قومی و بین الاقوامی ایشوز

عالمی تجارت کے بدلتے رجحانات اور پاکستان

ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ اور دیگر ایسے تجارتی معاہدوں کی وجہ سے پاکستانی برآمدات کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے چین، سری لنکا، ملائیشیاء سمیت چند فری ٹریڈ اور ترجیحی معاہدے ہیں لیکن ایک کے سوا تمام معاہدوں میں تجارتی توازن پاکستان کے خلاف ہے۔ ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ کے اس نئے معاہدے کے ذریعے ویتنام، میکسیکو اور چلی جیسے ٹیکسٹائل میں نمایاں ممالک کو امریکہ اور دیگر ممبر ممالک میں صفر یا انتہائی کم ڈیوٹی کے ذریعے مارکیٹ رسائی کی ترجیحی سہولت حاصل ہو جائے گی۔ ایسے میں پاکستان کی گارمنٹس اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر اشیاء کی امریکہ اور دیگر ممبر ممالک میں برآمدات کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

1995میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا آغاز ہوا تو عالمی تجارت میں اسے نئے دور کے آغاز سے تعبیر کیا گیا۔ بنیادی خیال یہ تھا کہ ہر ممبر ملک کو اب بغیر کسی رکاوٹ یا تجارتی تعصب کے‘ تجارت کا باہم مساوی ماحول میسر ہو گا۔ ہر ممبر ملک ایک دوسرے کے لئے انتہائی ترجیحی ملک یعنی موسٹ فیورڈ نیشن ہو گا۔ مگر یہ خواب جلد ہی ایک استثنائی کلاز کے ہاتھوں دھیرے دھیرے تار تار ہونا شروع ہوا جس کے مطابق ممبر ممالک کو آپس میں فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی آزادی بھی تھی۔ ڈبلیو ٹی او کے تحت ابتدائی چند سالوں ہی میں ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ممالک کو اندازہ ہونے لگا کہ فری ٹریڈ کے اس عالمی فریم ورک کے پردے میں ترقی یافتہ ممالک نے قوانین و ضوابط کو کچھ یوں ترتیب دیا کہ بیشتر صورتوں میں عالمی تجارت پر ان کی برتری قائم رہے۔

ڈبلیو ٹی او کے قیام کے چند سا ل بعد دوحہ راؤنڈ کے ذریعے ترقی یافتہ ممالک نے انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس اور سرمایہ کاری ضوابط میں من پسند ترامیم کے لئے مذاکرات شروع کئے تو دیگر تمام ممالک نے بھر پور انداز میں اپنے اپنے مفادات کا دفاع کیا۔ یوں یہ راؤنڈطوالت کے عذاب سے گزر کر دو سال قبل انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں بمشکل تمام ہوا۔ اس دوران ممبر ممالک نے اسی کلاز کا سہارا لیتے ہوے اپنے اپنے مفاد ات کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ دھڑا دھڑ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کرنا شروع کر دئیے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ڈبلیو ٹی او کے ہاں فعال اور غیر فعال فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ چکی ہے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ فری ٹریڈ کا خواب اس قدر جلدبکھر جائے گا۔ چند مشہور ترین فری ٹریڈ ایگریمنٹ میں یورپی یونین، این اے ایف ٹی اے ، آسیان اور افریقی ممالک کے مابین معاہدے شامل ہیں۔ حال ہی میں طے پانے والے

Trans - Pacific Partnership (TPP)

کو ان تمام معاہدوں کے مقابلے میں وسیع ترین اور دور رس بتایا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ اس معاہدے کے بعد فری ٹریڈکا عالمی منظرنامہ بالکل تبدیل ہو جائے گا۔ پیسیفک سمندرکے کنارے آباد بارہ ممالک نے ایک وسیع اوربھرپو معاہدے کے ذریعے گزشتہ ماہ باہمی تجارت اور انٹلیکچول پراپرٹی کے فریم ورک کے لئے ایک نیا باب رقم کیا جسے

Trans- Pacific Partnership (TPP)

کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کے بار ہ ممبر ممالک میں امریکہ ، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ، کینیڈا اور سنگاپور جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں، درمیانے درجے کی معیشتیں مثلاً ملائیشیا، میکسیکو اور ویت نام بھی شامل ہیں اور چلی اور برونائی جیسی چھوٹی میعیشتیں بھی اس کا حصہ ہیں۔ ان بارہ ممالک کے درمیان عالمی تجارت کا 40% حصہ سر انجام پاتا ہے۔اس معاہدے کی رو سے ممبر ملکوں کے درمیان زیرو فیصد یا بہت کم شرح کی ڈیوٹیاں عائد ہوں گی۔دیگر تجارتی رکاوٹوں یعنی ٹریڈ بیرئیر میں کمی لائی جائے گی۔ علاوہ ازیں لیبر ، انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس اور تنازعات نمٹانے کے لئے بھی ایک مشترکہ فریم ورک پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کے ممبر ممالک کی پارلیمانوں سے توثیق اپنی جگہ ایک مشقت طلب مشق قرار دی جا رہی ہے لیکن اگر واقعی یہ معاہدہ اپنے شیڈول وقت یعنی 2017 میں نافذہو گیا تو سیاست کی طرح عالمی تجارت بھی مزید تقسیم کی طرف بڑھ جائے گی۔ ماہرین کے مطابق بظاہر باہمی تجارت کے فروغ کے اس معاہدے کا اصل ہدف چین کے بڑھتے ہوے تجارتی اثرورسوخ کو روکنا ہے۔ جو چھ ممالک اس معاہدے کے نئے ممبر بننے کے خواہش مند ہیں ان میں تائیوان بھی شامل ہے۔ گو چین نے سفارتی حد تک اس معاہدے کو خوش آمدید کہا ہے لیکن چین کے تحفظات عملاً سب پر عیاں ہیں۔ امریکہ نے نہ صرف ایک طرف پیسیفک کے راستوں پر تجارتی دوستوں کو باہمی مفادات میں پرو نے کی کوشش کی ہے بلکہ اٹلانٹک کے پار یورپی یونین کے ساتھ اس سے بھی کہیں وسیع تر معاہدہ

Transatlantic Trade and Investment Partnership

کے نام سے قدرے رازداری کے ماحول میں حتمی شکل اختیار کرنے کو ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے بڑی کارپوریشنوں کے لئے پہلی بار حکومتی قوانین کو مخصوص حالات میں چیلنج کرنے کا نظام وضع کیا جارہا ہے۔ تمام تر تنقید کے باوجود اس معاہدے پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ بنیادی مقصد وہی ہے یعنی باہمی تجارت اورسرمایہ کاری کو فروغ دینا۔ لیکن ماہرین کے خیال میں ایک اہم مقصد ممبر ملکوں کے درمیان ایسا تجارتی ماحول تشکیل دینا ہے جس سے چین کے مسلسل بڑھتے ہوے تجارتی تسلط کا راستہ بھی روکا جائے۔

چین کو بھی مغربی دنیا کی بڑھتی ہوئی اس تجارتی بے چینی کا اندازہ ہے۔ اسی لئے چین بھی گزشتہ کئی سالوں سے تجارتی اور سرمایہ کاری کے متبادل راستے بنا رہا ہے۔ شنگھائی فری ٹریڈ زون، ون بیلٹ ون روڈ ، ایشیائی انفراسٹرکچر بنک اور بی آر آئی سی بنک جیسے منصوبوں کے ذریعے چین نے مہارت سے اپنے لئے متبادل راستے اور امکانات تراشنے کی کامیاب کوششیں کی ہیں۔ اس کے علاوہ چین نے بھی مختلف علاقائی تجارتی معاہدوں کے ذریعے آسیان، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ممالک کے ساتھ گہرے تجارتی تعاون استوار کر کے اس ممکنہ تجارتی حصار کا توڑ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یوں آنے والے سالوں میں جہاں سیاست اور سفارت کے منظرنامے میں کئی چاہی اور ان چاہی تبدیلیاں متوقع ہیں، تجارتی میدان میں بھی مقابلے کا میلہ سجے رہنے کا امکان ہے۔ ان بدلتے تجارتی امکانات میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ علاقائی سیکورٹی معاملات کی طرح علاقائی تجارتی معاملات میں بھی پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سارک ممالک کے درمیان سافٹا کے نام سے ایک فری ٹریڈ معاہدہ 2006 سے بظاہر نافذالعمل ہے لیکن یہ علاقائی معاہدہ بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی اور خطے میں تسلط کے جنون کی نذر ہو رہا ہے۔ بظاہر سارک ممالک میں بھرپور باہمی تجارت کے امکانات موجود ہیں لیکن عملًا صورتحال اس کے الٹ ہے۔ دنیا کی کل آبادی کا ایک چوتھائی ہونے کے باوجود جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کی مجموعی پیداوار دنیا کا فقط تین فیصد اور برآمدات دنیا کا صرف دو فیصدہے۔ بھارت سارک ممالک کی آبادی اور رقبے کا ستر فیصد ہے۔ اس کے باوجود بھارت کی خطے میں برآمدات اس کی ملکی برآمدات کا فقط پانچ فیصد کے لگ بھگ ہیں جبکہ درآمدات صرف آدھا فیصد ہیں۔

سافٹا ممبر ممالک کے درمیان باہمی سیاسی تنازعات نے خطے کے معاشی امکانات کو محدود کر رکھا ہے۔ بھارت نے برابری کی بنیاد پر ہمسایوں سے معاملات نمٹانے کے بجائے ہمیشہ برتری مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ بنگلہ دیش ہو یا سری لنکا، نیپال ہو یا پاکستان‘ بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی اور خطے میں برتری کے جنون نے سارک ممالک کے تجارتی امکانات کو ابھی تک غیر فطری انداز میں محدود کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سارک ممالک کے مابین باہمی تجارت فقط پانچ فیصد ہے جبکہ ایسے ہی علاقائی تجارتی تعاون کے تحت یورپی یونین ممالک کے درمیان باہمی تجارت چھیاسٹھ فیصد اور آسیان ممالک کے درمیان پچیس فیصد ہے۔

پاکستان کی برآمدات میں ٹیکسٹائل کا تناسب تقریباًپچپن فیصد ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین ہماری ٹیکسٹائل کی برآمدات کی سب سے بڑی مارکیٹیں ہیں۔ گزشتہ دو سال کے دوران جی ایس پی پلس کی وجہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل کی یورپی یونین کو برآمدات میں منفرد سہولت حاصل ہے لیکن یہ سہولت عارضی بھی ہے اور اس کے تسلسل کی کچھ کڑی شرائط بھی ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک جن کا ٹیکسٹائل کی صنعت میں نمایاں مقام ہے، انہوں نے پہلے ہی پاکستان کے لئے اس سہولت کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔ دوسری طرف امن و امان میں نمایاں بہتری کے باوجود ٹیکسٹائل کی مصنوعات میں بجلی کی قلت او ر خطے میں نسبتاً زیادہ کاروباری لاگت کی وجہ سے خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ اس دوران عالمی منڈیوں میں کپاس سمیت دیگر اجناس اور اشیاء میں گزشتہ ڈیڑھ سالوں سے شدید مندی کے رجحان نے پاکستان کی برآمدات کے لئے مزید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

پاکستان کی برآمدی اشیاء میں بیش قدر پراڈکٹس کی کمی ہے۔ زیادہ تر پراڈکٹس خام مال اور نیم تیار شدہ اشیاء پر مشتمل کم قیمت کی حامل ہیں۔ انجینئرنگ، کیمیکلز، آٹو موبائلز، آ ئی ٹی سروسز اور ایسی ہی دیگر بیش قدر اشیاء کا تناسب بہت کم ہے۔ ان تمام عوامل کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات کا بیشتر حصہ کم قیمت اشیاء پر مشتمل ہے اور برآمدات میں اضافہ تمام خواہش اور کوششوں کے باوجود نہایت معمولی رہا ہے۔ ٹی پی پی اور دیگر ایسے تجارتی معاہدوں کی وجہ سے پاکستانی برآمدات کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے چین، سری لنکا، ملائیشیاء سمیت چند فری ٹریڈ اور ترجیحی معاہدے ہیں لیکن ایک کے سوا تمام معاہدوں میں تجارتی توازن پاکستان کے خلاف ہے۔ ٹی پی پی کے اس نئے معاہدے کے ذریعے ویتنام، میکسیکو اور چلی جیسے ٹیکسٹائل میں نمایاں ممالک کو امریکہ اور دیگر ممبر ممالک میں صفر یا انتہائی کم ڈیوٹی کے ذریعے مارکیٹ رسائی کی ترجیحی سہولت حاصل ہو جائے گی۔ ایسے میں پاکستان کی گارمنٹس اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر اشیاء کی امریکہ اور دیگر ممبر ممالک میں برآمدات کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

دنیا میں ان بدلتے ہوے تجارتی رجحانات کا پاکستان کی برآمدات پر آنے والے وقتوں میں براہ راست اثر پڑے گا۔ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان برآمدی اشیاء کی موجودہ فہرست کا جائزہ لے، کم قیمت اشیاء کی برآمدات کی بجائے بیش قیمت اشیاء کی برآمدات پر توجہ مبذول کرے۔ انجنئیرنگ، کیمیکلز، آٹو موبائلز، آئی ٹی سروسز، فوڈ آیٹمز ، ڈیری اور لائیو سٹاک کی برآمدات کے فروغ کی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ کم قیمت برآمدی اشیاء کے موجودہ تناسب سے دھیرے دھیرے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔ یہ کہنا جس قد ر آسان ہے، اس پر عمل درآمد اتنا ہی مشکل ہے لیکن ملک کی برآمدات میں انقلابی اضافے کے لئے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں۔

عالمی تجارتی ماحول ہر گزرتے سال زیادہ مشکل اور غیر مساوی ہو تا جا رہا ہے۔ فری ٹریڈ معاہدوں کے اس پھیلتے جنگل میں پاکستان کی موجودہ برآمدی فہرست میں اتنی سکت نہیں کہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے اور نہ ہی ان برآمدی اشیاء کے بل بوتے پر موجودہ یا کسی نئے فری ٹریڈ معا ہدوں سے غیر معمولی تجارتی ا ضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔موجودہ مالی اور تجارتی خسارے کا پائیدار حل برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔ فاضل تجارتی توازن ملک کی مالی سیکورٹی کے لئے بھی ناگزیر ہے اور اس سے جڑی ملکی سیکیورٹی کے لئے بھی۔

[email protected]

یہ تحریر 73مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP