قومی و بین الاقوامی ایشوز

عالمی امن اور عساکر پاکستان

عساکر پاکستان ہرمشکل گھڑی میں نہ صرف پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے بلکہ انہوں نے شورش زدہ ممالک میں بھی قیام امن کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ ہمارے سکیورٹی اہلکار اقوام متحدہ کا نشانِ امن ''بلیو ہیلمٹ'' اپنے سروں پر سجائے مختلف جنگ زدہ علاقوں میں امن و سلامتی کا کٹھن سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان قربانیوں کی وجہ سے عالمی برداری کی قیادت اور شورش زدہ علاقوں کے عوام افواج پاکستان کو نہایت عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔
قارئین! ہرسال 29مئی کوInternational Day of United Nations Peacekeepersمنایا جاتا ہے ۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان کی امن کوششوں کو بھی بھرپور طور پر خراج تحسین پیش کیاجاتاہے۔گزشتہ سال 29مئی کے موقع پربھی سیکرٹری جنرل یو این انتونیوگوتریس (Antonio Guterres)نے پاکستانی امن دستوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا : ''پاکستان اقوام متحدہ امن مشن میں' ٹاپ کنٹری بیوٹر' ہے۔ امن مشن میں شامل پاکستانی خواتین اور مرد اہلکاروں سے میری ملاقات بڑی متاثر کن تھی، میںان کے جذبۂ امن کو داد پیش کرتاہوں''۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پیغام میں کہا:'' پاکستان اپنی بہادر امن فورسز کی قربانیوں کے جذبے کو یاد کرتا ہے۔ ہمارے امن کے پیامبر دنیا بھرمیں انسانیت کی خدمت میں ہر مشکل جگہ مصروف عمل ہیں۔ یو این چارٹرڈ کے تحت عالمی امن کیلئے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے''۔



کچھ عرصہ قبل آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا :''پاکستان 28 ممالک میں46 اقوام متحدہ مشنز میں حصہ لے چکاہے اور158 پاکستانی پیس کیپرز عالمی امن کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ اب تک دو لاکھ پاکستانی فوجی اقوام متحدہ کے امن مشنزمیں حصہ لے چکے ہیں۔ سال2020ء میں نائیک محمد نعیم رضا شہید کو اقوام متحدہ کا خصوصی میڈل عطا کیا گیا۔پاکستانی خواتین بھی کانگو میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں خدمات انجام دے رہی ہیں''۔امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز بھی پاکستانی خواتین سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اورانہوں نے پاکستانی خواتین کے امن کردار کو سراہتے ہوئے کہا :''پاکستانی خواتین کا کردار نہایت متاثر کن ہے اور امن کے لئے ان کی خدمات کلیدی ہیں۔ پاکستان کانگو میں خواتین دستے تعینات کرنے والا پہلا ملک ہے''۔یاد رہے کہ گزشتہ سال کانگومیں پاکستانی خواتین پر مشتمل امن فوجیوں کے پندرہ رکنی دستے کو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر اقوام متحدہ کی طرف سے میڈل سے نوازا گیا تھا۔اس ٹیم میں ماہر نفسیات،ڈاکٹرز، نرسز،انفارمیشن آفیسر سمیت دیگر افسران شامل تھیں۔اس موقع پر امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے  اپنے ایک ٹویٹ میں اس دستے کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔
اقوام متحدہ امن مشن کی آفیشل ویب سائٹ peacekeeping.un.org
کے مطابق : '' دنیا بھر میں کسی بھی اقوام متحدہ کے مشن میں پہلی مرتبہ پاکستانی خواتین کی ٹیم نے جمہوریہ کانگو (مونسوکو) میں قیام امن مشن میں خدمات انجام دینے پر اقوام متحدہ کی طرف سے میڈل حاصل کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات انجام دینے والے پاکستان کے پہلے خواتین گروپ کو ایک منفرد شناخت حاصل ہوئی ہے۔''
اپریل2020ء میں جب کرونا وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اس موقع پر ایک جریدے نے کانگو میں تعینات پاک فوج کی میجر سمیعہ رحمان کاانٹرویو شائع کیا جس میں انہوں نے کہا:'' میری ذمہ داریاں6اپریل کو ختم ہو رہی تھیں لیکن میں کرونا کے باعث واپس گھر نہیں جا سکی کیونکہ ہم سب کو مل کر اس وباکا پھیلائو کم کر ناہوگا۔''وہ کہتی ہیں کہ میں پریشان ضرور ہوں لیکن میری اپنے کام میں لگن مزید بڑھ گئی ہے اور میں امن میں اپنا حصہ ڈالنے پر فخرمحسوس کرتی ہوں۔
قارئین !جب راقم السطور نے شورش زدہ علاقوںمیں پاک فوج کے امن کردارکے حوالے سے مزید معلومات کے لئے یواین امن مشن کی آفیشل ویب سائٹ www.peacekeeping.un.org  وزٹ کی تویہ دیکھ کربہت خوشی ہوئی کہ اس ویب سائٹ کے ایک پیج پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک پاکستانی فوجی اہلکار کی تصویر کے نیچے یہ کیپشن دیا گیا تھا:"Thank you Pakistan for your service and sacrifice"۔اسی ویب سائٹ پر یکم مئی 1963ء کی ایک تاریخی فوٹوموجودہے جس میں بریگیڈیئر سید الدین خان اپنے ایک سو پاکستانی اہلکاروں کے ہمراہ Guineaمیں امن مشن میں موجود ہیں۔اس فوٹو کے ساتھ یہ کیپشن دیا گیا ہے :
 "Pakistan has a long history with UN peacekeeping, having been one of the largest contributors of troops and  police for decades"
یادر ہے کہ اقوام متحدہ کاقیام 24اکتوبر1945ء کو عمل میں لایا گیااور پاکستان نے30ستمبر1947ء کو اس میں شمولیت اختیار کی۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے جنگ زدہ علاقوں میں امن کے چراغ جلانے کے لئے 1960ء میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں شرکت کرتے ہوئے کانگو میں اپنا پہلا دستہ تعینات کیااور اس کے بعد شورش زدہ علاقوں میں مستقل طور پر اپنے سکیورٹی اہلکار بھیجنا شروع کیے۔ خواتین کو ''امن آپریشنز ''میں بھیجنے والا واحد ملک بھی پاکستان ہے۔اسی طرح اقوام متحدہ کے مختلف امن مشنز میں سب سے زیادہ تعدادمیں اہلکاروںکو بھیجنے والے ممالک میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ اب تک ہمارے دو لاکھ سے زائد امن اہلکار شورش زدہ علاقوںمیں خدمات انجام دے چکے ہیں۔پاکستان کے مختلف سکیورٹی دستے ہیٹی، لائبیریا، صحارا، وسطی افریقہ ، سوڈان، نیوگینی، نمیبیا، کمبوڈیا، صومالیہ، روانڈا، انگولا،سری لیون اور بوسنیا میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور اس وقت بھی پاکستان کے فوجی کانگو، وسطی افریقی جمہوریہ، جنوبی سوڈان، صومالیہ، مغربی صحارا، مالی اور قبرص میں تعینات ہیں۔ہمارے یہ بہادر جوان انتہائی مشکل حالات میں ان شورش زدہ علاقوں میں ''بلیو ہیلمٹ'' یعنی امن کا نشان سرپر سجائے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہمارے یہ فوجی دستے انسانی ہمدردی کاجذبہ رکھتے ہوئے جنگ زدہ علاقوں میں امن کو برقرار رکھتے ہیں۔پاکستان گزشتہ کئی سال میں مستقل طور پر تعاون کرنے والے ممالک میں بڑا اور مؤثر ملک ہے۔ ہمارے جوانوں نے جنگ زدہ علاقوں کو معمول پر لانے، امن وامان برقرار رکھنے اور انتخابات کی نگرانی کے ذریعے سیاسی تقسیم اور اقتدار کی کامیاب منتقلی کو یقینی بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ سال میانوالی سے تعلق ر کھنے والے ایک جوان نائیک محمد نعیم رضانے ایک امن مشن میں جام شہادت نوش کیا جس پر انہیں اقوام متحدہ کی طرف سے خصوصی میڈل عطا کیا گیا۔ 29مئی 2020ء کو بھی پاک فوج کے سپاہی محمد عامر اسلم کو"Dag Hammarskjold Medal"دیا گیا۔انہیں یہ میڈل نیویارک میں اقوام متحدہ امن مشن کی طرف سے منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب میںدیا گیا۔
  آئی ایس پی آرکے نامور سابق ڈائریکٹر اور ممتاز ادیب بریگیڈیئر صولت رضا اپنی عسکری یادداشتوں میں بیان کرتے ہیں کہ :''ہم پاک فوج کی طرف سے اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت کروشیا اور سربیا کے مابین متنازع علاقے برانیہ میں امن و امان کی ڈیوٹی انجام دیتے رہے۔مشرقی یورپ کا یہ خطہ بدستور جنگ کی لپیٹ میں تھا۔ایک بہت بڑی مملکت یوگوسلاویہ کو منصوبہ بندی کے تحت چھ ملکوں میں تقسیم کردیاگیا۔ ہمارا دستہ بوسنیا کے صدر مقام سرائیوو سے تقریبا ً تین سو کلومیٹر فاصلے پرموجود تھا۔یوگوسلاویہ میں قیام کے دوران تین مرتبہ سرائیوو جانے کاموقع ملا۔ ہماری وردی پر اقوام متحدہ کے نشان کے ساتھ پاکستان کاپرچم بھی آویزاں تھا۔بوسنیا کی حدود شروع ہوتے ہی مردو زن اور بچے جونہی پاکستان کا پرچم دیکھتے، اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرتے۔ہم چند افسر ایک رافٹ کے ذریعے دریا عبور کررہے تھے کہ اچانک دریا کی لہروں سے اللہ اکبر اور پاکستان پاکستان جیوے پاکستان کی آواز یں سنائی دیں۔ غور سے دیکھا تو چند بچے اور جوان نعرے بلند کرتے دکھائی دیئے جودریا میں ڈبکی لگا رہے تھے ۔ کنارے پر اترے تو کچھ عمر رسیدہ افراد بیٹھے تھے۔ ہم جونہی قریب ہوئے تو انہوں نے ہمارے ہاتھ چومنا شروع کر دیئے۔ پاکستان آرمی ، پاکستان آرمی پکارتے ہوئے وکٹر ی کا نشان بلند کرتے۔ یہ سب کچھ ہم سے پہلے خدما ت انجام دینے والے پاک فوج کے امن دستے کی بدولت تھا جنہوں نے بے لوث انداز میں ملی جذبے کو سربلند رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیئے اور پورے علاقے کو اپنا گروید ہ بنا لیا تھا۔ہمیں بتایاگیا کہ پاک فوج کے افسر اور جوان ماہ رمضان میں باقاعدگی سے روزے رکھ رہے تھے تو اقوام متحدہ کی جانب سے ملنے والا راشن اور دیگرا شیائے خورو نوش کا فی مقدار میں بچ جایاکرتی تھیں ۔ بعد ا زاں راشن پیکٹ جنگ سے متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کرتے تھے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاک فوج کی بدولت بوسنیا کے مسلمانوں کو امید اور کامیابی کی ایک نوید ملی۔ایک مرتبہ بوسنیا ئی مسلمانوں کے ''مسٹر جناح''جناب عزت بیگووچ سے ملاقات بھی ہوئی۔انہوں نے بھی پاکستان کی امداد اور پاک فوج کی خدمات کا اعتراف انتہائی جذباتی اندازمیں کیا۔سابق یوگوسلاویہ میں گزرے شب و روز میری زندگی کا منفرد تجربہ تھا۔سب سے اہم پہلو پاک فوج کی بے مثال پیشہ ورانہ صلاحیت،اہلیت اور فرض سے لگائو کا بین الاقوامی سطح پراعتراف تھا۔یواین مشن کے سربراہ امریکی تھے جب کہ تیس سے زائد ممالک پر مشتمل یو این آرمی کی قیادت بیلجیم فوج کے میجر جنرل شکوپس کررہے تھے۔میجر جنر ل شکوپس پاک افواج کی عسکری مہارت اور فرض کے ساتھ لگن کے بے حد معترف تھے۔''
 قارئین !ہردور میںامن کے خواہاں عالمی رہنمائوں اور اقوام متحدہ کی طرف سے افواج پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جانا پاکستان کی عالمی امن اور سلامتی کی خاطر کی گئی عملی کوششوں کا واضح اعتراف ہے۔ تاریخ کے تناظر میں دیکھاجائے تو بین الاقوامی امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لئے اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ ہمارا دیرینہ تعلق ہے جو بانی وطن قائداعظم محمد علی جناح جیسی قد آور شخصیت سے جڑا ہوا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح اقوام متحدہ کے میثاق کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے پوری دنیا کی اقوام کے مابین امن اور خوشحالی کے فروغ میں بھر پور تعاون کرنے کے خواہاں تھے ۔ آج پاکستان کی سکیورٹی فو رسز بھی بانیٔ پاکستان کے اسی خواب کو عملی تعبیر دینے کے لئے پوری دنیامیں قیام امن کے لئے بھرپور کردار ادا کررہی ہیں۔ ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔
    [email protected]
 

یہ تحریر 169مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP