ہلال نیوز

طیارہ حادثہ اورپاک فوج  کی امدادی سرگرمیاں

اس سال رمضان المبارک کے جمعتہ الوداع کو کراچی ایئرپورٹ کے نزدیک لاہور سے آنے والی فلائٹ پی کے 8303 فنی خرابی کے باعث بروقت لینڈنہ کرسکی اور حادثے کا شکار ہوگئی۔ اس حادثے نے 98 خاندانوں کوجس کرب میں مبتلا کیا وہ قلمبند تو نہیں کیا جاسکتا ۔البتہ ایک دردمند قوم ہونے کے ناتے محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اللہ نے پاکستان کو جفاکش اور بہادروں کی اس فوج سے نوازا ہے جو وطن کی خدمت کے لئے ہر لمحہ پیش پیش ہوتی ہے، مادر وطن کی سرحدوں کی حفاظت سے لے کر مشکل کی ہرگھڑی میں یہ جوان ہر لمحہ کامران ہوتے ہیں۔ 



چیف آف آرمی سٹاف کی خصوصی ہدایات پر پاکستان آرمی کے دستے ضروری سازوسامان کے ساتھ منظم انداز میں فوراً جائے حادثہ پر پہنچے۔ کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز نے فوری طور پر جائے حادثہ کا دورہ کیا اور ہدایات جاری کیں۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل محمد عقیل کے علاوہ ڈی جی رینجرز (سندھ) میجر جنرل عمر بخاری اور سینیئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔



پاک فوج،رینجرز اور سول انتظامیہ نے ریسکیو آپریشن میں بھرپور حصہ لیا، پاک فوج نے سب سے  پہلے متاثرہ علاقے کو مکمل طور پر اپنے گھیرے میں لیا بعد ازاں امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔جنرل آفیسر کمانڈنگ میجرجنرل محمد عقیل نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کی قیادت کی۔ کمانڈر کراچی کور لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز نے طیارے کے حادثے میں شہید ہونے والے تمام آرمی افسران کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔لیفٹیننٹ بالاچ خان کو بحریہ ٹاؤن قبرستان، لیفٹیننٹ حمزہ ، لیفٹیننٹ شہیر اور میجر شہریاراور ان کے ساتھ شریکِ سفر اہلیہ اور بچوں کو کالا پل کے قریب آرمی قبرستان میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپر دخاک کیا گیا۔ نمازہ جنازہ اور تد فین کے موقع پر اعلیٰ سول اور فوجی افسران، سماجی شخصیات اور اہلِ علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔  (رپورٹ: کلیم بخاری)
 

یہ تحریر 323مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP