قومی و بین الاقوامی ایشوز

ضرب عضب ‘ضرب کاری

وزیرستان میں آپریشن کے لئے ’’ضرب عضب‘‘ کا نام پاک فوج کے جوانوں‘ افسروں اور سپہ سالار جنرل راحیل شریف کے عشق رسولؐ کی گواہی ہے۔ رحمت للعالمین رسول کریم حضرت محمدﷺ نے حضرت خالدؓ کو سیف اﷲ (اﷲ کی تلوار) کا خطاب دیا تھا۔ اس کے بعد نہ حضرت خالد کو کوئی شکست دے سکا اور نہ انہیں شہادت نصیب ہوئی۔ حضرت عمر بن خطابؓ کے زمانے میں وہ بستر مرگ پر آخری لمحات گزار رہے تھے۔ حضرت عمرؓ کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ میں دشمنوں کے لشکر میں گھس کر لڑتا تھا کہ شہادت کا رتبہ پاؤں۔ مگر آج میں بسترپر جان جان آفرین کے سپرد کر رہا ہوں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تمہیں رسول کریمﷺ نے سیف اﷲ کا خطاب دیا تھا تمہیں کون مار سکتا تھا۔ حضورﷺکے پاس جو تلوار تھی اس کا نام عضب ہے۔ وہ آج بھی مصر کے کسی میوزیم میں موجود ہے۔ نوائے وقت کی ایک خاتون کا لم نگار نے العضب کی تاریخ بہت خوبصورتی سے بیان کی ہے۔ محمدﷺ کی تلوار کے لئے بھی شکست نہیں ہے۔ آپریشن ضرب عضب بہت کامیابی سے اور شاندار طریقے سے عشق رسولﷺ کے جذبے سے جاری ہے۔ سارے دشمن مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسولﷺ کے جذبے سے ڈرتے ہیں۔ شیطان اپنی مجلس شوریٰ میں شتونگڑوں کو یہی ہدایت کرتا ہے

 

وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا

 

روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو

نعرہ تکبیر اور نعرہ رسالت لگانے والے دشمنوں کے لئے ایک قیامت سے کم نہیں۔ میں پاکستان کو اسلام کے نام پر بنائے جانے کے حوالے سے خطہ عشق محمدﷺ کہتا ہوں۔ خطہ عشق محمدﷺ میں کچھ لوگ اسلام کا نام لے کر دہشت گردی پھیلانے کی کارروائیاں کرتے تھے۔ انہیں ریاست کا اچھا شہری بنانے کے لئے فیصلہ کن کارروائی عشق محمدﷺ کی تلوار ہاتھ میں لے کر شروع کی گئی ہے۔ ابتدا میں کامیابیاں ہمارے جانبازوں کے قدموں سے لپٹ رہی ہیں۔ پاک فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ہے۔ اس کی یہ خوبی زیادہ اہم ہے کہ یہ دوسری فوجوں سے مختلف ہے۔ یہی ادارہ ہے کہ جس سے پاکستان کے لوگ مطمئن ہیں۔ ورنہ اکثر حکمرانوں کی صرف اپنی حکومت سے اور سیاست سے دلچسپی ہے۔ شکر ہے کہ وہ فوج کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکے اور نہ فو ج کے اندرونی نظام میں کوئی رخنہ ڈالا جا سکتا ہے۔ دوسرے محکمے اور ادارے سیاسی اور فوجی دور میں ویسے کے ویسے رہے۔ بلکہ ایسے کے ایسے رہے یعنی ایسے ویسے ہی رہے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ آپریشن ضرب عضب فوج کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ اس کی کامیابی کی دلیل یہ بھی ہے کہ دہشت گردوں کی طرف سے کوئی خاص مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ عام مزاحمت بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ جہاد محمد الرسول اﷲﷺ کی تلوار کے سائے میں ہو رہا ہے۔ یہ نماز عشق ہے۔ اور ’’نماز عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں۔‘‘ جنگجو لوگوں سے لڑائی کے لئے ڈرانے والے بہت ہیں۔ گوریلا جنگ کا بھی ڈراوا دیا جاتا ہے۔ انگریزوں نے یہاں شکست کھائی‘ امریکہ بھی اپنی شکست تسلیم کر کے اس علاقے سے بھاگنا چاہتا ہے۔ روس بھی شکست و ریخت کا شکار ہوا۔ یہ تینوں غیر ہیں۔ یہ علاقہ غیر میں کیسے کامیاب ہو سکتے تھے۔ مگر پاک فوج کے جوان اور افسران اپنے ہیں۔ وہ ان کے ٹھکانوں‘ پناہ گاہوں اور دوسرے سب معاملات سے دور نہیں ہیں۔ وہ اس علاقے سے بھی باخبر ہیں۔ وہ صرف میدانوں میں لڑنا نہیں جانتے بلکہ کوہسار اور پہاڑی علاقے بھی ان کے لئے میدان جنگ ہیں۔ وہ ہر مقام پر‘ ہر جگہ انہیں ڈھونڈ کر سزا دیں گے۔ پاک فوج جنگ کے علاوہ اصل میں باغیوں کو ان کی حرکتوں کی سزا دینا چاہتی ہے۔ وہ بھاگ رہے ہیں مگر انہیں راہ فرار کہیں نہیں ملے گی۔

کوئی بھی صرف روزگار کے لئے فوج میں بھرتی نہیں ہوتا۔ یہ لوگ اپنی جان قربان کرنے کے روزگار پر لگے ہوئے ہیں۔

وزیرستان میں جو امن پسند لوگ ہیں وہ پناہ کے لئے بنوں اور دوسرے شہروں میں آئے ہیں۔ وہ آئی ڈی پیز نہیں وی آئی پیز ہیں۔ وہ ہمارے مہمان ہیں‘ وہ اپنے ہی گھر آئے ہیں۔کوئی ویزہ لے کے نہیں آئے۔ ہمارے پاس تو افغان مہاجرین بھی آئے تھے۔ ہم نے انہیں بھی مہمانوں کی طرح رکھا۔ سوات کے لوگ بھی بڑے آرام سے اورشکر گزار ی کے جذبے کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔ پاک فوج نے نقل مکانی کرنے والوں کی آباد کاری کے لئے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے پاک فوج امن کے محاذ پر بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کررہی ہے۔ افغانستان کو بھی چاہئے کہ اپنے ملک میں دہشت گردوں کو پناہ نہ دے۔ پاک فوج کا یہ مطالبہ بہت بروقت اور برمحل ہے کہ افغان حکومت ملا فضل اﷲ کو ہمارے حوالے کرے۔ دہشت گردافغانستان میں بھارت کی پناہ میں جارہے ہیں۔ بھارت کوان تک رسائی نہیں ملنی چاہئے۔ افغان زمین کسی دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونی چاہئے۔ میں فوجی آدمی نہیں ہوں مگر اپنی فوج کے ساتھ ہوں۔ اس طرح فوج کا حصہ ہوں۔ میری خواہش ہے کہ افغان سرحد سے آنے والے دہشت گردوں کا تعاقب کیا جائے۔ وہ افغان سرحد کی طرف جاتے ہیں توان کا تعاقب کیا جائے۔ افغان سرحد کے پار جانا پڑے تو یہ سرحدی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ دہشت گردوں نے بھی تو پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی کی ہوتی ہے۔ اب پاکستان میں ان کے ٹھکانے نہیں رہے تو افغانستان میں ان کے ٹھکانے خود افغان حکومت کے لئے ٹھیک نہیں ہوں گے۔ آپریشن ضربِ عضب پاکستان کے لئے ایک نئی زندگی لائے گا تو افغانستان کے لئے بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔ افغان حکومت اپنی سرحد کی حفاظت کرے۔ وزیرستان کا آپریشن ضربِ عضب سوات آپریشن سے زیادہ آسانی اور روانی سے فیصلہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ ہمارے جوان اور افسران جو موت کے لئے زندہ ہیں وہ مر کے موت کو بھی زندگی بنا دیتے ہیں‘ شہید زندہ ہوتا ہے۔ ایک ایسی زندگی کہ ہم زندہ لوگ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ وہ زندہ تر ہیں۔ جب ان کے جسدِ خاکی بلکہ جسدِ نورانی ماں اور پھر قبر کے حوالے کئے جاتے ہیں تو ایک طرح کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ماں کی گود اور قبر میں کوئی مماثلت تو ہے جس کا ہم ابھی ادراک نہیں کرسکتے۔ آج بھی وہی ترانے فضا میں گونجتے ہیں جو 65 کی جنگ ستمبر میں گونجتے تھے۔ وہی ولولہ‘ وہی جذبہ‘ وہی جوش و خروش اور ذو ق و شوق

 

وہ اپنے پہلے یقین جیسا

 

وہ درد کی سرزمین جیسا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہید ہونے کی آرزو میں

 

وہ سب سے آگے نکل گیا ہے

یہ کیسے لوگ ہیں جو جانبازی میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لئے بے تاب ہیں۔ یہی بے تابیاں انہیں تب وتابِ جاودانہ عطا کرتی ہیں۔ کوئی بھی صرف روزگار کے لئے فوج میں بھرتی نہیں ہوتا۔ یہ لوگ اپنی جان قربان کرنے کے روزگار پر لگے ہوئے ہیں۔ شہادت پانے والے اپنے بچوں پر فخر کرنے والی مائیں موجود ہیں تو کوئی بھی ہمارے آگے ٹھہر نہیں سکتا اور یہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ جب روس کو شکست اسی علاقے میں ہوئی تھی اور امریکہ اور ساری دنیا کو پاک فوج کی صلاحیتوں اور ایمان افروز ولولوں کا پتہ چل گیا تھا۔ اب بھی ساری دنیا کی نظریں ہم پر ہیں اور ہم اپنی فوج کے جوانوں اور افسروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ساری دنیا میں میدان جنگ میں جان دینے والوں میں جوانوں کے مقابلے میں افسروں کی تعداد کے حوالے سے پاک فوج سب سے آگے ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے اور اس پاک مہینے میں یہ لڑائی بھی مبارک ہے۔ یہ لڑائی اپنوں کے ساتھ ہے توصاحب عضب حضرت محمدﷺ نے بھی اپنوں کے خلاف کتنی لڑائیاں کیں اور فتح مکہ کے بعد انہیں معاف کر دیا۔ طالبان دہشت پھیلانے سے توبہ کریں‘ ہتھیار ڈال دیں‘ دشمنوں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں تو ان کے لئے معافی کے سارے دروازے کھلے ہیں۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے منکرین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کیا۔ فرمایا کہ اگر اونٹ کی چھوٹی سی رسی بھی کسی کے ذمے ہو گی تو میں اس کے خلاف بھی جہاد کروں گا۔ منکرین زکوٰۃ مسلمان تھے۔ مسلمانوں کو حق نہیں کہ وہ ریاست کے لوگوں کے خلاف دہشت پھیلائیں اور دہشت گرد بن جائیں۔ رمضان کے مہینے میں زکوٰۃ دی جاتی ہے۔ اپنی جان نچھاور کرنے والوں سے زیادہ بڑی زکوٰۃ کوئی نہیں۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

 

لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوٰۃ ہے

میں نے شہیدوں کے عزیزوں اور رشتہ داروں کو فخر سے کہتے ہوئے سنا کہ اب شہید کے بھائی اور بیٹے بھی پاک فوج میں جائیں گے اور شہادت پائیں گے۔ اپنے وطن اور اپنی قوم کے لئے سرخرو ہونے کی تاریخ لکھیں گے۔ یہ تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ میں پاک فوج کو سلام کرتا ہوں۔ نشان حیدر کے وارث جنرل راحیل شریف کی عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ ضرب عضب کا ری ضرب ثابت ہو گی۔

یہ تحریر 44مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP