متفرقات

طورخم گیٹ کی تعمیر

افغانستان سے دراندازوں اور دہشت گردوں کے روک تھام کے لئے طورخم گیٹ کی تعمیر نا گزیر وقت کا تقاضا ہے کہ اب افغان شہری قانونی دستاویزات کے ذریعے پاکستان آئیں۔قبائلی عوام کا مطالبہ خیبر ایجنسی سے تکبیر آفریدی کی رپورٹ

حال ہی میں حکومت پاکستان نے طورخم گیٹ کو زیرو پوائنٹ سے 37 میٹر پاکستان کی حدود میں بنانا شروع کیا۔ کام کو شروع کر نے سے پہلے پاکستانی بارڈر حکام نے باقاعدہ طور پر انٹرنیشنل قوانین کے مطابق افغان بارڈر حکام کو آگاہ کیا کہ ہم اپنی حدود کے اندر گیٹ کی تعمیر شروع کریں گے لیکن جب تعمیر شروع کی گئی تو افغان بارڈر فورسز نے بلااشتعال اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور طورخم میں مقیم علاقہ باچا مینہ میں سول مقامی آبادی کو بھی نشانہ بنا یا گیا، جس میں تین بچوں سمیت 13افراد زخمی بھی ہو ئے۔ اس حملے میں میجر علی جواد خان چنگیزی ایف سی(کے پی کے) شہید جبکہ چھ جوان زخمی بھی ہوئے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اس حملے کا مؤثر جواب دیا۔ حملے کے بعد پانچ روز تک طور خم کے مقام پر آمدورفت معطل رہی جبکہ چھٹے روز اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد طورخم گیٹ کو آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا۔ طورخم پر گیٹ کی تعمیر اور افغانستان کی جانب سے کئے گئے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے یہ اندازہ لگانا ناممکن نہیں کہ کسی طرح بعض عناصر افغانستان کے اندر شہریوں کو کس انداز سے طورخم گیٹ کی تعمیر کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا کر کے اُنہیں پاکستان کے خلاف بولنے پر اکسا ر ہے ہیں۔ دوسری جانب خیبر ایجنسی کے غیور قبائلی عوام نے بھی پاکستان کے موقف کی حمایت میں ریلیاں نکالیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشت گردوں اور خصوصاً بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹوں کی مداخلت کی روک تھام کے لئے طورخم گیٹ کی تعمیر بہت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی اپنی حدود میں جو کچھ تعمیر کرنا چاہیں وہ ہمارا حق ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ افغان عوام اور حکومت کو پاکستانی قوم کے احسانات اور قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان عوام اور ان کی حکومت کا یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ قبائلی عوام اب انڈیا (را)کے ہاتھوں کھیلنے والے افغان شہریوں کو مزید برداشت کریں گے۔یہ بھی واضح طور پر کہا گیا کہ افغانستان سے در اندازی اور دہشت گردوں کی روک تھام اور پاکستان کو محفوظ بنانے کے لئے طورخم گیٹ کی تعمیراشد ضرورت ہے اور اس کو ہر صورت بننا چاہئے۔ اس مسئلے کو آپ اس زاویے سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ جب دو سگے بھائی بھی آپس میں جدا ہوتے ہیں تب بھی وہ بھی آپس میں دیوار اور گیٹ لگاتے ہیں۔ یہ تو دو ملکوں کے درمیان کا مسئلہ ہے۔ جلسوں اور ریلیوں میں قبائلی عوام کے سر کردہ ملکان میں ملک فیض اللہ جان کوکی خیل، سابق ایم این اے اور موجودہ ملک گل محمد آفریدی، ملک صلاح الدین آفریدی، ملک اسماعیل آفریدی، ایم این اے کے نمائندے ملک ندیم آفریدی، خیبر مشران کمیٹی اور ٹرانسپورٹ کے صدر شاکر آفریدی شامل تھے۔

 

ملک فیض اللہ جان کوکی خیل نے طورخم گیٹ کی تعمیر کے حوالے سے اپنے تاثرات میں کہا کہ طورخم گیٹ کی تعمیر ہمارا حق ہے۔ جب افغان حکومت دہشت گردوں کو کنٹرول نہیں کر سکتی‘ باچا خان یونیورسٹی اور اے پی ایس پشاور پر حملوں میں ملوث دہشت گرد افغانستان کی طرف سے طورخم سرحد سے پاکستان داخل ہوئے تو اس صورت میں پاکستان کو محفوظ بنانے کے لئے طورخم گیٹ کی تعمیر ناگزیر ہو گئی تھی اور یہ کہ طورخم گیٹ کی تعمیر دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ قبائلی عوام پاک آرمی کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب دنیا بدل چکی ہے لہٰذا افغان شہری بھی اب حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں۔ وہ بے شک ہمارے مسلمان بھائی ہیں لیکن اب وہ قانونی دستاویزات لے کر پاکستان آئیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت اور افغان شہری انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے باز رہیں۔

 

سابق ایم این اے ملک گل محمد آفریدی نے طورخم گیٹ کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپنی حدود میں گیٹ بنانا ہمارا حق ہے، جس سے ہم اپنے ملک کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افغان باشندے بے شک پاکستان آئیں مگر قانونی سفری کاغذات کے ساتھ، تاکہ آنے جانے والوں کا مکمل ریکارڈ موجو د ہوجس سے دونوں ملک محفوظ بن سکتے ہیں۔ خیبر مشران کمیٹی اور خیبر ٹرانسپورٹ کے صدر شاکر آفریدی نے طورخم گیٹ اور پاسپورٹ ویزہ کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ ایک طرف افغان حکومت پاکستان پر الزام تراشی کر رہی ہے کہ پاکستان سے دراندازی ہو رہی ہے اور دوسری طرف افغان حکومت طورخم گیٹ کی تعمیر پر مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ افغانستان سے دراندازی اور دہشت گردوں کی پاکستان آمد کو روکنے کے لئے طورخم گیٹ کی تعمیر وقت کا اہم تقاضا ہے، جس سے دونوں ملک محفوظ بن سکتے ہیں۔

 

ایم این اے الحاج شاہ جی گل آفریدی کے نمائندے ملک ندیم آفریدی نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ عجیب بات ہے ایک طرف افغان حکومت پاکستان پر الزامات لگا رہی ہے اور دوسری طرف گیٹ کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتی تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طورخم گیٹ کی تعمیر سے دونوں ملک محفوظ بن سکتے ہیں تو پھر افغان حکومت کو کیا اعتراض ہے۔ اب اکیسویں صدی ہے اور اب افغان حکومت بغیر سفری کا غذات کے روزانہ دس سے بیس ہزار افغانیوں کا پاکستان میں داخل ہونے کا خیال چھوڑ دے۔ دنیا میں یہ کہیں نہیں ہوتا کہ کسی ملک کے عوام بغیر سفری کاغذات کے کسی دوسرے ملک میں داخل ہوں۔طورخم گیٹ کی تعمیر اور قانونی سفری کاغذات سے سفر کرنے سے پاکستان اور افغانستان دونوں محفوظ بن سکتے ہیں۔

 

روخانہ سباون فلاحی تنظیم کے صدر اور سماجی کارکن اجمل آفریدی نے کہا کہ بے شک افغانی ہمارے مسلمان بھائی ہیں، وہ پاکستان آئیں مگر ویزہ اور پاسپورٹ کے ذریعے اس سے دونوں ملکوں کے پاس اپنے عوام اور دوسرے ملک سے داخل ہونے والوں کا بھی مکمل ریکارڈ موجود ہو گا جس سے دونوں ملک محفوظ ہو جائیں گے۔ انہوں نے طورخم گیٹ کی تعمیر پر بھی زور دیا۔ قبائلی عوام کو اس بات پر حیرت ہو رہی ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے اپنی حدود کے 37 میٹر اندر تعمیر ہونے والے گیٹ کی تعمیر پر بھلا کیونکر اعتراض ہو سکتا ہے؟

 

ملک صلاح الدین ، ملک اسماعیل ، پی ٹی آئی خیبر ایجنسی کے رہنماء اور پی پی پی خیبر ایجنسی کے صدر حضرت ولی آفریدی نے بھی اپنے تاثرات میں کہا کہ افغان عوام پاکستان کے 37سالہ مہمان نوازی کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ 1979ء میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو لاکھوں افغانی طورخم گیٹ سے بے سر وسامانی کے عالم میں پاکستان میں داخل ہوئے تو قبا ئلی عوام نے پاکستان آنے والے افغان مہاجرین کو اپنے گھروں اور حجروں میں بسنے کے لئے جگہیں دیں جو کہ سینتیس سال گزرنے کے با وجود بھی یہاں پر بس رہے ہیں اور قبائلی عوام آج بھی مہمان نوازی کا حق ادا کر رہے ہیں لیکن اب وقت کا تقاضا ہے کہ دراندازوں اور دہشت گردوں کے روک تھام کے لئے طورخم گیٹ ہر صورت تعمیرہو تاکہ دونوں ملک محفوظ ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت بھی گیا جب افغانستان سے روزانہ بغیر سفری کاغذات کے بیس سے پچیس ہزار افغان باشندے پاکستان داخل ہو رہے تھے۔ اب یہ بھی وقت کا تقاضا ہے کہ دونوں ملکوں کے مسافر قانونی ویزے اور پاسپورٹ سے ایک دوسرے کے ملک جائیں تو اس سے دونوں کا فائدہ ہو گا اور دونوں ملک محفوظ بھی بن جائیں گے۔


[email protected]

یہ تحریر 32مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP