قومی و بین الاقوامی ایشوز

ضرب عضب کے اولین شہداء

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے مجاہدین ضرب عضب کے خلاف اپنے ناپاک منصوبے تیار کئے ہوئے تھے۔ خود کار بارودی سُرنگوں اور آئی ای ڈیز کا جال بچھا کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک پہنچنے والے تمام راستوں پر موت کی بساط بچھی ہوئی تھی۔ دہشت گرد جانتے تھے کہ اب کی بار کفن بردوش آنے والی سپاہ ان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے آرہی تھی۔ حکومت پاکستان اور عسکری قیادت بھی ان کی شاطرانہ چالوں اور مذاکرات کے نام پر زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنے کے حیلوں بہانوں سے واقف ہو چُکی تھی۔ ماضی میں بھی دہشت گردوں کے فریب کا پردہ متعدد بار چاک ہو چُکا تھا اور جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کو آپریشن کرنا پڑا تھا۔2001سے 2008 تک جنوبی وزیرستان ، فاٹا اورسوات میں 177 بڑے اور 266 چھوٹے آپریشن کئے جا چکے تھے۔ ان آپریشنز میں سیکیورٹی فورسز کے 1457افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا اور 3459 زخمی ہوئے جن میں کچھ لوگوں کے اعضاء بھی ضائع ہوئے تھے۔ 2009میں بھی دہشت گردوں کی سرکوبی کا سلسلہ جاری رہا اور سوات میں پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اور کامیاب ترین آپریشن راہِ راست عمل میں آیا، جِس کے فورًا بعد جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ نجات نے بھی کامیابی کا ایسا ہی معیار حاصل کیا تھا۔ 2014کے آغاز سے ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں نے امن مذاکرات کی آڑ میں معصوم پاکستانیوں کی قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ 29جنوری2014سے لے کر 8 جون 2014تک وطنِ عزیز کے طول و عرض میں دہشت گردی کے 20 بڑے واقعات رُونما ہوئے جن میں 192معصوم شہری لقمہء اجل بنے۔ دہشت گردی کے ان حملوں کی منصوبہ بندی ، تیاری اور تربیت و رسد کاحب شمالی وزیرستان تھا۔ جب بھی دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتا تو اس کے ڈانڈے وہیں جا کر ملتے تھے۔ میڈیا کی ترقی اور جدید ترین تکنیکی ذرائع معلومات نے پوری قوم کو اِس صُورتِ حال سے آگاہ رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا، حتیٰ کہ سیاسی قیادت سمیت پوری قوم کی ایک مضبوط اور پُراعتماد سوچ نے جنم لیا تھا۔ آپریشن ضربِ عضب بھی دراصل تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق پوری قوم کی ایک مشترکہ آواز اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کا عزم صمیم بن کر منظرِ عام پر آیا۔ قومی قیادت کی بھرپور حوصلہ افزائی اور عوام کے پُر جوش اظہارِ یک جہتی کے ساتھ پاک فوج ، پاک فضائیہ ، فرنٹئیرکور ، خاصہ دارفورس، لیویز فورس، خُفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا ۔ اِس آپریشن کے مقاصد میں جہاں حکومتی عملداری کی بحالی تھا، وہیں شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کے خُفیہ ٹھکانوں ، بموں کی فیکٹریوں، اسلحہ خانوں اور تربیت گاہوں کی تباہی و بیخ کُنی بھی تھا۔ حکومتِ پاکستان کی ہدایت پر آپریشن ضربِ عضب کا باقاعدہ آغاز ہو چُکا تھا۔ 14/15 جُون 2014کی رات افواجِ پاکستان نے فضائی حملوں کے ذریعے شمالی وزیرستان میں 8 خُفیہ ٹھکانے تباہ کر دیئے تھے اور 105 دہشت گرد مارے جا چُکے تھے۔ شمالی وزیرستان کے گرد حصار تنگ کرنے کے لئے نہ صِرف ہمسایہ ایجنسیوں میں سپاہ کو تعینات کر دیا گیا تھا بلکہ افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کو بھی درخواست کی گئی کہ افغان نیشنل آرمی اور افغان بارڈر پولیس کے ذریعے افغانستان سرحد کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے اور فوری طور پرکنٹر، نورستان اور افغانستان کے دیگر علاقوں سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے گڑھ ختم کئے جائیں۔ 15 جون کی صُُبح بھی جیٹ طیاروں کی بمباری جاری رہی اور دیگان اور دتہ خیل میں موجود خُفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہلاک ہونے والے 140دہشت گردوں میں ازبک اور دیگر غیر مُلکی بھی شامل تھے۔ یہ آپریشن چو نکہ صِرف بِلا امتیاز رنگ و نسل اور قوم ، ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے کیا جا رہا تھا اس لئے شمالی وزیرستان کے غیور اور بہادر قبائل نے بھی افواجِ پاکستان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ 16جون کی صُبح شوال(شمالی وزیرستان ) میں جیٹ طیاروں کی بمباری سے 6 خُفیہ ٹھکانے تباہ ہوئے جبکہ 27دہشت گرد جہنم واصل ہُوئے۔ زمینی کارروائی کے لئے جو ہراول دستے علاقے میں تعینات ڈویژن اور ہیڈکوارٹر ٹوچی سکاؤٹس کے قرعہ انتخاب میں آئے ان میں 6 ونگ ٹوچی سکاؤٹس اور 109 انجینئر بٹالین کی یونٹس بھی شامل تھیں۔زمینی آپریشن میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والوں نے پیچھے آنے والی سپاہ کے لئے قدم قدم پر بچھی موت کو ہٹانا تھا تا کہ دشمن کی بیخ کُنی کے اصل مقصد کو پُورا کیا جا سکے۔ ایسے وقت میں انھیں اس بات کا مکمل ادراک ہونا تو یقینی تھا کہ جا بجا موت ان کی منتظر ہو گی، اب کہاں کہاں اِن کی مہارت موت کومات دے جائے گی اور کہاں شہادت کا جام ان کا منتظر ہو گا‘ یہ علم صِرف داعیِ اجل کو ہی تھا۔ البتہ یہ طے تھا کہ اِن کا ہر قدم موت کو گلے لگانے کے بھر پور شعور و ادراک سے اُٹھ رہاتھا۔15 اور 16جون کی رات 6ونگ ٹوچی سکاؤٹس کو علی الصبح ایک مشن پر روانگی کے لئے ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کے احکامات موصول ہو چکے تھے۔ ونگ کمانڈرلیفٹیننٹ کرنل زاہد محمود اعوان نے رات کے پچھلے پہر اپنے ونگ ہیڈ کوارٹر میں اپنے زیر کمان ساتھیوں کو جمع کیا اور ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا۔ کانوائے کے ہراول دستے کے طور پر جس کیوآرایف (سرعت رفتارگاڑی اور دستہ) کا انتخاب کیا گیا اس کی قیادت لیفٹیننٹ وقاص کو سونپی گئی۔ اس دستے کے ہمراہ سرچ گروپ اور بم ڈسپوزل پارٹی بھی تھی۔ ان کا کام بارودی سرنگوں، آئی ای ڈیز یا کسی بھی قسم کے بارودی مواد کی شکل میں قدم قدم پہ بچھی موت کو تلاش کر کے ہٹانا اور اپنی سپاہ کو محفوظ راستہ مہیا کرنا تھا۔ اس دستے کے انتخاب میں ونگ کمانڈر نے لیفٹیننٹ وقاص کی نیابت کے لئے اپنے بہادر اور ہمیشہ اگلی صف میں رہنے والے پیشہ ورانہ مہارت سے سرشار نائب صوبیدار عالمگیر وزیر کو بم ڈسپوزل اور سرچ گروپ کا انچارج بنایا ۔روانہ کرتے ہوئے ونگ کمانڈر بولے، ’’ عالمگیر صاحب ! آپ ایک منجھے ہوئے جے سی او ہیں اور کام کی حساسیت کے ساتھ ساتھ علاقے سے بھی واقف ہیں اور یہ اہم ذمہ داری میں آپ کے سپرد کر رہاہوں تاکہ باقی سپاہ کیلئے راستہ محفوظ ہو‘‘۔ اس پر عالمگیر صاحب نے اپنے پر اعتماد چہرے اور لہجے میں کہا تھا،’’ سر ! عالمگیر نے پہلے کبھی شکایت کا موقع دیا ہے؟‘‘ نائب صوبیدار عالمگیر کی پارٹی میں 109انجینئر بٹالین کے قا بلِ فخر نمایندے نائیک حافظ امان اللہ اوران کے دو فیلڈ انجینئر ساتھی سیپر بشیر احمد عباسی اور سیپر عمران علی سجاد بھی موجود تھے۔ اس گروپ کا کام جہاں نفسیاتی طور پر اعصاب شکن اور انسانی عزم و جرأت کا امتحان تھا وہیں دشوار گزار اور سنگلاخ پہاڑوں کی وجہ سے نقل و حرکت میں بھی شدید مشکلات حائل تھیں۔کا نوائے کی رفتار بہت کم تھی۔ انجینئرز پیدل چلتے ہوئے اپنے مائین ڈیٹیکٹرز کی مدد سے راستے اور دونوں اطراف کے ایک ایک انچ کا معائنہ کرتے اور جونہی کسی بارودی سرنگ کا سراغ ملتا‘ انتہائی احتیاط اور مہارت سے اسے ناکارہ بنا کرراستہ محفوظ بنا دیتے۔ کانوائے نے ونگ ہیڈ کوارٹر غلام خان سے روانہ ہو کر تقریباً ایک گھنٹے تک کی مسافت طے کرنا تھی اور اپنی اپنی پوزیشن پر سامان رسد، افرادی قوت اور اسلحہ و بارود وغیرہ کی ترسیل یقینی بنانا تھی۔ لیفٹیننٹ کرنل زاہد کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، اگرچہ ان کا اپنے ہیڈکوارٹر میں موجود رہنا ضروری تھا لیکن آپریشن کی اہمیت کے پیش نظر انھوں نے کچھ اہم امور اپنے زیر کمان آفیسرز تک خود پہنچانے اور زمینی نشانات کے ساتھ وضاحت کرنے کا فیصلہ کیا اور خود بھی روانہ ہو گئے۔تمام سپاہ اور سامان حرب ورسد کے اپنی اپنی جگہ صحیح سلامت پہنچنے کے بعد انہوں نے انتہائی سرعت سے خود موقع پر پہنچ کر معائنہ کیا اور ڈویژن ہیڈ کوارٹر اور ہیڈکوارٹر ٹوچی سکاؤٹس سے موصولہ ہدایات کی روشنی میں احکامات جاری کر کے واپس روانہ ہو گئے۔ نائب صوبیدار عالمگیر کی پارٹی اب سرخرو تھی کہ پورا کانوائے صحیح و سلامت اپنی منزل مقصود پر پہنچا دیا گیا تھا۔ واپسی کا سفر شروع ہو ا تو بظاہر خطرے کی کوئی وجہ موجود نہ تھی ، یہ وہی راستہ تھا جس پر صبح کے وقت کانوائے گزر کر گیا تھا۔ تمام اہم جگہوں پر اپنی پکٹس بنا کر ٹریک پر نظر رکھنے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا، لیکن سفاک اور شاطر دشمن نے اپنی جدید ترین تربیتی مہارت اور پاکستان دشمن ممالک سے حاصل شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کوئی ایسی آئی ای ڈی بھی نصب کر رکھی تھی جس میں دھات سے زیادہ لکڑی کا استعمال ہوا تھا اور اس کے طریقہ نصب اور خصوصی بناوٹ کی وجہ سے روایتی آلات سے اس کی شناخت نہ ہو پائی تھی۔ ریموٹ کنٹرول چلانے والا دہشت گرد کسی گہری کھائی ، پہاڑی نالے اور چٹان کی آڑ میں صبح سے موقعے کی تلاش میں تھا۔ سب کو موت کے منہ سے چھین کر بحفاظت منزل پہ پہنچانے والے نائب صوبیدار عالمگیر اور ان کے سر بکف ساتھی اب اپنی گاڑی پہ سوار واپس رواں دواں تھے۔ ایک چشم دید گواہ نے بتایا کہ بموں اور گولوں کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران جب دیکھنے والوں کی سانسیں اٹکی ہوتیں تو پاک فوج کے یہ نڈر سپاہی کمال بہادری اور دلیری سے موت کے ان پروانوں کو کھلونوں کی طرح ہینڈل کر رہے ہوتے۔ سب کا مورال بلند تھا۔ جبکہ کانوائے کو نقصان پہنچانے سے ناکامی کے بعد صبح سے منتظر دہشت گرد نے مایوس ہو کر آخر میں واپس آتی ہوئی گاڑی کو ہی غنیمت جانا اور جوں ہی یہ گاڑی بارودی سرنگ کے اوپر پہنچی تو اس نے ریموٹ کا بٹن دبا دیا۔ ایک زوردار دھماکہ ہوا ۔ ہراول دستہ میں شامل 6ونگ ٹوچی سکاؤٹس کے 4 جان نثاروں کے ساتھ ساتھ انجینئرز کے2 سیپرزنے اپنی جاں جانِ آفریں کے سپرد کر کے آپریشن ضربِ عضب کی پہلی صبح اپنے خون سے سجا دی تھی۔اس طرح خیبر پختونخوا کی سرزمین کے عظیم بیٹے نائب صوبیدارعالمگیر آپریشن ضرب عضب کے اولین شہیدوں کی صف میں سر فہرست درج ہوئے۔ نائب صوبیدار عالمگیر 5دسمبر 1995کوایف سی میں شمولیت اختیار کر کے پاکستان کی بہادرسپاہ کا حصہ بنے تھے۔ان کی فرنٹیئر کورمیں شمولیت پر ان کی پوری برادری میں اور خاندان میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ۔شہید اپنے لواحقین میں اہلیہ اول زاد بی بی ،دو بیٹے شبیر خان ،صاحب خان اور بیٹیاں روخان بی بی اور فرخان بی بی چھوڑگئے ۔وہ چار بہن بھائیوں میں اوّل نمبر پر تھے۔ وہ یکم جنوری 2009 سے بحیثیت نائب صوبیدار 6ونگ ٹوچی سکاؤٹس میں فرائض انجام دے رہے تھے۔ نائب صوبیدارعا لمگیر ایک اچھے تربیت یافتہ جے سی او، بہادر، جرأت مند، جفاکش، بلند حوصلہ اور محنتی انسان تھے اور گزشتہ 18سال 6مہینے 11 دن سے شہادت کے اس عظیم رتبے کے لئے تیار اپنی خدمات احسن ترین انداز میں انجام دے رہے تھے ۔نائب صوبیدار عالمگیر نے اپنے خاندان اور ملک وقوم کے ساتھ ساتھ6ونگ ٹوچی سکاؤٹس کا سر فخر سے بلند کردیا ۔قوم کو اپنے اس جوان پر ازحد فخر ہے کہ اس نے اپنی جان نچھاور کر کے وطن کا پرچم بلند رکھا۔ شہید کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں زندا علی خیل تحصیل و ضلع بنوں میں ادا کی گئی ۔جس میں عوامی ، سیاسی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی ۔ شہداء کے اس اولین دستے کے دوسرے شہ سوارلانس نائیک زاہد حسین طوری کا تعلق پارہ چنار کرم ایجنسی کے ایک گاؤں بغدئی سے تھا ۔ لانس نائیک زاہد حسین اپنے 6بہن بھائیوں میں چوتھے۔ نمبر پر تھے انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں بغدی سے حاصل کی اور مڈل پاس کرنے کے بعد 20ستمبر 2006 کو فرنٹئیر کور کی بہادر سپاہ میں شا مل ہوئے تھے۔ زاہد حسین گزشتہ 7 سال8 مہینے اور28 دن سے 6 ونگ ٹوچی سکاؤٹس کی برادری کا حصہ تھے۔ لانس نائیک زاہد حسین ایک اچھے تربیت یافتہ سپاہی ، جفا کش سولجر ، بلند حوصلہ اور محنتی انسان تھے۔انھوں نے شہادت کا بلند مرتبہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرائض انجام دیتے ہوئے حاصل کیا۔ شہید کی نماز جنازہ اُن کے آبائی گاؤں بغد ی پارہ چنار کرم ایجنسی میں پڑھی گئی جس میں عوامی، مذہبی اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی ۔انہوں نے اپنے لواحقین میں اہلیہ صابرہ کے علاوہ دو بیٹے اقرار حسین اور ثقلین عباس چھوڑے ۔اس قافلے کے مرکزی کردار اس گاڑی کے ڈرائیور سپاہی نذرگل بھٹنی تھے جن کا تعلق ضلع ٹانک کے گاؤں لکی مچن خیل سے تھا ۔سپاہی نذرگل اپنے4بہن بھائیوں میں پہلے نمبر پر تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں لکی مچن خیل سے حاصل کی اور مڈل پاس کرنے کے بعد فرنٹیئر کور کے 6ونگ ٹوچی سکاؤٹس میں شامل ہو گئے۔ایم ٹی سپاہی نذرگل6 ونگ ٹوچی سکاؤٹس میں 6سال 2 مہینے اور 14 دن تک قابل فخر خدمات انجام دیں اور بالآ خر اپنی جان وطن پر نچھاور کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی دھرتی، اپنے خاندان اور اپنے ونگ کا فخر بن گئے۔ انہوں نے اپنے لواحقین میں اہلیہ شاہ بیگم،3 بیٹیاں اورایک بیٹا چھوڑا ہے۔چوتھے شہید 6 ونگ کی اپنی انجینئر پلاٹون(پائینیر پلاٹون) کے چاک چوبند سپاہی افسر علی یوسفزئی کا تعلق ضلع مردان کے گاؤں شموزئی سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی تھی اور میٹرک پاس کرنے کے بعد فرنٹیئر کور کی بہادر سپاہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ سپاہی افسر علی گزشتہ7 سال8ماہ اور 16 دن سے اس ونگ کا حصہ تھے۔ وہ اپنے 5بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ ابھی چند ہی سال پہلے 10 مارچ 2009کو انھیں شادی کے بندھن میں باندھا گیا تھا۔شہادت کے بعد ان کی دلہن ’کائنات‘ اب شہید کی اہلیہ بن چکی ہیں۔ اس گاڑی میں سواربارود ی سرنگوں اور آئی ای ڈی سے نمٹنے کی تکنیکی مہارت رکھنے والوں میں 109 انجینئر بٹالین کے نائیک حافظ امان اللہ بم ناکارہ بنانے کے ماہر تھے۔ ان کے ہمراہ پارٹی میں ان کے دو فیلڈ انجینئر ساتھی سیپر بشیر احمد اور سیپر عمران علی سجاد بھی تھے۔ انہیں 16جون 2014کو 6 ونگ ٹوچی سکاؤٹس کے کانوائے کے ساتھ بم ڈسپوزل پارٹی کا کمانڈر تعینات کیا گیا تھا۔علی الصبح بم ڈسپوزل پارٹی اپنی سپاہ کے راستے کی رکاوٹیں ہٹانے نکلی اوربغیر کسی خوف اور ڈر کے بے دھڑک راستے میں پھیلی موت کو چنتے چنتے اور اپنے ساتھیوں کے لئے راستے کو محفوظ بناتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتی چلی گئی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ چالاک اور بے رحم دشمن نے جگہ جگہ بارودی سرنگیں لگا رکھی تھیں اوریہ کام انتہائی خطرناک تھا جس میں ہر لحظہ جان کا خطرہ لا حق تھا ۔ مگر پاک فوج کے یہ جوان جان ہتھیلی پہ رکھے راستے کی رکاوٹیں ہٹاتے چلے گئے ۔اس انتہائی اعصاب شکن اور خون منجمد کرنے والے کام میں کسی بھی لمحے ان کے پایۂ استقلال میں لغزش نہیںآئی تھی ،حتیٰ کہ پوری کامیابی سے بنائی گئی منزل پر جا پہنچے۔ جب سب کچھ ٹھیک ٹھاک انجام پا گیا تو اس پارٹی کی واپسی کا آغاز ہوا تھااور گیارہ بج کر چالیس منٹ پر جب دھماکہ ہوا تو ٹوچی سکاؤٹس کے شہدا کے علاوہ نائیک حافظ امان اللہ اور ان کے ایک ساتھی سیپر بشیر احمد نے موقع پر ہی جام شہادت نوش کیا۔ ان کے تیسرے ساتھی سیپر عمران علی سجاد شدید زخمی ہوگئے۔ خیبرپختونخوا کی سرزمین کے عظیم بیٹے نائیک حافظ امان اللہ نے 21اپریل 2003کو آرمی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ اپنے پانچ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔شہید نائیک حافظ امان اللہ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے ہی حاصل کی تھی اور 13اکتوبر 2008سے 109انجینئر بٹالین میں بطور فیلڈ انجینئر عسکری خدمات سر انجام دے رہے تھے ۔انھوں نے پاکستان آرمی میں سروس کے دوران ایم اے اسلامیات کی ڈگری بھی حاصل کی تھی۔ ان کی فوج میں شمولیت پر ان کی پوری برادری اور خاندان میں ایک مسرت کی لہر دوڑ گئی تھی۔نائیک امان اللہ شہید جاتے جاتے اہل وطن کو فلسفہ حیات و ممات کے اسرار و ر موز بتا گئے کہ جان جاتی ہے توجائے مگر وطن عزیز پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔ نائیک حافظ امان اللہ نے 11سال ایک مہینہ اور 25دن تک نہایت ہی بہادری، جرأت، ایمانداری اور جذبۂ حب الوطنی کے ساتھ پاک فوج میں خدمات انجام دی تھیں اور با لآ خر شہادت کا عظیم مرتبہ بھی حاصل کیا۔شہید کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں موناخیل ضلع کرک میں پڑھی گئی جس میں عوامی، سیاسی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ شہید اپنے لواحقین میں اہلیہ سنگترہ بی بی ،تین بیٹے محمد عمر فاروق، محمد ابو بکر صدیق، محمد زکریا اور ایک بیٹی عائشہ صدیقہ چھوڑ گئے۔ سیپربشیر احمدعباسی شہید کا تعلق ضلع ہر ی پور کے ایک گاؤں ہالی (بگلہ) سے تھا۔ سیپر بشیر احمد اپنے سات بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں سے حاصل کی تھی ا ور میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد 28اگست 2003کو پاک فوج کی مایہ ناز سپاہ انجنیئر کور کا حصہ بنے تھے۔چند ماہ پہلے سیپر بشیر احمد 109انجینئر بٹالین میں بطور ڈی ایم ٹی تعینات ہوئے تھے۔ 16جون 2014کے دن جب صبح صبح سیپربشیر احمد اور ان کے دو ساتھیوں کو 6 ونگ ٹوچی سکاؤٹس کے ہمراہ بم ڈسپوزل پارٹی کے طورپر بھیجا گیا تو ان کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا کہ آپریشن ضرب عضب کا عملی حصہ ہونا تو باعث فخر تھا ہی، مستزاد یہ کہ وہ ہراول دستے میں ہونا اور قدم قدم پہ بچھی موت کو بار بار چیلنج کرنا کہ اے موت آج تو میرے وطن کے سجیلے جوانوں کا بال بیکا کر کے تو دیکھ‘ تو ہم سے آگے بڑھے گی تو ہماری لاشوں پر سے گزر کر ہی جا سکے گی۔ اپنے کانوائے کو منزل پہ محفوظ پہنچانے کے بعد یہ پارٹی جب قدرے بے فکر اور مطمئن واپس جا رہی تھی تو بزدل اور شاطر دشمن نے چھپ کر وار کیا اور اس طرح انجینئرز کے یہ سربکف جان نثاآاپریشن ضرب عضب کے اولین شہداء قرار پائے۔ سیپر بشیر احمد شہید کی پاک فوج میں خدمات کا دورانیہ 10سال 9مہینے اور 8دن تھا اوردو ہی سال پہلے بالکل اسی دن ان کی شا دی ہوئی تھی ، گویا ایک مجاہد نے اپنی شادی کی دوسری سالگرہ پر میدان کارزار سے اپنی نو بیاہتا دلہن کو اپنے لہو کا غازہ تحفتاً ارسال کیا تھا ۔ آج شہید کی اہلیہ رخسانہ بی بی اور ایک بیٹی مقدس بشیر بڑے فخر سے دنیا بھر کو بتا سکتی ہیں کہ ان کے پیارے نے اپنی بیٹی کو یتیم اور اہلیہ کو شہید کی اہلیہ تو بنا ڈالا لیکن اپنے وطن کی کروڑوں بہنوں بیٹیو ں کے بھائی‘ بابل اور سہاگ اجڑنے سے بچالئے تھے۔

یہ تحریر 60مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP