیدگی سے کہا ’’ Sir you are a good joker‘‘ (اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔۔۔۔۔)

یہ تحریر 35مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP