تنازعہ کشمیر

عالمی ضمیر کی بے بسی کی منہ بولتی تصویر۔ کشمیر جنت نظیر

مشہور عوامی انقلابی شاعر حبیب جالب کی دختر سعید حجاب حبیب جالب کی کشمیر ی حریت پسندی اور مسئلہ کشمیر پر ایک خصوصی تحریر

تاریخ انسانی جس میں بے شمار المناک واقعات دیکھنے میں آئے ہیں‘ ان میں مسئلہ کشمیر نمایاں اہمیت کا حامل ہے جو کہ روزِ اول سے ظلم وتشدد کی مثال ہے ویسے کہنے کو توہم آزاد ہیں اور ہر سال 14 اگست کو آزادی کا جشن جوش و خروش سے مناتے ہیں لیکن اپنی ان خوشیوں میں ان مظلوم و محکوم لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو ابھی تک ظلم اور جبر کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور یہ بے گناہ لوگ ایسے گناہوں کی سزاکاٹ رہے ہیں جو انہوں نے کئے ہی نہیں۔ ہم آزاد ہیں مگر ہمارے کشمیری بھائی ابھی تک آزادی کی نعمت سے محروم ہیں۔ آزاد دنیا کی آزادی کا کیا فائدہ جو مظلوم اور مجبور لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہ لاسکے۔ اسے اختیار کا کیا فائدہ جو ساری سامراجی طاقتوں کو منہ توڑ جواب نہ دے پائے۔ آئے روز نہتے کشمیریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کے واقعات منظرِ عام پر آتے رہتے ہیں۔ ہم یہ واقعات دیکھ اور سن کر محض خبروں کی طرح بھول جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی ہر سطح پر کشمیر جیسے سنجیدہ مسئلے کا مستقل حل نکالنے کے بجائے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ کوئی مرے یا جیئے عالمی ضمیر کو اس سے کیا غرض ہے۔ ہماری کشمیر پالیسی بھی اس حد تک کمزور دکھائی دی کہ جب بھارتی قیادت کی جانب سے یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ ’’کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے‘‘ تو اس کاموثر جواب عالمی سطح پر نہیں دیا گیا۔


تقسیمِ ہند کے وقت ہی کشمیر کا فیصلہ ہو جانا چاہئے تھا مگر بعد میںآنے والی حکومتوں نے اس پر مناسب توجہ نہیں دی اور ان کی غلط پالیسیز کی وجہ سے اب تک یہ مسئلہ حل طلب ہے اور شاید اس وقت کشمیریوں کی قربانیاں اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ اب اس کا حل ناگزیر ہوچکا ہے۔ اکثر ہم یہ ہی دعاکرتے ہیں کہ ہر دن ہمارے لئے خوشیوں کی نوید لائے اور ہر رات شبِ برات جیسی ہو۔ لیکن ہمارا احساس اس وقت کیوں مفقود ہوجاتا ہے کہ جب ہم جانتے ہیں کہ کشمیریوں کا ہر دن خون کی لالی لے کر طلوع ہوتا ہے اور رات سیاہی لاتی ہے۔ہم اپنی اولاد کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہیں کہ اُن کی اولاد ہزاروں سال جیئے‘ ترقی کی راہوں پر گامزن رہے مگر یہاں تو ظلم کی انتہا دیکھئے کہ نوزائیدہ بچوں سے بھی کشمیری ہونے کا تاوان لیا جاتا ہے اور کشمیری ماؤں کے جذبات و خواہشات کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ جوان بٹیوں کے سرسہرا سجنے کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں ان کے سرتن سے جدا کرکے اُنہیں کفن کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ دل خون کے آنسو رو کر رہ جاتا ہے۔


حق خود ارادیت مانگنا میرا نہیں خیال کہ کوئی جرم ہے یا کوئی کبیرہ گناہ ہے کہ جس کی پاداش میں آپ کو موت دی جائے۔ پابندِ سلال کیا جائے حتیٰ کہ آپ کو اپنے مذہبی فرائض سرانجام دینے سے روک دیا جائے۔ آپ پر طویل ترین کرفیو نافذ ہو اور بے دریغ پیلیٹ گن کا استعمال آپ کو زندہ درگور کردے۔ ایسے میں جالب کا شعر عکاس ہے کہ:
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ اکثر اوقات لیڈران بجائے کشمیر پر اپنی پالیسی مضبوط کرنے کے ذاتی مفادات کو مزید تقویت پہنچانے میں جٹے رہتے ہیں۔ وہ ہاتھ جس پر لاکھوں بے بسی و مظلوم کشمیریوں کا خون ہے‘ بہت گرم جوشی سے تھامے جاتے ہیں بلکہ خوش آمدید کے ترانے بھی گائے جاتے ہیں۔


ہر سال کی طرح امسال بھی یومِ کشمیر جوش و جذبے سے منایا جائے گا‘ کئی ریلیاں نکلیں گی‘ کئی قرار دادیں پیش ہوں گی مگر نتیجہ وہی۔
مختلف ٹی وی چینلز پر اینکر پرسنز مختلف سیاسی وسماجی شخصیات سے اُن کی رائے جانیں گے‘ دل کھول کر اپنے دُکھ و جذبات کا اظہار کریں گے مگر اگلے دن وہی اینکرز کسی اور ’’ہاٹ ٹاپک‘‘ پر ایک الگ ہی راگ الاپتے نظر آئیں گے۔


مغربی دنیا ہمیں اکثر طعنے دیتی ہے کہ ہمارے ہاں ہیومن رائٹس‘ وومن رائٹس اور بہت سارے رائٹس کا اکثر خیال نہیں رکھا جاتا۔ ہماری کچھ کمیاں اور کوتاہیاں اپنی جگہ‘ مگر یہ کہنا کہ تمام مغربی دنیا بشمول اقوامِ متحدہ کو کشمیر کے لاکھوں بے گناہوں پر ہونے والے ظلم و ستم دکھائی نہیں دیتے۔ بوڑھے‘ جوان‘ بچے اور خواتین ‘ غرضیکہ کون ہے جو کشمیر میں ہندوستانی فوج کے ظلم و ستم سے بچا ہوا ہے۔ عورتوں کی عصمت دری کے اکثر واقعات میڈیا میں آتے ہیں مگر مجال ہے کہ کسی مغربی لیڈر کے منہ سے ایک لفظ بھی نکلا ہو۔ کیا عالمی ضمیر کوصرف ہندوستان کی بہت بڑی اکنامک مارکیٹ ہی نظر آتی ہے ۔ آزادی اور برابری کے اس دور میں بھی کشمیری عوام اپنے حقِ خود ارادیت کے لئے مصروفِ جدوجہد نظر آتے ہیں۔ یہ جدوجہد ان کا بنیادی حق ہے۔ مگر ان پر اس حق کے حصول کے تمام پُرامن راستے بند کردیئے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ مظاہرے کرنے والے نوجوانوں اور بچوں پر بھارتی فوجیوں نے ظلم و تشدد کا ایک طریقہ دریافت کرلیا ہے۔ یہ ہے پیلیٹ گن سے اندھا کرنے کی پالیسی۔ ظلم کے یہ طریقے تو شاید ہلاکو اور چنگیز خان نے بھی استعمال نہیں کئے ہوں گے جو دشمن کو ایک وار سے ہی مٹا ڈالتے تھے نہ کہ اس کو معذوری اور مجبوری کی زندگی گزارنے کے لئے چھوڑ دیتے ہوں جب زندگی موت سے بدتر ہو جائے۔ یہ ظلم‘ یہ جبر‘ یہ درندگی آج عالمی ضمیر کے لئے ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جلد یا بدیر بہرحال اُسے جواب دینا پڑے گا۔


پاکستان کے عوام کی محبت اپنے مسلمان بھائیوں ‘ بہنوں اورمعصوم بچوں کے ساتھ ہمیشہ ہی قائم رہے گی اور یہ دعا ہمیشہ میرے دل سے نکلتی ہے کہ جہاں جہاں بھی مظلوم و لاچار ظلم سہہ رہا ہے خواہ وہ کشمیر ہو یا شام ہو‘ برما ہو یا فلسطین‘ میرا پروردِ گار ان کے حال پر رحم فرمائے اور اُن کو آزادی کی نہ ڈھلنے والی صبح دکھائے۔
مگر یہاں ایک ذمہ داری عالمی برادری اور پاکستانی حکام پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیرکا مسئلہ حل کروائیں کیونکہ اس کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کی ’آشا‘ نامکمل رہے گی۔
ظلم رہے اور امن ہو!
کیا ممکن ہے‘ تم ہی کہو !

یہ تحریر 124مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP