خصوصی رپوٹ

صوبہ کے پی کے بالخصوص قبائلی اضلاع میں کیڈٹ کالجز

آج کے اس تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ آج کمپیوٹر کا دور ہے۔سائنس اور صنعتی تر قی کا دور ہے۔ اٹیمی ترقی کا دور ہے۔ مگر سکولوں میں بنیادی تعلیم، انجینئرنگ، وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کر نا آ ج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔ جدید تعلیم تو ضروری ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی اہمیت بھی اپنی جگہ پر ہے اور انسان کو انسانیت سے دوستی کے لیے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ اس تعلیم کی وجہ سے زندگی میں عبادت، محبت ، خلوص، ایثار، خدمتِ خلق اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح اور نیک معاشرہ کی تکمیل ہو تی ہے۔ماضی میں گورنمنٹ سکولوں میں تعلیم معیاری ہوتی تھی۔اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والوں کی بڑی تعداد انہی سکولوں کی فارغ التحصیل ہوا کرتی اور فخر سے کہا جاتا تھا کہ وہ گورنمنٹ سکولوں سے پڑھ کر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر اگر پاکستان میں اردو اور انگریزی نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اب پرائیویٹ تعلیمی ادارے حاوی ہو گئے ہیں ۔گورنمنٹ سکولوں میں تعلیم کا معیار کافی حد تک گرِا بھی ہے اور ان اداروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات خود کو احساس کمتری کے شکار میں مبتلا پا تے ہیں۔اگر پاکستان میں تعلیم کے نظام پر ایک نظر دوڑائی جائے توپاکستان میں حصول تعلیم کے لیے مختلف نظام رائج ہیں۔جس میں کیمرج،نجی پرائیویٹ، انگلش میڈیم سکول،فیڈرل بورڈ اورصوبائی ٹیکسٹ بورڈ شامل ہیں۔



پاکستان میں شرح تعلیم دنیا کے کئی ممالک سے بہت کم ہے۔ 2017ء کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں شرح تعلیم 59 فیصد تھی ان میں اکثریت ان کی تھی جو کم از کم اپنا نام لکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔خواتین میں یہ شرح 47 فیصد ریکارڈ کی گئی۔پاکستان میں کون سا نظام تعلیم کامیاب ہے اور سارے ملک میں یکساں نظام تعلیم کیوں نہیں یہ ایک طویل بحث طلب موضوع ہے ۔
اب اگر خیبر پختون خوا میں تعلیم کی بات کی جائے تو صوبے میں شرح تعلیم تقریبا 55فیصد ہے ۔ پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں تو یہ شرح خاصی کم ہے۔حکومت تعلیم کے فروغ میں کیا کردار ادا کر رہی ہے اور کیا ان کوششوں کے نتیجے میں شرح تعلیم میں اضافہ ہو گا یا نہیں اگر بغور جائزہ لیا جا ئے تو پتا چلتا ہے کہ خیبر پختو نخوا میں کیڈ ٹ کالجز کی تعداد باقی تمام صوبوں سے زیادہ ہے۔
 کل کے فاٹا اور آج کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقی کے حوالے سے خاصے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔موجودہ حکومت کی خواہش ہے کہ ماضی کے قبائلی علاقے جو خیبر پختون خوا میں شامل ہو چکے ہیں میں معاشی و اقتصادی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو۔اس سلسلہ میں جہاں سالانہ ایک سو ارب روپے دس سال تک ان علاقوں کی ترقی کے لئے خرچ کئے جائیں گے وہیں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ صوبے اور وفاق کی جانب سے مزید وسائل بھی فراہم کئے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کام ان علاقوں میں ہو سکیں۔



چونکہ قبائلی علاقوں کے عوام نے قیام پاکستان اور پھر استحکام پاکستان میں قابل قدر خدمات انجام دیں اس لئے انہیں بھی قومی دھارے میں لانا ضروری تھا، لیکن اس سے پہلے ہی ایک طویل عرصہ تمام قبائلی علاقے دہشت گردی کا شکار ہو گئے۔ اگر یہ کہا جائے کہ دہشت گردوں نے محب وطن قبائلیوں کو یرغمال بنا لیا تو قطعی غلط نہیں ہو گا۔جب دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس وقت بھی ایک کیڈٹ کالج کی تعمیر کا کام مکمل کر لیا گیا تھا۔بعد میں مزید چار کالج اور بنے۔اگر تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو کیڈٹ کالج کوہاٹ جو 1964 ء میں قائم کیا گیا اس میں طلباء کی تعداد 500 ہے۔کیڈٹ کالج رزمک میں500 ہی طلباء زیر تعلیم ہیں۔گیرژن کیڈٹ کالج کوہاٹ میں 550 طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔کیڈٹ کالج ورسک میں تقریباً500 طلباء زیر تعلیم ہیں۔کیڈٹ کالج وانا جو 2011 ء میں تعمیر کیا گیا  وہاں400 طلباء زیر تعلیم ہیںاوراسی سال کرنل شیر خان کیڈٹ کالج صوابی کی تعمیر ہوئی اور آج کل اس میں 600 طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔کیڈٹ کالج سوات میں جسے 2012ء میں تعمیر کیا گیا 500 طلباء زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں اور اسی سال کیڈٹ کالج سپنکئی بھی تعمیر ہوا جس میں 204 طلباء زیر تعلیم ہیں۔کیڈٹ کالج مہمند بھی 2019 ء میں قائم کر دیا گیاہے جو کہ رواں سال میں اپنی تعلیمی سر گر میوں کا آغاز کر دے گا۔جبکہ حال ہی میں وزیر اعلیٰ محمود خان نے اورکزئی میں بھی کیڈٹ کالج کی منظوری دے دی ہے۔ ان اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صوبائی حکومت اور پاک فوج نے خاص طور پر قبائلی علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لئے چھ کیڈٹ کالج تعمیر کئے۔ مزید ایک بہت جلد تعمیر کر لیا جائے گا۔کیڈٹ کالج کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں انتہائی ذمہ داری کے ساتھ ترتیب دی جاتی ہیں جس میں طلباء کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کی بھی نشوو نماکی جاتی ہے ۔کیڈٹ کالجز کا مقصدسیلیکٹ ہو ئے نوجوانوں میں علم، ہنر، شخصیت اور ترقی کے نظریہ کے ساتھ معیاری تعلیم کی  فراہمی ہے۔ کیڈٹوں کا کردارانھیں ذمہ دار شہری اور روشن خیال رہنما بنانا، تعلیمی فضیلت، شخصیت کی نشوونما، کردارسازی،مذہبی اور قومی اقدار کا فروغ قیادت کی خصوصیات اور جسمانی نشوونما اس کے مقاصد میں شامل ہیںیہی وجہ ہے کہ حکومت اور پاک فوج نے مل کر قبائلی اضلاح میں کیڈٹ کالجز کے قیام کے لئے بہترین منصوبہ بندی کی۔



کیڈٹ کالج کوہاٹ
کیڈٹ کالج کوہاٹ خیبرپختونخوا میںسب سے پہلے بننے والاکیڈٹ کالج ہے اس کا سنگ بنیاد گورنر مغربی پاکستان، ملک امیر محمد خان نے 19 اپریل 1964میں رکھا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل(ریٹائرڈ)فیض اللہ خٹک(مرحوم) کو اس کے پہلے پرنسپل ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اس کے موجودہ پرنسپل  بریگیڈیر(ریٹائرڈ) محمد خان ہیں ۔اس کالج میںکُل سات ہائوس ہیں۔محمد ہمایوں خان سابقہ فنانس منسٹر خیبرپختونخوا،پاک فوج کے مایہ ناز آفیسر میجر جنرل شاکراللہ خٹک جواس وقت جنرل آفیسر کمانڈنگ میران شاہ ،شمالی وزیرستان میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں اِن کو کیڈٹ کالج کوہاٹ اور کیڈٹ کالج رزمک میں تعلیم حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے ۔
کیڈٹ کالج رزمک
رزمک بنوں کے جنوب مغرب میں 120 کلومیٹر اور میرانشاہ کے شمال مغرب میں 80 کلومیٹر شمال مغرب کی سطح پر 6500 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ آزادی سے پہلے، رزمک برٹش آرمی سٹیشن تھا۔ یہ برطانوی فوج کا سب سے بڑا بیچلر کیمپ ہوا کرتا تھا۔ اسے '' لِٹل لندن'' کہا جاتا تھا۔ 1975 میں، بنیادی طور پر تمام قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کومعیاری تعلیم اورتربیت  کے لئے ایک نیا کیڈٹ کالج بنانے کافیصلہ کیا گیا تھا۔ 
  رزمک میں 27 دسمبر 1977 کے صدارتی آرڈر کے ذریعے کالج قائم کیا گیا۔ کالج نے 1978 میں کام کرنا شروع کیا۔ ابتدائی طور پر 100 کیڈٹوں کا ایک دستہ مارچ 1978 میں اس کالج میں شامل ہوا۔ کیڈٹوں کو ساتویں، آٹھویں اور نویں جماعت میں داخلہ دیا گیا تاہم، 2012 میں ساتویں جماعت میں داخلہ روک دیا گیا تھا۔ 2013  سے 8ویں کلاس کے لئے کیڈٹوں کا انتخاب کیا گیا۔اس کالج میں اب تک 500 سے زیادہ ڈاکٹرز، 415 انجینئرز، 475 افسران افواج میں آفیسرز اور 600 سے زائد  دوسرے شعبوں جیسے سول سروسز، آئی ٹی، سیاست، تعلیم وغیرہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں،  دہشتگردی کی وجہ سے اس کالج کو 2009 میں پشاوراور پھر کچھ عرصہ کے لیے نو شہرہ منتقل کیا گیا ۔اورپھر2015واپس رزمک میں اپنے اصل  مقا م پر منتقل کردیاگیا۔پاک فوج کے حاضر سروس مایہ نازآفیسرکرنل شفقت اس کے پرنسپل کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ۔
گریثرن کیڈٹ کالج کوہاٹ
گیریژن کیڈٹ کالج کوہاٹ، کوہاٹ سٹی کے خوبصورت مضافاتی علاقے میں واقع ہے۔ اس کالج کا سنگ بنیاد یکم مارچ 1990کو اس وقت کی وزیراعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو نے رکھا ۔ اس کالج کا افتتاح 10 مئی 1993 کو اس وقت کے کوارٹر ماسٹر جنرل آف پاکستان آرمی، لیفٹیننٹ جنرل محمد عارف بنگش نے کیا۔ باقاعدہ کلاسز مارچ 1993 میں شروع ہوئیں۔ پہلے پرنسپل کرنل(ریٹائرڈ) محمد ادریس نیازی  تھے۔جبکہ موجود ہ پرنسپل ندیم اختر حسین ہیں ۔

کیڈٹ کا لج ورسک
خیبرپختونخوا کے دارلحکومت پشاور کے نواح میں واقع پشاور ڈویژن میں کیڈٹ کالج ورسک اپنی نوعیت کا پہلاکالج ہے۔ یہ فرنٹیئر کور (کے پی )کے تحت فرنٹیئر کور ویلفیئر فاؤنڈیشن کا منصوبہ ہے۔ یہ کالج آلودگی سے پاک ماحول والی ایک خوبصورت جگہ پر فاؤنڈیشن کی ملکیت 60 ایکڑ اراضی پرمحیط ہے۔ یہ کالج ورسک ڈیم پر دریائے کابل کے کنارے خیبر اور مہمند کو پار کرنے والے پہاڑی سلسلوں کے دامن میں واقع ہے۔
 کالج کے چار ہائوس ہیں ۔ فرنٹیئر کور (کے پی )کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک ہائوس کو'' شہید ہاؤس'' کا نام دیا گیا۔ دوسرے ہاؤس کا نام ''شیر شاہ سوری ہاؤس'' عظیم بادشاہ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ تیسرا ہاؤس ''جناح'' قوم کے بانی محمد علی جناح کے نام پر رکھا گیا ہے جبکہ چوتھے ہائوس کانام عظیم شاعر علامہ اقبال کے نام پر رکھا گیا ہے۔
کیڈٹ کالج وانا
سابقچیف آ رمی سٹاف جنر ل اشفاق پر ویز کیا نی نے ٹانک گو مل زام وانا روڈ کا افتتاح کر تے ہو ئے 15 فروری  2010 کو کیڈٹ کالج وانا کے قیام کا اعلان کیا۔
 وانا جنو بی وزیرستان کا ایک تاریخی قصبہ ہے جو ڈیر ہ اسماعیل سے140کلو میٹر شمال مغرب میں ، سطح سمندر سے 4850 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ اسے جیول آف ساؤتھ وزیرستانJewel of South Waziristan) (بھی کہتے ہیں۔پاک فوج کے حاضر سروس مایہ نازآفیسرکرنل اشتیاق اس کے پرنسپل کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ۔
کرنل شیر خان کیڈٹ کالج صوابی
کیڈٹ کالج صوابی کارگل محاذکے شہید کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے نام سے منسوب ہے ۔اس کالج کا باقاعدہ آغاز 2011میں ہوا۔
یہ ایک اہم منصوبہ ہے جو خاص طور پرکے پی کے نوجوانوںاور ملک کے باقی حصوں کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔کرنل شیر خان کیڈٹ کالج صوابی کے موجودہ پرنسپل بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) واجد قیوم پراچہ ہیں۔



کیڈٹ کالج سوات
کیڈ ٹ کالج سوات اسلام آباد سے 300 کلومیٹر اور پشاور سے 180 کلومیٹر کے فاصلے پر، سوات کی خوبصورت وادی کے علاقہ گلی باغ میں واقع ہے۔اس کالج کا باقاعدہ آغاز2012میں ہوا۔کالج کے موجودہ پرنسپل بریگیڈیئر (ریٹائرڈ)خالد نذیر ہیں۔
سوات کی قدرتی خوبصورتی کے درمیان کیڈٹ کالج کا قیام، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے عوام کی عظیم قربانیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ 
کیڈٹ  کالج سپنکئی
کیڈٹ کالج سپنکئی کے قیام کا مطالبہ جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے نے کیا۔ اس کالج کے لیے 730 کنال (92 ایکڑ) اراضی محسودقبیلے نے عطیہ کی۔سپنکئی جنو بی وزیرستان کا ایک تاریخی قصبہ ہے۔
 گورنر (کے پی )کی رہنمائی میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز کی حیثیت سے کالج کو اے ڈی پی پروجیکٹ کے طور پر فاٹا سیکرٹریٹ نے مالی اعانت فراہم کی۔ مارچ 2014 میں آرمی انجینئرز کی براہ راست نگرانی میں تعمیر شروع ہو ئی   جو کہ مئی 2016 میں مکمل ہوا۔ اس کا باضابطہ افتتاح اس وقت کے چیف آ ف آرمی سٹاف، جنرل راحیل شریف نے کیا۔ اس کالج کے پہلے پرنسپل ہونے کا اعزازکرنل محمد وسیم الحق کو حاصل ہے۔ اس وقت کیڈٹ کالج سپنکئی میں 200 کیڈٹ زیرِتعلیم ہیں۔



پاک فو ج نے قبائلی علاقوں میں دہشگردی کی جنگ میں کامیابی کے بعد حکومتِ پاکستان کے ساتھ مل کر تعلیم کے فروغ کے لیے عمومی طور پر KPاور خصوصی طور پر قبائلی اضلاع میں کیڈٹ کالجز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ آرمی پبلک سکولز کا ایک جال بچھا دیا ہے۔ پہلے سے مو جو د سکولوں کو بہتر کر دیا گیا ہے اور ایجوکیشنل کمپلیکس بھی بنائے گئے ہیں۔پائندہ چینا(خیبر) میں تعمیر کیا گیا ایجوکیشنل کمپلیکس اپنی مثال آ پ ہے۔ جہاں پر دور دراز سے آ نے والے طالب علموں کے لیے معیاری رہائش یعنی ہاسٹل کا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔ پارہ چنار کا آ رمی پبلک سکول بھی اپنی نو عیت کا ایک بہترین سکول ہے ۔ اسی طرح شمالی و جنو بی وزیرستان کے باقی اضلاع میں بھی آرمی پبلک سکولز بنائے گئے ہیں۔ 
گویا ایک طرف ان علاقوں میں شرح تعلیم بڑھے گی دوسرا کوالٹی ایجوکیشن بھی ہو گی اور وہ لوگ جو منفی پراپیگنڈا کر رہے ہیں کہ آرمی نے قبائلی علاقوں میں کچھ نہیں کیا اگر صرف تعلیم میں ہونے والی ترقی ہی دیکھ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ درحقیقت پاکستان آرمی ہی تھی جس نے جہاں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ان علاقوں میں اپنی بے شمار جانوں کی قربانیاں دیں وہیں مقامی قبائل کو تعلیم کے شعبے میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔نئی نسل کو تعلیم سے بہرہ ور کر کے ہی ان علاقوں کو ترقی کا ہمسفر بنایا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک تاثر یہ بھی نمایاں ہے کہ بعض حلقے یہ نہیں چاہتے کہ نئی نسل تعلیم حاصل کرے اور پھر ان کے ہاتھوں سے نکل جائے۔ آج کا قبائلی اپنے بچوں کے لیے سکولوں میں جہاں     کوالیفائیڈ اساتذہ کا مطالبہ کر رہا ہے تو وہاں پر یونیورسٹی کے قیام کے لیے بھی گورنمنٹ سے درخواست کر رہا ہے۔ کیونکہ معصوم قبائلی بھائی ابھی مزید ملک دشمن عناصر کے پرو پیگینڈے میں نہیں پھنسیں گے۔ کمانڈر پشاورکور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود جو قبائلی علاقوں میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں ان کی ہر ممکن کوشش اور خواہش ہے کہ قبائلی اضلاع میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع مُلک کے دوسرے بڑے شہروں کی طرز پر فراہم کیے جائیں جس کے لیے انہوں نے کافی اقدامات کیے ہیں۔صوبائی حکومت بھی تعلیم کے شعبے پر کافی توجہ دے رہی ہے اور شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ایجوکیشن سٹی بنانے کے بڑے پراجیکٹ منظور کیے ہیں۔ اس سے جہاں ان علاقوں کو پاکستان کے دوسرے شہروں کے برابر آنے کا موقع ملے گا وہیں شرح تعلیم میں جو کمی رہ گئی ہے وہ بھی بہتر ہو گی۔گویا جو بات پاکستان میں نظام تعلیم سے شروع ہوئی اب اس کی بات قبائلی علاقوں میں بھی شد و مد سے کی جا رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب قبائلی نوجوان اپنے ہی علاقوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملک و قوم کی ترقی میں اپنا تعمیری کردار ادا کریں گے۔
 

یہ تحریر 33مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP