قومی و بین الاقوامی ایشوز

ضم شدہ قبائلی اضلاع تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن

سات ایجنسیوں پر مشتمل قبائلی پٹی کئی صدیوں تک عالمی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت ،رسہ کشی اور پراکسیز کی طویل تاریخ رکھتی ہے جبکہ یہ علاقہ مختلف عالمی فاتحین کی توجہ کابھی مرکز بنا رہا۔ سکندر اعظم سے لے کر برطانوی راج اور اس سے ہوتے ہوئے سوویت مداخلت اور گزشتہ چار دہائیوں سے امریکی دلچسپی جیسے عوامل اور کرداروں نے جہاں اس پٹی کو غیر معمولی جغرافیائی اور سرحدی اہمیت سے ہمکنار کیے رکھا وہاں نائن الیون کے حملے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال کے نتیجے میں یہ بفرزون اور کولڈ وار کے سٹیٹس سے نکل کر ایک مکمل وار زون میں تبدیل ہوا اور لمبے عرصے تک اس علاقے نے جنگی صورتحال کا سامنا کیا۔



ڈیٹا کے مطابق سال 2015-16 سے لے کر اب تک قبائلی اضلاع میں تقریباً 3626 چھوٹے بڑے پراجیکٹس شروع کیے گئے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ ان میں 335 بڑے منصوبے بھی شامل ہیں۔70 منصوبے ایسے ہیں جن پر 37 ارب کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے جبکہ 28 ارب لاگت کے84 مزید پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں۔ دستیاب ڈیٹا کے مطابق اب تک ان منصوبوں پر ایک کھرب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ جن شعبوں پر غیر معمولی توجہ دی گئی ہے ان میں مواصلات ، تعلیم، پولسنگ، صحت اور سرکاری دفاتر کا قیام اور بہتری سرفہرست ہے جبکہ اس عرصہ کے دوران ریکارڈ تعداد میں پلے گرائونڈز ، سٹیڈیم اور کیڈٹ کالجز کی تعمیر اور قیام کو بھی ممکن بنایا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو ترقی کی راہ پرڈالا جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ان قبائلی علاقوں سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی جتنی تعداد فوج میں بھرتی ہوئی اس کی مثال پہلے کہیں نہیں ملتی۔


نائن الیون کے بعدالقاعدہ، افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور ان کے اتحادیوں نے نیٹو کی بمباری سے بچنے کے لیے ان علاقوں کا رخ کر کے یہاں کی انتظامی اور سماجی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اسے اپنے ٹھکانوں میں تبدیل کر دیا اور مقامی آبادی کو یرغمال بنایا گیا۔ ان کے ٹھکانے بعد میں پاکستان کی سلامتی اور امن کے لیے بھی خطرہ بن گئے جن کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے سال 2002 سے لے کر اب تک تقریباً دو درجن چھوٹے بڑے آپریشن کیے جبکہ یہ علاقہ کئی برس تک امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بھی بنتا رہا کیونکہ ایک فارمولے کے تحت القاعدہ کا پیچھا کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایک متفقہ قرارداد کے مطابق امریکہ کو کسی بھی جگہ ایسی کارروائیوں کا حق حاصل تھا۔
ریکارڈ کے مطابق 2004 سے سال 2013-14 کے درمیان ڈرون حملوں کے نتیجے میں سابق فاٹا میں القاعدہ کے 49 ٹاپ کمانڈرز اورتقریباً 700 جنگجوئوں سمیت 3200 حملہ آور وں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ پاکستانی فورسز کی کارروائیوں میں ان علاقوں میں تقریبا ً7000 شدت پسندوں کو ٹھکانے لگایا گیا۔
نیشنل ایکشن پلان کی متفقہ منظوری کے بعد پاکستانی ریاست نے جہاں شمالی وزیرستان سمیت دوسرے علاقوں میں بھرپور آپریشن کیے وہاں ریاست نے فاٹا کی مین سٹریمنگ اور تعمیر نو پر بھی غیر معمولی توجہ دینی شروع کر دی جس کے نتیجے میں پہلے مرحلے کے دوران اس پٹی کو خیبر پختونخوا میں شامل کیا گیا جبکہ دوسرے مرحلے کے دوران اس علاقے کو صوبائی اسمبلی اورصوبائی کابینہ میں نمائندگی دی گئی جس کے باعث یہاں سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا آغاز ہوا اور عوام نے ان سرگرمیوں میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ انہوں نے پرامن طریقے سے انتخابی عمل میں ووٹ بھی ڈالے۔
31 مارچ کے بلدیاتی الیکشن کے فیز 2  کے دوران شمالی اور جنوبی وزیرستان سمیت 5 دیگر قبائلی اضلاع میں بلدیاتی نمائندوں کے الیکشن کے دوران نہ صرف مثالی مہم چلائی گئی بلکہ یہ تمام عمل انتہائی پر امن طریقے سے سرانجام پایا جبکہ دو اضلاع یعنی مہمند اور خیبر میں بھی فیز ون کے دوران پر امن طریقے سے یہ مرحلہ طے پایا تھا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے بعض مخصوص علاقوں کو چھوڑ کر باقی اضلاع سے فوج واپس چلی گئی ہے اور ایف سی ، پولیس اور دیگر سول ادارے سکیورٹی کے معاملات سنبھال چکے ہیں تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران فوج نے جہاں امن کے قیام کو ممکن بنا کر سیکڑوں جوانوں اور درجنوں افسران کی قربانیاں دیں وہاں اس علاقے کی تعمیر نو اور بحالی پر بھی نگرانی میں بھرپور توجہ دی کیونکہ اس سے قبل بوجوہ اس پٹی میں سول ادارے عملًا نہ ہونے کے برابر تھے اور بحالی، تعمیر نو کا اضافی کام بھی فوج کے ذمہ تھا۔
سال2022کے دوران جہاں اربوں روپے کے جاری منصوبوں میں سے اکثر کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا وہاں ایک مربوط مشاورتی عمل کے ذریعے تمام قبائلی اضلا ع میں ریاستی اداروں اور عوام اور ان کے نمائندوں کے درمیان مستقل امن کے قیام اور ترقی کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے پروگرامز منعقد کیے گئے جبکہ نوجوانوں کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے پشاورسمیت تمام اضلاع میں مختلف نوعیت کے مقابلے کرائے گئے اور ریکارڈ ایونٹس کا انعقاد کیا گیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران قبائلی اضلاع کی تعمیر نو اور ترقی پر 100 ارب کے لگ بھگ خطیر رقم خرچ کی گئی جبکہ 30 ارب کے مزید پراجیکٹس پائپ لائن میں ہیں جن میں اکثر تیزی کے ساتھ تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
ڈیٹا کے مطابق سال 2015-16 سے لے کر اب تک قبائلی اضلاع میں تقریباً 3626 چھوٹے بڑے پراجیکٹس شروع کیے گئے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ ان میں 335 بڑے منصوبے بھی شامل ہیں۔70 منصوبے ایسے ہیں جن پر 37 ارب کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے جبکہ 28 ارب لاگت کے84 مزید پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں۔ دستیاب ڈیٹا کے مطابق اب تک ان منصوبوں پر ایک کھرب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ جن شعبوں پر غیر معمولی توجہ دی گئی ہے ان میں مواصلات ، تعلیم، پولسنگ، صحت اور سرکاری دفاتر کا قیام اور بہتری سرفہرست ہے جبکہ اس عرصہ کے دوران ریکارڈ تعداد میں پلے گرائونڈز ، سٹیڈیم اور کیڈٹ کالجز کی تعمیر اور قیام کو بھی ممکن بنایا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو ترقی کی راہ پرڈالا جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ان قبائلی علاقوں سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی جتنی تعداد فوج میں بھرتی ہوئی اس کی مثال پہلے کہیں نہیں ملتی۔ بلاشتہ ان علاقوں کے نوجوانوں کا مستقبل بہت تابناک ہے۔کیونکہ ریاستی اداروں نے ان کوسٹیک ہولڈز بنا دیا ہے اور امن کے قیام کے بعد تعمیر نو اور ترقی کے جاری عمل کو عوام کی بھرپور معاونت اور سرپرستی حاصل ہے۔ اگر یہ سلسلہ اس طرح جاری رہا اور سول اداروں نے بھی اپنے فرائض بخوبی سرانجام دینے شروع کیے تو امن اور ترقی کی جو خواہش قبائلی عوام خصوصاً نوجوان دل میں لیے بیٹھے ہیں اس کے نتیجے میں ایک شاندار مسقبل ان علاقوںکا مقدر بنے گا۔
اپریل کے وسط میں دی جانے والی ایک پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سال 2022 کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران فورسز نے قبائلی علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشز کے دوران 181 دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا جبکہ درجنوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران8 افسران سمیت تقریباً150 جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات افغان طالبان کی ثالثی کی خواہش پر شروع کیے گئے تھے جس کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکلے۔ تاہم کارروائیاں جاری رہیں اور جاری رہیں گی کیونکہ اس حوالے سے ریاستی پالیسی میں کوئی ابہام نہیں اور وہ یہ کہ شہریوں کا دفاع اور تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے جنگجو اور ان کی سرگرمیوں کے علاوہ داعش کاچیلنج بھی پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا کے امن کے لیے ایک خطرہ بنا ہوا ہے تاہم پاکستان کی سکیورٹی فورسز ایک مربوط اور جامع پالیسی کے تحت نہ صرف اس بارڈرٹیر رازم کے چیلنجز سے نمٹ رہی ہیں بلکہ افغان حکومت پر بھی زور ڈالا جارہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے ان عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے عملی اقدامات کرے جو پاکستان پرحملوں میں ملوث ہیں۔
15 اپریل2022 کو ایسے ہی ایک حملے کے دوران شمالی وزیرستان میں پاک فوج کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں8 جوان شہید ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں 4 دہشت گرد مارے گئے ۔ اس سے دو روز قبل ایک آفیسر سمیت تین جوانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان تمام حملوں میں سرحد پارموجود دہشت گرد ملوث رہے جس کے ردعمل میں سرحد پار دو کارروائیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں بعض اہم کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ افغان حکومت کو سفارتی سطح پر پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا گیا اور ان پر واضح کیا گیا کہ پاکستان میں کسی قسم کی بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اگرچہ پاکستان کو اب بھی ٹی ٹی پی اور داعش سے متعدد خطرات درپیش ہیں تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں قبائلی علاقوں اور بلوچستان سمیت پورے ملک میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال بہت بہتر ہے اور اس سے بڑھ کر اچھی بات یہ ہے کہ ان شورش زدہ علاقوں کی تعمیر نو اورترقی کا عمل بھی تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ ||


[email protected]
 

یہ تحریر 107مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP