قومی و بین الاقوامی ایشوز

ضرب عضب۔ ایک عزم کی داستان

میں بستر پر لیٹے ہوئے سونے کے لئے زور زور سے آنکھیں بھینچتا ہوں۔ سر جھٹکتا ہوں کہ میرے ذہن کی پردہ سکرین سے وہ منظر کسی طرح سے چھٹ جائے لیکن کوشش کے باوجود میں ایسا نہیں کر پاتا۔ ٹھنڈے پانی کے دو گلاس پینے کے بعد میں ٹی وی کے ریموٹ سے غیرارادی طور پر مختلف چینلز کو تیزی سے تبدیل کرتا ہوں۔ یہ منظر ایک شہید کے جنازے کا ہے۔ قومی پرچم میں لپٹا ہوا تابوت‘ لوگوں کا ہجوم جو اس شہید کے جنازے کے لئے جمع ہے۔ چاق چوبند فوجی دستے کی سلامی اور پھر ایک بڑی بڑی آنکھوں والا دس سالہ خوبصورت سا بچہ۔ جنازے کے بعد ایک ٹی وی کا کیمرہ مین اس بچے سے بات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بچہ جذبات میں گندھے ہوئے کچھ الفاظ ادا کرتا ہے اور پھر موٹے موٹے آنسو اس کے خوبصورت گالوں پر ٹھہر جاتے ہیں اور اس کی آواز رندھ جاتی ہے۔ یہ منظر میرے ذہن سے چپک جاتا ہے۔ سوچتا ہوں یہ بچہ میرے بیٹے کی عمر کا ہے۔ اس کے شہید والد کرنل ظاہر شاہ نے گھر سے رخصت ہوتے وقت کس طرح اس کو پیار کیا ہو گا۔ اس نے مچل کر باپ سے کوئی معصوم سا مطالبہ بھی کیا ہو گا جسے باپ نے پورا کرنے کا وعدہ کیا ہو گا اور جب آناً فاناً باپ کی شہادت کی خبر ملی ہو گی تو اس کے معصوم دل پر کیا قیامت گزر گئی ہو گی۔ وہ ماں کے ساتھ لپٹ کر رویا بھی ہو گا۔

کمرے میں حبس اور گھٹن کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ میں دروازہ کھول کر باہر آ جاتا ہوں۔ رات کا دوسرا پہر ہے اور گُھپ اندھیرا ہے۔ ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا میرے نتھنوں سے ٹکرا کر ایک تازگی کا احساس دلاتا ہے۔ فضا میں ہلکی ہلکی پھوار کی ایک چادر سی تنی ہے۔ جو دور سنتری پوسٹ پر لگے ہوئے بلب کی روشنی میں بڑا دلفریب منظر پیش کر رہی ہے۔ جی میں آتا ہے کہ ساری رات اس رم جھم میں کھڑا رہوں تاکہ منظر جو میرے لئے سوہانِ روح بنا ہوا ہے‘ میرا پیچھا نہ کرے۔ طفل تسلیوں سے دل کو سمجھاتا ہوں کہ وہ بچہ شہید کا بیٹا کہلائے گا۔ لوگ اس کو عزت و احترام دیں گے اور یہ کہ پاک فوج کبھی بھی شہیدوں کے اہل و عیال کو تنہا نہیں چھوڑتی اور پھر چند ہی سالوں کی بات ہے‘ یہ بچہ کڑیل جوان بن کر اپنے باپ کا نام روشن کرے گا۔ یہ سوچ مجھے ایک ہلکا ہلکا سکون اور طمانیت فراہم کرتی ہے۔ بارش میں تیزی آنے لگتی ہے۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں میں تازگی کا اثر بھی بڑھ گیا ہے۔ سنتری پوسٹ کی ٹین کی چھت اب بارش میں تیزی کی وجہ سے کسی سازینے کی طرح بج رہی ہے۔ اچانک بادل کی گرج میں بجلی چمکتی ہے اور پوسٹ پر کھڑے چاق چوبند دو محافظ نظر آتے ہیں۔ کمرے میں واپس پلٹتا ہوں لیکن دماغ ماضی‘ حال اور مستقبل کی پُرپیچ گلیوں میں الجھتے لگتا ہے۔ مجھے میران شاہ جو شمالی وزیرستان کا سب سے بڑا شہر اور انتظامی ہیڈکوارٹر بھی ہے‘ میں آئے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ اچانک کرنل ارشد اور کرنل ظاہر شاہ کی گاڑی پر پنڈی میں خودکش حملہ اور شہادت کی خبر مختلف ٹی وی چینلز کے توسط سے ملی۔

ایک ہفتہ قبل جب اچانک صبح آفس میں مجھے فوراً میران شاہ میں ڈیوٹی کے لئے کہا گیا تو میرے اندر ایک نامعلوم جوش و جذبے نے انگڑائی لی تھی‘ نت نئی جگہوں کو دیکھنا‘ وہاں کا کلچر‘ زبان‘ بودوباش‘ لوگوں کے رسوم و رواج اور کھانے پینے کی عادات کے متعلق آگہی میرا شوق ہی نہیں جنون ہے۔ آئی ایس پی آر میں تعیناتی نے اس شوق کو مہمیز دی اور پاکستان کے وہ علاقے جہاں میں بطور سویلین جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ 9/11 کے بعد وادی تیراہ میں مختلف آپریشن کے دوران فرائض کی ادائیگی کا موقع ملتا رہا۔ لیکن پھر پاکستان کے دوسرے علاقوں میں پوسٹنگ کی وجہ سے اب ان علاقوں میں تقریباً بارہ سال بعد واپسی ہوئی۔ اگلے ہی دن اپنا مختصر سفری سامان اٹھائے میں پشاور پہنچ گیا۔ جہاں مزید ایک دن قیام کے بعد اگلے روز ہیلی کاپٹر کے ذریعے میران شاہ روانگی تھی۔ ہیلی کاپٹر کے انتظار میں نوجوان پائلٹ خوش گپیوں میں مصروف تھے اور مہمان نوازی کے زریں اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہر تھوڑی دیر بعد مجھے چائے اور سگریٹ کی دعوت دیتے لیکن میری دلچسپی روانگی میں تھی کیونکہ خراب موسم کے باعث فلائٹ میں تاخیر تھی اور پھر خراب موسم ٹل گیا اور ہیلی کاپٹر میں سوار ہونے کا لمحہ آن پہنچا۔ میں ہیلی کاپٹر کی گول سی کھڑکی جہاں موٹا شیشہ لگا ہوا تھا‘ سے زمین پر شمالی وزیرستان کے جغرافیائی خدوخال کا جائزہ لینے کی کوشش کرتا رہا۔ بالآخر ہیلی کاپٹر ایک چھوٹے سے شہر پہنچ گیا جہاں پکے مکانات‘ بازار اور کمرشل عمارتیں نظر آ رہی تھیں۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہی میران شاہ اور میری منزل ہے۔ ہیلی کاپٹر آہستہ آہستہ زمین کی طرف بڑھنے لگا۔ فضا میں بادل منڈلا رہے تھے اور ہلکی ہلکی بارش ایک خوشگوار احساس دے رہی تھی۔ شمالی وزیرستان فاٹا کی سات ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ افغانستان اس سے 17کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ فاٹا کی تاریخ دلچسپ اور سیکڑوں سالوں پر محیط ہے۔ محمد بن قاسم اور ایسٹ انڈیاکمپنی کے علاوہ تمام حملہ آور شمال کی سمت سے اس علاقے سے گزرتے ہوئے برصغیر پر حملہ آور ہوئے۔ آریاؤں سے سکندراعظم تک اور پھر محمود غزنوی‘ ترک‘ ایرانی‘ افغانی‘ تاتاری اور منگول حملہ آور بھی انہی علاقوں سے گزر کر دہلی تک جاتے رہے۔ میران شاہ جسے پشتو میں میرمشاہ بھی کہا جاتا ہے‘ کے علاوہ میرعلی‘ دتہ خیل‘ بویا اور ڈانڈے درپہ خیل شمالی وزیرستان کے اہم شہر ہیں ۔ تاریخ کے مطابق میران شاہ امیر تیمور کے ایک بیٹے کے نام پر ہے جو قندھار کا گورنر تھا اور یہ علاقہ اس کی قلمرو میں شامل تھا۔ انگریزوں نے 1905میں یہاں میران شاہ فورٹ بنایا جو اب ٹوچی سکاؤٹ کا ہیڈکوارٹر ہے جو فرنٹیئر کانسٹیبلری کا حصہ ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے ایک طویل عرصے سے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے شمالی وزیرستان کو اپنا مسکن بنا رکھاہے۔

2000ء کی دہائی کے اوائل میں افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کا عروج تاریخ کا ایک افسانوی باب لگتا ہے۔ اس کامیابی نے نہ صرف طالبان کے حوصلے بلند کر دیئے بلکہ وہ پاکستان سمیت دوسرے پڑوسی ممالک میں بھی اپنے انقلاب کی راہیں ہموار کرنے کے لئے کوشاں ہو گئے۔ لیکن پھر 9/11نے صورتحال کو یکسر بدل دیا۔ امریکن اورنیٹو فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں طالبان اور ان کے ازبک و تاجک حواری فاٹا کے علاقوں میں روپوش ہونے لگے۔ چونکہ حکومت پاکستان کی ان علاقوں میں مضبوط عملداری نہیں تھی چنانچہ پاکستان کے مختلف علاقوں کے جرائم پیشہ افراد بھی کئی دہائیوں سے انہی علاقوں میں روپوش ہو جاتے تھے اور مقامی لوگوں کو رقم دے کر پناہ لئے ہوئے تھے‘ مخصوص مقاصد کے لئے یہ بھی طالبان کے دست و بازو بن گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ سمگلنگ‘ اغوا برائے تاوان‘ منشیات کا کاروبار‘ اسلحہ اور غیرقانونی گاڑیوں کا کاروبار بھی اس علاقے کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ سوویت یونین افغان جنگ نے اس کو مزید جلا بخشی۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان آرمی کو باجوڑ‘ اورکزئی‘ خیبر اور ساؤتھ وزیرستان ایجنسی میں آپریشنز کرنا پڑے۔ جبکہ سوات میں تو دہشت گرد مکمل طور پر قابض ہو کر حکومت کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے۔ آفرین ہے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں پر جنہوں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر ’’آپریشن المیزان‘‘ اور ’’راہ نجات‘‘ کو نہ صرف کامیاب بنایا بلکہ حکومت کی رٹ کو مختصر وقت میں قائم کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ دہشت گرد اب شمالی وزیرستان کو اپنا مسکن بنا کر اپنی مذموم کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ مذاکرات کے دوران بھی دہشت گردانہ حملے جاری رکھ کر معصوم شہریوں کی جان و املاک کے ساتھ کھیلتے رہے۔ ان حالات میں ایک بھرپور آپریشن وقت کی ضرورت تھی۔ 10جون کو کراچی ایئرپورٹ پر حملے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں‘ اس واقعے نے اس آپریشن کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مزید برآں شمالی وزیرستان میں ازبک سمیت بیرونی جنگجوؤں اور دشمن ملک کی ایجنسیوں کے موثر رابطوں کے بھی شواہد ملے تھے۔ میران شاہ کے قیام کے دوران جلد ہی پتہ چل گیا کہ پاک فوج نے مقامی لوگوں ‘ جن کی آبادی لگ بھگ چھ لاکھ کے قریب ہے‘ کو انخلاء کے لئے ٹائم فریم دے دیا ہے تاکہ آپریشن کے دوران مقامی لوگوں کی جان و مال کا نقصان نہ ہو۔ علاوہ ازیں جرگوں کے ذریعے بھی مقامی عمائدین سے درخواست کی گئی کہ وہ بیرونی جنگجوؤں کو علاقے سے نکال باہر کریں تاکہ علاقے میں مستقل امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ مقامی صحافیوں کے ساتھ روابط سے بھی مجھے خبر مل رہی تھی کہ مقامی لوگوں کی بڑی تعداد بنوں اور دوسرے شہروں میں منتقل ہو چکی ہے۔ پاک فوج اور ٹوچی سکاؤٹس کے دستے اس انخلا میں مقامی لوگوں کی بھرپور مدد کر رہے تھے۔ میں میران شاہ کے علاوہ میرعلی‘ بویا اور دتہ خیل میں اس صورت حال کا جائزہ لیتا رہا۔

یہ تھے وہ حالات جن کے باعث حکومت پاکستان نے پاک فوج کو 15جون کو ضرب عضب کے آغاز کی اجازت دی۔ علاقائی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے فضائی حملوں کا آغاز کیا گیا۔ ایئرفورس اور آرمی ایوی ایشن کے شاہین تو ملک دشمن پر جھپٹنے کے لئے پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔ میرے لئے یہ بات بڑی حوصلہ افزا ہے کہ افسروں سے لے کر جوانوں تک ہر کوئی اس آپریشن کے لئے مکمل طور پر یکسو ہے۔ ضرب عضب ان کے ایمان کا حصہ ہے اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کرنے کے لئے وہ عزم صمیم رکھتے ہیں۔ میں نے ٹوچی سکاؤٹس کے جوانوں کو بھی جوش و جذبے سے لبریز پایا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ فوج‘ فوج ہوتی ہے اور پھر پاک فوج۔۔۔ یہ سوچ کر میرا دل فخر سے سرشار ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قوموں کی زندگی میں امتحانات آتے رہتے ہیں۔ انشاء اﷲ ضرب عضب کی کامیابی میں کوئی شک نہیں کیونکہ قوم متحد ہو کر فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ اس امتحان میں بھی سرخ رُو ہو گی۔لیکن قوم کے رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ ضرب عضب کا فکری جہاد بھی کریں۔ دہشت گردوں نے کمال مہارت سے مجلس شوری ‘ قرون اولی کے عظیم مجاہدوں کے نام اور دوسری اسلامی اصطلاحات استعمال کر کے قوم کو مغالطے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ درحقیقت یہ دہشت گردوں کا جتھہ ہے جو پاکستان کو معاشرتی و معاشی اور اقتصادی نقصان پہنچانے کے درپے ہے جس میں بیرونی قوتیں بھی شامل ہیں۔ یہ وہ درندے ہیں جو مسلمان تو کیا انسان بھی کہلانے کے متحق نہیں ۔ دہشت گردی ان کا کاروبار ہے۔ بار ہا دفعہ ان کے ٹھکانوں سے شراب‘ منشیات‘ غیر اخلاقی فلمیں‘ غیر ملکی کرنسی اور غیر ختنہ شدہ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ محراب و منبر اور مدرسے کی سمت درست کی جائے تاکہ ان کی اصلیت کے بارے قوم کو بتایا جا سکے۔ تعلیمی میدان میں انقلاب برپا کیا جائے اور دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ تادم تحریر زمینی آپریشن کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ آرٹلری گن کا سنسناتا گولہ رات کے اس پہر دہشت گردوں کی کمین گاہ پر گرا ہے جس کی دھمک میں نے اپنے کمرے میں بھی محسوس کی ہے۔ سپیدہ سحر نئی نوید کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے۔ رات کی کلفتیں چھٹتی جا رہی ہیں میرے دل میں یہ امید تقویت پکڑ رہی ہے کہ پھر کسی معصوم بچے کی آنکھوں میں اپنے والد کو دہشت گردی میں کھونے سے آنسو نہیں آئیں گے اور بے اختیار گنگنانے لگتا ہوں۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے‘ کھلا رہے صدیوں

یہاں سے خزاں کو گزرنے کی مجال نہ ہو

یہ تحریر 15مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP