قومی و بین الاقوامی ایشوز

طالبان کی اندرونی لڑائی۔پس منظر اور اثرات

طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اندرونی اختلافات افغان طالبان قیادت اور ٹی ٹی پی کے سربراہ مولوی فضل اﷲ کی مداخلت اور تشویش کے باوجود ختم ہوتے نظر نہیں آ رہے اور اس صورت حال نے ٹی ٹی پی کے دیگر کمانڈروں اور جنگجوؤں کے علاوہ ان کے ہمدردوں‘ اتحادیوں کی پریشانی میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ اگرچہ طالبان حلقے ان اختلافات کو محض جنوبی وزیرستان کا مقامی مسئلہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا سلسلہ اعلیٰ قیادت اور مرکزی کمانڈروں کی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور اس کو محض ایک ایجنسی یا قبیلے کا مسئلہ قرار دینا قطعاً درست نہیں ہے۔ لگ یہ رہا ہے کہ ان اختلافات نے پوری ٹی ٹی پی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بظاہر حالیہ اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا جب ولی الرحمن اور حکیم اﷲ محسود پر مشتمل ٹی ٹی پی کے دو مؤثر گروپ جنوبی وزیرستان کی امارت پر ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن ہو گئے اور تادم تحریر دونوں گروپ پوری شدت کے ساتھ ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس لڑائی کے نتیجے میں کم از کم 120افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایک جھڑپ کے دوران حکیم اﷲ محسود کے قریبی ساتھی اور جاری لڑائی کے مزاحمتی کمانڈر شہریار محسود بھی شدید زخمی ہو گئے جبکہ ان کے چار دیگر اہم کمانڈر بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وزیرستان کی سطح تک طالبان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔ یہ لڑائی ولی الرحمن محسود کے قریبی ساتھی خان سید المعروف سجنا اور حکیم اﷲ محسود کے ایک ساتھی شہریار محسود کی قیادت میں قائم دو گروپوں کے درمیان لڑی جا رہی ہے۔ دونوں اہم کمانڈروں کا تعلق محسود قبیلے کی شاخ شبی خیل سے ہے اور دونوں کو محسود طالبان میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ فریقین نے کئی ہفتوں بلکہ اب مہینوں پر محیط جھڑپوں کے دوران بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کر کے ایک دوسرے کو شدید جانی نقصان پہنچایا۔ ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت اس کشیدگی کے خاتمے میں کامیاب نہ ہو سکی اور جھڑپوں کا سلسلہ پھیلتا گیا۔

ماضی میں اگرچہ ٹی ٹی پی میں اس سے قبل بھی کئی بار کمانڈرز کی سطح پر اس نوعیت کے اختلافات پیدا ہوتے آئے ہیں تاہم اس سطح اور اتنے دورانئے کے اختلافات پہلی بار دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ عملاً تو ان اختلافات کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب ٹی ٹی پی کے مقتول امیر حکیم اﷲ محسود ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں مارے گئے اور نئے امیر کے انتخاب پر وزیرستان یا محسود بیسڈ طالبان کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی او ر محسود طالبان کا موقف تھا کہ سابقہ امراء کی طرح نئے امیر کا انتخاب بھی انہیں سے ہونا چاہئے۔ صورت حال اس وقت بگڑ گئی جب محسود طالبان کے اندر بھی نئے امیر کے انتخاب پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے اور دونوں گروپ مزاحمت پر اتر آئے۔ متعلقہ شوریٰ نے اس صورت حال سے نکلنے کے لئے ابتدائی 48گھنٹوں کے دوران قائم مقام امیر کا اعلان کیا اور اس کے بعد سوات سے تعلق رکھنے والے مولوی فضل اﷲ کو مستقل امیر بنا دیا۔ اس اختلاف کی بنیاد اس سے بھی قبل 2009کے دوران اس وقت پڑ گئی تھی جب بیت اﷲ محسود کی ہلاکت کے بعد ایسے ہی مسئلے نے جنم لیا۔ اس وقت نئے امیر کے لئے دو امیدوار ولی الرحمن محسود اور حکیم اﷲ محسود میدان میں تھے۔ ایک موقع پر صورت حال اتنی خراب ہو گئی کہ دونوں گروپ ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے اور ایسی اطلاعات بھی آنے لگیں کہ ولی الرحمن مارے جا چکے ہیں۔ اس وقت حکیم اﷲ محسود نے امارت پر ایک طرح سے زبردستی قبضہ کر لیا اور ولی الرحمن کو ایک بے اختیار نائب امیر کا عہدہ دیا گیا۔ تلخی مسلسل جاری رہی اور محسود طالبان بیت اﷲ کی موت کے بعد عملاً دو حصوں یا گروپوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے۔

حکیم اﷲ کی موت کے بعد اس معاملے نے پھر سراٹھایا۔ اب کی بار اس پر قابو اس لئے نہیں پایا جا سکا کہ نئے امیر یعنی مولوی فضل اﷲ پاکستان سے ابھی تک فرار تھے اور TTPکی امارت افغانستان سے چلا رہے تھے۔ (اب بھی وہیں ہیں) فضل اﷲ کی غیرموجودگی نے ٹی ٹی پی کے تنظیمی ڈسپلن کو کافی متاثر کیا۔ جس طرح ماضی میں ولی الرحمن امارت کے معاملے پر حکیم اﷲ محسود کے لئے چیلنج بن گئے تھے اسی طرح اب کے بار سجنا فضل اﷲ کے لئے چیلنج بن گئے۔ عجیب تماشہ یہ رہا کہ دونوں گروپ آپس میں تو لڑتے رہے تاہم مولوی فضل اﷲ کو دونوں پسند نہیں کر رہے تھے۔ شہریار گروپ کے خلاف لڑنے والے خان سید سجنا چونکہ حکیم اﷲ محسود کے بعد نئے امیر کے عہدے کے سب سے بڑے امیدوار تھے اس لئے فضل اﷲ نئے امیر کے طور پر ان کے لئے کبھی پسندیدہ نہیں ٹھہرے۔ فضل اﷲ کو محسود طالبان دبے الفاظ میں ایک ایسے لیڈر کے نام سے یاد کرتے آئے ہیں جیسے وہ اس عہدے کے اہل نہ ہو یا یہ کہ گویا انہوں نے بوجوہ محسود قبائل سے وہ اعزاز چھین لیا ہو جس کے صرف وہ حقدار تھے۔ یہ نکتہ اب بھی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ فضل اﷲ کو کیوں امیر بنایا گیا۔ فضل اﷲ کے لئے دوسرا مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ وزیرستان کی دونوں ایجنسیوں میں دوسرا بڑا گروپ یعنی حافظ گل بہادر اورمولوی نذیر گروپ بھی ان کو پسند نہیں کرتا۔ اس گروپ کی حکیم اﷲ محسود کے بعد کوشش تھی کہ خان سید سجنا کو امیر بنایا جائے جبکہ غیرمحسوس طریقے سے حقانی نیٹ ورک بھی فضل اﷲ کے حق میں نہیں تھا۔ دوسری طرف ایک مذہبی اور سیاسی تنظیم کے سربراہ بھی یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ سجنا ہی نئے امیر بنیں گے مگر بوجوہ ایسا نہ ہو سکا اور یوں اختلافات بڑھتے گئے۔

ماہرین کے مطابق یہ لڑائی نہ صرف وزیرستان میں طالبان کی قوت اور تنظیم کو متاثر کر رہی ہے بلکہ اس کے اثرات نے دیگر علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ غیراعلانیہ طور پر تشدد پسند کمانڈر عمر خراسانی شہریار محسود کو سپورٹ کر رہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ سجنا گروپ مذاکرات اور حکومت کا حامی ہے اور اگر اس کی قوت میں اضافہ ہو گیا تو طالبان پر مذاکرات کے لئے ٹی ٹی پی کے اندر سے دباؤ بڑھ جائے گا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سجنا گروپ کو بیس میں سے تقریباً 15کمانڈروں کی حمایت حاصل ہے اور زیادہ تر ہلاکتیں بھی دوسرے گروپ کی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود شہریار یا حکیم اﷲ گروپ کے ترجمان حاجی داؤد نے مولوی فضل اﷲ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر شہریارمحسود کو جنوبی وزیرستان کا امیر بنا دیں ورنہ جنگ پھیل جائے گی اور حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

دوسری طرف ایک اور کمانڈر عدنان رشید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس کشمکش میں کھلے عام سجنا گروپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں کی حمایت کا نتیجہ ہے کہ طالبان شوریٰ اسی معاملے پر کسی واضح موقف یا کردار کا اظہار نہیں کر رہی۔ بعض اطلاعات کے مطابق عدنان رشید اس تمام ٹیم میں پس پردہ رہ کر بہت اہم کردا رادا کر رہا ہے۔ وہ حکیم اﷲ محسود کی موجودگی میں بھی ان کی بعض پالیسیوں کی مخالفت کیا کرتا تھا۔ ان کا موقف رہا ہے کہ حکیم اﷲ محسود نے ٹی ٹی پی کو بعض جرائم میں ملوث کیا جس کے باعث نہ صرف یہ کہ اس کے نظریے کو نقصان پہنچا بلکہ بعض کمانڈرز ٹارگٹ کلنگ ‘ بھتہ خوری اور اغوا جیسی کارروائیوں میں بھی ملوث ہو گئے۔ حالیہ کشمکش کے معاملے پر ان کا موقف ہے کہ حکیم اﷲ محسود کے ساتھیوں کو کمزور کر کے ٹی ٹی پی کے نظریاتی ڈھانچے کو فعال بنایا جائے۔وزیرستان کے بعد جو علاقہ اس اختلاف سے متاثر ہوا وہ کراچی شہر تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اس لڑائی کی ابتداء ہی کراچی سے ہوئی تھی۔ کراچی میں محسود طالبان کا بہت مضبوط نیٹ ورک قائم رہا ہے۔ یہ لوگ وہاں پر مخالفین اور حکومت کے خلاف کارروائیوں کے علاوہ بعض دوسرے جرائم میں براہ راست ملوث رہے ہیں جس پر ٹی ٹی پی کے بعض کمانڈر معترض اور ناراض تھے۔ کراچی میں حکیم اﷲ کی موت کے بعد باہمی اختلافات شدت اختیار کر گئے تو ولی الرحمان گروپ اور حکیم اﷲ گروپ ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے لگے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حکیم اﷲ کی نمائندگی اس شہر میں شیرخان اور قاری یار محمد نامی کمانڈر کر رہے تھے۔ جبکہ ولی الرحمن کی نمائندگی زمان محمودنامی کمانڈر کے ذمے تھی۔ عمر خراسانی نے بھی عبدالرحمن اور مقبول نامی کمانڈر یہاں رکھے ہوئے تھے۔ یوں اس اہم شہر میں تینوں گروپوں یا کمانڈروں کے الگ الگ نیٹ ورک موجود تھے۔ تاہم حکیم اﷲ کا گروپ زیادہ طاقتور اور فعال تھا۔ اگست اور ستمبر کے مہینوں میں لانڈھی‘ سہراب گوٹھ‘ منگھوپیر اور بعض دوسرے علاقوں میں ان کی جھڑپیں ہوئیں جبکہ بعض ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی ہوئے۔ جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں مختلف اوقات کے دوران حکیم اﷲ گروپ کے تقریباً 10کمانڈر مارے گئے۔ یہ صورت حال حکیم اﷲ کے ساتھیوں کے لئے پریشان کن تھی جس پر انہوں نے مہمند طالبان کی حمایت بھی لینی چاہی تاہم بات نہیں بنی اور حالیہ کشیدگی کے بعد یہ تلخیاں مزید بڑھ گئیں۔ خیبر ایجنسی اور کرم ایجنسی میں بھی کسی نہ کسی سطح پر ان اختلافات کے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں جبکہ سوات‘ صوابی اور بعض دوسرے علاقوں میں بھی ٹی ٹی پی کے اندر ان اختلافات کے باعث کافی تناؤ اور بے چینی موجود ہے۔ تاحال افغان طالبان کا واضح کردار بھی سامنے نہیں آیا ہے۔

بعض حلقوں کے مطابق مولوی فضل اﷲ وزیرستان میں جاری لڑائی میں ثالثی کی بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ محسود طالبان کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ ٹی ٹی پی کے اندر محسود کمانڈروں کا ہولڈ کم ہو اور فضل اﷲ کو ان پر زیادہ انحصار نہ کرنا پڑے۔ دوسری طرف ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مولوی فضل اﷲ اس گیم میں شہریار محسود کو غیراعلانیہ طور پر سپورٹ کر رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ خان سید سجنا اور ان کے درمیان موجود وہ چپقلش ہے جو نئے امیر کی تقرری پر حکیم اﷲ کی موت کے بعد پیدا ہو گئی تھی۔ فضل اﷲ کو خدشہ ہے کہ سجنا گروپ ان کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اور سجنا گروپ گاہے بگاہے فضل اﷲ کی مخالفت بھی کرتا نظر آتا ہے۔ بعض رائے کے مطابق ولی الرحمن یا سجنا گروپ نہ صرف زیادہ تر کمانڈروں کو قابل قبول ہے بلکہ یہ فضل اﷲ یا خراسانی کے مقابلے میں حکومت کو بھی قابلِ قبول ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ دوسرا فریق حکومت پر اس لڑائی میں سجنا کی مبینہ حمایت کا الزام بھی لگا چکا ہے۔ (حکومت یہ الزام مسترد کر چکی ہے) فضل اﷲ نے خان سید سجنا کو 10مئی کو امارت سے برطرف کر کے معاملے کو اور بگاڑ دیا جس سے خدشہ اور بھی بڑھ گیا کہ معاملہ حل ہونے کو نہیں ہے۔

سب سے اہم سوال اس تمام پس منظر میں یہ اٹھتا نظر آ رہا ہے کہ کیا ٹی ٹی پی بعض ایشو اور واقعات کے باعث تقسیم ہونے کو ہے یا ہو چکی ہے۔ اور دوسرا یہ کہ کیا ٹی ٹی پی کی امارت پر موجود امیر فضل اﷲ کی گرفت کمزور پڑ گئی ہے ان سوالات کے جوابات اکثر ماہرین ’’ہاں‘‘ میں دے رہے ہیں۔ اسباب وہ یہ بتا رہے ہیں کہ فضل اﷲ کی افغانستان میں موجودگی اور فاٹا سے دوری اس کی بنیادی وجہ ہے۔ وہ ٹی ٹی پی کے تنظیمی معاملات وہاں سے بیٹھ کر درست طریقے سے ڈیل نہیں کر پا رہے۔ فاٹا خصوصاً وزیرستان میں ان کو پہلے امراء کی طرح طاقت اور مقبولیت حاصل نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اکثر کمانڈروں کا خیال ہے کہ وہ افغان اور امریکی حکومتوں کی ایماء پر وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ دونوں قوتیں طالبان کی دشمن ہیں۔ اس تاثر کے باعث عام جنگجوؤں میں بھی ان کے بارے میں خدشات پائے جائے جاتے ہیں۔ تیسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مذاکرات کے ایشو پر طالبان قیادت کے اندر وہ ہم آہنگی نہیں ہے جس کی ایک گوریلا تنظیم کو ہوا کرتی ہے۔ ولی الرحمن گروپ نرمی دکھا رہا ہے جبکہ حکیم اﷲ یا فضل اﷲ کے کمانڈر مذاکرات کے عمل کے مخالف ہیں اور عمرخراسانی بھی درپردہ دوسرے گروپ کا ساتھ دے رہا ہے۔

بعض رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کے نائب امیر خالد حقانی کی کوشش ہے کہ کشیدگی کو ختم کیا جائے اور وہ جنوبی وزیرستان کی امارت کے لئے ایک تیسرے فریق یا امیدوار کی تلاش میں ہے جبکہ بعض کمانڈرز ایسے ہیں جن کی تجویز ہے کہ ٹی ٹی پی کو مزید انتشار سے بچانے کے لئے مذاکراتی عمل کا مکمل خاتمہ کیاجائے تاکہ کمانڈروں کو ریاست اور مخالفین کے ساتھ جنگ میں مصروف کر کے اس بحران سے نکلا جا ئے۔

یہ تحریر 71مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP