قومی و بین الاقوامی ایشوز

عالمی قیا مِ امن کے لئے اقومِ متحدہ میں اصلاحات ناگزیر ہیں

لیگ آف نیشنز کا قیام پہلی عالمی جنگ کے بعد عمل میں لایا گیا۔ جس کا مقصد بین الاقوامی امن و سلامتی کے حصول کے لئے بین الاقوامی تعاون کا فروغ تھا۔ اس مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ لیگ نے ان بین الاقوامی قوتوں میں دوریاں پیدا کردیں جو پہلی عالمی جنگ میں شکست کھا چکی تھیں۔ حتیٰ کہ لیگ آف نیشنز فاتح اتحادیوں کو بھی قابو میں نہ رکھ سکی‘ حقیقتاً امریکہ اس کا کبھی بھی ممبر نہیں بنا۔ 1920 سے1930 کے عشرے میں پہلی عالمی جنگ کے سابق اتحادی الگ لگ اور غیر مسلح ہوگئے۔ جبکہ لیگ سے باہر بین الاقوامی قوتیں دوبارہ مسلح ہونا شروع ہوگئیں اور دنیا کو دوسری عالمی جنگ سے بچانے کے لئے لیگ آف نیشنز بے اختیار ہوگئی۔

لیگ آف نیشنز کی طرح اقوامِ متحدہ کے قیام کی بنیاد بھی اسی مفروضے پر رکھی گئی کہ جنگ کے فاتحین بین الاقوامی امن قائم رکھ سکیں گے۔ تاہم لیگ کے برعکس اقوامِ متحدہ نے تجدید تعلق کی جانب کچھ قابل ذکر اقدام اٹھائے جس سے دوسری عالمی جنگ کی تلخی کچھ کم ہوگئی۔ مزیدبرآں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے سبب اس کے ممبران کی تعداد میں ہونے والے تیزی سے اضافے نے نئی قوموں کو وہ اثر اور وہ آواز دی جو ان کے پاس اس قبل نہ تھی۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر26 جون 1945کو سان فرانسسکو میں دستخط کئے گئے۔ جو اقوامِ متحدہ کے تحت کام کرنے والی اقوام کے لئے ایک بنیادی دستاویز ہے۔ اقوامِ متحدہ’’آئندہ نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچائے‘‘ کے مقصد کے تحت قائم کی گئی۔ اس کے بڑے مقاصد میں سے ایک بین الاقوامی امن و سلامتی ہے۔ اگر چہ قیامِ امن کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں صراحت سے بیان نہیں کیا گیا تاہم یہ ایک ایسا اقدام بن چکا ہے جس کے استعمال سے اقوامِ متحدہ امن و سلامتی جیسے مقاصد حاصل کرتی ہے۔ یہ چارٹر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بین الاقوامی امن و سلامتی کی بنیادی ذمہ داری سونپتا ہے۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے سلامتی کونسل کئی اقدام کر سکتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے قیامِ امن آپریشن شامل ہیں۔ یہ امن مشن وہاں بھیجے جاتے ہیں جہاں کی حکومت تنازعات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر قابو پانے میں ناکام رہتی ہے۔

سلامتی کونسل پانچ مستقل ارکان (چین‘ فرانس‘ روس‘ برطانیہ اور امریکہ) اور دس غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے۔ غیر مستقل ارکان میں سے آدھے ارکان کو ہر سال جنرل اسمبلی دوسال کے لئے منتخب کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر سلامتی کونسل کو ایک منفرد اختیار عطا کرتا ہے جس کے مطابق ایسے حالات اور تنازعات کے بارے میں سلامتی کونسل چھان بین کرسکتی ہے جن کے باعث بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہوں۔ بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لئے سلامتی کونسل دنیا میں ایک معتبر ادارہ ہے۔ چنانچہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کے پاس اس بات کا قانونی اختیار ہے کہ وہ کسی بھی خود مختار ریاست کے خلاف چھان بین یا طاقت کا استعمال کرے۔

نئی ابھرنے والی طاقتیں موجودہ عالمی نظام جس پر چند ملکوں کا غلبہ ہے‘ کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی ممالک دنیا میں پولیس مین کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اس لئے ویٹو پاور کا جائزہ لینے کا اصرار بڑھتا جارہا ہے۔ بعض ممالک جو یہ سمجھتے ہیں کہ ویٹو پاور ختم کرنا غیر حقیقت پسندانہ ہوگا وہ بھی اس کے استعمال کو محدود کرنے کی وکالت کرنے لگے ہیں۔

سلامتی کونسل اپنے فرائض اقوامِ متحدہ کے ممبران کی جگہ پر ادا کرتی ہے۔ سلامتی کونسل کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے سیکرٹری جنرل کو پلان مرتب کرنے کا کہتی ہے اور عمومی طور پر سلامتی کونسل کسی بھی پلان کو منظور کرنے کا اختیار رکھتی ہے کچھ خاص حالات میں فیصلوں کے لئے جنرل اسمبلی سے رجوع کیا جاتا ہے۔ جنرل اسمبلی کو خود اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ قیامِ امن کے لئے طاقت استعمال کرے۔ طاقت کے استعمال کا اختیار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس ہے۔

اقوامِ متحدہ کا سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ کے امن مشن آپریشن کو منظم کرنے‘ ان کے انعقاداور دیکھ بھال کے لئے سلامتی کونسل کو جوابدہ ہے۔ علاوہ ازیں آپریشن پلان کی تیاری اور منظوری کے لئے سلامتی کونسل کوپیش کرنے‘ میزبان ممالک کے ساتھ مذاکرات ‘متنازع پارٹیوں اور وہ ممالک جو اپنے دستے بھیج رہے ہوں یا جس اس میں مالی معاونت کررہے ہوں‘ ان کے ساتھ بات چیت کرنے کابھی ذمہ دار ہے۔ جنرل اسمبلی ایسے معاملات پر سوچ بچار کرتی ہے جو سلامتی کونسل کی جانب سے اسے بھیجے گئے ہوں۔ اگر چہ اس کی اکثر قرار دادیں کسی کو پابند نہیں کرتیں‘ تاہم یہ جنرل اسمبلی ہے جو اقوامِ متحدہ کا سالانہ بجٹ تقسیم کرتی ہے جس میں امن آپریشن سے متعلق تمام اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل47 ملٹری سٹاف کمیٹی کے قیام کے متعلق ہے۔ کمیٹی میں سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کے چیفس آف سٹاف شامل ہوتے ہیں۔ جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات کے بارے میں ہدایات اور مدد دیتے ہیں۔ اگرچہ کمیٹی کا یہ کردار اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں واضح ہے مگر عملی طور پر ملٹری سٹاف کمیٹی نے چارٹر میں دیئے گئے کردار کے مطابق کام نہیں کیا۔ یواین سیکرٹریٹ ایک مستقل ادارہ ہے جو اقوامِ متحدہ کی وسیع تر سرگرمیوں کا ذمہ دارہے۔ اس کا سربراہ سیکرٹری جنرل ہے اور حقیقتاً یہ اقوامِ متحدہ کی سول سروس کی ایک برانچ ہے اور اس کے کئی شعبے میں جوبڑے شعبے امن مشن (پی کے اوز) سے متعلق ہیں ان میں ڈیپارٹمنٹ آف پیس کیپنگ آپریشن (ڈی پی اے او) ڈیپارٹمنٹ آف فیلڈ سپورٹ(ڈی ایف ایس) اور ڈیپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سکیورٹی(DSS) شامل ہیں۔ ان شعبوں کے انڈر سیکرٹریز اپنے مشیرانِ خاص کے ساتھ‘ مثلاً ملٹری ایڈوائزر یا پولیس ایڈوائزر اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ سیکرٹری جنرل کو اور سلامتی کونسل کو امن مشن اور ان سے منسلک نظم و ضبط سے متعلق مشورہ اور رہنمائی دیں۔ اور ان کے انعقاد کے لئے انتظامی اتھارٹی فراہم کریں۔

جب ہم دنیا میں قیامِ امن کے لئے سلامتی کونسل کے کردار کو دیکھتے ہیں تو مایوسی ہوتی ہے۔ کیونکہ سلامتی کونسل میں بڑے ملکوں کی اجارہ داری ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے اس اہم ادارے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ جس میں ان کی مرضی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کا انتہائی طاقتور ادارہ ہے لیکن 1945 میں اس کے قیام کے بعد اس کی تشکیل اور ڈھانچے میں کوئی تبدیلی عمل میں نہیں لائی گئی سوائے اس کے کہ 1965 میں اس کے باری باری صدر بننے والے ملکوں کی تعدادچھ سے بڑھا کر دس کردی گئی تھی۔ یہ چھوٹی سی توسیع بھی اس کے پانچ مستقل ارکان کی سلامتی کونسل پر گرفت کو کمزور کرنے میں کوئی کردار ادا نہ کرسکی۔ اب رُکن ممالک کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے کہ اس میں اصلاحات لاتے ہوئے اسے موجودہ دورکی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے چناؤ کا سفر1993 سے زیرِ بحث رہا ہے اگرچہ بہت سے رکن ممالک سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حامی ہیں ان کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے۔ اس کے باوجود اس جانب کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے ۔

عالمی جنگ کے اختتام پر امریکہ اور سوویت یونین حقیقی فاتح ممالک بن کر اُبھرے۔ برطانیہ امریکہ کا بڑا اتحادی ہے اور آج بھی ایک بڑی طاقت ہے۔ ان تینوں نے خود کو فاتح ممالک کی حیثیت سے منوایا اور سلامتی کونسل میں خود کو مستقل نشستیں دیں۔ کمیونزم کو اپنانے سے پہلے چین قوم پرستوں کے زیرِ اثر تھا اسے امریکی صدر روز ویلٹ(Roosevelt) کی تجویز پر شامل کیا گیا جو چاہتے تھے کہہ دنیا میں ایک عالمی نظام ہونا چاہئے جس کی نگرانی چاروں ملک عالمی پولیس مین کی حیثیت سے کریں۔ فرانس جنگِ عظیم کے دوران جرمنی کے زیرِ تسلط رہ چکا تھا اور برطانوی وزیرِاعظم چرچل چاہتے تھے کہ وہ عظیم طاقت کی حیثیت سے ابھرے اور جرمن کے خلاف بفرسٹیٹ کا کام دے۔ سٹالن فرانس کو چارمنگ لیکن کمزور سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے پہلے پہل اس کو مستقل نشست دینے کی مخالفت کی پھر بعد میں اپنے اعتراضات واپس لے لئے۔ فرانس بھی اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ ایک بڑی عالمی طاقت ہے حالانکہ وہ معاشی و مالی مسائل میں بری طرح الجھا ہوا ہے اور یورپ کے دوسرے درجے کے ملکوں میں شمار ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

برطانیہ اور فرانس دونوں حقیقتاً اس بات سے باخبر ہیں کہ نئی طاقتوں کے ابھرنے اور ان کی زوال پذیر ہونے کے باعث ان کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن رہنے کا دعویٰ کمزور ہوگیا ہے اور اس میں کوئی جان نہیں رہی اس لئے وہ اپنی نشستوں کا جواز پیداکرنے کی غرض سے جی فور(Group Of Four) کے مطالبے کے حامی تھے کہ ان کو مستقل رُکن بنایا جائے۔ دوسری طرف سلامتی کونسل کے مستقل رکن بننے کے لئے بھارت بھی خوشامدانہ لہجہ اپنائے ہوئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پانچ ملکوں کا ویٹو پاور اپنے پاس رکھنے کا جواز تلاش کرنابھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ نئی ابھرنے والی طاقتیں موجودہ عالمی نظام جس پر چند ملکوں کا غلبہ ہے‘ کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی ممالک دنیا میں پولیس مین کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اس لئے ویٹو پاور کا جائزہ لینے کا اصرار بڑھتا جارہا ہے۔ بعض ممالک جو یہ سمجھتے ہیں کہ ویٹو پاور ختم کرنا غیر حقیقت پسندانہ ہوگا وہ بھی اس کے استعمال کو محدود کرنے کی وکالت کرنے لگے ہیں۔

اس جذبے کے تحت فرانس نے گزشتہ سال ستمبر میں تجویز دی تھی کہ پانچ مستقل ارکان کے منشور میں ترمیم کئے بغیر ویٹو پاور کا استعمال محدود کردینا چاہئے۔ بالخصوص فرانس کی امن تجویز’’اچھے رویے کے ضابطے‘‘ پر پانچوں ملکوں نے اتفاق کیا تھا کہ اگر کسی ملک نے وسیع پیمانے پر قتل و غارت ہو رہی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کے لئے وہ ویٹو کا استعمال نہیں کریں گے۔ تاہم مجوزہ تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مستقل رکن اعلان کرتا ہے کہ اس کے اہم قومی مفادات خطرے میں ہیں تو اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اگر چہ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ یہ تجویز رکن ممالک کی اکثریت کی توجہ اپنی طرف مبذول کراسکے گی۔یہ تجویز اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ اس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ مستقل ارکان کو جو مراعات حاصل ہیں وہ رواں صدی میں جاری نہیں رہنی چاہئیں۔ اب عالمی منظر نامہ تبدیل ہوچکا ہے۔ اس وقت چار یا پانچ ملک نہیں بلکہ بہت سے ایسے ممالک ہیں جو دنیا میں نمایاں اثر و رسوخ کے حامل ہیں اور عالمی برادری کی تشکیلِ نو میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں اور اس کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لئے بین الاقوامی ریاستی نظام کو نئی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اس کی ہیئت ترکیبی تبدیل کرنا ہوگی اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ویٹو کا اختیار محدود ہوگا۔

یہ تحریر 140مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP