انٹرویو

ضربِ عضب سے عضب خان تک

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب نے جہاں دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کو الٹے پاؤں بھاگنے پر مجبور کیا وہاں حکومت کی جانب سے مقامی قبائل کے نقل مکانی کرنے پربھی زوردیا گیا تاکہ سویلین آبادی کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچایا جاسکے ۔پاک فوج کی جانب سے زمینی آپریشن شروع کرنے سے پہلے علاقہ کے مکینوں نے اپنی بستیوں کو خیرآباد کہنا شروع کیا اور راتوں رات گھر کے گھر ٹرکوں پر لدے پھدے بنوں، لکی مروت ، ٹانک اور ڈی آئی خان کے علاقوں میں نقل مکانی کرنے پر تیار ہو گئے۔ نقل مکانی کرنے والے اِن افرادکے ہمراہ راستے کی صعوبتیں، پریشانیاں، نادیدہ مسائل، بے چینی، بے یقینی اور دربدری کی کیفیات بھی منزل بہ منزل چلتی ہوئیں اِن علاقوں کے قرب و جوار اور خیمہ بستیوں میں منتقل ہوچکی ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ٹھہری کہ انسانی زندگی میں پیش آنے والے مسائل، مصائب اور آلام درحقیقت امر باللہ ہیں جن سے نبٹنے کی ہمت و توفیق بھی عطائی ہوتی ہے۔ جہاں مسائل ہوتے ہیں وہاں مسائل کے حل کے لئے وسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں ۔
28 جون 2014 ء کی صبح جب ’’بکا خیل کیمپ‘‘ پر آسمانِ زردوکف کی چمکیلی اور بھڑکیلی کرنوں نے پورب سے پچھم اور اتر سے دکن تک حدت کی ایک چادر تان رکھی تھی۔ آسمانِ پُروقار تلے بسنے والے سبھی جاندار گرمی سے بے حال ہورہے تھے۔ سائے سمٹ چکے تھے۔۔۔جبینیں نمازِ استسقاء میں سجدہ ریز ہو چکی تھیں۔۔۔خدائے فطرت نے کُن کا حکم دیا۔۔۔اور فَیکُون کی تکمیل ہوئی۔ خیمہ بستی کے ایک خیمہ جس میں میران شاہ سے نقل مکانی کر کے آنے والے محمد عزیزخان نے رہائش اختیار کر رکھی ہے، کے خیمے میں ننھے فرشتے عضب خان نے آنکھ کھولی۔ ممتا، باپ اور دادی نے شکرانے کے آنسو پیش کئے۔۔۔خیمے میں موجود نئے فرشتے کی بہن بھائی خوشی میں جھومنے لگے اورہر کوئی ’’مبارک مبارک ، سلامت سلامت‘‘ کہنے لگا۔ننھا عضب خان خیمہ بستی کا سب سے کم سن مہمان ہو گیا اور خیمے میں بسنے والوں کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی آنکھ کا تارہ بن گیا۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے محمد عزیزخان کے خیمہ میں نئے مہمان عضب خان سے ہونے والی ملاقات اور اُس کے خاندان سے ہونے والی بات چیت پیش کی جارہی ہے: 
ہلال: محمد عزیزخان، بہت بہت مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹے کی خوشی عطا فرمائی، یہ بتائیں آپ کہاں سے آئے ہیں؟
والد عضب خان:ہم میران شاہ کے علاقہ چشمہ پل سے آیا ہے۔
ہلال:آپ کیمپ میں کب آئے تھے ؟
والد عضب خان:ہم کیمپ میں 20 تاریخ پر آیا ہوں اور یہاں کیمپ میں ہم تیسرا نمبر پر آیا تھا۔ 
ہلال:بیٹے کی پیدائش پرکیسا لگا؟
والد عضب خان:(خوشی سے خوب ہنستے ہوئے) یارا!بہت خوشی ہوا ہے۔ہم، ہمارا گھر والی، ہمارا ماں ، سب بچے بہت زیادہ خوش ہیں۔ 
ہلال:آپ کو بیٹے کی پیدائش کی خبر کس نے دی؟
والد عضب خان:(سوچتے ہوئے ) ہم وہیں ٹینٹ کے پاس ہی موجود تھا جب ہمارے کو بیٹے کی پیدائش کا خبر ہمارا ماں نے دیا ۔ 
ہلال:خبر سن کر آپ کے منہ سے سب سے پہلے الفاظ کیا نکلے؟
والد عضب خان:الحمد للہ۔۔۔ہم بولا یہ پردیس میں، سفر میں جب ہم اپنے علاقہ میں بھی نہیں ہے یہ اللہ کا شکر ہے جس نے ایسا خوشی دیا۔
ہلال:بیٹے کی پیدائش پر سب سے پہلے مبارک باد کس نے دی؟
والد عضب خان:(مسکراتے ہوئے) ہمارا ماں نے ہم کو خبر بھی دیا اور مبارک باد بھی بولاہے۔
ہلال:کیا یہاں پر علاج معالجے کی سہولیات میسر ہیں؟
والد عضب خان:بالکل ہے۔۔۔ یہاں کیمپ میں فوجی ڈاکٹر بھی ہے اور دوائی بھی ملتا ہے۔ 
ہلال:کیا بیٹے کی پیدائش کے وقت ہسپتا ل کے عملے میں سے کوئی موجود تھا؟
والد عضب خان:ہاں! ایک عورت تھا جس نے آکر ہماری گھر والی کو دیکھا بھی، دوائی بھی دیا اور انجکشن بھی لگایا تھا۔ 
ہلال:بیٹے کا نام عضب خان کیوں رکھا؟
والد عضب خان:ہم لوگ فوج کے کام سے بہت متاثر ہے، یہ لوگ دن رات ہمارے واسطے لڑتا ہے، کام کرتا ہے، یہ ہمارے علاقے میں جو آپریشن کرتا ہے اسی کے نام پر ہم نے عضب خان رکھا ہے۔ 
ہلال:کیا عضب خان کے معانی اور تاریخ معلوم تھی ؟
والد عضب خان:یہیں پر فوجیوں سے سنا ہے، یہ ہمارا نبی ﷺ کے تلوار کا نام ہے۔ 
ہلال:اِس کے علاوہ کتنے بچے ہیں؟
والد عضب خان:عضب خان کے علاوہ سے بھی ہمارا چھ بیٹے ہیں اور دو بیٹی ہے۔ 
ہلال:گھر میں بچوں کی تربیت کون کرتا ہے؟
والد عضب خان:ہماری ماں اور ہمارا گھر والی کرتا ہے۔ 
ہلال:عضب خان کی کیسی تربیت کرنا چاہو گے؟
والد عضب خان:اچھا کرے گا، ہم اِ س کو پڑھائے گا تاکہ سرکاری نوکری کرے۔ 
ہلال:عضب خان کو بڑے ہو کر کیا بنانا چاہو گے؟
والد عضب خان:(مسکراتے ہوئے) یارا! کسی محکمے میں ملازم کرے گا تاکہ ملک کی خدمت کرے اور یہ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ یہ ملک کیخدمت کرے گا۔ اﷲ نے چاہا تو فوج میں ضرور جائے گا۔
ہلال:عضب خان کو گھٹی کس نے ڈالی ہے؟
والد عضب خان:(کھل کر ہنستے ہوئے) یارا! ہم کو نہیں پتہ ہے ، ہمارے علاقہ میں ایسا کم ہوتا ہے بس ماں ہی سب کرتا ہے۔ 
ہلال:عضب خان کو سب سے پہلا تحفہ کس نے اور کیا دیا؟
والد عضب خان:کیمپ میں میجر صاحب نے روم کولر بھیجا تھا۔ 
ہلال:اب تک اور کیا کیا تحائف ملے ہیں؟
والد عضب خان:(مسکراتے ہوئے) اب تک فوج کی جانب سے بہت پیار ملا اور بہت تحفہ ملا ہے، 
ہلال:کیا بچے سکول جاتے ہیں؟
والد عضب خان:ہاں! سب بچوں نے مدرسہ کا تعلیم کیا ہے اور سکول بھی جاتا ہے۔ 
ہلال:بچے کون کون سی جماعتوں میں زیرِ تعلیم ہیں؟
والد عضب خان:بس یارا! کلاسوں کا ہم کو صحیح پتہ نہیں ہے۔
ہلال:کیا آ پ کے علاقے میں سکول ہیں؟
والد عضب خان:سکول ہے لیکن سرکاری نہیں ہے، پرائیویٹ ہے جوہر بچے کا دوسو روپیہ لیتا ہے۔ 
ہلال:آپ میران شاہ میں کیا کام کرتے تھے؟
والد عضب خان:مزدوری کرتا تھا، کچھ زمین ہے اس پر فصل مصل لگاتا تھا۔ 
ہلال:کیا کیمپ میں میڈیکل کی سہولیات ہیں؟
والد عضب خان:بالکل ہے، یہاں پر ڈاکٹر بھی آتا ہے اور دوائی بھی ملتا ہے۔ 
ہلال:کیا تمہارے گاؤں چشمہ پل میں ایسی میڈیکل کی سہولیات میسر تھیں؟
والد عضب خان:(سوچتے ہوئے) یارا! نہیں وہاں ہم کو دور جانا پڑتا تھا۔ 
ہلال:کیاآپ کیمپ میں ملنے والی سہولیات سے مطمئن ہیں؟
والد عضب خان:بالکل مطمئن ہے۔ 
ہلال:یہاں پر عضب خان اور آپ کے لئے کے کھانے پینے کا کیسا انتظام ہے؟
والد عضب خان:یہاں پر ہم کو سب کچھ کھانے کو ملتا ہے، صبح بن ہوتا ہے ، چائے ہوتا ہے، دن کو بھی کھانا پکا ہوا ملتا ہے اور رات کو بھی کھانا پکا ہوا ملتاہے۔ دن میں دو بار چائے بھی ملتا ہے۔ یہاں سب کچھ ملتا ہے۔ 
ہلال:کیا یہاں پر خوش ہو؟
والد عضب خان:بہت خوش ہے لیکن اپنا گھر ہم کو یاد آتا ہے ، اور بہت جلدی ہم واپس گھر میں جائے گا۔ انشاء اللہ
ہلال:آپریشن ضربِ عضب کے بارے میں کیا کہنا چاہو گے؟
والد عضب خان:حکومت نے بہت اچھا کیا ہے، فوج ہمارا علاقہ میں آپریشن کر ے تو ہمارا علاقہ صاف ہو جائے گا۔ 
ہلال:آپریشن کے کامیاب خاتمے پر اپنے علاقے میں پہلا کام کیا کرنا چاہو گے؟
والد عضب خان:جب آپریشن ختم ہو جائے گا تو ہمارا وطن بھی بحال ہو جائے گا تو ہمارا حکومت سے اپیل ہو گا کہ ہمارا علاقہ میں سکول بنائے تاکہبچے تعلیم لیں اورپہاڑوں میں نہ جائے۔ بچوں کے واسطے تعلیم بہت ضروری ہے ، پڑھے گا تو اچھا راستے پر چلے گا، یہ آنکھیں ہیں جن سے راستہ دکھائی دیتا ہے اگر تعلیم نہیں ہے تو راستہ بھی نہیں ہے انسان اندھا ہے۔ 
ہلال:اپنے ملک پاکستان کے لئے کو ئی پیغام دینا چاہو گے؟
والد عضب خان:ملک کے لئے پیگام ہے کہ خانہ جنگی ختم کرے، دہشت گردی ختم کرے اور اس ملک سے گندگی کا صاف کرے تاکہ ہمارا لوگ پہاڑوں میں نہیں جائے اور باہر والے دہشت گردوں کو بھی صاف کرے اور امن پیدا کرے۔ 
ہلال:آخر میں کوئی شعر پشتویا اردو میں جو یاد ہو ، سنانا چاہو گے؟
والد عضب خان:(مسکراتے ہوئے) یارا ! ہم کو شعر نہیں آتا ہے۔۔۔(ہمارے اصرار پر جیب میں رکھے بٹوے کی سائیڈ میں رکھے وزٹینگ کارڈ پرلکھے شعر ہمارے حوالے کر دیے جواس نے کہیں سے اچھے لگنے پر دیکھ کرلکھے اور بٹوے میں رکھ لئے، آپ بھی سنیے):
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کِھلے، کھلا رہے صدیوں
یہاں سے خزاں کو گزرنے کی مجال نہ ہو

ضربِ عضب

بہت ہو چکے یہ ظلم و ستم

کیفیتِ غدر بہت برپا کرچکے تم

روکنے کو ظالم کو ظلم سے

دیکھ اب میداں میں عضب آئی ہے

جذبہ شہادت سے سرشار

مجاہدوں کی فوج آئی ہے

اُٹھ دیکھ تو سہی یہ کون آئے ہیں؟

پہچان ان کو یہ کون ہیں؟

ضربِ عضب لگانے اب وارثِ عضب آئے ہیں

پہچان یہی تو پاسدارانِ حرم ہیں

یہی تو محمدؐ کے لشکر کے جرّار ہیں

دیکھ یہی تو وارث جذبۂ خیبر شکن ہیں

میداں میں توحید کے پرچم کو کئے سربلند ہیں

عضب لئے اب میداں سجانے کو چل دیئے

دہشت کے گھنے بادلوں کو مٹانے کو چل دیئے

دشمن کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کو چل دیئے

تمام سازشوں کو خاک میں ملانے کو چل دیئے

سبز ہلالی پرچم پاک فضاؤں میں لہرانے کو چل دیئے

اے فوجِ پاک قوم کو ہے تم پر یقین

نصرمن اﷲ و فتح قریب

سید قمرعباس

یہ تحریر 19مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP