قومی و بین الاقوامی ایشوز

عالمی دہشتگردی کا خطرہ اور غیر ذمہ دارانہ رویے

بعض باخبر اور صاحب الرائے حلقوں کو تشویش ہے کہ دسمبر2014 کے بعد خطے کی صورت حال خطرناک اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوجائے گی اور اگر عالمی برادری اور ریجنل سٹیک ہولڈرز نے دہشت گردی کے خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے لئے ذمہ داریاں پوری نہیں کیں تو افغانستان‘ پاکستان ‘ بھارت اور ایران پر مشتمل یہ خطہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ تبدیلیوں کے تناظر میں عالمی دہشت گردی کا مرکز بن جائے گا۔ بعض رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اس کے بڑے اتحادی اپنی توجہ افغانستان کی بجائے عراق‘ شام‘ لیبیا‘ یمن اور بعض دیگر ممالک پر مرکوز کرنے کے ایک پلان پر عمل پیرا ہیں اور ایک مستحکم‘ جمہوری اور پُر امن افغانستان کے قیام کا امریکی وعدہ بدلتے حالات کے تناظر میں اب قابلِ عمل نہیں رہا۔ خطے میں جاری جنگ کے دوسرے بڑی عالمی کھلاڑی برطانیہ کا عرصہ دراز سے امریکہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ افغانستان پر کرائی گئی سیاسی‘ دفاعی اور معاشی سرمایہ کاری کو مزید وسعت نہ دی جائے اور اس سلسلے کو روک دیا جائے۔ اگرباخبر حلقوں کی اطلاعات درست ہیں تو اس صورت حال سے جو عالمی اور علاقائی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی‘ ان کا محض اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے حکمرانوں‘ سول اداروں‘ سیاستدانوں اور میڈیا کو بدلتے حالات کی یاتو خبر نہیں یا ان کو ان خطرات کا ادراک نہیں جو خطے خصوصاً پاکستان پر منڈلا رہے ہیں۔ یہ تاثر بہت اہم تھا کہ پاکستانی طالبان اور حکومت کے درمیان نصف سال تک جاری مذاکراتی عمل سے ٹی ٹی پی اپنی پالیسیوں ‘ ٹھکانوں اور رابطوں کے حوالے سے فائدہ اٹھا رہی ہے تاہم حکومت نے اس تاثر یا ایسی اطلاعات کا سرے سے نوٹس ہی نہیں لیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب تحریکِ طالبان کے بعض کمانڈر دوسرے محفوظ علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہوگئے تو دوسری طرف بعض اہم مگر انتہائی تشدد پسند کمانڈروں نے نہ صرف عالمی جہادی نیٹ ورکس سے رابطے قائم کئے بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق شام اور عراق میں اپنے جنگجوبھی بھیج دیئے۔ پاکستانی طالبان اور بعض جنگجو لیڈروں کے القاعدہ‘ سنٹرل ایشین تنظیموں اور بعض دوسری غیر ملکی قوتوں کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں۔ ان لوگوں نے مذاکراتی عمل کے دوران اپنے یہ رابطے تیز کردیئے اور متعدد عالمی نیٹ ورکس کا حصہ بن گئے۔ طویل مگر غیر ضروری اور لاحاصل مذاکراتی عمل نے پاکستانی فورسز کا کام مشکل جبکہ طالبان کا کام آسان بنادیا اور وہ اس عرصہ کے دوران نئی صف بندی اور رابطہ کاری میں مصروف ہوگئے۔ انہیں دنوں مشرقِ وسطیٰ میں دولتِ اسلامیہ یا داعش نامی قوت نے ریاستوں کے اوسان خطا کردیئے۔ اس پیش رفت کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں کی توجہ افغانستان سے ہٹ کر مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان میں طالبان کے حملوں میں مزید اضافہ ہوگیا جبکہ دوسری طرف صدارتی انتخابات کا معاملہ اور نئے صدر کی حلف برداری کا مسئلہ خطرناک حد تک طول پکڑ گیا۔ دسمبر میں امریکہ اور نیٹو کے انخلاء کا آغاز ہوگا مگر تاحال اس کی کوئی تیاری اور متبادل میکنزم کہیں نظر نہیں آرہا۔ حالانکہ کئی بار ڈیڈ لاک کے بعد اب اشرف غنی افغانستان کے نئے صدر بن گئے ہیں مگر اس دوران متعدد بار ایسا محسوس ہونے لگا جیسے افغانستان پھر سے 90 کی دہائی کی جانب چل پڑا ہے۔ باربار خدشہ محسوس کیا جانے لگا کہ کہیں نئے صدر کے ایشو پر افغان فوج میں بغاوت پیدا نہ ہوجائے۔ پشتون اور نان پشتون آبادی کے فاصلے بڑھتے گئے اور نظام ریاست ایک طرح سے مفلوج ہو کر رہ گیا۔ عالمی برادری اس خطرناک صورتحال سے عملاً لا تعلق رہی اور ان کی لاتعلقی تاحال برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق ہونا یہ چاہئے تھا کہ انخلاء سے قبل صدر کے انتخاب کے معاملے‘ واپسی کی تیاری اور دسمبر کے بعد ریاستی سیٹ اپ پر غیر معمولی توجہ جاتی اور پاکستان اور ایران جیسے ممالک کو ان کے کردارکے تناظر میں اعتماد لیا جاتا تاہم ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آئی اور حالات دن بدن بگڑتے رہے۔ پاکستان بھی بدقسمتی سے اس صورت حال سے اس کے باوجود لاتعلق رہا کہ افغانستان کے حالات اس پر براہِ راست مرتب ہوتے آئے ہیں اور امریکہ سمیت بعض دیگر قوتیں پاکستان کے کردار پر وقتاً فوقتاً اعتراضات بھی کرتی آئی ہیں۔ سیاسی قیادت پہلے مذاکرات میں لگی رہی اور اس کے بعد دھرنوں کی سیاست میں پھنستی گئی جبکہ عسکری قیادت شمالی وزیرستان کے آپریشن میں مصروفِ عمل رہی۔ آئی ڈی پیز کی امداد اور ان کی بحالی پر بھی سیاسی حکومت وہ توجہ نہ دے سکی جس کی ضرورت تھی جبکہ سفارتکاری کی رفتار بھی انتہائی سست رہی۔ اس طرزِ عمل کے باعث قوم جہاں ایک طرف آپریشن ضربِ عضب سے بے خبرسی رہی وہاں سیاسی اور حکومتی سطح پر بھی علاقائی اور عالمی تبدیلیوں کا وہ نوٹس نہیں لیا گیا جو ہمارے مفادات اور مجوزہ خطرات کے پسِ منظر اور پیشِ منظر میں لینا چاہئے تھا۔ البتہ آپریشن مایوس عوام کے لئے تسلی کا سبب بنا رہا۔ آپریشن ضربِ عضب کی تمام ذمہ داریاں فوج پر ڈال دی گئیں حالانکہ یہی وہ موقع تھا جب حکومت اور سیاسی قوتوں کے ذریعے سیاسی اور سماجی سطح پر طالبان کو مزید کمزور کیا جاسکتا تھا۔ ستمبر کے اوائل میں تحریکِ طالبان کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل پھر سے شروع ہوا تو اس عمل سے قومی مفادات کے تناظر میں بہت فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا مگر مذکورہ قوتیں قطعی طور پر لاتعلق رہیں۔ عین انہی دنوں ٹی ٹی پی کے ایک گروپ نے نہ صرف یہ کہ القاعدہ سے پھر سے رابطے بحال کئے بلکہ بعض نے دولتِ اسلامیہ یا داعش سے بھی رابطے قائم کئے۔ ان رابطوں کے فوری طور پر نتائج بھی نکلے۔ دریں اثنا القاعدہ نے بھارت ‘بنگلہ دیش اور بعض دوسرے ممالک میں برانچیں کھول لیں اور ایمن الظواہری کے اعلان کے دوران ایک پاکستانی کمانڈر عاصم عمر ساتھ کھڑا دکھائی دیا۔ موصوف ہی کو اس علاقے کی سربراہی سونپی گئی جو پاکستان کے لئے عالمی دباؤ کے حوالے سے ایک نئے پینڈورا بکس کا آغاز ثابت ہوگا۔ ایک کام یہ ہوا کہ تحریکِ طالبان کے اندر سے جماعت الاحرار کے نام سے ان کمانڈروں پر مشتمل ایک نیا گروپ نکل آیا جنہوں نے مذاکراتی عمل کے دوران ٹی ٹی پی کے فیصلے کے باوجود متعدد بار بد ترین حملے کرائے اور تشدد کی نئی روایتیں قائم کیں۔ اسی گروپ نے داعش کے ساتھ اپنی نظریاتی عقیدت مندی اور وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا کہ جو بھی گروپ پاکستان یا افغانستان کی ریاستوں کے ساتھ امریکی انخلا کے بعد تعاون کرے گا‘ اس کے خلاف جہاد کیا جائے گا۔سب سے خطرناک کام یہ ہوا کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں داعش کے دعوتی پمفلٹس تقسیم کرائے گئے اور بعض جہادی یا طالبان تنظیموں کے ساتھ داعش کے رابطوں کی اطلاعات بھی آنی شروع ہوگئیں۔ اس دوران خلافت کے قیام اور گریٹر خراسان کے کئی حامی بھی نکل آئے۔ اس کے ساتھ تھ ساتھ کوئٹہ‘ کراچی‘ سوات‘کوہاٹ‘ ہنگو‘ خیبر ایجنسی‘ وزیرستان‘ کرم ایجنسی اور متعدد دوسرے علاقوں میں طالبان نے کئی بڑے حملے کرا دیئے۔ ان حملوں کا مقصد ریاست کو یہ پیغام دینا تھا کہ حملہ آور نہ صرف موجود ہیں بلکہ وہ حملوں کی قوت اور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چار سے چھ ایسی تنظیمیں ہیں جنہوں نے حال ہی میں نہ صرف القاعدہ اور افغان طالبان کے ساتھ تجدیدِ عہد کیا بلکہ انہوں نے داعش کے ساتھ الحاق یا تعاون
کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ان میں تین تنظیمیں انتہائی تشدد پسند جبکہ تین انتہائی حد تک فرقہ پرست یا اینٹی شیعہ اور اینٹی ایران ہیں۔ ان تمام میں جو چیزیں مشترک ہیں ان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مخالفت‘ خطے میں القاعدہ کے نظریات کو عملی جامہ پہنانا اور اقلیتوں اور شیعہ کمیونٹی کو انتقام کا نشانہ بنانا شامل ہیں۔قابلِ تشویش امر یہ ہو گا کہ مذکورہ چھ گروپ پاکستان کے کسی ایک علاقے تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کا دائرہ اثر فاٹا کے علاوہ چاروں صوبوں‘ کشمیر اور گلگت بلتستان تک پایا جائے۔ اگر عالمی انتہا پسندی کی حالیہ لہر میں یہ گروپ شامل ہوگئے تو پاکستان کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوگا اور2014 کے بعد ہم ایک نئی جنگ سے دوچار ہو جائیں گے۔ دوسرا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان پھر سے زورپکڑنا شروع ہوگئے اور عالمی برادری نے پڑوسی ممالک کے تعاون سے کوئی قابلِ عمل سکیورٹی میکنزم قائم نہیں کیا تو اس کے اثرات کے باعث پاکستان اور دوسرے ممالک شدید دباؤ کاشکار ہوجائیں۔
علاقائی اور عالمی عسکریت پسندی جس تیزی کے ساتھ فروغ پا رہی ہے بدقسمتی سے متعلقہ ریاستوں کا کاؤنٹر رسپانس اتنا ہی سست اور مبہم ہے۔ اگر ایک طرف گلوبل جہاد کے علمبردار قریب آرہے ہیں تو دوسری طرف ان کے مخالفین اتنے ہی ایک دوسرے دور ہوتے جارہے ہیں۔ یہ محض ایک مفروضہ نہیں ہوگا کہ غیر سیاسی قوتوں کو عملاً ریاستی قوتوں یا ریاستوں پر زیادہ نفسیاتی غلبہ حاصل ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لئے صرف عسکری ذرائع پر انحصار کیا جارہا ہے اور سیاسی اور معاشی اور علمی سطح پر اقدامات نہیں کئے جارہے۔

ہم اس ضمن میں یہاں ستمبر کی وسطی تاریخوں کا حوالہ دے سکتے ہیں مثال کے طورپر 15 ستمبرکو سوات میں ایک ہی روز کے دوران امن کمیٹیوں کے تین ارکان کو پُر اسرار انداز میں قتل کر دیا گیا اور متعدد دوسروں کو باقاعدہ دھمکیاں دی گئیں۔ اسی روز ایک مراسلے میں کہا گیا کہ پشاور جیل سمیت بعض دیگر جیلوں پر دہشت گرد حملے کراسکتے ہیں اس لئے سکیورٹی بڑھائی جائے۔ اس سے ایک روز قبل انٹیلی جنس اطلاعات میں بتایاگیا کہ شمالی وزیرستان کے ایک علاقے میں بارود سے بھری گاڑیاں کھڑی ہیں جو مشن پر جانے والی ہیں۔ پاکستان ایئرفورس نے کارروائی کرکے 14 شدت پسندوں کو نشانہ بنایا اور گاڑیاں بھی تباہ کیں۔ ہنگو میں پولیس سٹیشن پر خود کش حملہ کرایا گیا جس کے باعث تین افراد جاں بحق ہوئے جن میں دو بھائی (پولیس والے) بھی شامل تھے۔ اس سے تین روز قبل خیبر ایجنسی میں فورسز پر حملہ کرایاگیا جس سے متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔16ستمبر کو ایئر فورس کی کارروائی کے دوران20مبینہ شدت پسندوں کو خیبر ایجنسی میں مارا گیا۔ یہ صرف تین روز کے دو طرفہ واقعات کا ایک مختصر سا خاکہ تھا جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ ہماری افواج کس خطرے سے نبردآزما ہیں۔

عین اسی طرح انہیں دنوں کے دوران افغانستان میں بھی کئی کارروائیاں کی گئیں۔ 16 ستمبر کے روز متعدد حملہ آوروں (خود کش سمیت)نے کابل کے مرکز میں امریکی ایمبیسی کو نشانہ بنایا جس کے باعث نصف درجن سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جن میں نیٹو کے تین فوجی بھی شامل تھے۔ اس سے دو روز قبل خوست اور ہلمند میں بھی کارروائیاں کی گئی تھیں۔ ماہرین کے مطابق نومبر اور دسمبر کے مہینے حملوں کے لئے مزید سازگار ہوں گے اور خدشہ ہے کہ دو طرفہ حملوں کی تعداد میں غیرمعمولی شدت لائی جائے گی۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر داعش اور القاعدہ کے خلاف مشرقِ وسطیٰ میں عالمی برادری کی چھتری کے نیچے موثر کارروائیاں کی گئیں اور ان کی قیادت کے لئے وہاں گنجائش نہ رہی تو اس بات کا کافی امکان موجود ہے کہ وہ یمن‘ افغانستان اور ممکنہ طور پر پاکستان کا رُخ کریں کیونکہ ان ممالک میں ان کے لئے نہ صرف یہ کہ کافی’’گنجائش‘‘ موجود ہے بلکہ ان کے متعدد اتحادی بھی ان کے منتظر ہیں۔ اگر امریکہ پاکستان‘ افغانستان اور ایران نے اس خطرے کا مشترکہ طور پر راستہ نہیں روکا تو خطرناک صورت حال پیدا ہوگی۔

یہ تاثر محض ایک خدشہ نہیں کہ اگر مشترکہ سیاسی‘دفاعی اور معاشی کوششیں نہیں کی گئیں اور افغانستان کے لئے دفاعی لحاظ سے محفوظ بنانے کی علاقائی اور عالمی میکنزم تشکیل نہیں دیا گیاتو خطہ ایک بار پھر 90 کی دہائی کی صورت حال سے دو چار ہو جائے گا۔ بعض اہم تجزیہ کاروں کے مطابق عراق اور شام کا معاملہ 2015 سے قبل حل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ اس دوران امریکہ کی توجہ وہاں رہے گی اور اس بات سے افغان اور پاکستانی طالبان‘ القاعدہ اس خطے میں بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ اس دوران اگر افغانستان میں کئی بڑے حملے کرائے گئے تو سبھی جہادی قوتوں کے حوصلے مزید بڑھ جائیں گے اور ان کی افرادی قوت میں دسمبر2014 کے تناظر میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ نئے افغان صدر کے معاملات پر اختلافات اور ایک کمزور حکومت کا قیام بھی جہادیوں کے لئے سود مند فیکٹر ثابت ہوگا جبکہ پاکستان میں جاری سیاسی رسہ کشی کے اثرات بھی نظر انداز نہیں کئے جاسکتے۔

علاقائی اور عالمی عسکریت پسندی جس تیزی کے ساتھ فروغ پا رہی ہے بدقسمتی سے متعلقہ ریاستوں کا کاؤنٹر رسپانس اتنا ہی سست اور مبہم ہے۔ اگر ایک طرف گلوبل جہاد کے علمبردار قریب آرہے ہیں تو دوسری طرف ان کے مخالفین اتنے ہی ایک دوسرے دور ہوتے جارہے ہیں۔ یہ محض ایک مفروضہ نہیں ہوگا کہ غیر سیاسی قوتوں کو عملاً ریاستی قوتوں یا ریاستوں پر زیادہ نفسیاتی غلبہ حاصل ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لئے صرف عسکری ذرائع پر انحصار کیا جارہا ہے اور سیاسی اور معاشی اور علمی سطح پر اقدامات نہیں کئے جارہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ Counter Narrative کے بغیر مسئلے کا پائیدار حال نکلتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ریاستوں کے درمیان پراکسی وارز‘ الزامات درالزامات کے سلسلے اور اعتماد کے فقدان جیسے فیکٹرز بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ ہیں جبکہ اپنی ریاستی سیاسی ناکامیوں کی ذمہ داریاں پڑوسی ممالک پر ڈالنے کے رویے نے بھی معاملے کو خراب اور پیچیدہ بنادیا ہے۔

افغان سیاستدان اور حکمران2014 کے بعد کے منظر نامے کو کس طرح دیکھ رہے ہیں اس کا اندازہ لگانے کیلئے ان کا وہ طرزِ عمل ہی ایک مثال ہے جو صدارتی انتخاب کے بعد اختیار کیا گیا۔ پاکستان میں دھرنوں کی سیاست چل رہی ہے جبکہ رائے عامہ ہموار کرنے والا میڈیا اور ایجنسیاں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں۔ فرنٹ لائن صوبے یعنی پختونخوا کی حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران صوبائی کابینہ کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ اسی طرح اس کور کمیٹی کا اجلاس بھی کئی ماہ گزرے منعقد نہ ہوسکا۔ جس میں گورنر‘ کور کمانڈر اور وزیرِاعلیٰ دہشت گردی اور اس سے متعلق دوسرے معاملات کا جائزہ لیتے ہیں۔ رہی بات عالمی برادری کی تو ان کی دلچسپی بھی دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ 2015 کے خطرات کے تناظر میں فوجی قیادت اور ادارے سرجوڑ کر بیٹھ جائیں اور مشترکہ میکنیزم بنائیں۔ صرف پاک فوج کے حوالے کر کے اس اہم جنگ سے پہلوتہی نہ کی جائے۔ یہ ایک قومی جنگ ہے اور ہر سطح پر لڑی جانی چاہئے۔ اغماض کے نتائج سب کے لئے تباہ کن ہو سکتے ہیں!

یہ تحریر 60مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP