قومی و بین الاقوامی ایشوز

ضرب عضب۔ پاک فوج نے اپنے حصے کی شمع روشن کر دی ہے

شمالی وزیرستان کی گھاٹیوں میں پاکستان کے آئین کی پاسداری کا معرکہ برپا ہے۔

 

سنگلاخ وادیوں میں مستقبل کی صورت گری ہو رہی ہے۔

 

دنیا کے خطرناک ترین خطے میں پاکستان کی سلامتی کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔

 

پہاڑی علاقوں میں لڑنے والے خود بھی چٹانوں جیسی استقامت رکھتے ہیں۔

 

ان کے عزائم چوٹیوں جتنے بلند‘ ان کی نیتیں صبح کی طرح صاف شفاف ہیں۔

 

مقام شکر ہے کہ پاکستان کے عوام‘ سیاسی جماعتوں اور مسلح افواج کی سمت بھی اس وقت ایک ہے اور منزل بھی ایک۔ محفوظ اور مستحکم ملک۔

 

وفاق کے زیراہتمام قبائلی علاقے یعنی فاٹا‘ ہمارا ناقابلِ تسخیر حصار ہیں۔ یہ صدیوں سے میدانی علاقوں کا رخ کرنے والی آفتوں اور بلاؤں کو اپنے سینے

پر روکتے آ رہے ہیں۔

 

مہمان نوازی ان کی فطرت‘ ا پنے حرف کا پاس ان کی سرشت کا جزولازم رہا ہے۔

ان دشوار گزار راستوں والی آبادیوں کو اگر ہم پاکستان کے اوائل سے ہی مرکزی دھارے کا حصہ بنا لیتے‘ یہاں بھی شاہراہیں‘ دوردراز بستیوں کو ملک کے دوسرے علاقوں سے ملاتیں‘ بچوں‘ بچیوں‘ نوجوانوں کے لئے سکول‘ کالج‘ یونیورسٹیاں قائم کی جاتیں‘ مقامی فصلوں‘ پھلوں پر مبنی کارخانے دن رات چلتے‘ مقامی معدنیات سونے‘ تانبے‘ گیس زمرد کو زمین کے سینے سے باہر لایا جاتا تو آج یہاں جدید اور قدیم علوم کی روشنی تاریک سرنگوں کو منور کر دیتی۔ خوشحالی یہاں کے گھروں کی پہچان بنتی۔ اگر یہ پہلے نہیں ہوا تو اب ضرور ہو گا۔ ضربِ عضب ایک روشن اور پُرامن مستقبل کا آغاز ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قبائلی علاقوں کو حسن فطرت سے بھی نوازا ہے۔ اپنے بندوں کو جفاکشی اور برداشت بھی بخشی ہے۔ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال کیا ہے۔ انہیں پسماندہ اور اپنے اپنے قبیلوں‘ علاقوں تک محدود کرنے کے لئے بہت سے روائتی مفروضے تراش لئے گئے کہ یہاں پولیس اور فوج کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ ان کی اپنی روایات ہیں‘ اپنی اقدار ہیں۔ ان کا تمدن مختلف ہے۔ قبائلی علاقے دنیا کے اکثر ملکوں میں ہیں۔ یہ لوگ بہت غیرت مند‘ محنتی اور ایماندار اور دیانت کے دھنی ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان تک دور حاضر کی روشنی نہ پہنچے۔ وہ اپنی علاقائی قبائلی رسوم کو ہی عقیدت اور ایمان کا درجہ دینے لگیں۔ وہ پہاڑوں کے بازوؤں میں جکڑے رہیں۔

اب جب بالآخر ضرب عضب کے نام سے تاریخی عسکری مہم شروع ہوئی ہے تو تاریخ قدم قدم گواہی دے رہی ہے کہ اسلام کے مختلف ادوار میں ایسی شورشوں کو اسی طرح فرو کیا گیا۔ ایسا نہ کیا جائے تو مملکتیں منتشر ہو جاتی ہیں۔ اتحاد کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ امت تقسیم ہونے لگتی ہے۔

ان کو تو ووٹ کا حق بھی بہت دیر سے دیا گیا۔ اکیسویں صدی میں انسان زندگی کی جن آسانیوں سے مستفید ہو رہا ہے‘ ہمارے جاگیردار‘ قبائلی سردار اور ملک اپنے زیر اثر علاقوں میں انسانوں کو ان سے شعوری طور پر محروم رکھتے ہیں کیونکہ اگر جدید علوم اور زندگی کی سہولتیں انہیں میسر آ گئیں تو وہ خودسر ہو جائیں گے۔ غلامی کی زنجیریں توڑ دیں گے۔ 1979میں جب مملکت نے یہ فیصلہ کیا کہ افغانستان میں سوویت یونین کی افواج کی مزاحمت کرنا ہے۔ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کی حکمت عملی کو حقیقت میں پاکستان نے ڈھالا تو قبائلی علاقوں نے مملکت پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس میں ان کے مذہبی جذبات بھی شامل ہو گئے۔ سوویت یونین اپنے اندرونی معاملات کی وجہ سے بھی روبہ زوال تھا۔ پورے مغرب نے اپنا سرمایہ اور اسلحہ اس میں جھونک دیا۔ ہم نے احتیاط نہیں کی۔ اپنی سرحدیں کھول دیں۔ ہمارے یہ سرحدی علاقے اُن دنوں دنیا بھر سے آئے ہوئے جنگجوؤں کی محفوظ پناہ گاہیں بن گئے۔ یہ عسکریت پسند مسلمان تو تھے مگر غیر ملکی تھے۔ انہیں ظاہر ہے‘ پاکستان کے مفادات اور سالمیت سے کوئی محبت اور لگن نہیں تھی۔ مگر ہمارے قبائل بھائیوں نے اپنی مہمان نوازی کی روایات کے پیش نظر انہیں مکمل تحفظ دیا۔ لیکن نائن الیون کے بعد مملکت کی پالیسی بدل گئی۔ وہی مغرب جس کے کہنے پر ہم نے افغانستان میں سوویت افواج کے مقابلے کے لئے اپنے نوجوان بھیجے‘ غیرملکی عناصر کو پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے دیا‘ اب وہی مغرب ان مجاہدین کو دہشت گرد کہنے لگا۔ یہ انتہا پسند اور شدت پسند مغرب کے ساتھ ساتھ مملکت پاکستان کے خلاف بھی کارروائیاں کرنے لگے۔ جب انسانوں کا لہو بہنے لگے ‘عام شہریوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہوں‘ کسی خاص علاقے میں کمین گاہیں بنا کر پورے ملک میں خودکش دھماکے کئے جائیں‘ مملکت کے وجود کو چیلنج کر دیا جائے‘ ملکی آئین کو تسلیم نہ کیا جائے‘ اپنی من مانیوں کو شریعت کہا جائے تو مملکت کا فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے اور جب یہ انتہا پسند ملک کی حساس تنصیبات‘ مسلح افواج کے ہیڈکوارٹرز‘ اعلیٰ افسروں‘ چوکیوں کو نشانہ بنانے لگیں تو مملکت کو حرکت میں آنا چاہئے۔

یہ امر باعث اطمینان ہے کہ عوام من حیث القوم‘ پارلیمنٹ میں موجود ساری سیاسی جماعتیں اس فوجی آپریشن کی حمایت کر رہی ہیں۔ پوری شدومد سے فوج کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا جا رہا ہے۔ دل بار بار کہتا ہے کہ ایسا وقت نہ آئے کسی بھی ملک میں فوج کو اپنے ہی علاقوں میں کارروائی کرنا پڑے۔ مگر پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلے بھی ہوا ہے۔ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک فوج کی بھرپور حمایت اس وقت قومی فریضہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ زندہ اورذمہ دار قوموں کی طرح ہمیں بعد کے نتائج اور مراحل کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔

ہمارے ہاں منتخب سول حکومتیں گومگو میں رہتی ہیں۔ یہ فیصلہ کرنے میں بلاوجہ تاخیر کرتی ہیں۔ حالانکہ خیبر سے کراچی تک عوام کی رائے یہی تھی کہ ان کی زندگی اجیرن بنانے والوں‘ ان کے گھروں کو دھماکوں سے اڑانے والوں‘ فوج کے جوانوں اور افسروں کا خون بہانے والوں‘ پولیس کے سپاہیوں اور افسروں کو قتل کرنے والوں کو کسی صورت کوئی رعایت نہ دی جائے۔ اب جب بالآخر ضرب عضب کے نام سے تاریخی عسکری مہم شروع ہوئی ہے تو تاریخ قدم قدم گواہی دے رہی ہے کہ اسلام کے مختلف ادوار میں ایسی شورشوں کو اسی طرح فرو کیا گیا۔ ایسا نہ کیا جائے تو مملکتیں منتشر ہو جاتی ہیں۔ اتحاد کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ امت تقسیم ہونے لگتی ہے۔ یہ ضروری تھا کہ تمام قوتیں سیاسی غیر سیاسی دہشت گردی کے خلاف ایک ہو جائیں۔ آسمان کی آنکھ نے دیکھا کہ جب سیاسی اور فوجی قیادتیں یک رائے ہو گئیں تو یہ آپریشن شروع ہو گیا۔ پوری قوم اب اس معرکے میں مملکت کی سرخروئی کے لئے دعائیں مانگ رہی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ نوبت یہاں تک پہنچی ہے۔ اس وقت داخلی طور پر لاکھوں بے گھروں کا مسئلہ بھی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ سول حکومت کی بنیادی ذمہ داری تھی کہ انخلا اور خیمہ بستیوں کا انتظام سنبھالتی۔ پہلے بھی ہم یہ المناک مناظر دیکھ چکے ہیں۔ سوات‘ باجوڑ اور دوسرے علاقوں سے اسی طرح منتقل ہونے والے صوابی‘ جلوزئی اور دوسرے کیمپوں میں ایک طویل عرصے تک مقیم رہے۔ قوم نے ان دنوں بھی کھل کر انہیں امداد بہم پہنچائی تھی۔ پک اپوں (Pickups) میں لدے بزرگ‘ بوڑھی مائیں‘ بچے‘ بہنیں‘ ہم سب سے پوچھتے ہیں اور خاص طور پر انتہا پسندوں سے کہ انہیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑ رہا وہ دربدر ہو رہے ہیں۔ لاالہ الا اﷲ کے وارثو! کیا یہی تمہارا اسلام ہے؟ کیا ہمارے بزرگوں نے‘ اکابرین نے یہ مناظر دیکھنے کے لئے قربانیاں دی تھیں۔ ضرب عضب کا جہاں تک عسکری پہلو ہے‘ فوجی کارروائیاں ہیں‘ پاکستان کی مسلح افواج بری‘ بحری اور فضائی سب انتہائی منظم ہیں۔ جنگی کارروائیوں کی مہارت رکھتی ہیں۔ نائن الیون کے بعد انہیں داخلی محاذوں پر عسکریت پسندوں سے مقابلے کرنا پڑے ہیں۔ اس کی تربیت بھی حاصل کرنا پڑی ہے۔ اس لئے بہت زیادہ خیال رکھا جاتا ہے کہ صرف شدت پسند ہی فوجی کارروائی کا نشانہ بنیں۔ عام شہری بمباری‘ گولا باری اور زمینی کارروائیوں کی زد میں نہ آئیں۔ عام طور پر یہی رائے ہے کہ فوج کی کارروائی ایک محدود عرصے کے لئے ہونی چاہئے۔ سول حکومت کو کارروائی کے بعد منصوبہ بندی کر لینی چاہئے‘ تاکہ جب ہمارے یہ متاثرہ ہم وطن واپس اپنے گھروں میں آئیں تو ان کے نقصانات کی تلافی جلد از جلد ہو جائے۔ ان کے روزگار کے وسیلے دوبارہ بروئے کا رآ جائیں۔ نفسیاتی طور پر بھی بہت دباؤ اور بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جن کی دکانیں زد میں آئی ہیں‘ کاروباری سلسلے متاثر ہوئے ہیں‘ ان کی بحالی اور آبادکاری کے لئے منظم پلان پہلے سے موجود ہوں۔ ہم سب کو ایسے ان ہم وطنوں سے یکجہتی کا اظہار کرنا چاہئے کیونکہ پہلے وہ دہشت گردوں کے یرغمال بنے ہوئے ہیں پھر فوجی آپریشن سے بھی ان کے لئے مشکلات ہی پیدا ہوئی ہیں۔ ضرب عضب ناگزیر تھی۔ دوسرے ممالک نے بھی اپنے ہاں شورشوں کو اسی طرح ختم کیا ہے۔ پاکستان میں اظہار خیال کی آزادی ہے۔ تنظیم سازی کے مواقع ہیں۔ اگر کچھ حلقے واقعتا شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں‘ پاکستانیوں کی بڑی تعداد کی بھی یہی خواہش ہے تو یہ تنظیمیں باقاعدہ الیکشن کے عمل میں شریک ہو کر اکثریت کے ووٹ حاصل کر کے اپنی حکومت بنا سکتی ہیں اور اصل شریعت نافذ کر سکتی ہیں۔ علمائے کرام کو بھی اپنا کر دار ادا کرنا چاہئے۔ وہ ان شدت پسند تنظیموں سے رابطے کریں۔ انہیں انسانیت کے قتل اور شہروں میں خونریزی سے روکیں۔ مملکت نے فوج کو ایک ذمہ داری سوپنی ہے۔ وہ پوری تندہی سے اس محاذ پر اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ عوام من حیث القوم‘ پارلیمنٹ میں موجود ساری سیاسی جماعتیں اس فوجی آپریشن کی حمایت کر رہی ہیں۔ پوری شدومد سے فوج کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا جا رہا ہے۔ دل بار بار کہتا ہے کہ ایسا وقت نہ آئے کسی بھی ملک میں فوج کو اپنے ہی علاقوں میں کارروائی کرنا پڑے۔ مگر پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلے بھی ہوا ہے۔ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک فوج کی بھرپور حمایت اس وقت قومی فریضہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ زندہ اورذمہ دار قوموں کی طرح ہمیں بعد کے نتائج اور مراحل کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ پاکستان کی مسلح افواج تو اپنی عسکری مہارت‘ انٹیلی جنس کی بدولت اس وقت ٹھیک ٹھیک نشانے لگا رہی ہیں۔ ان کا اپنا ایک نظام ہے۔ ایک منظر نامہ تو یہ ہے کہ یہ کارروائی ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہونی چاہئے۔ دہشت گرد جہاں جہاں ہیں‘ انہیں چن چن کر کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔ سول حکومت‘ سیاسی جماعتوں اور عوام کو بھی انتہا پسندوں کی نشاندہی کرنی چاہئے۔

اس وقت داخلی طور پر بے گھر ہونے والوں کے لئے مخیر اداروں اور این جی اوز کو دن رات ایک کرنا چاہئے۔ رمضان کا مبارک مہینہ ہے پھر عید آ رہی ہے۔ ہمیں ان ہموطنوں کے ساتھ خیموں میں عید منانے کے لئے جانا چاہئے۔ ان کو خوراک اور دوسری سہولتوں میں کمی نہ آنے دیں۔

ہم کئی سال سے اس خونریزی اور دہشت گردی کی فضا سے دوچارہیں۔ یہ آئندہ بھی کئی سال تک جاری رہے گی کیونکہ پڑوسی ممالک افغانستان اور بھارت کی طرف سے بھی انتہاپسندوں کی حمایت کی جاتی ہے۔ بعض دوسرے مسلم ممالک بھی اپنے آپ کو فرقہ پرستی شدت پسندی سے بچانے کے لئے پاکستان میں ایسے عناصر کی سرپرستی کرتے ہیں۔ ایک طرف تو انتہا پسندی کو جنم دینے والی‘ اسے ہوا دینے والی تنظیموں کی سرکوبی ضروری ہے۔ ایسی سوچ جہاں جہاں پیدا ہوتی ہے‘ وہاں اعتدال پسندی اور میانہ روی کی سوچ پھیلانے کے لئے باقاعدہ ادارے کام کر یں۔ علماء آگے آئیں۔ ایک اور ضروری قابل توجہ امر یہ ہے کہ دہشت گردی کے مقابلے کے لئے آگہی اور بیداری کی تربیت باقاعدہ منظم انداز سے دی جائے کیونکہ آئندہ کم از کم دس پندرہ برس تک پاکستان کے عوام کو اس لہر کا سامنا رہے گا۔ دہشت گردوں کے عزائم‘ ان کی چالوں‘ ان کے اسلحے کی ہلاکت خیزی سے قوم کو باقاعدہ باخبر کیا جائے۔ اس سے محفوظ رہنے کے لئے تدابیر بنائی جائیں۔ سلامتی یا سکیورٹی کو سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں اور دینی مدارس میں ایک مضمون کے طورپر پڑھایا جائے تاکہ ہر شہری ہر لمحے کسی بھی اچانک رونما ہونے والی واردات کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو۔ اس وقت داخلی طور پر بے گھر ہونے والوں کے لئے مخیر اداروں اور این جی اوز کو دن رات ایک کرنا چاہئے۔ رمضان کا مبارک مہینہ ہے پھر عید آ رہی ہے۔ ہمیں ان ہموطنوں کے ساتھ خیموں میں عید منانے کے لئے جانا چاہئے۔ ان کو خوراک اور دوسری سہولتوں میں کمی نہ آنے دیں۔ تیسرا مرحلہ ان کی گھروں کو واپسی کے وقت آئے گا۔ اس میں بھی ہم سب کو دامے درمے‘ قدمے سخنے ساتھ دینا چاہئے۔ ان کے گھروں کی تعمیر نو‘ ان کا روزگار اور کاروبار کی بحالی ہم سب کی ترجیح ہونی چاہئے۔ تعمیراتی کمپنیوں نے اس ملک سے اربوں روپے کمائے ہیں‘ وہ اگر کچھ گھروں کی تعمیر اپنے ذمے لے لیں تو مملکت پر زیادہ بوجھ نہیں پڑے گا۔ ضرب عضب کی کامیابی اور قوم کی سرخروئی صرف یہی نہیں ہو گی کہ فوج نے دہشت گردوں کے سارے ٹھکانے تباہ کر دیئے بلکہ اصل کامرانی یہ ہو گی کہ آئندہ انتہاپسندی کے امکانات بھی معدوم ہوں جو نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف لے جاتے ہیں۔ دوسرے ملک بھر میں عوام کو دہشت گردوں سے نمٹنے کے طریقے آتے ہوں۔ کوئی بھی ان سے خائف ہو نہ ان کو پناہ دے۔ تیسرے فاٹا اور تمام دوسرے سرحدی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز تر کی جائے‘ تعلیم اور صحت کی بہتر سہولتوں کا اہتمام کیا جائے۔ یہاں صنعتوں اور شاہراہوں کا جال بچھایا جائے۔محفوظ اور مامون مستحکم معاشرہ ہم سب کی منزل ہے۔ فوج نے اس منزل کے حصول کے لئے اپنے حصے کی شمع اپنے لہو سے روشن کر دی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے پوچھنا ہے کہ کیا ہم بھی اپنے حصے کی مشعل جلا رہے ہیں؟

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP