متفرقات

طلاق کے بعد کیا ہوتا ہے

ایک سینئر افسر کا دفتر تھا‘ میں اور میری ایک کولیگ میٹنگ کے لئے موجود تھے‘ اچانک دفتر میں ایک مزید سینئر افسر داخل ہوئے‘ انہیں دیکھ سب احتراماً کھڑے ہوگئے۔ موصوف کا اپنے بارے میں خیال تھا کہ ان کی شخصیت میں راجیش کھنہ جھلکتا ہے‘ اسی لئے اکثر اوقات ان کے پہناوے بھی ویسے ہوتے۔ اس روز بھی موصوف کسی قبررسیدہ ہیرو کے انداز میں سگریٹ کے کش لیتے ہوئے کرسی پر براجمان ہوئے‘ میٹنگ کی کارروائی چند لمحوں کے لئے رک گئی‘ انہوں نے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور پھر نظر بھر کر میری کولیگ کی طرف دیکھا اور پھر آنکھوں کو نیم وا کرتے ہوئے پوچھا’’آپ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا‘ آپ کس کامن سے ہیں؟‘‘ میری کولیگ نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا’’سر‘ میں 1996 بیچ کی ہوں ۔‘‘ اس پر موصوف نے خا لصتاً تماش بینی کے انداز میں آنکھوں کو گھمایا اور بولے ’’کمال ہے‘ آپ بہت ینگ لگتی ہیں ۔‘‘ یہ سن کر میری کولیگ نے کسی قسم کا تاثر دیئے بغیر فائلیں اٹھائیں‘ اپنے افسر سے اجازت مانگی اور دفتر سے نکل گئی۔


جس خاتون افسر کی میں بات کررہا ہوں ‘وہ ایک ذہین اور قابل عورت ہے‘ اپنے کام سے کام رکھتی ہے‘ اچھے گھرانے سے تعلق ہے‘ ایک محکمے میں اعلیٰ افسر ہے‘ نہایت باوقار انداز میں دفتر کاکام کرتی ہے‘ غیر ضروری طور پر خوش مزاج ہے نہ خشک مزاج‘ ایماندار بھی ہے اور فرض شناس بھی۔ اس کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ بظاہر معمولی نوعیت کا ہے‘ لیکن یہ اس بے بسی کا اظہار ہے جو ہمارے معاشرے میں عورت کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے‘ چاہے وہ کتنی بھی آزاد اور خود مختار کیوں نہ ہوجائے۔ ایک عرصے تک ہم یہ سمجھتے رہے (اور اب یہ بھی سمجھتے ہیں) کہ ہمارے ہاں عورتوں کو جو حقوق میسر ہیں وہ مغربی ممالک میں بھی نہیں اور ثبوت کے طور پر ہم خود کو باپ‘ شوہر اور بیٹے کے مثالی روپ میں پیش کرتے ہیں جبکہ مغرب میں عورت کو ہم صرف ایک ہی روپ میں دیکھتے ہیں اور وہ بھی غیر اخلاقی فلموں میں اور یوں جھٹ سے نتیجہ اخذ کرلیتے ہیں کہ ہمارے ہاں عورت کی عزت کہیں زیادہ ہے۔

ہمارے ہاں عورتوں کی بے بسی کے تین درجے ہیں‘ پہلے درجے میں وہ عورتیں ہیں جو مکمل طور پر مرد کے تابع ہیں‘ ان کا تعلق نچلے طبقے سے بھی ہو سکتا ہے اور جاگیر دار کلاس سے بھی‘ ان کی تمام عمر مرد کی محتاجی میں بسر ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس ڈھنگ کی ڈگری ہوتی ہے نہ کوئی ہنر‘ ان کی زندگی کا ا نحصار مرد کی خوشنودی پر ہوتاہے‘ اگر مرد چاہے تو انہیں رکھے نہ چاہے تو اچانک صبح اُٹھ کر طلاق کا کاغذ ان کے منہ پر دے مارے‘ اُس کے بعد وہ عورت دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے زندہ رہے گی۔ ہاں‘ اگر اس کا تعلق ذرا متمول طبقے سے ہو تو شائد اس کی مالی مشکلات کم ہوجائیں مگر اس سفاک معاشرے میں کسی مرد کے نام کی تختی کے بغیر زندگی گزارنا کس قدر جو کھم کا کام ہے‘ یہ اندازہ ہم مردوں کو کبھی ہو ہی نہیں سکتا‘ بالکل اس پنجابی سنی العقیدہ شخص کی طرح جس کے ذہن میں کبھی یہ تصور نہیں آسکتا کہ ملک میں وہ لوگ کیسے جیتے ہیں جن کا تعلق اقلیت سے ہو اور وہ کسی پسماندہ علاقے میں بستے ہوں


دوسری کیٹیگری میں وہ عورتیں آتی ہیں جو آزاد ہیں‘ پڑھی لکھی ہیں‘ اچھی ملازمت کرتی ہیں یا گھر بار چلاتی ہیں‘ بظاہر یہ عورتیں مرد کی محتاج نہیں لیکن اگر انہیں ایکتنگ نظر شوہر مل جائے تو ان کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے‘ شوہر سے طلاق کا فیصلہ ہمارے جیسے معاشروں میں آسان نہیں ہوتا‘ اور اگر کوئی عورت ہمت کرکے یہ فیصلہ کرلے تو اس صورت میں اس کے پاس واپس میکے جانے کا آپشن نہ ہونے کے برابر ہوتاہے۔ ماں باپ لڑکی کو بیاہنے کے بعد سمجھتے ہیں کہ اب ان کی ذمہ داری ختم‘ شادی میں چونکہ جہیز دے دیا اس لئے جائیداد میں حصہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں‘ حیرت ہے یہ کلیہ بیٹوں پر لاگونہیں ہوتا‘ بیٹا اگر کاروبار میں چالیس پچاس لاکھ لگا دے تو بھی جائیداد کے اپنے حصے کا حقدار ٹھہرے گا جبکہ بیٹی سے لکھوا لیا جاتا ہے کہ وہ بھائیوں کے حق میں دستبردارہوتی ہے ! اور یوں بھی طلاق کے بعد اس گھر میں واپس جانا قریباً ناممکن ہوجاتا ہے جہاں بھائیوں کی بیویاں ڈیرے جمالیتی ہیں۔


تیسری کیٹیگری میں وہ عورتیں ہیں جو خود کو مرد کے شکنجے سے آزاد کرنے میں کامیاب ہیں‘ وہ پُراعتماد ہیں‘ پڑھی لکھی ہیں اور ان کے پاس ایسا ہنر اعلیٰ ڈگری یا اپنا کاروبار ہے جس کی مدد سے وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنی زندگی پُرآسائش انداز میں گزار سکتی ہیں۔ اگر ان کا شوہر انسان کا بچہ ہو تو بہت اچھی بات ہے اور اگر نہ ہو تو وہ بغیر کسی جھنجھٹ کے اس سے چھٹکارا پا کر بھی اپنی زندگی گزار سکتی ہیں‘ انہیں میکے کی ضرورت ہے نہ بھائیوں کی مدد کی کیونکہ انہوں نے زندگی میں کامیابی پالی ہے‘ اب وہ کسی کی محتاج نہیں۔ ہمارے ہاں ایسی عورتوں کی تعداد فی الحال بہت کم ہے‘ تاہم ان عورتوں کے دو مسائل ہیں‘ پہلا حد سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے بعض اوقات یہ اپنے شوہر کو زچ کردیتی ہیں اور یوں خواہ مخواہ اپنی ازدواجی زندگی کو مشکل میں بنا دیتی ہیں۔ دوسرا مسئلہ ان کی آزاد خیالی ہے جس کی بنا پر وہ ان اقدار کو بھی خاطر میں نہیں لاتیں جوکسی بھی عورت کی پروقار شخصیت کے لئے ضروری ہیں۔ آزادی کامطلب ہمارے ہاں یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ جب تک عورت مرد سے گلے لگ کر نہیں ملے گی‘ سگریٹ نہیں سلگائے گی اور مکمل مغربی لباس نہیں پہنے گی اس وقت تک اُسے آزاد نہیں کہا جاسکتا۔ حالانکہ عورت کی آزادی کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں مرد کی محتاج نہیں اور یوں حجاب میں لپٹی ایک عورت بھی پُراعتماد اور آزاد ہوسکتی ہے۔


ایک زمانے میں بک سٹورز پر جس قسم کی کتابیں دستیاب ہوتی تھیں وہ شادی کے مسائل سے معلق ہوا کرتی تھیں۔ یہ تو میں نہیں جانتا کہ ان کتابوں کی کیا افادیت تھی تاہم جس کتاب کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے وہ ہے ’’ طلاق کے بعد کیا ہوتا ہے؟‘‘ کیونکہ ہم جس سفاک معاشرے میں سانس لے رہے ہیں وہاں عورتیں شادی کے بعد صرف ایک ہی صورت میں خوش رہ سکتی ہیں کہ ان کے شوہر کم ’’خبیث‘‘ ہوں یا وہ خود سمجھدار ہوں اور اگر ایسا نہ ہو تو طلاق کے بعد ایسی عورتوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے‘ یہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ مردوں کو عورتوں کا میک اپ کرکے معاشرے میں پھینک دیا جائے اور کہاجائے کہ ایک باعزت زندگی گزار کر دکھاؤ۔ یقیناً مردوں کو یہ باتیں آسانی سے ہضم نہیں ہوں گی‘ اس کی وجہ وہی کہ ہم پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھنے والی کسی بھی مخلوق کی جگہ خود کو رکھ کر نہیں سوچتے۔ جو حضرات اپنے آپ کو بے حد مہربان ‘ عادل اور شفیق شوہر سمجھتے ہیں‘ اگر ان سے کہا جائے کہ کیا وہ خود کو اپنی بیوی کی جگہ رکھ کر زندگی گزارنے کے لئے تیار ہیں جبکہ ان کی بیوی مہربان‘ عادل اور شفیق خاوند کا روپ دھار لے؟ اس کا جواب جاننے کے لئے کسی جوتشی کی ضرورت نہیں‘ جو اب ہم مردوں کو بخوبی معلوم ہے!!


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 70مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP