قومی و بین الاقوامی ایشوز

ضرب عضب کی کاری ضرب

العضب 'نبئ کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی تلوار کا نام ہے۔ عضب عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’تیز‘‘ یا ’’کاٹنے والی‘‘ ہوتا ہے۔ یہ تلوار نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو ایک صحابی نے غزوہ بدر سے قبل پیش کی تھی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے یہ تلوار غزوہ بدر اور غزوہ احد میں استعمال کی تھی اور بعد میں یہ تلوار صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے پاس رہی۔ اب یہ تلوار قاہرہ کی جامع مسجد الحسین میں موجود ہے۔ پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کا نام ’’ضرب عضب‘‘ اسی مناسبت سے رکھا گیاجو خوارج کی سرکوبی اور مکمل خاتمے تک جاری رکھا جائے گا۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ برس شروع کئے جانے والا فوجی آپریشن ضرب عضب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے پاکستان میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے جس میں ساٹھ ہزار سے زائد پاکستانی جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں۔ دہشت گردوں نے مذموم کارروائیوں کے ذریعے حکومت، افواج پاکستان اور اس کے شہریوں کو متعد د بار نشانہ بنایا۔اس سے پاکستان اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار ہوا۔ عالمی سطح پر بھی ملک کا امیج خراب ہوا جس کا براہ راست اثر ہماری معیشت اور خارجہ پالیسی پڑا۔ اس صورتحال میں غیرمعمولی اقدامات کی فوری ضرورت تھی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا تھا۔ اس حوالے سے دہشت گردوں سے مذاکرات بھی کئے گئے تاہم وہ بے نتیجہ رہے جس کے بعد گزشتہ سال 15جون کو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔

ضرب عضب کا واضح ہدف پاکستان سے دہشت گردوں کا مکمل صفایا ہے اور قوم پرامید ہے کہ گزشتہ بارہ تیرہ سال سے جس عفریت نے اسے بری طرح سے جکڑ رکھا ہے ، بالآخر اس سے نجات ملنے والی ہے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے خلا ف پاک فوج کو بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور طے شدہ منصوبے کے مطابق وہ اپنے اہداف حاصل کرتی جا رہی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں فیصلہ کن آپریشن اس لئے بھی ناگزیر تھاکہ یہ علاقہ کافی عرصے سے دہشت گردوں کا مرکز بن چکا تھا۔ دنیا بھر کے دہشت گرد جن میں تحریک طالبان کے علاوہ ازبک، چیچن، ترکمانستان کے دہشت گرد شامل ہیں یہاں موجود تھے ۔ خودکش بمبار، دھماکے سے اڑائی جانے والی گاڑیاں، بارودی سرنگیں سب یہاں تیار ہوتے تھے اور دہشت گرد یہاں ایک مکمل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کرکے ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔شمالی وزیرستان سے اُٹھنے والی دہشت گردی کی ان سرکش موجوں نے ملک کے کونے کونے میں تباہی و بربادی کی انتہاء کردی تھی ۔ آئے روز پاک افواج پر حملے کئے گئے۔ بھرے بازاروں میں عام شہریوں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، نشانہ بنایا گیا۔سرکاری و نجی املاک تباہ و برباد ہوگئیں۔ ترقی کا پہیہ رُک گیا۔ معیشت نیم دیوالیہ ہوگئی اورعالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو شدید نقصان پہنچا۔ خیبرپختونخوا اور فاٹا کے بہت سے علاقوں میں سول انتظامیہ دہشت گردوں کے سامنے بے بس نظر آنے لگی۔ یہ علاقے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن گئے۔ انہوں نے اپنے زیر تسلط علاقوں کو بیس کیمپ بنا کر ایک طرف مقامی آبادی پر ظلم وستم کی انتہاء کردی تو دوسری طرف ملک کے دوسرے حصوں تک اپنی مذموم سرگرمیاں پھیلانے کا اعلان کردیا۔ تاہم حکومت نے دہشت گردوں کی ان تمام کارروائیوں کے باوجودنئی حکومت نے انہیں مذاکرات کا موقع دینے کااعلان کیا۔ اس دوران گو کہ دہشت گردوں نے زبانی طور پر اپنی کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کیا تاہم عملی طور پرایسانہ ہوسکا۔ اسلام آباد کچہری، راولپنڈی آر اے بازار، اسلام آباد سبزی منڈی، ترنول کے قریب افواج پاکستان کے دوسینئر افسروں پر حملہ کیا گیا۔ 8جون کو دہشت گردوں نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر حملہ کیا اور اگلے ہی روز پاکستان بھر میں اسی طرز کے دہشت گردحملوں کی دھمکی دے دی۔جس کے بعد حکومت نے دہشت گردوں سے مذاکرات ختم کرنے اوران کے خلاف فیصلہ کن اور بھرپور کارروائی کرنے کا اعلان کیا۔

ضرب عضب کے اہداف میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کا پاک سرزمین سے مکمل خاتمہ کرکے حکومت کی رٹ قائم کرنا ، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کرنا، ہتھیار نہ پھینکنے والے دہشت گردوں کا خاتمہ اور فاٹا اور ملحقہ علاقوں میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کرنا شامل ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے برملا اظہار کیا کہ آپریشن ضرب عضب کا مقصد ریاست کی رٹ قائم کرنا ہے۔ پاک فوج یہ جنگ ملک میں امن اور استحکام کے لئے لڑرہی ہے، فورسز کو مکمل قانونی حمایت بھی فراہم کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پوری قوم اس جنگ میں اپنے جوانوں کے پیچھے کھڑی ہے، ریاست کی رٹ قائم ہونے تک فوج اور انٹیلی جنس ادارے دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے آپریشن کے آغاز پر واضح کردیا تھا کہ دہشت گردوں کا پیچھا کر کے انہیں انجام تک پہنچایا جائے گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ افواجِ پاکستان نے آپریشن سے قبل تمام علاقے کو سیل کردیا تھا خاص طور پر افغان سرحد پر نگرانی سخت کردی گئی تھی اور اس حوالے سے افغان حکومت اور نیٹو کو بھی کڑی نگرانی کے لئے کہا گیاتاہم دوسری جانب ان مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیاگیا۔ جس کے نتیجے میں بہت سے دہشت گرد افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں میں پناہ لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان علاقوں سے پاکستان سرحد پر حملے کئے گئے۔ جس پر پاکستان نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں فرار ہونے والے دہشت گردوں اور افغان سرحدوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے مطلوب افراد کو افغانستان کے سرحدی علاقوں بالخصوص نورستان اور کنٹر میں پناہ دی جارہی ہے اور پڑوسی ملک کی جانب سے یہ طرز عمل آپریشن کے مطلوبہ مقاصد میں رکاوٹ اور نتائج پر اثرا نداز ہوسکتا ہے۔ افغانستان کو اس بات پر آمادہ کرنا ضروری تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو سب کے لئے مشترکہ چیلنج ہے‘ باہمی تعاون ضروری ہے۔اسی امر کے پیش نظر وزیراعظم ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل کے ہمراہ افغانستان میں افغان قیادت سے ملے اور انہیں آگاہ کیا کہ پاکستان دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے خلاف کسی قسم کے امتیاز کے بغیر کارروائی کررہا ہے۔ ملاقات میں افغان قیادت کی طرف سے بھی مثبت اشارے دیئے گئے۔

آپریشن ضرب عضب چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے پر شمالی وزیرستان کے علاقوں سے مقامی، غیرعسکری اور حکومت حامی آبادی کے انخلاء اور نقل مکانی کے ممکنہ راستوں اور مقامات کی نشاندہی، دوسرے مرحلے میں زمینی آپریشن اور علاقے کی ’’فزیکل سرچ‘‘، تیسرے مرحلے میں ازسرِ نو بحالی جب کہ چوتھے اور آخری مرحلے میں مقامی آبادی کی واپسی اور نوآباد کاری شامل ہے۔ پہلے مرحلے میں میرعلی، میران شاہ اور شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں مقامی افراد نے نقل مکانی کرتے ہوئے بنوں، لکی مروت اور ٹانک کے علاقوں کی جانب سفر شروع کیا۔ مقامی آبادی کے کامیاب انخلاء کے فوراََ بعد دہشت گردوں کے خلاف دوسرے مرحلے میں زمینی آپریشن کا آغازہوا۔ اس دوران پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے ان کی کمرتوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاک فوج کے ز مینی آپریشن کے بعد انہیں کلیئر کیا گیا اور دستے میر علی اور میران شاہ جا پہنچے۔ یہ دو مقام دہشت گردوں کے شمالی وزیرستان میں سب سے بڑے مرکز تھے۔یہاں پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ بہت سے گرفتار بھی ہوئے اور متعدد نے ہتھیار بھی ڈال دیئے۔اس کے بعد افغان بارڈر کی طرف درپہ خیل کوبھی کلیئر کیا گیا۔ میرانشاہ کے بعد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے اہم مراکز بویا اور دیگان کے علاقوں کو بھی دہشت گردوں سے پاک کروایا گیا اور وہاں پاک فوج اپنا قبضہ مستحکم کرچکی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل عاصم باجوہ کی ایک پریس بریفنگ کے مطابق ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کئے جاچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے کلیئر کرائے گئے علاقوں کو انتظامیہ کے حوالے کررہے ہیں۔آپریشن کے آغاز سے اب تک 2700دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک ہزار ٹھکانے اورکمین گاہیں تباہ کی جاچکی ہیں۔ علاوہ ازیں بھاری تعداد میں اسلحہ، ہتھیار اور سیکڑوں ٹن باروی مواد برآمد بھی برآمد کیا گیا ہے۔شمالی وزیرستان کے علاوہ بعض دوسری ایجنسیوں میں مختلف گروپوں کی موجودگی کی اطلاعات پر ان کے خلاف بھی آپریشن شروع کیا گیا۔ خیبرایجنسی میں آپریشن ’’خیبرون‘‘ کے ذریعے دہشت گردوں کے ایسے ٹھکانوں کے خلاف متعدد مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک نوے فیصد علاقہ کلیئر کروایا جا چکا ہے۔

ضرب عضب چونکہ دہشت گردوں کے خلاف ضربِ کاری ثابت ہوا ہے اس لئے ان کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا۔ 16دسمبر کو دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کرکے بہت سے معصوم بچوں اور اساتذہ کو شہید کردیا۔ اس ہولناک واقعے سے پاکستان تو کیا پوری دنیا کانپ اٹھی۔ سانحہ پشاور کے بعد پاکستانی قوم ایک مرتبہ پھر ملی جذبے سے اٹھی۔ اس واقعہ کے بعد وزیر اعظم پاکستان کی زیر صدارت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں انتہائی اہم فیصلے کئے گئے جن پر فوری عملدرآمد اور ٹائم فریم پر سب نے اصرار کیا۔ اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کمزور فیصلے کئے تو قوم مطمئن نہیں ہوگی، قوم کو اس وقت تسلی ہو گی جب مجرموں کو سزا ملے گی۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے مقدمات کے لئے فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں قائم کر نے کا اعلان کیا۔ جن کی مدت 2سال ہوگی۔ خصوصی ٹرائل کورٹ کے قیام سے یقیناًایسے جرائم کا ارتکاب کر نے والے عناصر بلا تاخیر اپنے انجام کو پہنچائے جاسکیں گے۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ملک میں کسی طرح کی عسکری تنظیموں اور مسلح جتھوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ نفرتیں ابھارنے، گردنیں کاٹنے، انتہا پسندی اور فرقہ واریت اور عدم برداشت کو فروغ دینے والے لٹریچر اخبارات اور رسائل کے خلاف مؤثر اور بھر کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دہشت گردوں اور ان کے نظریات کی تشہیر پر مکمل پابندی ہوگی۔ دہشت گردوں کی مالی اعانت کے تمام وسائل مکمل طورپر ختم کر دیئے جائیں گے۔ کالعدم تنظیموں کو کسی دوسرے نام سے کام کر نے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سپیشل اینٹی ٹیررازم فورس کے قیام اور انسداد دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کو مضبوط اورفعال بنانے کافیصلہ بھی کیاگیا ہے۔ مذہبی انتہاپسندی کو روکنے اور اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ضابطہ بندی ہوگی۔ بے گھر افراد کی فوری واپسی کو پہلی ترجیح رکھتے ہوئے فاٹا میں انتظامی اور ترقیاتی اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کے مواصلاتی نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ انٹر نیٹ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کے فروغ کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ملک کے ہر حصے میں انتہا پسندی کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی۔سانحہ پشاور کے بعد ضرب عضب دہشت گردی کے خلاف قومی آپریشن کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ اب پوری قوم اور فوج متحد ہو کر ان کا صفایا کر نے پر کمر بستہ ہوچکی ہے۔

ضرب عضب آپریشن کے دوران تقریباً دس لاکھ افراد نے نقل مکانی کی۔ جن کی واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ آپریشن کے دائرہ کار اور اختتام کی حتمی تاریخ نہیں دی جاسکتی تاہم جس طرح افواج پاکستان کامیابی سے بھرپور آپریشن کررہی ہیں اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے باقی افراد بہت جلد اپنے علاقوں میں واپس جاسکیں گے۔ افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ حکومت اور ملک کے عوام نے آئی ڈی پیز کی خدمت کے لئے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی مثالی ہے۔ پاک فوج نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے کے ساتھ ساتھ ایک ماہ کی تنخواہ اور ہزاروں ٹن کا راشن بھی اپنے قبائلی بھائیوں کے لئے پیش کیا ۔ جس طرح پاک فوج کے افسر اور جوان بے جگری سے شدت پسندوں کے خلاف صف آرا ہوکر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں انہیں نہ صرف شمالی وزیرستان کے باسی بلکہ تمام محب وطن پاکستانی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔متاثرین کی بحالی کے لئے بھی پاک فوج کے جوان سرگرم عمل ہیں۔امید ہے کہ اس مرحلے کی بھی کامیابی سے تکمیل ہوجائے گی۔شمالی وزیرستان کے باسی جب اپنے گھروں کو لوٹیں گے تو انہیں یہ احساس ضرور ہوگا کہ پاک فوج کے شہداء نے ان کے کل کے لئے اپنا آج قربان کردیا ۔

یہ تحریر 60مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP