قومی و بین الاقوامی ایشوز

ضرب عضب آپریشن! ہر بڑھتا قدم استحکام پاکستان کی ضمانت

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ آپریشن کے بہت سے اہم ہداف حاصل کر لئے گئے ہیں۔ پاک سرزمین پر دہشت گردوں کو دوبارہ قدم نہ رکھنے دینے کے عزم کے ساتھ حکومت اور افواج پاکستان کی جانب سے بہت سے اقدامات اٹھا ئے جارہے ہیں۔ جوں جوں آپریشن کے اہداف حاصل کئے جارہے ہیں، ہر قدم پاکستان کے استحکام میں اضافے کا باعث ہے۔ ضرب عضب آپریشن کے مؤثر ہونے کا اعتراف نہ صرف مختلف طبقوں کی طرف سے کیا جارہا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی افواج پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ قبائلی مشران وعمائدین اور مقامی لوگ کھل کر پاک فوج کا ساتھ دے رہے ہیں اور اپنے ہاں کسی دہشت گرد کو پناہ دینے کے بجائے ان کی جان کے درپے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ خاص طور پر آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم بچوں پر حملے کا زخم بہت گہرا ہے۔ تاہم دہشت گردوں کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا ہے۔ حملے میں ملوث بہت سے دہشت گرد مارے گئے بلکہ گرفتار ہونے والوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔ گو کہ آپریشن سے بے گھر ہونے والے افراد کو مشکلات کا سامنا رہا مگر انھوں نے بھی صبر کا دامن تھامے رکھا اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر نے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔

 

پس منظر

9/11کے بعد جب اتحادی افواج نے افغانستان پر چڑھائی کی تو وہاں سے بہت سے عسکریت پسند وں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پناہ لے لی اور بتدریج ایسی سرگرمیاں شروع کردیں جن سے پاکستان میں آگ اور خون کا کھیل شروع ہوگیا۔ تحریک طالبان کے علاوہ ازبک، چیچن، ترکمانستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے یہاں مکمل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کرلیا جہاں سے وہ ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔شمالی وزیرستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کی ان

 

سرکش موجوں نے ملک کے کونے کونے میں تباہی و بربادی کی انتہاء کردی۔ پاک افواج پر حملے کئے گئے۔ بھرے بازاروں میں عام شہریوں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنایا گیا۔سرکاری و نجی املاک تباہ و برباد ہوگئیں۔ترقی کا پہیہ رک گیا۔ معیشت نیم دیوالیہ ہوگئی اورعالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو شدید نقصان پہنچا۔ خیبرپختونخوا اور فاٹا کے بہت سے علاقوں میں سول انتظامیہ دہشت گردوں کے سامنے بے بس نظر آنے لگی۔ دہشت گردی کا سلسلہ ملک بھر میں پھیل گیا۔ اسلام آباد کچہری، راولپنڈی ، پشاور، لاہور، کراچی، اٹک، کوئٹہ سمیت ملک کا کوئی کونہ محفوظ نہ تھا۔ ہزاروں شہری بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں شہید ہوگئے۔حکومت اور افواج نے دہشت گردی کی ان بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو روکنے کے لئے مذاکرات سمیت بہت سے اقدامات اٹھائے تاہم تمام کوششیں دہشت گردوں کی ہٹ دھرمی کے سامنے بے سود ثابت ہوئیں۔ افواج پاکستان نے گوکہ ماضی میں بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کئے لیکن انہیں جو کامیابیاں ملتی رہیں انہیں بعض وجوہات کے پیش نظر مستقل بنیادوں پر قائم نہ رکھا جاسکا۔ دہشت گرد مسلسل مختلف شہروں میں حملے کرکے ان کی ذمہ داری قبول کرتے رہے۔ ان تمام کارروائیوں کے باوجود حکومت نے انہیں مذاکرات کاآخری موقع دیا۔ دہشت گردوں نے اسے سنجیدہ نہ لیا اور اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھیں۔

 

9جون 2014ء کو دہشت گردوں نے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی پر حملہ کیا اور اگلے ہی روز پاکستان بھر میں اسی طرز کے دہشت گردحملوں کی دھمکی دے دی۔

16دسمبر2014ء کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم بچوں اور اساتذہ پر ایسا ہولناک حملہ کیا کہ پوری دنیا تڑپ کر رہ گئی۔اس کے بعد پاکستانی قوم ایک مرتبہ پھر ملی جذبے سے اٹھی۔ اس واقعہ کے بعد وزیراعظم پاکستان کی زیر صدارت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں انتہائی اہم فیصلے کئے گئے۔ ملک کی پوری سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم کیا۔

 

ضرب عضب

ضرب عضب کا آغاز 15 جون 2014ء کو کیا گیا۔ دہشت گردوں کا کلی خاتمہ کرکے پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانا اس کی حتمی منزل قراردی گئی۔اس بات کا بھی عزم کیا گیا کہ یہ آپریشن بلا امتیاز کیا جائے گا۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے خلا ف پاک فوج کو بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور طے شدہ منصوبے کے مطابق وہ اپنے اہداف حاصل کرتی جارہی ہیں۔آپریشن کے ابتدائی اہداف میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کا پاک سرزمین سے مکمل خاتمہ ، ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کرنا، فاٹا اور ملحقہ علاقوں میں بحالی اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کرنا شامل تھے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ مختلف پہلوؤں پر جائزے کے بعد ان اہداف اور وسعت میں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے آپریشن کے آغاز پر ہی واضح کردیا تھا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔آپریشن کے چار بنیادی مرحلے طے کئے گئے

 

تھے جن میں شمالی وزیرستان کے علاقوں سے مقامی ، غیر عسکری اور حکومت حامی آبادی کے انخلاء اور نقل مکانی کے ممکنہ راستوں اور مقامات کی نشاندہی، زمینی آپریشن اور علاقے کی ’’فزیکل سرچ‘‘ ، از سرِ نو بحالی اور مقامی آبادی کی واپسی ونوآباد کاری شامل ہے۔متاثرہ علاقوں سے مقامی آبادی کے انخلاء کے بعدباقاعدہ زمینی آپریشن شروع کردیا گیا۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے انہیں تباہ و برباد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاک فوج کے ز مینی آپریشن کے بعد انہیں کلیئر کیا گیا۔ آپریشن کے آغاز سے اب تک سارھے تین ہزار کے قریب دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جبکہ ایک ہزارسے زائد ٹھکانے اورکمین گاہیں تباہ کی جاچکی ہیں۔ علاوہ ازیں بھاری تعداد میں اسلحہ، ہتھیار اور سیکڑوں ٹن باروی مواد برآمد بھی برآمد کیا گیا ہے۔ تحصیل میر علی، میران شاہ، بویا ، دتہ خیل، غلام خان، اسپن وام اور شوال کے بڑے حصے سمیت تقریباََ نوے سے زائد علاقے کو کلیئر کیا جاچکا ہے جبکہ آپریشن کے دوران بہت سی نجی جیلیں، زیرزمین راستے اور پناہ گاہیں ملیں اور دہشت گردوں سے بھارتی تعداد میں اسلحہ اور بارود برآمد ہوا۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد ہونے والے اسلحہ سے مزید 15سال تک جنگ لڑی جاسکتی تھی۔ برآمد ہونے والا اسلحہ ایک انفنٹری بریگیڈ کے لئے کافی ہے۔ شمالی وزیرستان کے علاوہ بعض دوسری ایجنسیوں میں چھوٹے موٹے گروپوں کی موجودگی کی اطلاعات پر ان کے خلاف بھی آپریشن جاری ہیں۔ اس وقت شوال میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ ائیرفورس نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر تابڑ توڑ حملے کرکے انہیں تباہ و برباد کردیا ہے۔ زمینی کارروائی کے دوران پاک فوج نے بہت سے علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ضرب عضب کے دوران پاک فوج کے ساڑھے چار سو سے زائد بہادر افسروں اور جوانوں نے جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ قوم کو یقیناًاپنے ان شہداء اور غازیوں کی قربانیوں پر فخر ہے۔ ضرب عضب آپریشن کے دوران تقریباً دس لاکھ افراد نے نقل مکانی کی۔جن کی واپسی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ حکومت اور ملک کے عوام نے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد ٹی ڈی پیز کی خدمت کے لئے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی مثالی ہے۔ جس طرح پاک فوج کے افسر اور جوان بے جگری سے شدت پسندوں کے خلاف صف آراہوکر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں انہیں نہ صرف شمالی وزیرستان کے باسی بلکہ تمام محبِ وطن پاکستانی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

 

’’ضرب عضب ‘‘ کی افادیت کا اعتراف

ضرب عضب آپریشن میں افواج پاکستان نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ، امریکہ، برطانیہ، چین اور روس سمیت بہت سے ممالک نے دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب آپریشن میں پاک فوج کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کا اعتراف کیا ہے۔ ریاست مخالف تشدد پر نظر رکھنے والے معروف عالمی تحقیقاتی ادارے ’’دی کانفلکٹ مانیٹرنگ سینٹر‘‘ کی ماہانہ سکیورٹی رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں کی ماہانہ اوسط میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ حملوں کی تعداد میں قابلِ ذکر کمی خیبر پختونخوا میں ہوئی ہے۔ اسی طرح دوسرے صوبوں میں بھی واضح طور پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ آپریشن سے قبل2009ء میں دہشت گردی سے 11ہزار585افرا د جاں بحق ہوئے ، جس کی یومیہ اوسط 32افراد بنتی ہے۔ ضرب عضب سے قبل2009ء میں 78خود کش حملے ہوئے جن کی ماہانہ اوسط6.5بنتی ہے۔ ضرب عضب کے بعد دہشت گردوں کے حملوں سے روزانہ کی بنیادوں پر ہلاکتیں 10سے بھی کم رہ گئی ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے دہشت گردی سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں بھی 2014 کے دوران پاکستان، فلپائن، نیپال اور روس میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی کا اعتراف کیا ہے۔ امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے آپریشن ضرب عضب کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ماننا ہے کہ فوج نے ضرب عضب آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کو شکست دی ہے۔ آپریشن کے نتائج انتہائی متاثر کن ہیں۔افغانستان میں اتحادی افواج کے نئے کمانڈر امریکی جنرل جان کیمپبل نے آپریشن ضرب عضب کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کی کوششیں جاری رہیں گی۔ برطانوی ہائی کمشنر فلپ بارٹن نے ضرب عضب آپریشن میں کامیابیوں کو سراہا اور کہا کہ آپریشن ضرب عضب سے پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔اسی طرح برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالان نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات میں آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کی قربانیوں کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کیلئے پاک فوج کی کوششوں کی تعریف کی۔جرمن وزیر خارجہ ڈاکٹر فرینک والٹر سٹین میئر نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کے چیلنج کا بڑی بہادری سے سامنا کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ اس کے شہریوں اور مسلح افواج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔

 

پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف ان کامیاب کارروائیوں پر یقیناًہمارے دشمن انتہائی تشویش کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔ دوسری طرف افغانستان کی طرف سے بھی پاکستانی چیک پوسٹ پر راکٹ فائر کئے گئے۔ ماہرین کے مطابق ایسے حربے یقیناًضرب عضب کی کامیابیوں کا ردعمل بھی ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں کے باوجودمجموعی طور پر آپریشن ضرب عضب کے مثبت اثرات واضح نظر آرہے ہیں۔ ملک بھر میں دہشت گردوں کے حملوں میں غیرمعمولی کمی آئی ہے جس سے امن عامہ کی مجموعی صورتحال قابل ذکر حد تک بہتر ہوئی ہے۔ ملک میں بے یقینی کا خاتمہ ہوا ہے۔ عوام کے اعتماد میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے بلکہ دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز اور بلا خوف کارروائی پر عالمی سطح پر پاکستان کے امیج میں کافی بہتری آئی ہے۔ ان تمام امور میں بہتری کی وجہ سے پاکستان کی معیشت اور ترقی کا گراف بھی اب بلندی پر ہے۔ ان تمام حوصلہ افزاء نتائج کو پائیدار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کو پروان چڑھانے والے دوسرے امور پر بھی توجہ دی جائے۔ خاص طور پر دہشت گردوں کو مالی اور اسلحی امداد فراہم کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے۔ ان کے سہولت کاروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ ہمارے سکیورٹی اداروں نے اس حوالے سے بھی بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اسی لئے تو اس آپریشن کا دائرہ بڑھانے کے لئے عوامی حمایت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب اس طرح کے اقداما ت سے ہمارا ملک دہشت گردوں سے پاک اور امن و امان کا گہوارہ ہو گا۔


[email protected]

یہ تحریر 71مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP