شعر و ادب

عزمِ نو کے تقاضے

چمک رہے ہیں سویرے ‘ کھُلے سمندر میں

ہیں عزمِ نو کے تقاضے ‘ کھلے سمندر میں

بپھرتی موج ‘ بھنور بھی ‘ یہ جان لے ‘ کہ ہمیں

بنانے آتے ہیں ‘ رستے‘ کھلے سمندر میں

کنارِ شام اترتے ہیں لے کے رختِ سفر

ہمارے آہنی جذبے ‘ کھلے سمندر میں

ہم اپنی ریت کے وارث ‘ یقیں کے کوہِ گراں

سو ناؤ چھوڑ کے کودے کھلے سمندر میں

ہر ایک موج نے آ کر ہمیں سلامی دی

ہم ایسی شان سے اترے کھلے سمندر میں

قدم قدم پہ پکارا ہے منزلوں نے ہمیں

بچھائے موج نے رستے کھلے سمندر میں

بڑھیں گے قوتِ بازو پہ اعتماد کے ساتھ

کہ تیرتے ہیں پرندے کھلے سمندر میں

رہیں نثار ترابیؔ رواں دواں دائم

یہ کارواں ‘ یہ سفینے کھلے سمندر میں

 

اے میرے وطن تیرے نام سب

 

اے میرے وطن تیرے نام سب

میری صبح، دوپہر، شام سب

میری آرزو، میری حسرتیں

میری اُلفتیں، میری کلفتیں

مجھے رب نے دیئے مقام سب

اے میرے وطن تیرے نام سب

تیرے دم سے میری محفلیں

تیرے نام سے میرے نام سب

میری شان، آن، جان بھی

شباب، چھب، ایمان سب

اے میرے وطن تیرے نام سب

تیرے ہی دم سے ثبات ہے

یہ جو میری ڈورِ حیات ہے

میری عزتیں، میری راحتیں

میری خواہشیں، میرے مان سب

اے میرے وطن تیرے نام سب

یہ تحریر 72مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP