قومی و بین الاقوامی ایشوز

ضربِ عضب۔ ایک عزم کی داستان

اُس شام سورج جب تانبے کے تھال کی شکل لئے دھیرے دھیرے دریائے ٹوچی کے پار اتر رہا تھا‘ میں اپنے عقب میں کھڑے اُس فوجی جوان کے جملوں پر غور کررہا تھا جس نے کہا تھا۔ ’’سر ! اِن دہشت گردوں نے ہمارے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے معصوم بچوں‘ عورتوں اور بے گناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے۔ یہ مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔ ہم ان کا پہاڑوں اور جنگلوں میں ہر جگہ پیچھا کریں گے۔‘‘ اس کی عقابی آنکھیں دہشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر جمی ہوئی تھیں اور اس کے دل سے نکلتے ہوئے الفاظ اس کے پختہ عزائم کے مظہر تھے۔
تھوڑی دیر قبل ہی مجھے اطلاع ملی تھی کہ دریائے ٹوچی کے ساتھ ایک مخصوص علاقے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی وجہ سے فوجی کارروائی متوقع ہے ۔ہم جب وہاں پہنچے تو ہمارے جوان پوری مستعدی سے اپنی پوزیشنز پر موجود تھے جبکہ نوجوان آفیسرز دوربین آنکھوں سے لگائے ان کو ہدایات دے رہے تھے۔میں نے صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے کوریج کے لئے کیمرہ مینوں کو ہدایات دیں۔ اسی دوران میں جوانوں سے ان کے مورال کی کیفیت دیکھنے کے لئے گپ شپ بھی لگاتا رہا اور پھر شام ڈھل گئی‘ سورج ڈوب گیا۔ فضا میں جھینگروں کی آواز خاموشی پر غالب آچکی تھی لیکن بزدل دہشت گرد کہیں دبک کر بیٹھ گئے تھے۔
دوسری طرف انٹیلی جینس ذرائع کی تصدیق کے بعد پاک فضائیہ کے شاہین ‘ آرمی ایوی ایشن کے کوبرا ہیلی کاپٹرز ‘ آرٹلری کی گنیں اور چنگھاڑتے ہوئے ٹینکوں کے گولے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور مواصلاتی نظام کو تہس نہس کررہے تھے۔ ہر روز درجنوں دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات مل رہی تھیں۔ کچھ علاقائی صحافیوں کے ساتھ رابطے کی وجہ سے ان ہلاکتوں کی تصدیق بھی ہو رہی تھی۔
رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا تھا۔ ہوائی آپریشن دو ہفتے سے چل رہا تھا اور اس کے بہتر نتائج بھی آرہے تھے۔ سویلین آبادی کا انخلاء ہوائی آپریشن سے قبل ہی مکمل ہو چکا تھا۔ 
رمضان المبارک کی بدولت گولڈن ایرو ہیڈکوارٹر کی مسجد کی رونق میں بھی اضافہ ہوچکا تھا۔ اب زمینی کارروائی کی شنید تھی۔ اس رات ہیڈکوارٹر کی راہداریوں میں چہل پہل‘دفتروں میں نقشوں کی مارکنگ اور چھوٹی سے چھوٹی آپریشنل جزئیات پر غور وفکر جاری تھا۔ اپنی ٹیم کے ساتھ ضروری Coordinationکے بعد میں مطمئن تھا۔ پہلی سحری کے ساتھ ہی میران شاہ کے تین اطراف سے زمینی کارروائی کی تیاری تھی۔ صبح صادق‘ صبح کاذب پر غالب آرہی تھی۔ کمانڈنگ آفیسرز‘ نوجوان آفیسرز اور جوان سب کے چہروں پر عجیب جوش و خروش تھا اور پھر نعرۂ تکبیر کے ساتھ ہی چنگھاڑتے ہوئے ٹینکوں کے ہمراہ زمینی کارروائی کا آغاز ہوگیا۔ اصل خطرہ آئی ای ڈیز‘ مختلف مقامات پر چھپے ہوئے نشانہ بازوں اور خود کش حملہ آوروں سے تھا۔ انجینئرزکے جوان‘ کتوں اور دوسرے آلات کی مدد سے‘ علاقہ کلیئر کرتے اور اس کے بعد انفنٹری اور SSG کے جوان آگے بڑھتے۔ تقریباً دس دن میں میران شاہ جو کہ دہشت گردی کا ایک بہت بڑا مرکز تھا‘ فوج کے قبضے میں آچکا تھا۔
دہشت گردوں نے بڑے بڑے گھروں‘ گوداموں‘ اور آٹے کی ملوں کو دہشت گردی کے مراکز میں تبدیل کر رکھا تھا۔ خودکش جیکٹس‘ بے شمار آئی ای ڈیز‘ اسلحے کے ذخائر‘ گمراہ کن جہادی اور دہشت گردی پھیلانے کے متعلق لٹریچر کے علاوہ ہر ممکنہ چیز میسر تھی جس سے نوعِ انسانی کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ کئی ٹنوں پر مشتمل بارود کو تلف کرنا بھی ایک حساس اور اہم ذمہ داری تھی۔ جس کا مرحلہ وار آغاز ہو چکا تھا۔
یہاں پر آئی ای ڈیز کی نشاندہی کرنے والے کتوں کا ذکرکرنا بھی ضروری ہے جنہوں نے بار ہا ان کی بروقت نشاندہی کی اور قیمتی جانیں بچائیں‘ اگرچہ وہاں قیمتی آلات سے تلاشی لی جا چکی ہوتی تھی۔ ایسا ہی منظر ایک ٹب مارکہ جو دہشت گردوں کا ایک بڑا ٹھکانہ سمجھا جاتا تھا میں پیش آیا۔ آلات کی مدد سے لی جانے والی تلاشی کے بعد کتے کی نشاندہی کے بعد وہاں نصب آئی ای ڈیز کو نکالاگیا جس سے ایک بڑے جانی نقصان سے بچت ہوگئی۔ میران شاہ کے بعد آپریشن آہستہ آہستہ دتہ خیل ‘ بوئیا اور میرعلی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے آپریشن کی کامیابیوں کے بعد علاقے کا تفصیلی دورہ کیا اور افسروں اور جوانوں کے عزم و حوصلے کی تعریف کی‘ جو اپنا آج قربان کرکے قوم کے کل کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند دہشت گردوں کی راہ میں حائل تھے۔ اسی دوران میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بین الاقوامی اور ملکی صحافیوں کے ہمراہ علاقے کا دورہ کیا۔ صحافیوں کو ڈویژن ہیڈکوارٹرز میں ایک تفصیلی بریفنگ دی جس میں اہم کامیابیوں اور مستقبل کے اہداف کے بارے میں بتایا گیا۔ صحافیوں نے میران شاہ میں ان مقامات کا بھی دورہ کیا جہاں دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مواد کے کارخانے بنا رکھے تھے۔ اس کے علاوہ وہاں سے دریافت ہونے والے اسلحے کا بھی انہوں نے خود معائنہ کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ضربِ عضب نے دہشت گردوں کی کمر تور کر رکھ دی ہے۔ انہوں نے پراپیگنڈے کے ذریعے پورے ملک میں جو خوف کی فضا قائم کر رکھی تھی اس غبارے سے بھی ہوا نکل گئی۔ لیکن آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی بھی شہداء کے خون کے نذرانے سے ہی ممکن ہو سکی ہے۔ جہاں سینکڑوں دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں وہاں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے بھی اس چمن کی آبیاری میں خون کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ کیپٹن آکاش ربانی بھی اسی راہ کا مسافر تھا جس نے سینے پر گولیاں کھا کر جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ کامیابیوں کا یہ سفر خون کے نذرانوں کے بغیر طے نہیں ہوتا۔ یہ سفرجاری ہے اور انشاء اﷲ شمالی وزیرستان کے ایک ایک انچ سے دہشت گردوں کا صفایاہونے تک جاری رہے گا۔ آپریشن کے بعد مقامی لوگوں کی بحالی کا مرحلہ ہے جو قوم کے تعاون اور ایثار کے جذبے سے بخوبی طے پاجائے گا۔ مقامی آبادی کے اس انخلاء کا سب سے بڑا فائدہ بچوں کو پولیو کے قطروں تک رسائی اور دوسرا نادرا کے نیٹ ورک میں شمولیت ہے۔ پولیو کے قطرے نہ پلانے کی وجہ سے اس علاقے میں اس موذی مرض کی وبا تیزی سے پھیل رہی تھی جو پاکستان میں دوسروں علاقوں تک پھیل سکتی تھی۔ مزید برآں‘ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی خراب ہو رہی تھی اور دوسرے ممالک پاکستان کے سفر کرنے والے مسافروں پر پابندی عائد کرنے کا سوچ رہے تھے۔ نادرہ کے مؤثرنیٹ ورک اور مواصلاتی نظام کی کڑی نگرانی سے غیرملکی دہشت گردوں کی ناکہ بندی میں بھی آسانی ہو جائے گی۔ اب مستقل طورپر مقامی لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایسے عناصر کی بیخ کنی کریں اور کسی بھی ایسے شخص کو مال و دولت کے لالچ میں پناہ نہ دیں جو آنے والی نسلوں کے لئے باعثِ عذاب ثابت ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر کئے جانے والے اقدامات کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔ اس علاقے کے لوگ انتہائی ذہین اور محنتی ہیں۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ان کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ برسرِ روزگار ہو کر ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتوں کا جال بچھایا جائے۔ قانون پر عملداری کے لئے پولیسنگ سسٹم بنایا جائے تاکہ یہ لوگ کسی بھی صورت میں مستقبل میں دہشت گردوں ملک دشمنوں کا آلہ کار نہ سکیں۔ اگرچہ اس وقت پوری قوم فوج کی پشت پر کھڑی ہے اوروہ یہ چاہتی ہے کہ دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ابھی بھی ہمارے معاشرے کے کچھ لوگ علمی مغاطے کا شکار ہیں اور وہ معصوم لوگوں کو بھی اس مغالطے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاک فوج مسلمانوں کے ساتھ جنگ کررہی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ لوگ اسلام کا نام استعمال کرکے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ قرآن اور اﷲ کے رسول ﷺ نے واضح طور پر ایسے لوگوں کو گمراہ اور فاسد قرار دیا ہے۔ اﷲ کے رسولﷺ نے تو اس مسجد کو بھی گرانے کا حکم دے دیا تھا جہاں کچھ منافقین مسلمانوں کے اندر تفریق ڈالنے کی کوشش کررہے تھے۔ 
یہ باغی‘ خارجی اور منافقین کی وہی نسل ہے جو قرونِ اولیٰ کے دور میں پیدا ہو چکی تھی اور اکابر اصحاب رضی اﷲ تعالی عنہم نے ہمیشہ ان کے خلاف جہاد اور قتال کیا۔ القاعدہ اور طالبان کو اگر اتنا ہی اسلام کا درد تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ پیسہ جو انہوں نے دہشت گردی کے لئے استعمال کیا‘ عالمِ اسلام میں جدید تعلیمی ادارے بنانے میں استعمال کرتے تاکہ وہ آنے والی نسلوں میں سے ایسے لوگ تیار کر سکتے جن کے علم اور دانش کے سامنے یورپ اور امریکہ کی نظریں خیرہ ہو جاتیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ تمام لوگ اسلحہ‘ گاڑیاں‘ ادویات اور ٹیکنالوجی کے لئے تو مغرب کے حاجت مند ہیں لیکن بات اسلام کی کرتے ہیں۔ احیائے اسلام کا تصور وہ صرف مسلح جدوجہد کو سمجھتے ہیں اور معصوم اور کچے ذہن کو لوگوں کا بہیمانہ استعمال کرتے ہیں۔اﷲ کے رسولﷺ نے تو ایک دفعہ جہاد سے واپس آتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم جہادِ صغریٰ سے جہادِ کبریٰ کی طرف جارہے ہیں۔ اصحاب رضی اﷲ عنہم نے حیرت سے پوچھا کہ جہاد بالسیف سے بڑا جہاد کیا ہوسکتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا جہاد بالنفس۔ یعنی ایک مضبوط معاشرتی نظام جسے علم وعمل کی روشنی سے ہی منور کیا جاسکتا ہے۔

یہ تحریر 14مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP