متفرقات

طلوعِ سحر

کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز بلوچستان کا ایک منفرد ادارہ

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کاسب سے بڑا صوبہ ہے۔یہ قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے۔ بلوچستان میں نہ صرف بلوچ بلکہ براہوی،سندھی، پٹھان اوردوسری قومیں سالوں سے آباد ہیں۔ تاہم بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ یہاں پردوسرے مسائل کے علاوہ تعلیمی نظام بالخصوص شعبہ طب کی تعلیم بھی تنزلی کا شکار ہے۔ بلوچستان میں سرکاری ونجی سطح پر صرف ایک میڈیکل کالج،بولان میڈیکل کالج‘ ہے جو1971ء میں قائم کیا گیا تھا۔ ایک میڈیکل کالج میں اتنے وسائل نہیں کہ اتنے بڑے صوبے کے میڈیکل کے طلبہ کو تعلیم دی جاسکے۔ نتیجتاً طبی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلباء میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جاتی تھی۔ وہ طلباء جس کے پاس وسائل ہیں مجبوراً دوسرے صوبوں یابیرون ملک جاکر طبی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔اس صورتحال کے تناظر میں پاک فوج نے بلوچستان میں اپنے پہلے سے جاری شدہ تعمیر وترقی کے کاموں میں اضافہ کرتے ہوئے ایک اہم ترقیاتی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور کوئٹہ چھاؤنی میں سی ایم ایچ سے ملحقہ ایک نئے میڈیکل کالج کے قیام کا فیصلہ کیا جہاں‘ بلوچستان کے طول وعرض سے آکر طبی تعلیم حاصل کرنے کے لئے طلبہ ایک محفوظ، معیاری اورخالص تعلیمی ماحول میں، بلاخوف وخطر تعلیم حاصل کرسکیں۔

سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فروری 2011ء میں اس شاندار تعلیمی منصوبے کے آغاز کی منظوری دی اور صرف سات ماہ کی ریکارڈ مدت میں کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ۔ ستمبر2011ء میں پاکستان میڈیکل اورڈینٹل کونسل کی معائنہ ٹیم نے اس ادارے کو طبی تعلیم کے لئے منظور کیا۔دسمبر2011ء میں حکومت پاکستان نے اس منصوبے کی منظوری کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا۔
کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے منصوبے کے آغاز سے تکمیل تک تمام مراحل میں ہیڈکوارٹر سدرن کمانڈ نے جدید طبی تعلیمی سہولیات، ماڈرن ڈیجیٹل لائبریری کے قیام اورمعیاری ہاسٹل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیااور فنڈز کی فراہمی کو ممکن بنایا۔
کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صوبہ بلوچستان کا ایک منفردادارہ ہے۔یہاں فوجی نظم وضبط میں میڈیکل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر اورخصوصاًصوبہ بلوچستان سے آئے ہوئے طلباء وطالبات کو ایک دوسرے کے ساتھ ہرشعبے میں مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ افواج پاکستان کے بلوچستان پیکیج کے تحت وجود میں آیا اور اس کی تعمیر کے بیشتر اخراجات فوج نے برداشت کئے۔
کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ،پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے تسلیم شدہ ہے۔اس سے ملحقہ ہسپتال سی ایم ایچ کوئٹہ ہے۔جوبلوچستان کا ایک پرانا اور مایہ ناز طبی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک طویل عرصے سے ڈاکٹروں کو ایف سی پی ایس کی پوسٹ گریجویٹ تربیت مہیا کرتا رہا ہے۔سی ایم ایچ کوئٹہ بلوچستان کا واحد طبی ادارہ ہے جس میں متعین اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتیوں کے حامل ڈاکٹرز اورطبی عملہ بلوچستان کے طول وعرض سے آنے والے مریضوں کو بلاتفریق بین الاقوامی معیار کے مطابق طبی علاج کی سہولیات فراہم کررہا ہے جس میں جدید تشخیصی آلات اورلیبارٹریز قائم ہیں اور یہ سہولیات بلاشبہ میڈیکل کے طلبہ کی تربیت اورفنی صلاحیتیوں کے نکھار میں اہم کرداراداکریں گی۔
اس ادارے میں داخلہ خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ امیدواروں کے انتخاب کا عمل انتہائی شفاف رکھا گیا ہے۔ کالج میں داخلے کا امتحان نیشنل ٹیسٹنگ سسٹم کے زیر اہتمام لیا جاتا ہے اور منتخب طلبا ء کو نہایت تجربہ کار اساتذہ کی زیر نگرانی پانچ سال میں میڈیکل کی تعلیم مکمل کروائی جاتی ہے۔
کالج کے پرنسپل پروفیسرڈاکٹر ارباب عبدالودود ہیں۔ ان کا تعلق کوئٹہ کے کانسی قبیلے سے ہے۔اُنہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بولان میڈیکل کالج کوئٹہ سے کیا اور ایک طویل عرصے تک تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے۔اُن کے شاگردوں کی تعداد بلاشبہ ہزاروں میں ہے وہ بولان میڈیکل کالج میں وائس پرنسپل کی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے انجام دیتے رہے ہیں۔
کالج میں باقاعدہ تعلیم کا آغاز 2012ء میں97طلبہ کے داخلے سے ہوا جس میں37لڑکے اور60لڑکیاں تھیں۔دوسرا بیچ2013ء میں داخل ہوا جس میں 38لڑکے اور60لڑکیاں تھیں۔جبکہ تیسرے بیچ میں48لڑکے اور 57 لڑکیاں ہیں جو 2014ء میں شروع ہوا۔
کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ کالج میں اس وقت 300طلبہ وطالبات زیرتعلیم ہیں جن میں سے90فیصدکاتعلق بلوچستان سے ہے۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں سے منتخب ہونے والے خصوصاً بلوچ طلبہ کی فیس میں 80فیصد تک رعایت دی جاتی ہے جبکہ مکران ڈویژن کے کئی طلبہ وطالبات کی کل فیس سدرن کمانڈ اپنے فنڈسے اداکررہی ہے۔ انہوں نے کمانڈرسدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کی ذاتی کاوشوں کا بھی ذکر کیا جن کی بدولت کوئٹہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صوبے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ انشاء اللہ آگے BDS ڈینٹل ڈاکٹر کورس بھی شروع کرنے کا ادارہ رکھتے ہیں۔ بریگیڈےئر زاہد‘ جو کوئٹہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے وائس پرنسپل ہیں‘نے بتایا کہ کالج میں مارچ 2012ء میں پہلی کلاسز شروع ہوئیں اور اس وقت پہلا بیچ تھرڈائیر میں ہے۔آرمی نے پہلی انویسٹمنٹ کی اور 54ملین روپے دئیے اور اس کے بعد 52ملین روپے کاقرضہ بھی دیا۔اور اس کے علاوہ 956 مربع فٹ زمین بھی دی۔میڈیکل سٹاف 60 فیصدآرمی کا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آرمی کبھی بھی اپنے شہداء کو نہیں بھولتی۔ شہدا ء کے بچوں کو کالج میں بالکل فری تعلیم دی جارہی ہے۔ان بچوں کے تعلیمی اخراجات سدرن کمانڈ،اورFCاپنے فنڈ سے ادا کر رہی ہے۔
بریگیڈیئر زاہد نے ان حوصلہ مند طلباء سے بھی ملوایا جن کے عزم پہاڑوں کی طرح بلند ہیں‘ آئیے آپ بھی ان سے ملیں۔
طوبیٰ علی 
طوبیٰ علی کے شہیدوالدپولیس انسپکٹر تھے اُن کا نام عارف علی تھا وہ ایک بہادر،نڈر انسان تھے۔وہ نہات فرض شناس اوردیانت دار انسان تھے ملک دشمنوں کواُن کی یہ ادا پسند نہ آئی جب وہ اپنے بچوں کو ٹیوشن پرچھوڑنے جارہے تھے تو سرکی روڈ پر ان کو شہیدکیاگیا۔طوبیٰ علی تین بہنوں میں سے سب سے بڑی ہیں اوروہ تھرڈاےئر میں ہیں۔ اُن سے چھوٹی بہن نویں جماعت میں ہیں اور سب سے چھوٹی بہن Playگروپ میں ہے۔انہوں نے بتایا کالج کے پرنسپل اوروائس پرنسپل بریگیڈےئر زاہد بہت نفیس انسان ہیں۔ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں۔ کالج کا ماحول بہت اچھا ہے۔ یہاں پر خالص تعلیمی ماحول ہے۔اور یہاں پرطلباء کی صلاحیتیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بن کراپنے شہیدوالدکی طرح ملک اورقوم کی خدمت کرناچاہتی ہیں۔
نعیمہ مینگل
نعیمہ کاتعلق قلات ڈویژن سے ہے۔ اُن کے والد شہید عبدالخالق کا تعلق مینگل قبیلے سے تھا۔وہ بہت محب وطن انسان تھے۔انہوں نے قلات میں پاکستان کے حق میں جلسہ کیا تو یہ بات ملک دشمن عناصر کو پسندنہ آئی اورانہوں نے رات کی تاریکی میں‘جب عبدالخالق مینگل گھر آرہے تھے‘ اُن کو شہید کردیا۔ نعیمہ نے بتایا کہ وہ پانچ بہنیں ہی۔ اُن کا نمبر دوسرا ہے۔ اُن سے بڑی بہن گورنمنٹ سکول میں ٹیچر ہیں ۔پاکستان آرمی نے اُن کو کینٹ میں گھر بھی دیا ہوا ہے۔نعیمہ مینگل نے بتایا کہ کوئٹہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا ماحول خالص تعلیمی ہے یہاں پر کوئی قوم پرستی اورسیاست نہیں۔ نعیمہ مینگل نے کہا کہ وہ ڈاکٹر بننے کے بعدآرمی جوائن کریں گی۔ آخرمیں انہوں نے کہا کہ انسان کومحنت کرنی چاہئے اور اللہ پریقین کرناچاہئے۔
شہداء کے علاوہ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے لائق طلباء جومیرٹ پر توآتے ہیں مگر فیس نہیں دے سکتے اُن کے لئے20 فیصدسیٹیں ہیں۔اُن کی 80 فیصد فیسگورنمنٹ بلوچستان دیتی ہے باقی20 فیصدطلباء خوددیتے ہیں۔مگر کچھ طلباء ایسے ہیں جوانتہائی غریب ہونے کے باعث 20 فیصدفیس بھی ادا نہیں کرسکتے اُن کے لئے بھی پاکستان آرمی اپنے فنڈ سے فیس اداکرتی ہے۔ایسے ہی ایک طالب علم سے ہم آپ کی ملاقات کروانا چاہتے ہیں ۔
شمیم نذیر
شمیم نذیر کاتعلق تربت سے ہے۔ ان کے والد صاحب تربت کے مقامی سکول میں ٹیچر ہیں۔شمیم نذیر بہت لائق طالب علم ہیں۔مگراُن کے پاس وسائل نہیں تھے ۔ان کے والد صاحب نے جنرل آفیسر کمانڈنگ سے درخواست کی اورانہوں نے ان کی درخواست کو منظور کیا اور پورے پانچ سال کی فیس اداکردی۔ شمیم نذیر کے سات بہن ،بھائی ہیں وہ دوسرے نمبر پر ہیں اور سب پڑھ رہے ہیں۔ شمیم نذیر نے بتایا کہ کالج بہت اچھا ہے خالص تعلیمی ماحول ہے یہاں کے پروفیسرز انتہائی محنتی ہیں۔
یہ ادارہ‘ خصوصباً‘ بلوچستان کے طلباء کے لئے قائم کیاگیا ہے۔اورطلباء کی اکثریت کا چناؤ اسی صوبے سے ہوتا ہے۔ 10فی صدنشستیں دوسرے صوبوں اوراتنی ہی شہداء کے بچوں کے لئے مخصوص ہیں۔ ہم سب کی یہ دعا ہے کہ کوئٹہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز دن دوگنی اوررات چگنی ترقی کرے اور نہ صرف صوبہ بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لئے ایک مثالی ادارہ بن کر خوشخبری کی نوید ثابت ہو۔

یہ تحریر 15مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP