نقطۂ نظر

عاشقوں کی دنیا 

روحانیت کیا ہے؟روحانی نظام ہے بھی یا نہیں اور کیسے کام کرتا ہے؟ کیا پاکستان کے فیصلے روحانی حکمران کرتے ہیں؟ کیا پاکستان روحانیت کے دور میں داخل ہوچکا ہے؟ دنیا کی دلدل میں پھنسا میں ایک عام انسان ہوں اس لئے یہ سارے سوالات ومعاملات میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ میں صرف اتنی سی بات مانتا ہوں جتنی میرے مشاہدے اور تجربے میں آئی ہو یا جسے میںنے حقیقت کا روپ دھارتے دیکھا ہو۔ ظاہر ہے کہ ان سوالات کے جواب صرف وہی شخص دے سکتا ہے جو خود صاحبِ باطن ہو۔ روحانی خبر کی اطلاع بھی صرف ایسی ہی روحانی شخصیت کو مل سکتی ہے جس کا قلب نورِ معرفت سے منوّر ہو۔ قدرت کے یہ راز، یا میرا رب جانتا ہے یا پھر اس کی برگزیدہ ہستیاں جنہیں علم کے بے پایاں سمندر سے کبھی قطرہ اور کبھی نصف قطرہ عطا کردیا جاتا ہے۔ عطا ظرف کے مطابق ہوتی ہے اور یہ عطا دراصل عطائے ربیّ ہوتی ہے۔ ہمارے اکثر مہربان عالم وفاضل دوست جن کا کتابی علم اور مطالعہ قابلِ رشک ہے، روحانیت کو دل سے تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ روحانی وارداتیں مادی مطالعے کی کسوٹی پہ پوری نہیں اترتیں۔ جو چیز عالمِ حقیقت میں واقع نہ ہو، نظر نہ آئے اور محسوس نہ کی جاسکی اُسے تسلیم کرنا عقلی تقاضوں کی نفی ہوتی ہے۔ اس لئے جو لوگ ایسی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں اُنہیں ضعیف الاعتقاد اور پڑھا لکھا ''جاہل'' سمجھا جاتا ہے۔ بظاہر یہ جہالت ہی ہے کہ انسان ایسی باتوں پر یقین کرلے جو نہ نظر آرہی ہوں اور نہ عقل کے پیمانوں پر پورا اُترتی ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ جب ہمارے نہایت عالم و فاضل حضرات روحانی شعبے کے حوالے سے طنز کرتے ہیں یا اس سے انکار کرتے ہیں تو میں اس صورت حال سے لطف اندوز ہوتا ہوں لیکن اُنہیں لاعلم بالکل نہیں سمجھتا کیونکہ اُن کے حافظے سیکڑوں کتابوں کے امین ہوتے ہیں۔ یقینا آپ نے مولانا جلال الدین رومی، مرشد اقبال کی روداد کے حوالے سے وہ مشہور واقعہ پڑھا ہوگا یا سنا ہوگاکہ مولانارومی نہایت عالم و فاضل شخصیت تھے اور لاتعداد کتابوں کے مطالعے سے مستفید ہو کر فلاسفر کے مقام پر متمکن تھے۔ طویل واردات کو مختصر کرتے ہوئے بیان کیا جاسکتا ہے کہ مولانا رومی بھاری بھر کم کتابوںکے ساتھ اپنے شاگردوں کو سمجھا رہے تھے ۔ پاس سے ایک میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس فقیر کا گزر ہوا۔ لوگ اس وقت انہیں پہچانتے نہیں تھے۔ کیونکہ وہ تارکِ دنیا اور کچھ گم نامی سی زندگی گزاررہے تھے۔ وہ تھے روحانی دنیا کے تاجدار حضرت شمس تبریز۔ وہ مولانا رومی کی جانب بڑھے ،چند باتیں ہوئیں اور حضرت شمس نے ان کی کتابیں اٹھا کر تالاب میں پھینک دیں۔ مولانا رومی کو اپنی قیمتی کتابوںکو ''پانی بُرد'' ہوتے ہوئے دیکھ کر غصہ بھی آیا اور صدمہ بھی ہوا۔ اُنہوںنے غصے سے کہا کہ یہ آپ نے کیا کیاہے؟ علم وحکمت کی نایاب کتابوں کو تالاب کی نذر کردیا ہے۔ حضرت شمس تبریز نے ایک نگاہ مولانارومی پر ڈالی کہ تم کن کتابوں کے علم میں مگن ہو، اصلی علم یہ نہیں، اصلی علم فقیروں اور اﷲ کے برگزیدہ بندوں سے ملتا ہے جن پر اﷲ سبحانہ' وتعالیٰ کی عطا ہوتی ہے۔ حضرت شمس تبریز نے تالاب میں ہاتھ ڈالا اور مولانا رومی کی کتابوں کو باہر نکال لیا۔ وہ بالکل خشک تھیں۔ مولانا شمس تبریز وہاں سے چل پڑے تو مولانا رومی بھی سب کچھ چھوڑ کر ان کے پیچھے ہولئے۔ کچھ عرصہ غائب رہنے کے بعد مولانا رومی لوٹے تو وہ روحانی علم سے مالامال ہو چکے تھے اور اُن کی کائنات بدل چکی تھی۔ اگر مولانا روم حضرت شمس تبریز کی نگاہِ سمندر سے سیراب نہ ہوتے تو اپنی وفات کے ساتھ ہی گمنام ہوگئے ہوتے۔ صدیاں گزرنے کے بعد بھی مولانا رومی زندہ ہیں۔ ہرروز ہزاروں لوگ اُن کے مزار پر حاضری دیتے اور فیض پاتے ہیں۔ یہ تبریزی نگاہ کا ہی فیض ہے کہ دنیا بھر میں رومی کی کتابیں پڑھی جاتی ہیں اور اُن پر تحقیق و تالیف کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ دنیاوی علم کتابوں سے حاصل ہوتا ہے لیکن ابدی علم کسی نگاہ کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ اسی لئے اقبال جیسا آفاقی شاعر بار بار نگاہ یا نگہ کا ذکرکرتا ہے اور کہتا ہے کہ'' تیرا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں'' گویا اقبال کے نزدیک کچھ امراض کا علاج فقط نگاہ اور نظر ہوتی ہے۔ ان امراض میں کتابی علم کی افراط سے پیدا ہونے والا مرض تشکیک بھی شامل ہے۔


مدینہ منورہ ہو یا مکہ معظمہ، یہ سب ادب کے اعلیٰ ترین مقامات ہیں۔ جہاں مٹی کا ایک ایک ذرہ ادب کا تقاضا کرتا ہے۔ ادب ہی وہ کنجی ہے جس سے عشق کے دروازے کھلتے ہیں اورعشق ہی وہ روشنی ہے جو قربِ الٰہی کا سبب بنتی اور عشقِ رسول کی راہ ہموار کرتی ہے۔



مجھے ہر گز علم نہیں کہ روحانیت کیا ہوتی ہے اور کیا پاکستان روحانی دَور میں داخل ہوچکا ہے یا نہیں۔ اسی طرح میرا تجاہل یہ بھی سمجھنے سے عاری ہے کہ بہت جلد پاکستان عالمی سطح پر کیسے ایک قوت بن کر اُبھرے گا لیکن میں اپنے مشاہدے اور تجربے کی بنا پر اتنا جانتا ہوں کہ اولیائے کرام کے مبارک ہونٹوں سے نکلی ہوئی بات دیر یا سویر مِن و عن صحیح ثابت ہوتی ہے۔ محترم سرفراز شاہ صاحب سے میری ملاقات سال بھر میں ایک دو بار سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ٢٠١٨  میں میری اُن سے اکلوتی ملاقات مارچ کے اواخر میں ہوئی۔ بیس منٹ کی ملاقات میں ملکی حالات کا ذکر آیا تو انہوںنے فرمایا ''مجھے اس وقت کا وزیرِاعظم نواز شریف جیل میں نظر آتا ہے۔'' یہ بات مارچ کی ہے ۔ یقین کیجئے یہ الفاظ سُن کر مجھے صدمہ بھی ہوا اور حیرت بھی۔ شکریہ دنیاوی علم کا کہ مجھے اس خبر پہ ہر گز یقین نہیں آیا۔ لیکن آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ کیا ہوا؟ مزید کچھ نہ ہی لکھوں تو بہتر ہے۔
یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ روحانیت کی ابتداء اور انتہا ''ادب''ہے جسے اقبال محبت کے قرینوں میں سے پہلا قرینہ قرار دیتے ہیں۔ میں نے مدینہ منورہ میں کئی عاشقانِ رسول اورصوفیائے کرام دیکھے جو مدینہ منورہ کی حدود میں جوتی نہیں پہنتے تھے کہ یہ ادب کا تقاضا ہے۔اپنی اپنی کیفیت اور اپنے اپنے محسوسات۔۔۔، مجھ جیسا گناہ گار اور کمزور انسان بھی مدینہ منورہ میں چلتے ہوئے اس خیال سے خوف زدہ رہتا ہے کہ کہیں میرا پائوں ایسی جگہ اور ایسے مقام پر نہ پڑجائے جہاں حضوراکرم ۖ کا مبارک پائوںپڑا ہو۔ نظر کچھ نہیں آتا یہ محض ایک احساس کی بات ہے جسے آپ ادب کہہ سکتے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ یہ ''ادب'' میرے رب کی دَین اور عطا ہوتی ہے اور بلاوجہ نہیں ہوتی۔ میرا رب غفورو رحیم ہے وہ جب چاہے کسی کے گناہ معاف کردے اور جب چاہے کسی کے باطن کی کیفیت بدل دے۔ میری کیا حیثیت کہ میں ادب کے معاملات میں تشکیک کے مرض کو دعوت دوں۔مدینہ منورہ ہو یا مکہ معظمہ، یہ سب ادب کے اعلیٰ ترین مقامات ہیں۔ جہاں مٹی کا ایک ایک ذرہ ادب کا تقاضا کرتا ہے۔ ادب ہی وہ کنجی ہے جس سے عشق کے دروازے کھلتے ہیں اورعشق ہی وہ روشنی ہے جو قربِ الٰہی کا سبب بنتی اور عشقِ رسول کی راہ ہموار کرتی ہے۔ میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ جب عاشق ان منازل کو طے کرکے ''قرب'' یا حضوری کی منزل پر پہنچ جاتا ہے تو اس کے لئے موت اور زندگی میں فرق مٹ جاتا ہے۔ یہ مشاہدہ ہے ہرگز سنی سنائی بات نہیں کہ قربِ الٰہی اور قربِ رسول سے فیض یافتہ ہستیوں کے لئے موت فقط دنیا سے غائب ہونے کا نام ہے، ورنہ انہیں موت نہیں چھوتی، وہ ایک دنیا سے دوسری خوبصورت، غموں سے آزاد اور نعمتوں سے سجی دنیا میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ دنیا ظاہر ہے، دنیا آخر اور ابد نہیں۔ ابدی دنیا وہ ہے جس میں انسان ظاہر سے غائب ہو کر قدم رکھتا ہے اور ابدی زندگی پاتا ہے کیوں کہ وہاں زندگی موت سے ناآشنا رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مقام ہر انسان کا مقدر نہیں ہوتا کیونکہ اس کا انحصار انسان کے اعمال اور عشق کے جذبے پر ہوتا ہے، یہ مقام دنیا میں اپنے آپ کو فنا کرنے، نفسانی خواہشات کو ختم کرکے عبادات و مجاہدات کے ذریعے قربِ الٰہی حاصل کرنے کے بعد ملتا ہے۔ یہ مقام شہدائ، اولیائے کرام اور اﷲ اور رسولۖ کے عاشقوں کو نصیب ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ شہیدوں کو مردہ مت کہو، وہ تو اپنے رب کے پاس زندہ اور کھاتے پیتے ہیں۔ اس یقین اور ایمان کی انتہا یا اعلیٰ ترین مقام حضرت زینب بنت حضرت علی کرم اﷲ وجہہ' کا وہ خطاب ہے کہ انہوںنے معرکہ کربلا میں اپنے بھائی، بیٹوں، بھتیجوں اور قریبی رشتہ داروں کی شہادت کے بعد کوفہ کے گورنر کے جواب میں فرمایا تھا۔ اُن کا یہ خطاب قرآنِ کریم کی اسی آیت کی تفسیر ہے کہ 'حضرت حسین  اور ان کے ساتھی اﷲ پاک کے ہاں زندہ ہیں، اپنے ناناۖ کے پاس ہیں۔ میرے رب کی رضا اسی میں تھی کہ وہ انہیں مقتول دیکھے۔ ہم رب کی رضا پہ راضی ہیں، ہر حال میں حتیٰ کہ سب کچھ لٹا کر بھی رب کی رضا پر راضی رہنا عشق کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔
مجھے مدینہ منور ہ میں دو ایسے عاشقوں سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا جن کا تعلق پاکستان سے تھا لیکن وہ کئی دہائیوں سے مدینہ منورہ میں مقیم تھے اور اپنے اپنے  دائرے میں رہ کر حضورۖ کے مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہتے تھے۔ وہ اس خوف سے مدینہ منوّرہ سے باہر نہیں جاتے تھے کہ کہیں اُنہیں موت نہ آن دبوچے۔ ان کی آخری خواہش مدینہ منورہ میں ہی مرنا اور دفن ہونا تھی۔ اسی منزل کے حصول کے لئے انہوں نے وطن ،گھر بار چھوڑا تھا۔ ان عاشقوں میں ایک عظیم ہستی صوفی اسلم صاحب تھے جو مدینہ منورہ میں رباط مکی نامی عمارت میں مقیم تھے۔ وہ ہمہ وقت کچھ پکانے میں مصروف رہتے اور پکا کر کھانا مسجدنبوی میں حضورۖ کے مہمانوں کے لئے بھجوا دیتے۔ اُن کے ایک ہاتھ میں لمبی سی تسبیح ہوتی جس کے دانے ذکر کے ساتھ گرتے رہتے اور دوسرے ہاتھ میں کڑچھی ہوتی جو چولہے پہ رکھے دیگچے میں حرکت کرتی رہتی۔ میری اُن تک رسائی بابامست اقبال کے ذریعے ہوئی جو لاہور کی ایک عظیم روحانی شخصیت تھے۔ وہ ہمہ وقت نیم جذب کی حالت میں رہتے اور اُن کا باطن ہمہ وقت روشن رہتا تھا۔ جو بات زبان سے نکلتی، من و عن درست نکلتی۔ ان کا وصال ہوئے کئی برس گزرگئے۔ میں ان کے ساتھ عمرے کے لئے گیا تو مدینہ منورہ میں صوفی اسلم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ بابا مست اقبال سے ان کی گہری دوستی تھی کہ عاشق عاشق کا بہترین اور مخلص ترین دوست ہوتا ہے۔ باباجی کبھی کبھار صوفی صاحب کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ بابا مست اقبال کو اﷲ پاک نے کوئی پینتیس چھتیس حج اور پچاس سے زیادہ عمرے نصیب کئے۔ صوفی صاحب کا انتقال بہ وزن وصال طویل عرصہ قبل ہو چکا تھا۔ وہ جنت البقیع میں مدفون ہیں۔میری بابامست اقبال سے راز و نیاز کی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ وہ مجھ پر مہربان تھے۔ بابا جی صوفی صاحب کے وصال کے بعد پہلی بار عمرے پہ گئے۔ واپس لوٹے تو میں اُن سے ملنے حاضرہوا وہ عمرے کے احوال سنا رہے تھے تو میںنے اچانک پوچھا ''بابا جی کیا صوفی اسلم صاحب سے ملاقات ہوئی؟''  انہوںنے فوراً فرمایا'' ہاں جس ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا وہاں صوفی صاحب میرے کمرے میں آئے اورتہجد تک میرے پاس رہے۔  نمازِ تہجد کی اذان ہوئی تو وہ جنت البقیع کی جانب چلے گئے اور میں حرمِ نبوی کی طرف چلا گیا۔'' بابا مست اقبال ولی اﷲ تھے اور سرتا پا سچے تھے۔ اب آپ ہی بتایئے میں کیسے مان لوں کہ عاشق رسول ظاہری موت کے بعد مرجاتا ہے۔ وہ تو محض عارضی دنیا سے ابدی دنیا میں منتقل ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اﷲ کے رسولۖ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس شخص نے بھی میرے دوست (ولی) سے عداوت کی تو بس پھرمیری اس سے کھلی جنگ ہے۔ میرا کوئی بندہ جتنا مجھ سے قریب ہوتا ہے وہ اتنا ہی مجھے زیادہ محبوب لگنے لگتا ہے۔ میرے اس پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں۔ وہ میرا بندہ اتنے نوافل ادا کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے بہت زیادہ محبت کرنے لگ جاتا ہوںجن سے وہ سنتا ہے میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں میری محبت کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ میں اس کی کان بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ کام کرتا ہے اور میں اس کی ٹانگیں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا پھرتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے میں اس کوہر صورت عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے میری پناہ میں آنا چاہے تو میں ہر صورت اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں میں اپنے کسی کام کو کرنے میںتھوڑا سابھی تردد نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ میں مومن کی جان لیتے ہوئے جو اس کو ناپسند ہے اور وہ موت ہے مجھے بھی اُس کی جان لینا قطعاً پسند نہیں ہے۔''
اوپر بیان کی گئی حدیث، حدیث قدسی ہے۔ حدیث قدسی کا مطلب ہے کہ الفاظ نبی کریم ۖ کے لیکن مفہوم یا پیغام اﷲ پاک کا۔ اب آپ خود اندازہ کرلیں کہ جب خود خالقِ حقیقی اپنے بندوں کا کام، آنکھیں، ہاتھ اور ٹانگیں بن جائے تو اﷲ پاک کے اُن پسندیدہ یا محبوب لوگوں کا مقام کیا ہوگا؟ اُن کا رتبہ کیا ہوگا؟ کیا اُن کا انجام عام لوگوں جیسا ہو سکتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں۔


مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔ 
[email protected]
 

یہ تحریر 663مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP